مطاعن عثمانی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مطاعن عثمانی

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 9 از 9

جواب: ہماری نظر سے یہ تاریخی بات نہیں گزری۔ اگر ہو بھی تو دوسرا کوئی اتنا مالدار نہ ہو گا کہ وہ بیڑا بنا کر سمندر میں چلا سکے اجارہ داری کا طعن تب ہو کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے صراحۃً اوروں کو تجارتی جہاز چلانے سے منع کر دیا ہو۔ آپؓ عہدِ نبوت سے مالدار ترین تھے بیک دفعہ لاکھوں ہزاروں دراہم و دینار راہِ خدا میں خرچ کرتے تھے اور خدا دیتا بھی بے حساب تھا۔ یہ طعن تو ان کے مال و نعمت پر حسد کی پیداوار ہے۔

سوال نمبر 569: تاریخِ اسلام علامہ عباسی جلد 3 صفحہ 145 پر ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عوام الناس کو بارش کے پانی تک سے محروم کر دیا اور رشتہ دار فائدہ اٹھاتے رہے۔

جواب: اصل کتاب ہمارے پاس نہیں۔ ورنہ سائل کا دروغ ظاہر ہو جاتا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہود سے منہ مانگی قیمت پر کنوئیں خرید کر وقف کر دیئے صرف ایک پیالہ پانی اپنا حق سمجھا۔ بیت المال سے کبھی کھانا نہ کھایا۔ جو سامان ہوتا ہر کسی کو بقدرِ حصص تقسیم کر دیتے۔ ان پر بارش کا پانی بند کرنے کا ناپاک الزام شیعہ کو ہی زیب دیتا ہے۔ ممکن ہے بات کا بتنگڑ اس سے بنایا ہو کہ بارشی پانی کے جو بند، تالاب، پہاڑی علاقوں میں ہوتے ہیں۔ کوئی بند خاص اپنی زمین میں ہو اور لوگوں کے لیے دوسرے بند بھی ہوں تو اس بند کو رشتہ داروں کے لیے وقف خاص کیا ہو تو دشمنوں میں بے پرکی اڑائی ہو۔ حالانکہ یہ اپنی ملک میں تصرف ہے۔ شرعاً درست ہے۔

سوال نمبر 570: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی پسلیاں کس خطا پر مضروب کی گئیں؟

جواب: ناپاک بہتان ہے۔ صرف اتنی بات ہے کہ حضرت عبداللہؓ اپنا مصحف الگ رکھتے تھے اور اس کی تعلیم و اشاعت چاہتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مانگا انہوں نے نہ دیا تو قرآن کو اختلاف سے محفوظ کرنے کی خاطر تعدیب سے کام لیا کہ وظیفہ بند کر دیا۔ جس کا خلیفۃ المسلمین کو حق ہے اور حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہما کو جلالتِ شان کے باوجود انکار نہ کرنا چاہیے تھا۔ (دیکھیے تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 221)

سوال نمبر 571: حضرت اُم المؤمنین عائشہ صدیقہؓ کے وظیفے میں کمی کیوں کر دی گئی؟ 

جواب: تمہاری لگائی بجائی اور مسلمان دشمنی قابلِ داد ہے۔ پہلے تو کبھی سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے لیے اُم المؤمنین (قرآنی لقب) اور حضرت کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ دم گھٹ کر بی بی (سیدہ) عائشہؓ ہی لکھتے ہیں اب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا مخالف جتلانے کے لیے مومنوں کی ماں اور قابلِ احترام حضرت مان لیا۔ ذرا اسی پر پکے ہو جائیے۔ منافقت چھوڑ دیجیے۔ ماں بیٹے کے معاملات میں آپ کو دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ یہ الزام و بہتان ہمیں کسی کتاب میں نہیں ملا حوالہ آپ نے بھی نہیں دیا۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔

سوال نمبر 572: ابنِ ابی سرح کے خلاف عوامی احتجاج کا جواب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا دیا؟ 

جواب: اس کی معزولی کا پروانہ لکھ دیا۔


صفحہ 9 از 9