ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف…

ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف شورش

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 3 از 7

10: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ محاصرہ کے دن سیدنا عثمانؓ کے پاس آئے تو خدا اور رسولﷺ‏ کی تعریف کے بعد فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے فرماتے تھے: تم جلدی میرے بعد ایک فتنہ دیکھو گے اور اختلاف یا فرمایا اختلاف اور فتنہ دیکھو گے۔ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہﷺ ہمارا امیر کون ہو گا یا ہمیں کس کی اتباع کا حکم دیتے ہو تو آپﷺ‏ نے فرمایا: 

علیکم بالامیر واصحابہ وھو یشیر الی عثمان بذلک۔ (رواھما البیہقی فی دلائل النںوۃ) (مشکوٰۃ: صفحہ، 563)

ترجمہ: تم پر لازم ہے کہ امیر المؤمنین اور اس کے ساتھیوں کی حمایت کرنا۔ اشارہ حضرت عثمانؓ کی طرف کیا۔  

11: بخاری اور مسلم کی ایک طویل حدیث میں ہے: 

کہ حضور اکرمﷺ‏ ایک باغ میں تھے۔ ایک شخص نے دروازہ کھلوایا۔ آپﷺ‏ نے فرمایا: کھول دو اور اسے جنت کی بشارت دو۔ اس مصیبت عظیمہ پر بھی جو اسے پہنچے گی۔ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے میں (حضرت ابو موسیٰ الاشعریؓ) نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پیشن گوئی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے الحمدللہ کہا اور فرمایا اللہ ہی مستعان ہے۔ (مشکوٰۃ: صفحہ، 563)

آثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

12: سیدنا باقرؒ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مکان میں محصور تھے انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بلوایا تو منافقین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے لپٹ گئے اور انہیں آنے سے روکا۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے اپنے سر کے امامہ کے پیچ کھول ڈالے اور کہا اے اللہ میں ان کے قتل سے خوش نہیں ہوں اور نہ میں اس کا حکم دیتا ہوں۔(طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 190 اردو)

مگر آج کا شیعہ علی قتلِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر خوش بھی ہے اور قاتلوں کا طرف دار بھی۔

13: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر ساری مخلوق اس قتل میں شریک ہوتی تو قومِ لوط کی طرح ان پر پتھر برستے۔

14: حضرت سعید بن زیدؓ نے فرمایا لوگو! اگر تمہاری بد اعمالی کی سزا میں کوہِ احد تم پر پھٹ پڑے تو بھی بجا ہے۔

15: حضرت حذیفہؓ نے فرمایا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے وہ رخنہ پیدا ہو گیا ہے جسے پہاڑ بھی بند نہیں کر سکتا۔

16: حضرت عبداللہؓ بن سلام نے فرمایا آج عرب کی قوت کا خاتمہ ہو گیا۔

17: حضرت شمامہؓ بن عدی نے رو کر فرمایا آج رسول اللہﷺ کی جانشینی کا خاتمہ ہو گیا۔ اب بادشاہت کا دور شروع ہو گا۔

18: حضرت ابو ہریرہؓ حادثہ کا ذکر کر کے بار بار روتے تھے۔ سیدنا زیدؓ بن ثابت کی آنکھیں اشکبار تھیں۔

19: حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی تھیں سیدنا عثمان بن عفانؓ دھلے ہوئے کپڑے کی مانند پاک و صاف گئے۔

20: حضرت عمارؓ بن یاسر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مخالفین سے کہتے تھے کہ ہم نے حضرت ابنِ عفان رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر بیعت کی تھی اور ان سے راضی سے تم لوگوں نے ان کو شہید کیوں کیا۔ (تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 233)

21: حضرت نائلہؓ زوجہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا ربِّ کعبہ کی قسم چور دشمنو! تم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے بہت بڑا گناہ کیا ہے دیکھو تم نے اسے قتل کیا جو بڑے روزہ دار، بڑے نمازی تھے۔ ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھتے تھے۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 196)

22: حضرت عبدالرحمٰن مہدی رحمۃ اللہ (مشہور محدث) نے کہا اللہ کی قسم حضرت عثمانِ غنیؓ مظلوم شہید کیے گئے۔

23: سیدنا عثمانِ غنیؓ نے فرمایا تھا اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو اللہ کی قسم پھر تا قیامت نہ ایک ساتھ نماز پڑھو گے نہ ایک ساتھ جہاد کرو گے۔ (ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 47)

سوال نمبر 578: جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا تو موقعہ کا گواہ کون تھا؟

جواب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا پروردہ سیدنا محمد بن اسماء رضی اللہ عنہ تھا۔ کیونکہ یہی سب سے پہلے 13 مصری غنڈوں کا جتھہ لے کر حملہ آور ہوا داڑھی پکڑ لی۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا بھتیجے تیرا باپ تو میری داڑھی نہ پکڑتا۔ پھر شرما کر پیچھے ہٹ گیا۔ کنانہ بن بشیر بن عتاب، سودان بن حمران اور عمر بن الحمق جو اس کے ساتھ گئے تھے۔ انہوں نے آپؓ کو شہید کیا۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 393 صفحہ 372) دوسری سیدہ نائلہ رضی اللہ عنہا زوجہ حضرت عثمانِ غنیؓ تھیں۔ جن کا ہاتھ کٹ گیا۔ تیسرا گواہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام وثاب تھا جس سے دفاع میں دو زخم آئے تھے۔ اس کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا عثمانِ غنیؓ کے کہنے پر اشتر نخعی کو بلایا تھا تو حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے اسے کہا تھا اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو کبھی متحد نہ رہو گے، کبھی اکٹھے نماز نہ پڑھو گے، کبھی میرے بعد کفار دشمنوں سے متحدہ جنگ نہ کرو گے۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 372)

ہمارے بعد اندھیرا رہے گا محفل میں 

بہت چراغ جلاؤ گے روشنی کے لیے 

معلوم ہوا کہ اشتر نخعی سب قاتلوں کا لیڈر اور موقعہ کا گواہ تھا۔ 

سوڈان بن حمران نے خود قتلِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا اقرار کیا۔ قد قتلنا ابن عفان (طبری: صفحہ، 379)

مناسب ہے کہ شہادت کا حادثہ اور لوگوں کے امداد نہ کرنے کی وجوہ پیش کی جائیں۔

حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی شہادت

تاریخِ اسلام ندوی صفحہ 231، 232 پر ہے:

صفحہ 3 از 7