ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف…

ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف شورش

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 7

آنحضرتﷺ‏ کی پیشنگوئی کے مطابق حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو اپنی شہادت کا پورا یقین تھا۔ صبر و استقامت کے ساتھ ہر وقت اس کے منتظر تھے۔ اس لیے باغیوں کی سرگرمی دیکھ کر آپؓ نے شہادت کی تیاری شروع کر دی۔ جمعہ کے دن سے روزہ رکھا۔ ایک پاجامہ جسے آپؓ نے پہلے کبھی نہ پہنا تھا زیب تن کیا غلام آزاد کیے اور کلام اللہ کھول کر اس کی تلاوت میں مصروف ہو گئے۔ اس وقت تک قصرِ خلافت کے پھاٹک پر حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت محمد بن طلحہ، حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اور بہت سے صاحبزادے باغیوں کو روکے ہوئے تھے کچھ معمولی سا کشت و خون بھی ہوا جب انہیں اندر داخل ہونے کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو انہوں نے پھٹک میں آگ لگا دی اور کچھ لوگ قصرِ خلافت کے متصل دوسرے مکانوں کے ذریعے سے اوپر چڑھ کر اندر داخل ہو گئے جہاں صرف آپؓ کی بیوی سیدہ نائلہ رضی اللہ عنہا پاس تھیں اور آپؓ تلاوتِ قرآن کر رہے تھے۔ 

پہلی گستاخی تو محمد بن ابی بکر نے کی مگر وہ باپ کا حوالہ سن کر شرمایا اور پیچھے ہٹا۔ پھر بدمعاشوں کا ایک گروہ اندر آیا جن کا سرغنہ عبدالرحمٰن بن عدیس، کنانہ بن بشیر، عمرو بن حمق، عمیر بن ضابی، سودان بن حمران، غافقی بن حرب تھے غافقی بڑھ کر حملہ آور ہوا اور قرآن پاک کو پاؤں سے ٹھکرا کر پھینک دیا۔ کنانہ بن بشیر نے آتے ہی حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر تلوار چلائی۔ ان کی بیوی حضرت نائلہؓ نے فوراً آگے بڑھ کر تلوار کو ہاتھ سے روکا۔ ان کی انگلیاں کٹ کر الگ جا پڑیں۔ دوسرے وار سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زبان سے بسم اللہ توکلت علی اللہ نکلا اور خون کا فوارہ کلام اللہ پر جاری ہو گیا۔ اس کے بعد ہی عمرو بن الحمق نے سینہ پر چڑھ کر برچھے سے نو وار کیے۔ سودان بن حمران نے لپک کر شہید کر دیا۔ عمیر بن ضابی نے آگے بڑھ کر ٹھوکریں ماریں جس سے آپؓ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ وہ ہر ٹھوکر لگا کر کہتا تھا کیوں تم نے میرے باپ کو (فوج داری جرم میں) قید کیا تھا جو قید میں ہی مرا۔ 

خون کے قطرات قرآن شریف کی اس آیت پر گرے: 

فَسَيَكۡفِيۡکَهُمُ اللّٰهُ وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ (سورۃ البقرة: آیت 137) 

ترجمہ: ان کو اللہ تیری طرف سے کافی ہے وہی خوب سننے والا جاننے والا ہے۔ 

گھر کے اندر یہ قیامت برپا ہو گئی کہ قائم اللیل، صائم الدھر، جامع القرآن، قاری الکتاب خادم اسلام و کاتب الوحی کابل سے مراکش تک کے فرمان روا کو بھوک و پیاس میں 40 دن محاصرہ کے بعد اوباش غنڈوں نے بزور بلوا انتہائی شکاوت اور درد ناکی سے شہید کر دیا۔ مگر کوٹھے پر موجود لوگوں کو پتہ نہ چلا۔ بلوائیوں نے گھر کا سامان بھی لوٹ لیا۔ یہ حادثہ 18 ذی الحجہ جمعہ کے دن 35 ہجری کو رونما ہوا۔ جو اسلام کا سب سے اندوہناک اور سنگین حادثہ تھا۔ اس کے بعد امتِ مسلمہ سنی، شیعہ، خارجی، ناصبی وغیرہ فرقوں اور فتنوں میں ایسے بٹی کے تاحال متحد نہ ہو سکی اور حضرت عثمانؓ، حضرت عبداللہ بن سلامؓ، حضرت ابو ہریرہؓ کی پیشن گوئیاں پوری ہو گئیں۔

زوجہ حضرت عثمانؓ بنت الفرافصہ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمانؓ کسی قدر سو گئے۔ بیدار ہوئے تو کہا کہ یہ قوم مجھے قتل کرے گی۔ میں نے کہا امیر المؤمنین ہرگز نہیں فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ، سیدنا ابوبکر صدیقؓ، اور سیدنا عمر فاروقؓ کو خواب میں دیکھا۔ انہوں نے فرمایا کہ تم آج شام کو روزہ ہمارے پاس افطار کرنا یا یہ فرمایا کہ آج روزہ ہمارے پاس افطار کرو گے۔ (چنانچہ عصر کے وقت شہید ہو گئے۔) (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 197)

سب لوگوں کو اپنی مدد سے روک دیا

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اگر اپنا دفاع چاہتے تو بآسانی اہلِ مدینہ کے تعاون سے 500، 1000 باغیوں کو ختم کرا سکتے تھے مگر جوارِ رسول اللہﷺ میں قتل و قتال جائز نہ سمجھا جان دے دی مگر کلمہ گو، گو منافق ہی تھے لوگو پر تلوار نہ چلائی اپنے سب اصحابؓ، اہلِ مدینہ اور غلاموں کو منع کر دیا حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اپنے گورنروں کی امدادی پیش کش کو ٹھکرا دیا۔ مولانا معین الدین ندوی نے کیا خوب لکھا ہے کہ آپؓ کے خلاف کتنا طوفان بپا ہوا۔ مخالفین نے رو در رو گستاخیاں کیں۔ لیکن اس پیکر حلم نے سوائے صبر و تحمل کے جواب نہ دیا اگر آپؓ چاہتے تو باغیوں کے خون کی ندیاں بہہ جاتیں۔ لیکن آپؓ نے جان دے دی مگر صبر و حلم کے جادہ مستقیم سے نہ ہٹے۔ (تاریخِ اسلام: جلد، 1 صفحہ، 243)

مختصراً چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:

1: اے مدینہ والو تمہیں اللہ کے حوالے کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ میرے بعد تمہیں اللہ اچھی خلافت دے اور اہلِ مدینہ کو لوٹ جانے کا حکم دیا اور دفاعی جنگ نہ لڑنے پر ان سے قسم لی اور تو سب واپس ہو گئے۔ مگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ، حضرت محمدؓ، حضرت ابنِ زبیرؓ اور ان جیسے نوجوان اپنے آباء کے حکم سے دروازے کی پاسبانی کرنے لگے۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ گھر میں نظر بند ہو کر بیٹھ گئے۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 385)

2: بلوائیوں سے کہا تھا میں سر دے دوں گا لیکن خدا کی بخشی ہوئی خلافت کو نہ چھوڑوں گا۔ تم کو کسی سے مقابلہ اور جنگ کی ضرورت نہیں اس لیے کہ میں کسی کو تم سے لڑنے کی اجازت نہ دوں گا جو ایسا کرے گا وہ میرے حکم کے خلاف کرے گا۔ اگر میں جنگ ہی کرنا چاہتا تو میرے حکم پر ہر طرف سے فوجوں کا ہجوم ہو جاتا یا میں خود کسی مقام پر چلا جاتا۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 377)

یہاں سے پتہ چلا کہ طبری میں جو یہ روایت ہے کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ خفیہ طور پر جنگ کی تیاری میں تھے۔ فوجیں بلوا بھیجی تھیں۔ دشمنوں کی بنائی ہوئی جھوٹی بات ہے۔ اہلِ مدینہ آپؓ کی مدد کو کافی تھے۔

3: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے دروازے پر موجود رہ کر بلوائیوں کا مقابلہ کیا لیکن ان کو حضرت عثمانِ غنیؓ نے امیر الحاج بنا کر بااصرار مکہ روانہ کیا۔ 

صفحہ 4 از 7