ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف…

ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف شورش

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 7

تاریخِ اسلام نجیب آبادی صفحہ 362 میں ان سب واقعات کے علاوہ یہ بھی ہے کہ بلوائیوں نے کہا اے سیدنا علیؓ آپ ہماری مدد کریں؟ حضرت علیؓ نے انکار کیا تو انہوں نے کہا آپؓ نے ہمیں لکھا کیوں تھا؟ حضرت علی المرتضیٰؓ نے فرمایا میں نے کبھی تم کو کچھ بھی نہیں لکھا۔

کیا اس تفصیل سے یہ واضح نہ ہو گیا کہ یہ بدبخت سبائی حضرت عثمانِ غنیؓ کو شہید کر کے حضرت علی المرتضیٰؓ وصی کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے۔ خط وغیرہ کا ڈرامہ خود بنا کر آپؓ کے قتل کا بہانہ بنایا تھا اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بھی ملوث کرنا چاہتے تھے۔

سوال نمبر 574: سیدنا محمد بن ابی بکر نے حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ اور حضرت علیؓ سے کیا شکایت کی تھی؟ 

جواب: اپنا ہی جعلی خط دکھا کر حکمِ قتل کا الزام سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر لگایا تھا۔

سوال نمبر 575: جب اصحاب نے اصل مجرم حضرت مروانؓ طلب کیا تو انہوں نے اسے کیوں پناہ دی؟

جواب: سابق تفصیل کے مطابق جب سیدنا مروانؓ بھی خط کا کاتب اور مجرم ثابت نہیں ہوتا تو کیسے بے قصور شخص کو غنڈوں کے حوالے کر کے قتل کرا دیتے؟

سوال نمبر 576: اہلِ مدینہ نے حضرت عثمانؓ کی طرف داری کو کیوں نہ پسند کیا؟

جواب: وہ سیدنا عثمانؓ کو قتل سے بچانا چاہتے تھے، خیر خواہ تھے، مروان کی سپردگی اور قتل سے گو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بچ جاتے اور اہلِ مدینہ خوش ہو جاتے۔ مگر قتل کرانے کا داغ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر رہ جاتا۔ لہٰذا آپؓ نے اپنی جان مظلومانہ ان کے حوالے کر دی مگر ناحق قتل نہ ہونے دیا۔ اس عزیمت اور جرأت کی مثال انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ کہیں نہیں ملے گی۔

سوال نمبر 577: جب بلوائیوں نے مان لیا کہ حضرت عثمانؓ سے ان کا کوئی جھگڑا نہیں ہے اگر وہ مروانؓ کو حوالے کر دیں تو پھر آپ نے ایسا کیوں نہ کیا؟

جواب: دروغ گو کبھی سچ کہہ ہی دیتا ہے۔ جب آپ مان رہے ہیں کہ آپ کے سبائی اسلاف کو بھی حضرت عثمانؓ سے جھگڑا نہ تھا۔ وہ ان کے ہاں بھی بے قصور اور الزامات سے پاک تھے تو پھر چودہ سو سال سے سیدنا عثمانؓ کے خلاف بد گوئی بند کیوں نہیں کرتے۔ مطاعن و الزامات کی بارش خود مفسد بلوائیوں پر کیوں نہیں برساتے۔ مروان اور اشتر نخعی شیطان اور حکیم بن جبلہ ڈاکو اور ابنِ سبا یہودی کو تمام حادثات کا ذمہ دار قرار دے کر سنی شیعہ نزاع کی جڑ، بحث مشاجرات کو ختم کیوں نہیں کرتے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے حسنِ ظنّی قائم کر کے مصالحت کی باتیں کیوں تسلیم نہیں کرتے؟ 

مروان کے سپرد نہ کرنے کی وجہ بیان ہو چکی ہے۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مظلوم شہید تھے

یہاں ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ وہ ارشاداتِ نبویﷺ اور آثارِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ذکر کر دیں جن میں حضرت عثمانؓ کو جنتی اور شہید مظلوم فرمایا گیا ہے اور اہلِ فتنہ باغیوں کا بر باطل واضح ہونا ہے:

1: کعبؓ بن عجرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک فتنہ کا ذکر کیا اس کی نزدیکی اور بڑھائی ذکر کی۔ ایک شخص چادر اوڑھے ہوئے پاس سے گزرا۔ آپﷺ‏ نے فرمایا: اس دن یہ حق پر ہو گا میں نے اٹھ کر اس کا پلو پکڑا اور کہا یا رسول اللہﷺ! یہ شخص (فرمایا ہاں) تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ (احمد بن حنبل، ترمذی وقال حسن صحیح)

2: حضور اکرمﷺ‏ نے ایک مرتبہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ تجھے ایک قمیص (خلافت) پہنائے گا۔ منافقین اتروانا چاہیں گے تو ہرگز نہ اتارنا، تو ہرگز نہ اتارنا۔

3: سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک فتنہ کا ذکر کیا تو فرمایا اس میں حضرت عثمان بن عفانؓ مظلوم ہو کر شہید کیا جائے گا۔ (ترمذی)

4: سیدنا عثمان بن عفانؓ نے محاصرہ والے دن فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے عہد لیا ہے۔ میں اس پر ڈٹا ہوا ہوں۔ (یعنی منافقوں کے کہنے پر خلافت نہیں چھوڑ سکتا۔) (ترمذی) 

5: ایک مرتبہ کوہ احد پر حضور اکرمﷺ‏ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ، سیدنا عمر فاروقؓ، سیدنا عثمانِ غنیؓ کھڑے تھے وہ ہیبت سے کانپنے لگا تو آپﷺ‏ نے فرمایا ٹھہر جا! تجھ پر ایک نبیﷺ‏، ایک صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں۔ (بخاری و مسلم)

6: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ سے سنا فرماتے تھے میرے پاس سے حضرت عثمانِ غنیؓ گزرے۔ میرے پاس ایک فرشتہ (غالباً حضرت جبرئیل علیہ السلام) موجود تھا۔ کہنے لگا یہ شہید ہے اسے قوم قتل کرے گی ہم اس سے حیاء کرتے ہیں۔ اخرجہ ابنِ عساکر (تاریخ الخلفاء: صفحہ، 119)

7: حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ میں محاصرہ کے دن تمام حجت کے لیے فرمایا تھا: اے اصحابِؓ نبیﷺ‏ تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے عسرت والے لشکر کو تیار کیا وہ جنتی ہے جو رومہ کا کنواں کھدوا دے وہ جنتی ہے تو لشکر کو میں نے ساز و سامان سے تیار کیا اور کنواں کھدوایا۔ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تصدیق کی۔ (بخاری)

8: سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو تم جانتے ہو رسول اللہﷺ نے ثبیر مکہ (ایک پہاڑی) پر تھے حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ اور میں ساتھ تھے۔ وہ حرکت میں آ گیا اور پتھر پستی کو گرنے لگے تو آپﷺ‏ نے فرمایا ثبیر ٹھہر جا، تجھ پر نبیﷺ‏ صدیقؓ اور شہیدؓ کھڑے ہیں۔ سب نے کہا جی ہاں اللہ گواہ ہے۔ تب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نعرہ تکبیر کہا۔ اللہ کی قسم انہوں نے بھی گواہی دے دی ہے کہ ربِّ کعبہ کی قسم میں شہید ہوں، شہید ہوں، شہید ہوں۔ (ترمذی، نسائی، دار قطنی، مشکوٰۃ: صفحہ، 562)

9: حضرت ابو سہلہؓ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے پوشیدہ باتیں کر رہے تھے آپﷺ‏ کا رنگ بدلتا جاتا تھا جب محاصرہ کا دن آیا تو ہم نے کہا کہ کیا ہم لوگوں سے جنگ نہ کریں؟ تو فرمایا نہیں مجھ سے رسول اللہﷺ نے عہد لیا تھا میں اس پر خوب پکا ہوں۔ (مشکوٰۃ: صفحہ، 562)

صفحہ 2 از 7