ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف…

ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف شورش

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 7

سوال نمبر 573: حضرت محمد بن ابی بکرؓ کو جب مصر کا گورنر بنا کر روانہ کیا گیا تو راستے سے واپس مدینہ کیوں پلٹ آئے؟

جواب: ان لوگوں کا مقصد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا تختہ الٹنا اور آپؓ کو شہید کرنا تھا کیونکہ ان کو ابنِ سبا یہودی نے یہی تعلیم دی تھی۔ تاریخ طبری سن 35 ہجری کے حالات میں ہے: عبداللہ بن سبا یہودی صنعاء کا باشندہ تھا۔ اس کی ماں کالی تھی (تو اسے ابن سوداء کہتے تھے۔) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسلمان بنا پھر مسلمان صوبوں میں ان کو گمراہ کرنے کے لیے گھومتا پھرتا رہا۔ حجاز، بصرہ، کوفہ، شام سے دیس نکالا کے بعد مصر آ گیا اور وہی آباد ہو گیا۔ پہلے رجعت کی تعلیم دی کہ محمدﷺ‏ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے زیادہ دنیا میں واپس آنے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ بات اس کی مانی گئی تو کہنے لگا، ہزار پیغمبر تھے، ہر پیغمبر کا وصی تھا اور محمدﷺ‏ کے وصی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں پھر کہا محمدﷺ‏ خاتم الانبیاء ہیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ خاتم الاوصیا (کیا بعد کے گیارہ امام جھوٹے اور غاصب امامت تھے؟) ہیں۔ اس کے بعد کہنے لگا: اس سے بڑا ظالم کون ہے جو رسول اللہﷺ کی وصیت جاری نہ کرے اور وصی رسول اللہ پر چڑھائی کر کے امت کا سربراہ بن جائے۔ پھر کہنے لگا:

ان عثمان اخذھا بغیر حق وھذا وصی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فانھضو فی ھذا الامر فحرکوہ وابدءوا بالطعن علی امراءکم و اظھروا الامر بالمعروف والنھی عن المنکر تستمیلو الناس وادعوھم الی ھذا الامر فبث دعاته وکاتبه من استفسد فی الامصار وکاتبوه ودعوا فی میل السر الی ما علیه راءیھم۔ الخ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 340، 341)

ترجمہ: سیدنا عثمانؓ نے خلافت ناحق لی ہے رسول اللہﷺ کے وصی (قابلِ خلافت) تو یہ (حضرت علیؓ) ہیں۔ اس کام کے لیے اٹھو تحریک چلاؤ اپنے حاکموں پر اعتراض کرنے سے آغاز کرو۔ اچھے کام کا حکم اور برے کام سے ممانعت بظاھر عادت بناؤ لوگوں کو جب اپنا بنا لو گے تو انہیں انقلاب برپا کرنے کی دعوت دو۔ چنانچہ اس نے اپنے ایجنٹ ہر شہر میں بھیج دیئے اور شہروں کے مفسد لوگوں سے خط و کتابت کی اور خفیہ خفیہ اپنے پروگرام کی دعوت دینے لگے۔

یہی کچھ بہت سے مورخین نے لکھا ہے جو شیعت کا پہلا بیج اور نطفہ تھا۔

اس سوچی سمجھی سازش سے مصریوں، کوفیوں، بصریوں، یمنیوں کے اوباش انقلاب برپا کرنے آئے تھے وہ کب اصلاحی پروگرام مان سکتے تھے۔ بظاہر تو وہ ابنِ ابی سراح کی معزولی اور سیدنا محمد بن ابی بکر کا گورنری نامہ لے کر لوٹے مگر اس سے ان کا مشن پورا نہ ہو سکتا تھا فوراً ایک غلام تیار کیا۔ بیت المال کی اونٹنی چرا کر اس کے حوالے کی اور ابنِ ابی سرح کے نام سیدنا محمد بن ابی بکر کے قتل کا خط اسے دے کر اپنے لشکر سے آگے پیچھے ایسے گزارا کہ وہ مشکوک ہو کر پکڑا جائے اور یہ دوبارہ فتنہ کھڑا کر دیں چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مختلف سمتوں کی طرف جانے والے بیک وقت مدینہ لوٹ آئے۔ تاریخی شہادتیں ملاحظہ ہوں۔

مصری سیدنا علی المرتضیٰؓ کے پاس آئے۔ اپنا مطلب بتایا تو حضرت علی المرتضیٰؓ نے ان کو چیخ کر پھٹکار دیا اور فرمایا نیک لوگ جانتے ہیں کہ مِروہ اور خشب والے لشکر حضرت محمدﷺ‏ کی زبان سے لعنتی ہیں۔ دفع ہو جاؤ خدا تمہارا ساتھ نہ دے۔ بصری حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ نے بھی ان کو یہی جواب دیا۔ کوفی حضرت زبیرؓ کے پاس آئے۔ آپ نے بھی ان کو یہی جواب دیا۔ پھر یہ لوگ باہر نکلے اور یوں دکھلایا کہ وہ واپس جا رہے ہیں تو مقامِ خشب اور عواص سے سرک کر اپنے لشکروں تک جا پہنچے جو تین کوس کے فاصلے پر ٹھہرے ہوئے تھے تاکہ مدینہ والے منتشر ہو جائیں۔ پھر یہ دوبارہ لوٹ کر آ جائیں۔ چنانچہ اہلِ مدینہ تو ان کے نکلنے کی وجہ سے منتشر ہو گئے۔

جب یہ بلوائی اپنے لشکروں تک پہنچے تو ان کو ساتھ لے کر اچانک مدینہ پہنچ گئے اور مدینہ والوں کو تب پتہ چلا جب شہر کے آس پاس تکبیر بلند ہو رہی تھیں۔ یہ لشکر گاہوں میں اتر پڑے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا گھیراؤ کر لیا اور کہا امن اسے ملے گا جو ہاتھ بند رکھے گا۔ 

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو چند دن نمازیں پڑھائیں۔ لوگ گھروں میں دبک بیٹھے اور کسی کو بات سے نہ روکا لوگ بلوائیوں سے گفتگو کرنے آئے جن میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی تھے تو آپؓ نے پوچھا: تمہیں واپس جانے کے بعد کس چیز نے پروگرام بدل کر لوٹایا؟ کہنے لگے ہم نے ڈاکیے سے خط پکڑا ہے جس میں ہمارے قتل کا حکم ہے۔ سیدنا طلحہؓ آئے تو بصریوں نے یہی کہا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ آئے تو کوفیوں نے یہی کہا۔ پھر کوفیوں اور بصریوں نے کہا ہم اپنے مصری بھائیوں کی مدد کرنے اور دفاع کرنے آئے ہیں۔ گویا وہ پہلے سے ایک وقت اور پروگرام طے کر چکے تھے۔ 

تو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے کوفیو اور اے بصریو تمہیں کیسے پتہ چلا کہ مصر والوں نے خط پکڑا ہے حالانکہ تم کئی کوس جا چکے تھے۔ پھر ہماری طرف لوٹ آئے۔

ھذا والله امر ابرم بالمدینۃ قالوا فضعوہ علی ما شئتم لا حاجۃ لنا فی ھذا الرجل لیعتزلنا (طبری: جلد، 4 صفحہ، 349 تا 351)

ترجمہ: خدا کی قسم یہ سازش تو مدینہ میں تیار کی گئی ہے۔ بلوائی کہنے لگے تم جیسے چاہو سمجھو ہمیں اس شخص کی ضرورت نہیں۔ ہم سے الگ ہو جائے۔ (خلافت چھوڑ دے) 

پھر جب حضرت عثمانِ غنیؓ سے پوچھا گیا تھا کہ اونٹ بیت المال کا ہے؟ غلام تمہارا ہے؟ خط تمہارے نام سے لکھا گیا ہے اور مہر تمہاری لگی ہے؟ تو سیدنا عثمانِ غنیؓ نے جواب دیا: 

دو باتیں مانو یا تو دو گواہ میرے خلاف پیش کرو یا میری قسم پر اعتبار کرو۔ کہ خدا کی قسم جس کے بغیر کوئی معبود نہیں، نہ میں نے لکھا، نہ لکھوایا، نہ مجھے اس کا علم ہے۔ نیز کیا تم جانتے ہو ایک خط دوسرے کی زبان اور نام سے لکھا جا سکتا ہے جعلی مہر بنائی جا سکتی ہے؟ 

بلوائی کہنے لگے خدا نے تیرا خون حلال کر دیا تو نے وعدہ توڑا۔ چنانچہ بلوائیوں نے آپؓ کا محاصرہ کر لیا۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 356) 

صفحہ 1 از 7