مطاعن عثمانی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مطاعن عثمانی

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 8 از 9

جواب: سیوطیؒ نے اولیاتِ سیدنا عثمانؓ میں یہ بات لکھی ہے مگر دیگر مورخین اس سے مروان یا عبدالملک کی طرف نسبت کرتے ہیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف نسبت نہیں کرتے بالفرض اگر کبھی ایسا ہوا تو یہ اصطلاحی خطبہ نہ تھا۔ بلکہ بطورِ وعظ و تذکیر خطاب تھا۔ جیسے ہم آج کل عید و جمعہ سے پہلے تقریریں کرتے ہیں۔

سوال نمبر 560: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ولیدؓ شرابی کو کوفہ کا گورنر کیوں بنایا؟ 

جواب: سیدنا ولیدؓ میں انتظامی لیاقت کافی تھی اور اس کی شراب نوشی بعد میں ظاہر ہوئی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے متلون مزاج کوفی شاکی تھے۔ لہٰذا ان کے بجائے سیدنا ولید رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔ پھر طبری کی تحقیق میں الزام شراب نوشی جھوٹا تھا۔ چونکہ اس پر گواہیاں چل گئیں تو احادیث میں بطورِ واقعہ ذکر آ گیا اور حضرت ولید رضی اللہ عنہ پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں شراب نوشی کی حد جاری کرائی اور وہ پاک ہو گئے تو کسی پر کوئی اعتراض نہ رہا

سوال نمبر 561: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بہن کو طلاق کیوں دی؟

جواب: خانگی معاملات میں دخل دینا ذلیل لوگوں کا کام ہے نکاح و طلاق کے واقعات ہر خاندان میں ہوتے رہتے ہیں۔ بتائیے خواہر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے خاوند سیدنا ابنِ جعفر نے کیوں طلاق دی تھی؟ تاریخ میں وجہ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی مصر سے معزولی لکھی ہے۔

سوال نمبر 562: تاریخِ اعثم کوفی میں ہے کہ حضرت عمارؓ کو سیدنا عثمانؓ نے اتنا پٹوایا کہ مرضِ فتق ہو گیا۔ کیوں کیا سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں؟

جواب: اعثم کوفی رافضی ہے۔ روایت حجت نہیں۔ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں۔ اگر غلط فہمی سے کسی صحابی نے ایسی بات کی جو قابلِ مواخذہ تھی جیسے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سبائیوں کی بغاوت و انتشار پسندی سے متاثر ہو رہے تھے اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کچھ سزا دی ہو تو بحیثیتِ خلیفہ و حاکم ایسا حق رکھتے تھے حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے بھی سیاسی مصالح کی بناء پر عمال کو اعلانیہ سزا دی تھی۔ تاریخِ طبری جلد 4 صفحہ 399 پر ہے۔ کہ سیدنا عمارؓ اور عباس بن اتیبہ بن ابی لہب کے درمیان جھگڑا اور گالی گلوچ ہوا۔ حضرت عثمانؓ نے دونوں کو تادیباً مارا تو اس سے آلِ عمار اور آلِ عتیبہ میں دشمنی ہو گئی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی یہی ناراضگی بنی۔

سوال نمبر 563: حضرت ابوذرؓ کو سیدنا عثمانؓ نے ملک بدر کیوں کیا؟

جواب: جھوٹا طعن ہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ از خود ربذہ میں جا ٹھہرے تھے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ جائز سرمایہ داری کے بھی خلاف تھے۔ ان کے مشرب میں کل کے لیے کچھ اٹھا رکھنا جائز نہ تھا وہ شام میں سرمایہ داری کے خلاف وعظ کرتے پھرتے تھے۔ (جو بولتا ڈنڈا دے مارتے تھے) اس سے بدامنی پھیلنے کا اندیشہ تھا اس لیے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجا کہ ان کو شام سے بلا لیجیے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے امنِ عامہ کے خیال سے اپنے پاس بلا لیا اور فرمایا کہ آپ میرے پاس رہیے۔ آپ کی کفالت میں کروں گا لیکن وہ ایک بے نیاز بزرگ تھے جواب دیا مجھے تمہاری دنیا کی ضرورت نہیں ہے اور خود مدینہ کے قریب ایک ویرانہ ربذہ میں سکونت اختیار کر لی۔ (ابنِ سعد: جلد، 1 قسم اوّل صفحہ، 167 تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 221 تاریخِ اسلام نجیب آبادی: صفحہ، 246)

سوال نمبر 564: صحیح بخاری کتاب المناسک میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے میں حضورﷺ‏ کی حدیث کو کسی کے قول سے نہیں چھوڑ سکتا۔ ایسا کیوں فرمایا؟

جواب: یہ ایک فقہی مسئلہ میں مستحب اور افضل ہونے نہ ہونے کے بارے میں اختلاف کا ذکر ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مفرد حج کو افضل سمجھتے ہیں کیونکہ اس میں براہِ راست احرام حج ہی کے لیے ہوتا ہے تو حجِ تمتع اور حجِ قِران سے تنزیہاً یہاں منع کرتے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اختلاف تھا کہ سنتِ رسولﷺ‏ تمتع اور قِران کی موجود ہے لہٰذا میں اسے نہیں چھوڑتا۔ (بخاری: جلد، 1 صفحہ، 212)

سوال نمبر 565: اذانِ جمعہ کا اجراء؟ 

جواب: جواب گزر چکا ہے۔

سوال نمبر 566: حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے ایامِ حج منیٰ میں قصر نہ کی چار رکعت پڑھائیں۔ کیوں؟

*جواب:* سیدنا عثمانؓ نے قیام کی نیت کر لی تھی۔ نیتِ قیام سے بحکمِ نبویﷺ‏ نماز پوری پڑھی جاتی ہے چنانچہ خود لوگوں کے جواب میں یہی وجہ بیان فرمائی۔ (مسند احمد بن حنبل: جلد، 1 صفحہ، 62)

سوال نمبر 567: حضرت مروانؓ بن حکم کو مدینہ واپس کیوں بلایا فدک کی جاگیر اسے کیوں دی؟

جواب: حضرت مروانؓ شیخینؓ کا کچھ نہ لگتا تھا نہ انہیں اس کی ضرورت تھی۔ مگر سیدنا مروانؓ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا چچا زاد بھائی تھا۔ مجرم اور در بدر شدہ اس کا باپ تھا حضرت مروانؓ نہ تھا وہ تو صغیر السِّن ہونے کی وجہ سے باپ کے ساتھ تبعاً در بدر ہوا تھا۔ 

پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حضور اکرمﷺ‏ سے ان کے لیے معافی طلب کر لی تھی اور آپؓ کو مل گئی تھی جس کا دوسروں کو پتہ نہ تھا۔ اب حضرت عثمانؓ نے سابق اجازت اور صلہ رحمی سے بے قصور حضرت مروان رضی اللہ عنہ کو بلا لیا اور اس کی لیاقت و ہوشیاری سے کام لیا۔ یہ کوئی شرعاً گناہ نہیں ہے۔ مروانؓ کو فدک کی ادائیگی غلط الزام ہے۔ صحیح یہ ہے کہ سیدنا مروانؓ فدک کا والی اپنے دور میں ہوا اور عہدِ عثمانی میں فدک کا فائدہ بدستور بنو ہاشم اور فقراء اٹھاتے رہے۔

سوال نمبر 568: کیا یہ درست نہیں کہ عہدِ عثمانی میں ان کے سوا کسی کا تجارتی بیڑہ سمندر میں نہ چلتا تھا؟

صفحہ 8 از 9