ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف شورش
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 573: حضرت محمد بن ابی بکرؓ کو جب مصر کا گورنر بنا کر روانہ کیا گیا تو راستے سے واپس مدینہ کیوں پلٹ آئے؟
جواب: ان لوگوں کا مقصد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا تختہ الٹنا اور آپؓ کو شہید کرنا تھا کیونکہ ان کو ابنِ سبا یہودی نے یہی تعلیم دی تھی۔ تاریخ طبری سن 35 ہجری کے حالات میں ہے: عبداللہ بن سبا یہودی صنعاء کا باشندہ تھا۔ اس کی ماں کالی تھی (تو اسے ابن سوداء کہتے تھے۔) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسلمان بنا پھر مسلمان صوبوں میں ان کو گمراہ کرنے کے لیے گھومتا پھرتا رہا۔ حجاز، بصرہ، کوفہ، شام سے دیس نکالا کے بعد مصر آ گیا اور وہی آباد ہو گیا۔ پہلے رجعت کی تعلیم دی کہ محمدﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے زیادہ دنیا میں واپس آنے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ بات اس کی مانی گئی تو کہنے لگا، ہزار پیغمبر تھے، ہر پیغمبر کا وصی تھا اور محمدﷺ کے وصی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں پھر کہا محمدﷺ خاتم الانبیاء ہیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ خاتم الاوصیا (کیا بعد کے گیارہ امام جھوٹے اور غاصب امامت تھے؟) ہیں۔ اس کے بعد کہنے لگا: اس سے بڑا ظالم کون ہے جو رسول اللہﷺ کی وصیت جاری نہ کرے اور وصی رسول اللہ پر چڑھائی کر کے امت کا سربراہ بن جائے۔ پھر کہنے لگا:
ان عثمان اخذھا بغیر حق وھذا وصی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فانھضو فی ھذا الامر فحرکوہ وابدءوا بالطعن علی امراءکم و اظھروا الامر بالمعروف والنھی عن المنکر تستمیلو الناس وادعوھم الی ھذا الامر فبث دعاته وکاتبه من استفسد فی الامصار وکاتبوه ودعوا فی میل السر الی ما علیه راءیھم۔ الخ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 340، 341)
ترجمہ: سیدنا عثمانؓ نے خلافت ناحق لی ہے رسول اللہﷺ کے وصی (قابلِ خلافت) تو یہ (حضرت علیؓ) ہیں۔ اس کام کے لیے اٹھو تحریک چلاؤ اپنے حاکموں پر اعتراض کرنے سے آغاز کرو۔ اچھے کام کا حکم اور برے کام سے ممانعت بظاھر عادت بناؤ لوگوں کو جب اپنا بنا لو گے تو انہیں انقلاب برپا کرنے کی دعوت دو۔ چنانچہ اس نے اپنے ایجنٹ ہر شہر میں بھیج دیئے اور شہروں کے مفسد لوگوں سے خط و کتابت کی اور خفیہ خفیہ اپنے پروگرام کی دعوت دینے لگے۔
یہی کچھ بہت سے مورخین نے لکھا ہے جو شیعت کا پہلا بیج اور نطفہ تھا۔
اس سوچی سمجھی سازش سے مصریوں، کوفیوں، بصریوں، یمنیوں کے اوباش انقلاب برپا کرنے آئے تھے وہ کب اصلاحی پروگرام مان سکتے تھے۔ بظاہر تو وہ ابنِ ابی سراح کی معزولی اور سیدنا محمد بن ابی بکر کا گورنری نامہ لے کر لوٹے مگر اس سے ان کا مشن پورا نہ ہو سکتا تھا فوراً ایک غلام تیار کیا۔ بیت المال کی اونٹنی چرا کر اس کے حوالے کی اور ابنِ ابی سرح کے نام سیدنا محمد بن ابی بکر کے قتل کا خط اسے دے کر اپنے لشکر سے آگے پیچھے ایسے گزارا کہ وہ مشکوک ہو کر پکڑا جائے اور یہ دوبارہ فتنہ کھڑا کر دیں چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مختلف سمتوں کی طرف جانے والے بیک وقت مدینہ لوٹ آئے۔ تاریخی شہادتیں ملاحظہ ہوں۔
مصری سیدنا علی المرتضیٰؓ کے پاس آئے۔ اپنا مطلب بتایا تو حضرت علی المرتضیٰؓ نے ان کو چیخ کر پھٹکار دیا اور فرمایا نیک لوگ جانتے ہیں کہ مِروہ اور خشب والے لشکر حضرت محمدﷺ کی زبان سے لعنتی ہیں۔ دفع ہو جاؤ خدا تمہارا ساتھ نہ دے۔ بصری حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ نے بھی ان کو یہی جواب دیا۔ کوفی حضرت زبیرؓ کے پاس آئے۔ آپ نے بھی ان کو یہی جواب دیا۔ پھر یہ لوگ باہر نکلے اور یوں دکھلایا کہ وہ واپس جا رہے ہیں تو مقامِ خشب اور عواص سے سرک کر اپنے لشکروں تک جا پہنچے جو تین کوس کے فاصلے پر ٹھہرے ہوئے تھے تاکہ مدینہ والے منتشر ہو جائیں۔ پھر یہ دوبارہ لوٹ کر آ جائیں۔ چنانچہ اہلِ مدینہ تو ان کے نکلنے کی وجہ سے منتشر ہو گئے۔
جب یہ بلوائی اپنے لشکروں تک پہنچے تو ان کو ساتھ لے کر اچانک مدینہ پہنچ گئے اور مدینہ والوں کو تب پتہ چلا جب شہر کے آس پاس تکبیر بلند ہو رہی تھیں۔ یہ لشکر گاہوں میں اتر پڑے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا گھیراؤ کر لیا اور کہا امن اسے ملے گا جو ہاتھ بند رکھے گا۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو چند دن نمازیں پڑھائیں۔ لوگ گھروں میں دبک بیٹھے اور کسی کو بات سے نہ روکا لوگ بلوائیوں سے گفتگو کرنے آئے جن میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی تھے تو آپؓ نے پوچھا: تمہیں واپس جانے کے بعد کس چیز نے پروگرام بدل کر لوٹایا؟ کہنے لگے ہم نے ڈاکیے سے خط پکڑا ہے جس میں ہمارے قتل کا حکم ہے۔ سیدنا طلحہؓ آئے تو بصریوں نے یہی کہا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ آئے تو کوفیوں نے یہی کہا۔ پھر کوفیوں اور بصریوں نے کہا ہم اپنے مصری بھائیوں کی مدد کرنے اور دفاع کرنے آئے ہیں۔ گویا وہ پہلے سے ایک وقت اور پروگرام طے کر چکے تھے۔
تو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے کوفیو اور اے بصریو تمہیں کیسے پتہ چلا کہ مصر والوں نے خط پکڑا ہے حالانکہ تم کئی کوس جا چکے تھے۔ پھر ہماری طرف لوٹ آئے۔
ھذا والله امر ابرم بالمدینۃ قالوا فضعوہ علی ما شئتم لا حاجۃ لنا فی ھذا الرجل لیعتزلنا (طبری: جلد، 4 صفحہ، 349 تا 351)
ترجمہ: خدا کی قسم یہ سازش تو مدینہ میں تیار کی گئی ہے۔ بلوائی کہنے لگے تم جیسے چاہو سمجھو ہمیں اس شخص کی ضرورت نہیں۔ ہم سے الگ ہو جائے۔ (خلافت چھوڑ دے)
پھر جب حضرت عثمانِ غنیؓ سے پوچھا گیا تھا کہ اونٹ بیت المال کا ہے؟ غلام تمہارا ہے؟ خط تمہارے نام سے لکھا گیا ہے اور مہر تمہاری لگی ہے؟ تو سیدنا عثمانِ غنیؓ نے جواب دیا:
دو باتیں مانو یا تو دو گواہ میرے خلاف پیش کرو یا میری قسم پر اعتبار کرو۔ کہ خدا کی قسم جس کے بغیر کوئی معبود نہیں، نہ میں نے لکھا، نہ لکھوایا، نہ مجھے اس کا علم ہے۔ نیز کیا تم جانتے ہو ایک خط دوسرے کی زبان اور نام سے لکھا جا سکتا ہے جعلی مہر بنائی جا سکتی ہے؟
بلوائی کہنے لگے خدا نے تیرا خون حلال کر دیا تو نے وعدہ توڑا۔ چنانچہ بلوائیوں نے آپؓ کا محاصرہ کر لیا۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 356)
تاریخِ اسلام نجیب آبادی صفحہ 362 میں ان سب واقعات کے علاوہ یہ بھی ہے کہ بلوائیوں نے کہا اے سیدنا علیؓ آپ ہماری مدد کریں؟ حضرت علیؓ نے انکار کیا تو انہوں نے کہا آپؓ نے ہمیں لکھا کیوں تھا؟ حضرت علی المرتضیٰؓ نے فرمایا میں نے کبھی تم کو کچھ بھی نہیں لکھا۔
کیا اس تفصیل سے یہ واضح نہ ہو گیا کہ یہ بدبخت سبائی حضرت عثمانِ غنیؓ کو شہید کر کے حضرت علی المرتضیٰؓ وصی کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے۔ خط وغیرہ کا ڈرامہ خود بنا کر آپؓ کے قتل کا بہانہ بنایا تھا اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بھی ملوث کرنا چاہتے تھے۔
سوال نمبر 574: سیدنا محمد بن ابی بکر نے حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ اور حضرت علیؓ سے کیا شکایت کی تھی؟
جواب: اپنا ہی جعلی خط دکھا کر حکمِ قتل کا الزام سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر لگایا تھا۔
سوال نمبر 575: جب اصحاب نے اصل مجرم حضرت مروانؓ طلب کیا تو انہوں نے اسے کیوں پناہ دی؟
جواب: سابق تفصیل کے مطابق جب سیدنا مروانؓ بھی خط کا کاتب اور مجرم ثابت نہیں ہوتا تو کیسے بے قصور شخص کو غنڈوں کے حوالے کر کے قتل کرا دیتے؟
سوال نمبر 576: اہلِ مدینہ نے حضرت عثمانؓ کی طرف داری کو کیوں نہ پسند کیا؟
جواب: وہ سیدنا عثمانؓ کو قتل سے بچانا چاہتے تھے، خیر خواہ تھے، مروان کی سپردگی اور قتل سے گو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بچ جاتے اور اہلِ مدینہ خوش ہو جاتے۔ مگر قتل کرانے کا داغ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر رہ جاتا۔ لہٰذا آپؓ نے اپنی جان مظلومانہ ان کے حوالے کر دی مگر ناحق قتل نہ ہونے دیا۔ اس عزیمت اور جرأت کی مثال انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ کہیں نہیں ملے گی۔
سوال نمبر 577: جب بلوائیوں نے مان لیا کہ حضرت عثمانؓ سے ان کا کوئی جھگڑا نہیں ہے اگر وہ مروانؓ کو حوالے کر دیں تو پھر آپ نے ایسا کیوں نہ کیا؟
جواب: دروغ گو کبھی سچ کہہ ہی دیتا ہے۔ جب آپ مان رہے ہیں کہ آپ کے سبائی اسلاف کو بھی حضرت عثمانؓ سے جھگڑا نہ تھا۔ وہ ان کے ہاں بھی بے قصور اور الزامات سے پاک تھے تو پھر چودہ سو سال سے سیدنا عثمانؓ کے خلاف بد گوئی بند کیوں نہیں کرتے۔ مطاعن و الزامات کی بارش خود مفسد بلوائیوں پر کیوں نہیں برساتے۔ مروان اور اشتر نخعی شیطان اور حکیم بن جبلہ ڈاکو اور ابنِ سبا یہودی کو تمام حادثات کا ذمہ دار قرار دے کر سنی شیعہ نزاع کی جڑ، بحث مشاجرات کو ختم کیوں نہیں کرتے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے حسنِ ظنّی قائم کر کے مصالحت کی باتیں کیوں تسلیم نہیں کرتے؟
مروان کے سپرد نہ کرنے کی وجہ بیان ہو چکی ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مظلوم شہید تھے
یہاں ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ وہ ارشاداتِ نبویﷺ اور آثارِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ذکر کر دیں جن میں حضرت عثمانؓ کو جنتی اور شہید مظلوم فرمایا گیا ہے اور اہلِ فتنہ باغیوں کا بر باطل واضح ہونا ہے:
1: کعبؓ بن عجرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک فتنہ کا ذکر کیا اس کی نزدیکی اور بڑھائی ذکر کی۔ ایک شخص چادر اوڑھے ہوئے پاس سے گزرا۔ آپﷺ نے فرمایا: اس دن یہ حق پر ہو گا میں نے اٹھ کر اس کا پلو پکڑا اور کہا یا رسول اللہﷺ! یہ شخص (فرمایا ہاں) تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ (احمد بن حنبل، ترمذی وقال حسن صحیح)
2: حضور اکرمﷺ نے ایک مرتبہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ تجھے ایک قمیص (خلافت) پہنائے گا۔ منافقین اتروانا چاہیں گے تو ہرگز نہ اتارنا، تو ہرگز نہ اتارنا۔
3: سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک فتنہ کا ذکر کیا تو فرمایا اس میں حضرت عثمان بن عفانؓ مظلوم ہو کر شہید کیا جائے گا۔ (ترمذی)
4: سیدنا عثمان بن عفانؓ نے محاصرہ والے دن فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے عہد لیا ہے۔ میں اس پر ڈٹا ہوا ہوں۔ (یعنی منافقوں کے کہنے پر خلافت نہیں چھوڑ سکتا۔) (ترمذی)
5: ایک مرتبہ کوہ احد پر حضور اکرمﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ، سیدنا عمر فاروقؓ، سیدنا عثمانِ غنیؓ کھڑے تھے وہ ہیبت سے کانپنے لگا تو آپﷺ نے فرمایا ٹھہر جا! تجھ پر ایک نبیﷺ، ایک صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں۔ (بخاری و مسلم)
6: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ سے سنا فرماتے تھے میرے پاس سے حضرت عثمانِ غنیؓ گزرے۔ میرے پاس ایک فرشتہ (غالباً حضرت جبرئیل علیہ السلام) موجود تھا۔ کہنے لگا یہ شہید ہے اسے قوم قتل کرے گی ہم اس سے حیاء کرتے ہیں۔ اخرجہ ابنِ عساکر (تاریخ الخلفاء: صفحہ، 119)
7: حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ میں محاصرہ کے دن تمام حجت کے لیے فرمایا تھا: اے اصحابِؓ نبیﷺ تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے عسرت والے لشکر کو تیار کیا وہ جنتی ہے جو رومہ کا کنواں کھدوا دے وہ جنتی ہے تو لشکر کو میں نے ساز و سامان سے تیار کیا اور کنواں کھدوایا۔ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تصدیق کی۔ (بخاری)
8: سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو تم جانتے ہو رسول اللہﷺ نے ثبیر مکہ (ایک پہاڑی) پر تھے حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ اور میں ساتھ تھے۔ وہ حرکت میں آ گیا اور پتھر پستی کو گرنے لگے تو آپﷺ نے فرمایا ثبیر ٹھہر جا، تجھ پر نبیﷺ صدیقؓ اور شہیدؓ کھڑے ہیں۔ سب نے کہا جی ہاں اللہ گواہ ہے۔ تب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نعرہ تکبیر کہا۔ اللہ کی قسم انہوں نے بھی گواہی دے دی ہے کہ ربِّ کعبہ کی قسم میں شہید ہوں، شہید ہوں، شہید ہوں۔ (ترمذی، نسائی، دار قطنی، مشکوٰۃ: صفحہ، 562)
9: حضرت ابو سہلہؓ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے پوشیدہ باتیں کر رہے تھے آپﷺ کا رنگ بدلتا جاتا تھا جب محاصرہ کا دن آیا تو ہم نے کہا کہ کیا ہم لوگوں سے جنگ نہ کریں؟ تو فرمایا نہیں مجھ سے رسول اللہﷺ نے عہد لیا تھا میں اس پر خوب پکا ہوں۔ (مشکوٰۃ: صفحہ، 562)
10: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ محاصرہ کے دن سیدنا عثمانؓ کے پاس آئے تو خدا اور رسولﷺ کی تعریف کے بعد فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے فرماتے تھے: تم جلدی میرے بعد ایک فتنہ دیکھو گے اور اختلاف یا فرمایا اختلاف اور فتنہ دیکھو گے۔ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہﷺ ہمارا امیر کون ہو گا یا ہمیں کس کی اتباع کا حکم دیتے ہو تو آپﷺ نے فرمایا:
علیکم بالامیر واصحابہ وھو یشیر الی عثمان بذلک۔ (رواھما البیہقی فی دلائل النںوۃ) (مشکوٰۃ: صفحہ، 563)
ترجمہ: تم پر لازم ہے کہ امیر المؤمنین اور اس کے ساتھیوں کی حمایت کرنا۔ اشارہ حضرت عثمانؓ کی طرف کیا۔
11: بخاری اور مسلم کی ایک طویل حدیث میں ہے:
کہ حضور اکرمﷺ ایک باغ میں تھے۔ ایک شخص نے دروازہ کھلوایا۔ آپﷺ نے فرمایا: کھول دو اور اسے جنت کی بشارت دو۔ اس مصیبت عظیمہ پر بھی جو اسے پہنچے گی۔ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے میں (حضرت ابو موسیٰ الاشعریؓ) نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پیشن گوئی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے الحمدللہ کہا اور فرمایا اللہ ہی مستعان ہے۔ (مشکوٰۃ: صفحہ، 563)
آثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
12: سیدنا باقرؒ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مکان میں محصور تھے انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بلوایا تو منافقین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے لپٹ گئے اور انہیں آنے سے روکا۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے اپنے سر کے امامہ کے پیچ کھول ڈالے اور کہا اے اللہ میں ان کے قتل سے خوش نہیں ہوں اور نہ میں اس کا حکم دیتا ہوں۔(طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 190 اردو)
مگر آج کا شیعہ علی قتلِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر خوش بھی ہے اور قاتلوں کا طرف دار بھی۔
13: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر ساری مخلوق اس قتل میں شریک ہوتی تو قومِ لوط کی طرح ان پر پتھر برستے۔
14: حضرت سعید بن زیدؓ نے فرمایا لوگو! اگر تمہاری بد اعمالی کی سزا میں کوہِ احد تم پر پھٹ پڑے تو بھی بجا ہے۔
15: حضرت حذیفہؓ نے فرمایا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے وہ رخنہ پیدا ہو گیا ہے جسے پہاڑ بھی بند نہیں کر سکتا۔
16: حضرت عبداللہؓ بن سلام نے فرمایا آج عرب کی قوت کا خاتمہ ہو گیا۔
17: حضرت شمامہؓ بن عدی نے رو کر فرمایا آج رسول اللہﷺ کی جانشینی کا خاتمہ ہو گیا۔ اب بادشاہت کا دور شروع ہو گا۔
18: حضرت ابو ہریرہؓ حادثہ کا ذکر کر کے بار بار روتے تھے۔ سیدنا زیدؓ بن ثابت کی آنکھیں اشکبار تھیں۔
19: حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی تھیں سیدنا عثمان بن عفانؓ دھلے ہوئے کپڑے کی مانند پاک و صاف گئے۔
20: حضرت عمارؓ بن یاسر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مخالفین سے کہتے تھے کہ ہم نے حضرت ابنِ عفان رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر بیعت کی تھی اور ان سے راضی سے تم لوگوں نے ان کو شہید کیوں کیا۔ (تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 233)
21: حضرت نائلہؓ زوجہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا ربِّ کعبہ کی قسم چور دشمنو! تم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے بہت بڑا گناہ کیا ہے دیکھو تم نے اسے قتل کیا جو بڑے روزہ دار، بڑے نمازی تھے۔ ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھتے تھے۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 196)
22: حضرت عبدالرحمٰن مہدی رحمۃ اللہ (مشہور محدث) نے کہا اللہ کی قسم حضرت عثمانِ غنیؓ مظلوم شہید کیے گئے۔
23: سیدنا عثمانِ غنیؓ نے فرمایا تھا اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو اللہ کی قسم پھر تا قیامت نہ ایک ساتھ نماز پڑھو گے نہ ایک ساتھ جہاد کرو گے۔ (ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 47)
سوال نمبر 578: جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا تو موقعہ کا گواہ کون تھا؟
جواب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا پروردہ سیدنا محمد بن اسماء رضی اللہ عنہ تھا۔ کیونکہ یہی سب سے پہلے 13 مصری غنڈوں کا جتھہ لے کر حملہ آور ہوا داڑھی پکڑ لی۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا بھتیجے تیرا باپ تو میری داڑھی نہ پکڑتا۔ پھر شرما کر پیچھے ہٹ گیا۔ کنانہ بن بشیر بن عتاب، سودان بن حمران اور عمر بن الحمق جو اس کے ساتھ گئے تھے۔ انہوں نے آپؓ کو شہید کیا۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 393 صفحہ 372) دوسری سیدہ نائلہ رضی اللہ عنہا زوجہ حضرت عثمانِ غنیؓ تھیں۔ جن کا ہاتھ کٹ گیا۔ تیسرا گواہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام وثاب تھا جس سے دفاع میں دو زخم آئے تھے۔ اس کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا عثمانِ غنیؓ کے کہنے پر اشتر نخعی کو بلایا تھا تو حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے اسے کہا تھا اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو کبھی متحد نہ رہو گے، کبھی اکٹھے نماز نہ پڑھو گے، کبھی میرے بعد کفار دشمنوں سے متحدہ جنگ نہ کرو گے۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 372)
ہمارے بعد اندھیرا رہے گا محفل میں
بہت چراغ جلاؤ گے روشنی کے لیے
معلوم ہوا کہ اشتر نخعی سب قاتلوں کا لیڈر اور موقعہ کا گواہ تھا۔
سوڈان بن حمران نے خود قتلِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا اقرار کیا۔ قد قتلنا ابن عفان (طبری: صفحہ، 379)
مناسب ہے کہ شہادت کا حادثہ اور لوگوں کے امداد نہ کرنے کی وجوہ پیش کی جائیں۔
حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی شہادت
تاریخِ اسلام ندوی صفحہ 231، 232 پر ہے:
آنحضرتﷺ کی پیشنگوئی کے مطابق حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو اپنی شہادت کا پورا یقین تھا۔ صبر و استقامت کے ساتھ ہر وقت اس کے منتظر تھے۔ اس لیے باغیوں کی سرگرمی دیکھ کر آپؓ نے شہادت کی تیاری شروع کر دی۔ جمعہ کے دن سے روزہ رکھا۔ ایک پاجامہ جسے آپؓ نے پہلے کبھی نہ پہنا تھا زیب تن کیا غلام آزاد کیے اور کلام اللہ کھول کر اس کی تلاوت میں مصروف ہو گئے۔ اس وقت تک قصرِ خلافت کے پھاٹک پر حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت محمد بن طلحہ، حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اور بہت سے صاحبزادے باغیوں کو روکے ہوئے تھے کچھ معمولی سا کشت و خون بھی ہوا جب انہیں اندر داخل ہونے کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو انہوں نے پھٹک میں آگ لگا دی اور کچھ لوگ قصرِ خلافت کے متصل دوسرے مکانوں کے ذریعے سے اوپر چڑھ کر اندر داخل ہو گئے جہاں صرف آپؓ کی بیوی سیدہ نائلہ رضی اللہ عنہا پاس تھیں اور آپؓ تلاوتِ قرآن کر رہے تھے۔
پہلی گستاخی تو محمد بن ابی بکر نے کی مگر وہ باپ کا حوالہ سن کر شرمایا اور پیچھے ہٹا۔ پھر بدمعاشوں کا ایک گروہ اندر آیا جن کا سرغنہ عبدالرحمٰن بن عدیس، کنانہ بن بشیر، عمرو بن حمق، عمیر بن ضابی، سودان بن حمران، غافقی بن حرب تھے غافقی بڑھ کر حملہ آور ہوا اور قرآن پاک کو پاؤں سے ٹھکرا کر پھینک دیا۔ کنانہ بن بشیر نے آتے ہی حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر تلوار چلائی۔ ان کی بیوی حضرت نائلہؓ نے فوراً آگے بڑھ کر تلوار کو ہاتھ سے روکا۔ ان کی انگلیاں کٹ کر الگ جا پڑیں۔ دوسرے وار سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زبان سے بسم اللہ توکلت علی اللہ نکلا اور خون کا فوارہ کلام اللہ پر جاری ہو گیا۔ اس کے بعد ہی عمرو بن الحمق نے سینہ پر چڑھ کر برچھے سے نو وار کیے۔ سودان بن حمران نے لپک کر شہید کر دیا۔ عمیر بن ضابی نے آگے بڑھ کر ٹھوکریں ماریں جس سے آپؓ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ وہ ہر ٹھوکر لگا کر کہتا تھا کیوں تم نے میرے باپ کو (فوج داری جرم میں) قید کیا تھا جو قید میں ہی مرا۔
خون کے قطرات قرآن شریف کی اس آیت پر گرے:
فَسَيَكۡفِيۡکَهُمُ اللّٰهُ وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ (سورۃ البقرة: آیت 137)
ترجمہ: ان کو اللہ تیری طرف سے کافی ہے وہی خوب سننے والا جاننے والا ہے۔
گھر کے اندر یہ قیامت برپا ہو گئی کہ قائم اللیل، صائم الدھر، جامع القرآن، قاری الکتاب خادم اسلام و کاتب الوحی کابل سے مراکش تک کے فرمان روا کو بھوک و پیاس میں 40 دن محاصرہ کے بعد اوباش غنڈوں نے بزور بلوا انتہائی شکاوت اور درد ناکی سے شہید کر دیا۔ مگر کوٹھے پر موجود لوگوں کو پتہ نہ چلا۔ بلوائیوں نے گھر کا سامان بھی لوٹ لیا۔ یہ حادثہ 18 ذی الحجہ جمعہ کے دن 35 ہجری کو رونما ہوا۔ جو اسلام کا سب سے اندوہناک اور سنگین حادثہ تھا۔ اس کے بعد امتِ مسلمہ سنی، شیعہ، خارجی، ناصبی وغیرہ فرقوں اور فتنوں میں ایسے بٹی کے تاحال متحد نہ ہو سکی اور حضرت عثمانؓ، حضرت عبداللہ بن سلامؓ، حضرت ابو ہریرہؓ کی پیشن گوئیاں پوری ہو گئیں۔
زوجہ حضرت عثمانؓ بنت الفرافصہ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمانؓ کسی قدر سو گئے۔ بیدار ہوئے تو کہا کہ یہ قوم مجھے قتل کرے گی۔ میں نے کہا امیر المؤمنین ہرگز نہیں فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ، سیدنا ابوبکر صدیقؓ، اور سیدنا عمر فاروقؓ کو خواب میں دیکھا۔ انہوں نے فرمایا کہ تم آج شام کو روزہ ہمارے پاس افطار کرنا یا یہ فرمایا کہ آج روزہ ہمارے پاس افطار کرو گے۔ (چنانچہ عصر کے وقت شہید ہو گئے۔) (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 197)
سب لوگوں کو اپنی مدد سے روک دیا
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اگر اپنا دفاع چاہتے تو بآسانی اہلِ مدینہ کے تعاون سے 500، 1000 باغیوں کو ختم کرا سکتے تھے مگر جوارِ رسول اللہﷺ میں قتل و قتال جائز نہ سمجھا جان دے دی مگر کلمہ گو، گو منافق ہی تھے لوگو پر تلوار نہ چلائی اپنے سب اصحابؓ، اہلِ مدینہ اور غلاموں کو منع کر دیا حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اپنے گورنروں کی امدادی پیش کش کو ٹھکرا دیا۔ مولانا معین الدین ندوی نے کیا خوب لکھا ہے کہ آپؓ کے خلاف کتنا طوفان بپا ہوا۔ مخالفین نے رو در رو گستاخیاں کیں۔ لیکن اس پیکر حلم نے سوائے صبر و تحمل کے جواب نہ دیا اگر آپؓ چاہتے تو باغیوں کے خون کی ندیاں بہہ جاتیں۔ لیکن آپؓ نے جان دے دی مگر صبر و حلم کے جادہ مستقیم سے نہ ہٹے۔ (تاریخِ اسلام: جلد، 1 صفحہ، 243)
مختصراً چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:
1: اے مدینہ والو تمہیں اللہ کے حوالے کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ میرے بعد تمہیں اللہ اچھی خلافت دے اور اہلِ مدینہ کو لوٹ جانے کا حکم دیا اور دفاعی جنگ نہ لڑنے پر ان سے قسم لی اور تو سب واپس ہو گئے۔ مگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ، حضرت محمدؓ، حضرت ابنِ زبیرؓ اور ان جیسے نوجوان اپنے آباء کے حکم سے دروازے کی پاسبانی کرنے لگے۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ گھر میں نظر بند ہو کر بیٹھ گئے۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 385)
2: بلوائیوں سے کہا تھا میں سر دے دوں گا لیکن خدا کی بخشی ہوئی خلافت کو نہ چھوڑوں گا۔ تم کو کسی سے مقابلہ اور جنگ کی ضرورت نہیں اس لیے کہ میں کسی کو تم سے لڑنے کی اجازت نہ دوں گا جو ایسا کرے گا وہ میرے حکم کے خلاف کرے گا۔ اگر میں جنگ ہی کرنا چاہتا تو میرے حکم پر ہر طرف سے فوجوں کا ہجوم ہو جاتا یا میں خود کسی مقام پر چلا جاتا۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 377)
یہاں سے پتہ چلا کہ طبری میں جو یہ روایت ہے کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ خفیہ طور پر جنگ کی تیاری میں تھے۔ فوجیں بلوا بھیجی تھیں۔ دشمنوں کی بنائی ہوئی جھوٹی بات ہے۔ اہلِ مدینہ آپؓ کی مدد کو کافی تھے۔
3: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے دروازے پر موجود رہ کر بلوائیوں کا مقابلہ کیا لیکن ان کو حضرت عثمانِ غنیؓ نے امیر الحاج بنا کر بااصرار مکہ روانہ کیا۔
4: سیدنا حسن بن علیؓ، سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ، سیدنا محمد بن طلحہؓ، سیدنا سعد بن العاصؓ نے دروازہ کھولنے سے بلوائیوں کو روکا لڑ کر ان کو پیچھے ہٹا دیا لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو قسمیں دیکھ کر لڑنے سے روکا اور گھر کے اندر بلا لیا۔
5: جب بلوائی اندر گھس آئے تھے تو اپنے غلام وغیرہ حاضرین سے کہا تھا۔ رسول اللہﷺ نے ایک عہد مجھ سے لیا ہے میں اس عہد پر قائم ہوں، تم ہرگز ان بلوائیوں کا مقابلہ اور ان سے قتال بالکل نہ کرو۔ سیدنا مغیرہ بن الاخنسؓ یہ حالت دیکھ کر تاب نہ لا سکے۔ چند ہمراہیوں کو لے کر مقابلہ پر آئے اور لڑ کر شہید ہوئے اس طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی یہ کہتے ہوئے يٰقَوۡمِ مَا لِىۡۤ اَدۡعُوۡكُمۡ اِلَى النَّجٰوةِ وَتَدۡعُوۡنَنِىۡۤ اِلَى النَّارِ (سورۃ نمبر 40 غافر: آیت 41) بلوائیوں پر ٹوٹ پڑے مگر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے باصرار سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو واپس بلوایا اور لڑائی سے باز رہنے کا حکم دیا۔ (تاریخِ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی: جلد، 1 صفحہ، 365)
6: حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے مدد دینا چاہی۔ انصار نے آ کر کہا۔ ہم آج دوبارہ آپؓ کے لیے انصار رضی اللہ عنہم بنتے ہیں مگر سب کو حضرت عثمان بن عفانؓ نے روک دیا اپنے غلاموں کو بھی قسمیہ روک دیا از خود لڑ کر ایک شہید ہوا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا قصرِ خلافت میں ہم لوگوں کی خاصی تعداد ہے اجازت ہو تو میں جانبازی کے جوہر دکھاؤں فرمایا خدا کی قسم دلاتا ہوں کہ میرے لیے خون ریزی نہ کی جائے۔ (ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 49)
سوال نمبر 579: کیا مقدمہ قتلِ سیدنا عثمانؓ خلیفہ وقت کی عدالت میں وارثوں نے پیش کیا؟
جواب: خلیفۂ وقت اور سربراہِ مملکت کے قتل کا وارث و دعویدار اس کا جانشین اور حاکمِ مملکت ہی ہوتا ہے۔ جمہوری حکومت کا اصول یہی ہے۔ صرف وارث و اقارب ہی دعویدار نہیں ہوتے۔ یہاں اشتر نخعی جیسے مفسد کی قیادت میں آپؓ کے وارثوں اور اموی رشتہ داروں کو تشدد اور دھمکیوں سے مدینہ سے دربدر کر دیا گیا تھا۔ عملاً راج بلوائیوں کا تھا۔ کوئی وارث کس طرح آزادنہ بلوائیوں کے خلاف مقدمہ پیش کر سکتا تھا کہ اس کی جان محفوظ رہ سکتی۔ حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ اور دیگر شرفاء مدینہ نے حضرت علی المرتضیٰؓ سے اجراءِ حدود اور قصاص کا مطالبہ کیا تو آپؓ نے فرمایا جو تم کہتے ہو میں اس سے غافل نہیں مگر مجھے قوت کہاں ہے کہ قصاص لوں۔ وہ ہمارے مالک بنے ہوئے ہیں۔ ہم ان کے مالک نہیں۔ ان کے غلام بھی ان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہیں جو تم کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ (نہج البلاغہ و تاریخِ طبری: جلد، 4 صفحہ، 437)
تاہم حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خدمت میں یہ مقدمہ پیش کر کے اپنی زمہ داری پوری کر دی اب اس پر عمل درآمد کرنا یا نہ کر سکنا حکومتِ وقت کی زمہ داری تھی۔
تاریخ الخلفاء سیوطی صفحہ 124 بیان ملاحظہ ہو:
مروان اور سیدنا عثمانِ غنیؓ کی اولاد تو بھاگ گئی تھی۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی بیوی کے پاس آئے اور پوچھا حضرت عثمانِ غنیؓ کو کس نے قتل کیا۔ اس نے کہا میں یقینی نہیں جانتی۔ دو شخص اندر آئے جن کو میں نہیں جانتی تھی۔ ان کے ساتھ سیدنا محمد بن ابی بکرؓ تھا پھر اس نے تفصیلی واقعہ شہادت ذکر کیا جو حضرت محمد بن ابی بکرؓ اور قاتلوں نے کیا تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت محمدؓ کو بلا کر پوچھا۔ اس نے کہا اللہ کی قسم عورت نے جھوٹ نہیں کہا۔ میں قتل کی ارادے سے ہی اندر گیا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے میرے باپ رضی اللہ عنہ کا نام لیا میں ہٹ آیا اور اللہ کے سامنے رجوع کرتا ہوں۔ باخدا میں نے نہ قتل کیا، نہ قتل سے روکا۔ سیدہ نائلہ رضی اللہ عنہا نے کہا اس نے سچ کہا ہے لیکن اسی نے ان کو اندر داخل کیا تھا۔ اب جب حضرت نائلہؓ کی شہادت اور سیدنا محمد کے اقرار سے اس کا شریکِ قتل ہونا معلوم ہو چکا تو بلی محمد ہی کے تھیلے میں تھی۔ تمام قاتلوں کو وہ بخوبی جانتا تھا۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا معتمد اور پروردہ بھی تھا۔ اسی سے سب کچھ پوچھا جا سکتا تھا۔
سوال نمبر 580: اگر مقدمہ پیش ہوا تو حکومت نے کیا قدم اٹھایا؟
جواب: رشتہ دار تو مقدمہ اور گواہی پیش کر کے بری ہو گئے۔ اب تحقیق اور قاتلوں کی گرفتاری حکومت کا ہی کام تھا ہم اہلِ سنت تو مہر بلب ہیں۔
رموزِ مملکت خسرواں ہی دانند
سوال نمبر 581: کیا کوئی ضعیف سی شہادت بھی ملی کہ کس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے ہاتھ رنگے؟
جواب: سوال 578 کے تحت حادثہ قتل، مجرموں کے کاروائی ان کا اقرار ہم کتبِ تاریخ سے لکھ چکے ہیں یہاں محمد اقرار کر رہا ہے اور سیدہ نائلہ رضی اللہ عنہ کی تکذیب نہیں کرتا، تصدیق کر رہا ہے تو خون سے ہاتھ رنگوانے والا جب مل گیا تو رنگنے والا ہاتھ بھی یہی ملائے گا بشرطیکہ اس سے حکومتِ وقت کے مشیر پوچھیں۔
سوال نمبر 582: کیا کسی تاریخ سے ثابت ہو سکتا ہے کہ سیدنا محمد بن ابی بکرؓ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا؟
جواب: چور کی داڑھی میں تنکا خود ہی اپنے خیال میں مجرم کو اقرار کرانے سامنے لا رہے ہیں۔ اگرچہ کتبِ تاریخ میں حضرت محمد بن ابی بکرؓ کا سیدنا عثمانؓ کی داڑھی پکڑنا، پھر شرمانا اور واپس ہو جانا لکھا ہے۔ تاہم جن 13 غنڈوں کو لے کر آیا تھا اور انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بے دردی سے شہید کیا ان کے نام تاریخ میں محفوظ ہیں اور چھ نام ہم لکھ چکے ہیں۔ 1: عبدالرحمٰن بن عدیس 2: کنانہ بن بشر 3: عمرو بن حمق 4: عمیر بن ضابی 5: سودان بن حمران 6: غافقی بن حرب 7: ایک کا نام ابن النباغ تھا۔ (طبری) رومان بن سرحان، جبلتہ بن الایھم، اسود تجیبی، ،یسار بن عیاض کا نام قاتلوں میں (ریاض النضرہ: جلد، 2 صفحہ، 172) پر لکھا ہے۔ حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو سب معلوم تھے۔ اگر وہ دراصل حضرت علی المرتضیٰؓ کا ذرہ بھی ہمدرد و خیر خواہ ہوتا اور اس سے تحقیق کی جاتی تو وہ ان چھ لوگوں کے نام بتا کر گرفتار کرا دیتا تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی حکومت مستحکم ہو جاتی اور تمام مصائب کے پہاڑ ٹل جاتے لیکن۔
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
تاریخِ طبری جلد 2 صفحہ 372 میں ہے وجاء محمد بن ابی بکر و ثلاثہ عشر حتی انتھی الی عثمان فاخذ بلحیته۔ کہ سیدنا محمد بن ابی بکرؓ 13 غنڈے لے کر حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ تک آ پہنچا اور داڑھی پکڑ لی اور کہنے لگا۔ تجھے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابنِ عامر اور تیرے لشکر کچھ کام نہ آئے۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے کہا بھتیجے میری داڑھی چھوڑ دے۔ راوی (وثاب مولیٰ سیدنا عمرؓ) کا بیان ہے میں نے دیکھا کہ اس نے حملہ آوروں سے خاص آدمی کو بلایا۔ اس نے تلوار حضرت عثمانِ غنیؓ کے سر پر ماری میں نے کہا ٹھہرو اس نے کہا اس پر جھپٹو۔ تاآنکہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کو انہوں نے شہید کر دیا۔ (پہلے گزر چکا ہے کہ اس راوی کو بھی دو رخم آئے تھے)
اشتر نخعی کی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے گستاخانہ گفتگو اور حضرت محمد بن ابی بکرؓ کا 13 افراد کو لانا اور ان کا آپؓ کو شہید کرنا۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 194 اردو پر بھی دیکھیے۔)
سوال نمبر 583: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل اجتہادی غلطی نہیں ہو سکتی؟
جواب: نہیں کیونکہ وہ تو طلبِ ثواب میں چوک جانے کا نام ہے یہاں تو ابنِ سباء یہودی کی مستقل سازش تھی کہ مسلمانوں سے ایک گروہ تیار کر کے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا جائے اور وہ آپس میں لڑتے رہیں۔ پھر اسی گروہ نے حمبل و صفین برپا کرا کر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔ اسی نے خارجی بن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی پھر اسی گروہ والے ابنِ ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا پھر اسی نے حضرت حسنؓ کی مصالحت با سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو ناپسند کر کے آپؓ پر قاتلانہ حملہ کیا۔ پھر اسی نے یزید کی حکومت الٹنے کے لیے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو جھوٹے خطوط لکھ کر بلایا۔ پھر غداری سے شہید کر دیا۔ اگر آپ قتلِ سیدنا عثمانِ غنیؓ کو اجتہادی غلطی کہتے ہیں تو ان تمام ہستیوں کہ قتل کو بھی اجتہادی خطا مانیے۔ ہم تو ان سب بزرگوں کے قاتلوں کو ایک ہی شیعہ سبائی گروہ، اللہ کا دشمن، مسلمانوں کا دشمن اور منافق سمجھتے ہیں۔ (لعنتہ اللہ علیہم اجمعین)
سوال نمبر 584: موجود اصحابِ عشرہ مبشرہؓ میں سے ایک نام بتائیں جو سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے متفق رہا ہو اور اس کا حضرت صاحب (حضرت عثمانؓ) سے تنازعہ کسی وقت نہ ہوا ہو؟
جواب: یہ مخالفانہ افواہیں دشمنوں کی پیداوار ہیں کوئی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ مخالف ہوتے تو وہی کابینہ کو پھر بلا کر معزولی کا فیصلہ کرتے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ دشمن ہوتے تو امداد نہ کرتے اور پھر قتل سے برأت نہ کرتے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو امداد کے لیے ابھارا۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 377) حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ مخالف ہوتے تو بیٹوں سے پہرا نہ دلاتے۔
اگر ہم آپ سے پوچھیں کہ حضرت علی المرتضیٰؓ کی بیعت کن کن لوگوں نے کی تھی اور پھر آخر تک کون کون ساتھ رہا تو اس کا جواب آپ کو مہنگا پڑے گا۔ خاموشی ہی بہتر ہے۔
سوال نمبر 585: بلوائیوں کا مطالبہ کیا تھا؟
جواب: خلافت سے دستبرداری یا شہادت۔ دوسرا مطالبہ پورا کر دیا۔
سوال نمبر 586: سوا مہینہ کے محاصرہ میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کیا امداد کی؟
جواب: اولاً لشکر بھیجنے کو کہا۔ مگر حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے منظور نہ کیا۔ ساتھ لے جانے کو کہا مگر آپؓ نے جوارِ رسولﷺ کو نہ چھوڑا پھر از خود لشکر بھیجا تھا مگر اس کے پہنچنے سے قبل ہی آپؓ شہید کیے جا چکے تھے۔ طبری جلد 4 صفحہ 368 پر ہے: کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید بن اسد بن کرز اور دیگر اہلِ شام کو لکھا۔ کہ امداد کر سکتے ہو تو جلدی کرو کیونکہ قوم کو جلدی ضرورت ہے یزید بن اسد نے خط پڑھا خدا کی حمد و ثنا کے بعد حضرت عثمانِ غنیؓ کا تذکرہ کیا۔ بڑا حق جانا اور مدد پر لوگوں کو ابھارا اور چلنے کا حکم دیا تو بہت سے لوگ تابعدار ہو کر چل پڑے۔ جب وادی القریٰ تک پہنچے تھے تو ان کو سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے اطلاع ملی تو واپس پلٹ آئے۔
سوال نمبر 587: بی بی (سیدہ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیوں فرمایا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کافر ہو گیا ہے؟
جواب: ایسی کوئی عبارت مسند احمد میں نہیں ہے۔ بہتانِ محض ہے۔
سوال نمبر 588: حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے مکان کے روشن دان سے امدادِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کیوں طلب کی جب کہ حضرت علیؓ موجود نہیں تھے اور سیدنا علی المرتضیٰؓ سے مدد مانگنا آپ گناہ سمجھتے ہیں؟
جواب: حضرت علی رضی اللہ عنہ آتے جاتے تھے تو ایک دوست دوسرے کی ہمدردی میں جو کر گزرتا تھا کرتا تھا۔ ایک دفعہ پانی طلب کیا (کیونکہ 40 دن کے محاصرہ میں بلوائیوں نے پانی بند کر دیا تھا) تو سیدنا علیؓ مشکیزے بھر کر لائے تو بلوائیوں نے اگے نہ پہنچنے دیا ناکام واپس آ گئے۔ حاضر شخص سے یا غائب سے بواسطہ قاصد و خط ایسے اسباب کے تحت امداد و نصرت مانگنا گناہ نہیں بلکہ شرعاً تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰى کے تحت درست ہے۔ ہاں غائبانہ بلا اسبابِ ظاہری ان کو مدد کے لیے پکارنا جیسے شیعہ اٹھتے بیٹھتے یا علی مشکل کشا و مدد کہتے ہیں۔ گناہ اور شرک ہے۔ اور ابنِ سباء یہودی نے ایجاد کیا تھا۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے ایسے 70 افراد کو جلا دیا تھا۔
سوال نمبر 589: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی پیاس کس نے بجھائی؟
جواب: دیگر مؤمنین کی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی پانی اندر پہنچایا۔
سوال نمبر 590: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کس کی حفاظت میں زخمی ہوئے؟
جواب: اپنے محترم خسر امیر المؤمنین سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے دفاع میں، ذرا غور فرمائیں یہی دونوں باتیں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو برحق۔ بلوائیوں کو برباطل اور شیعہ مذہب کو جھوٹا بتاتی ہیں۔
سوال نمبر 591: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی لاش کو کس نے غسل دیا؟
جواب: شہید تھے، شہید کا غسل و کفن اسلام میں نہیں ہوتا۔ شاید شیعہ مذہب میں ہو۔
سوال نمبر 592: جنازہ کس صحابی نے پڑھایا، کہاں پڑھا گیا، کتنے شرکاء تھے؟
جواب: حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ یا حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نے پڑھا۔ جنت البقیع میں عشاء کے وقت 17 افراد نے جنازہ میں شرکت کی۔ طبقات ابنِ سعد جلد 3 صفحہ 199 پر ہے کہ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر سولہ آدمیوں کہ ہمراہ نماز پڑھی جو مع سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ 17 تھے۔ دوسری روایت میں ہے وہ لوگ جنازہ لے کر بقیع پہنچے حضرت جبیر بن مطعمؓ نے نماز پڑھائی۔ ان کے پیچھے سیدنا حکیم بن حزام، سیدنا ابو جہم بن حذیفہ، سیدنا نیاز بن مکرم الاسلمی رضی اللہ عنہم (وغیرہ مرد) اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی دو بیویاں سیدہ نائلہ بنت الفرافصہ اور سیدہ ام البنین بنتِ عینہ تھیں۔ قبر میں نیاز بن مکرم ابو جہم بن حذیفہ اور جبیر بن مطعم اترے۔ حکیم بن حزامؓ، سیدہ ام البنینؓ اور حضرت نائلہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو قبر کا راستہ بتا رہی تھیں۔ انہوں نے لحد بنائی اور آپؓ کو دفنا دیا۔ زیارت کے بعد سب متفرق ہو گئے۔ (ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 199)
سوال نمبر 593: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کہاں دفن کیا گیا؟
جواب: جنت البقیع کے حصہ، حش کوکب میں۔
سوال نمبر 594: قتل کے کتنے دن بعد دفن ہوئے؟ کیا لاش صحیح و سالم تھی؟
جواب: سیدنا نیاز بن مکرم کا بیان ہے ہم نے (قتل کے دن) شب شنبہ مغرب و عشاء کے درمیان جنازہ اٹھایا تھا۔ تدفین اسی رات کو ہوئی تھی۔ بالفرض لیٹ بھی ہوتی تو لاش کو کچھ خطرہ نہ تھا۔ شہداء کے اجسام قبور میں بھی صحیح و سالم ہوتے ہیں۔
سوال نمبر 595: حش کوکب کیا مقام تھا وہ کس مقصد کے لیے مشہور تھا؟
جواب: حش کا معنیٰ باغ اور کوکب ایک انصاری کا نام تھا۔ حضرت عثمانؓ نے اس سے یہ باغ خرید کر جنت البقیع میں شامل کر دیا۔ سب سے پہلی قبر آپؓ کی ہی اس میں بنی (ریاض النضرہ: جلد، 2 صفحہ، 173)
سیدنا مالک بن ابی عامر کہتے ہیں کہ لوگ آرزو کرتے کہ ان کی میتیں حش کوکب میں دفن کی جائیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے عنقریب ایک مرد صالح وفات پائے گا۔ یہاں دفن کیا جائے گا لوگ اس کی پیروی کریں گے۔ (ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 198)