مربی باپ کے اوصاف
علی محمد الصلابیمربی باپ کے چند ضروری اوصاف درج ذیل ہیں
1۔ تربیت کی اہمیت کا احساس، اس کا مکمل اہتمام کرنا، اس میں اخلاص سے کام لینا:
امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادوں سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی تعلیم و تربیت کا کماحقہ اہتمام کیا، اس میں بالکل مستعد رہے، ان کی مکمل طور سے نگہداشت کی، مقصد صرف اپنی اولاد کو اطاعت الہیٰ و اطاعت نبویﷺ کی تربیت دے کر اللہ کی خوشنودی، ثواب اور اس کا قرب حاصل کرنا تھا۔
2۔ بچوں کے سامنے ایک اچھا نمونہ پیش کرنا
’’نمونہ‘‘ اگرچہ علی الاطلاق تربیت کا اہم ترین وسیلہ نہ ہو، پھر بھی اس کے اہم ترین وسائل میں سے ہے، ایسا اس لیے ہے کہ انسانی وجود ایسا طبعی اور فطری جذبہ و میلان ہوتا ہے جو انسان کو دوسرے کے نقش قدم پر چلنے اور اس کی نقالی پر اصرار کے ساتھ مجبور کرتاہے، بالخصوص چھوٹے بچوں کو۔
(مسؤلیۃ الأب: عدنان با حارث: صفحہ 65)
ابن خلدونؒ کا قول ہے: دوسرے کے نقش قدم پر چلنے اور اس کی نقالی کی ابتداء پانچویں یا چھٹے سال سے ہوتی ہے، اور بچپنے کے آخری مرحلے تک باقی رہتی ہے۔
(مقدمۃ ابن خلدون نقلاً عن موسوعۃ تربیۃ الأجیال المسلمۃ: لنصر بن محمد العنقری: صفحہ 86)
امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اپنے صاحبزادے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے ایک عظیم نمونہ تھے، چنانچہ سیدنا علیؓ کبار صحابہؓ اور خلفائے راشدینؓ میں سے تھے، اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما دل کی گہرائی سے اپنے والد اور والدہ کے نقش قدم پر چلتے تھے۔
2۔ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ تربیت کے باب میں بڑے ہی نرم، مہربان اور رحم دل تھے
امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ رحم دلی اور حلم و بردباری سے آراستہ تھے، سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی تربیت میں بڑے ہی نرم دل اور مہربان تھے، سیدنا علیؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک ان کے مقام و مرتبہ اور فضیلت کا پورا احساس تھا۔
3۔ بچوں کے مابین عدل وانصاف کو باقی رکھنا اور ان کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا
امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ جس وقت دنیا سے کوچ کر رہے تھے، اپنے لوگوں سے جدا ہو رہے تھے اور موت بالکل قریب تھی ایسے میں سیدنا علیؓ نے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے متعلق وصیت کی تھی، اس وصیت یہ اخلاق بالکل نمایاں نظر آتے ہیں، سیدنا نے اولاد کی تعلیم و تربیت میں قرآن کی ہدایات اور رہنمائی پر عمل کیا، جیسا کہ فرمان الہٰی ہے:
وَاِذۡ قَالَ لُقۡمٰنُ لِا بۡنِهٖ وَهُوَ يَعِظُهٗ يٰبُنَىَّ لَا تُشۡرِكۡ بِاللّٰهِ اِنَّ الشِّرۡكَ لَـظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ۞ وَوَصَّيۡنَا الۡاِنۡسٰنَ بِوَالِدَيۡهِ حَمَلَتۡهُ اُمُّهٗ وَهۡنًا عَلٰى وَهۡنٍ وَّفِصٰلُهٗ فِىۡ عَامَيۡنِ اَنِ اشۡكُرۡ لِىۡ وَلِـوَالِدَيۡكَ اِلَىَّ الۡمَصِيۡرُ ۞
(سورۃ لقمان آیت 14)
ترجمہ: اور وہ وقت یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ: میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، یقین جانو شرک بڑا بھاری ظلم ہے، اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے بارے میں یہ تاکید کی ہے۔ (کیونکہ) اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری برداشت کر کے پیٹ میں رکھا، اور دو سال میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے۔ کہ تم میرا شکر ادا کرو، اور اپنے ماں باپ کا میرے پاس ہی (تمہیں) لوٹ کر آنا ہے۔
خلاصہ یہ کہ قرآن نے تربیت اولاد سے متعلق انبیاء کی یاد دہانی کی اہمیت دی ہے، اور امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی زندگی الہٰی اوامر کو بجالانے اور نواہی سے اجتناب میں گزری، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت میں اس طرح کے اہم اوصاف موجود تھے، جن سے آپ کو حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی تربیت میں کافی مدد ملی۔