مطاعن عثمانی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مطاعن عثمانی

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 9

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مجھے اللہ نے وحی بھیجی کہ میں اپنی دو آنکھوں (نورِ چشم بیٹیوں) کو سیدنا عثمانؓ سے بیاہ دوں۔ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے۔

(ریاض النضرۃ: جلد، 2 صفحہ، 114 طبع مصر)

کریمتان لغت (مصباح اللغات: صفحہ، 746) میں دو آنکھوں کو کہتے ہیں۔ نور و لطافت میں بیٹی کو آنکھ سے تشبیہ دی جاتی ہے اور نورِ چشم کا بیٹی پر اطلاق اسی وجہ سے ہے۔

سوال نمبر 554: حدیبیہ کے موقع پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کیوں سفیر بنائے گئے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ذمہ داری کیوں قبول نہ کی؟

جواب: یہ طعن مطاعنِ فاروقی میں کرنا چاہیے تھا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے تو یہ سفارت باعثِ صد فضیلت ہے اولاً حضور اکرمﷺ‏ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ہی چنا تھا پتہ چلا کہ وہ کامل مومن اور پیغمبرﷺ‏ و مومنین کے نمائندہ تھے لیکن وجہ معقول خود یہ عرض کی کہ میرا جانا بار آرو ثابت نہ ہو گا کیونکہ میرا مزاج تیز ہے قریش کو میرے ساتھ دشمنی ہے وہ مجھے چھیڑ کر جنگ کریں گے۔ میری برادری بھی وہاں نہیں ہے تو صلح کی بجائے حالات اور کشیدہ ہو جائیں گے۔ 

لیکن اگر آپﷺ‏ حضرت عثمانؓ کو بھیجیں گے تو مفید رہے گا کیونکہ یہ بردبار ہے ان کے برادری اور حمایتی بھی مکہ میں ہیں۔ ان کو اگر چھیڑا بھی گیا تو برداشت کر لیں گے یا پھر قوم اپنی تحفظ میں لے لے گی اور سفارت کا مفید نتیجہ سامنے آ جائے گا۔ حضور اکرمﷺ‏ نے اس مشورہ پر عمل کیا۔ 

بہرحال دونوں بزرگوں کا ایمان نبی کریمﷺ‏ کا ان پر اعتماد اور نمائندہ اہلِ اسلام ہونا ثابت ہوا جس کے شیعہ منکر ہیں۔ حضورﷺ‏ نے سیدنا عثمانؓ کی طرف سے خود اپنا ہاتھ دوسرے پر رکھ کر بیعت کی اور فرمایا وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ‏ کا کام کرنے گئے ہیں تو حضورﷺ‏ کا ہاتھ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے لوگوں کے اپنے ہاتھوں سے بہتر تھا۔ (تاریخ الخلفاء: صفحہ، 118)

سوال نمبر 555: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کیا ریاستی ذمہ داری رکھتے تھے؟

جواب: مدینہ کے مفتی، کابینہ خاص اور شورٰی کے ممبر تھے اور پرائیویٹ سیکرٹری بھی تھے۔ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کا آخری وصیت نامہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نامزدگی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ہی لکھی اور تصدیق حضرت ابوبکرؓ نے کی۔ (تاریخِ اسلام ندوی: جلد، 1 صفحہ، 121) تفصیل تاریخِ اسلام نجیب آبادی صفحہ 268 پر دیکھیں۔

سوال نمبر 556: حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے مروان کو افریقہ کا خمس معاف کر دیا اور رشتہ داروں کو کافی مال دیا۔ کیا یہ قومی اثاثہ تھا یا ذاتی ملکیت تھا؟

جواب: نجشیش کی بات غلط ہے مروان نے پانچ لاکھ میں افریقہ کا خمس خرید لیا تھا۔ (ابنِ خلدون: جلد، 2 صفحہ، 129)

تاریخِ اسلام ندوی صفحہ 222 پر ہے بیت المال میں تصرف کے سلسلے میں جو واقعات بیان کیے جاتے ہیں وہ نہایت مسخ شدہ شکل میں ہیں۔ اصلی شکل میں وہ قابلِ اعتراض نہیں مثلاً مروان کو طرابلس کے مالِ غنیمت کا کوئی حصہ آپؓ نے عطا نہیں کیا تھا بلکہ اس نے پانچ لاکھ میں خریدا تھا۔

رشتہ داروں کو عطایا ذاتی مال سے دیتے تھے خود اس اعتراض کے جواب میں فرماتے ہیں:

لوگ کہتے ہیں کہ میں اپنے خاندان والوں سے محبت کرتا ہوں اور ان کو دیتا لیتا ہوں لیکن میری محبت نے مجھے ظلم کی طرف مائل نہیں کیا بلکہ میں ان کے واجبی حقوق ادا کرتا ہوں۔ جو کچھ میں ان کو دیتا ہوں میں اپنے ذاتی مال سے دیتا ہوں۔ مسلمانوں کا مال نہ میں اپنے لیے حلال سمجھتا ہوں نہ کسی دوسرے کے لیے۔ میں رسول اللہﷺ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی اپنے ذاتی مال سے ان کو بڑی بڑی رقمیں دیتا تھا حالانکہ اس زمانے میں مَیں بخیل و حریص تھا اور اب جب کہ خاندانی عمر کو پہنچ چکا ہوں۔ زندگی ختم کے قریب ہے اور اپنا تمام سرمایہ اپنے اہل و عیال کے سپرد کر دیا ہے تو ملحدین ایسی باتیں مشہور کرتے ہیں۔

(تاریخِ طبری: صفحہ، 2952 و ندوی: صفحہ، 222)

سوال نمبر 557: تاریخ الخلفاء میں ہے کہ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے لوگوں کی جاگیریں مقرر کیں۔ تو اسلام میں سب سے پہلے جاگیرداری کا بانی کون ہوا؟

جواب: کچھ لوگوں کو خدماتِ دینیہ کے صلے میں زمین الاٹ کر دینا فی نفسہٖ گناہ نہیں۔ بلکہ سنتِ نبویﷺ‏ سے ثابت ہے۔ خیبر کی فتح کے بعد آنحضرتﷺ‏ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک قطعہ اراضی ثمغ نامی مرحمت فرمایا تھا۔ (تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 196)

نیز اسلام کا قانون من احیا ارض الموات فھی له۔ جو بنجر زمین کو آباد کر کے قابلِ کاشت بنائے تو وہ اس کا مالک ہو جاتا ہے۔ بہت یہ عراقی زمینیں اس طرح آباد ہو کر جاگیریں بنیں۔ وہ جاگیردارانہ نظام مزموم ہے جس میں ظلم تعدی کی خاطر اپنے ٹوڈیوں کو زمینیں دے دی جائیں اور وہ عوام کے حقوق کا استحصال کریں جیسے انگریزوں کے دور میں کہیں شیعہ رئیس جاگیردار بنائے گئے۔

سوال نمبر 558: جمعہ کی اذان اوّل کب رائج ہوئی؟ دورِ رسالت اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اذان کا رواج کیوں نہ تھا؟

جواب: عہدِ نبوتﷺ‏ میں اور شیخینؓ میں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے کی بہ نسبت مسلم آبادی محدود تھی، شر اتنا بڑا اور ترقی یافتہ نہ تھا۔ پہلی اذان کے وقت لوگ عموماً موجود ہوتے اور خطبہ معاً شروع ہو جاتا۔ عہدِ عثمانی میں تمدنی وسعت ہوئی۔ کاروبار میں انہماک ہوا۔ اذان پر لوگ جمع ہوتے ہوتے خطبہ سے محروم ہو جاتے تو دوسری اذان کے اضافے سے مکمل خطبہ سننے میں سہولت پیدا ہو گئی۔ سیدنا عثمانؓ خلیفہ راشد ہیں۔ اس کا اضافہ آپ کے لیے درست تھا۔ حضورﷺ‏ کا فرمان ہے: لوگو تم میری سنت پر چلو اور میرے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے طریقہ پر چلو۔ (ترمذی، ابوداؤد، احمد)

سوال نمبر 559: نمازِ عید سے قبل کس بادشاہ نے خطبہ خلافِ سنت پڑھا؟

صفحہ 7 از 9