ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف…

ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف شورش

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 7

4: سیدنا حسن بن علیؓ، سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ، سیدنا محمد بن طلحہؓ، سیدنا سعد بن العاصؓ نے دروازہ کھولنے سے بلوائیوں کو روکا لڑ کر ان کو پیچھے ہٹا دیا لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو قسمیں دیکھ کر لڑنے سے روکا اور گھر کے اندر بلا لیا۔

5: جب بلوائی اندر گھس آئے تھے تو اپنے غلام وغیرہ حاضرین سے کہا تھا۔ رسول اللہﷺ نے ایک عہد مجھ سے لیا ہے میں اس عہد پر قائم ہوں، تم ہرگز ان بلوائیوں کا مقابلہ اور ان سے قتال بالکل نہ کرو۔ سیدنا مغیرہ بن الاخنسؓ یہ حالت دیکھ کر تاب نہ لا سکے۔ چند ہمراہیوں کو لے کر مقابلہ پر آئے اور لڑ کر شہید ہوئے اس طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی یہ کہتے ہوئے يٰقَوۡمِ مَا لِىۡۤ اَدۡعُوۡكُمۡ اِلَى النَّجٰوةِ وَتَدۡعُوۡنَنِىۡۤ اِلَى النَّارِ (سورۃ نمبر 40 غافر: آیت 41) بلوائیوں پر ٹوٹ پڑے مگر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے باصرار سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو واپس بلوایا اور لڑائی سے باز رہنے کا حکم دیا۔ (تاریخِ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی: جلد، 1 صفحہ، 365)

6: حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے مدد دینا چاہی۔ انصار نے آ کر کہا۔ ہم آج دوبارہ آپؓ کے لیے انصار رضی اللہ عنہم بنتے ہیں مگر سب کو حضرت عثمان بن عفانؓ نے روک دیا اپنے غلاموں کو بھی قسمیہ روک دیا از خود لڑ کر ایک شہید ہوا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا قصرِ خلافت میں ہم لوگوں کی خاصی تعداد ہے اجازت ہو تو میں جانبازی کے جوہر دکھاؤں فرمایا خدا کی قسم دلاتا ہوں کہ میرے لیے خون ریزی نہ کی جائے۔ (ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 49)

سوال نمبر 579: کیا مقدمہ قتلِ سیدنا عثمانؓ خلیفہ وقت کی عدالت میں وارثوں نے پیش کیا؟

جواب: خلیفۂ وقت اور سربراہِ مملکت کے قتل کا وارث و دعویدار اس کا جانشین اور حاکمِ مملکت ہی ہوتا ہے۔ جمہوری حکومت کا اصول یہی ہے۔ صرف وارث و اقارب ہی دعویدار نہیں ہوتے۔ یہاں اشتر نخعی جیسے مفسد کی قیادت میں آپؓ کے وارثوں اور اموی رشتہ داروں کو تشدد اور دھمکیوں سے مدینہ سے دربدر کر دیا گیا تھا۔ عملاً راج بلوائیوں کا تھا۔ کوئی وارث کس طرح آزادنہ بلوائیوں کے خلاف مقدمہ پیش کر سکتا تھا کہ اس کی جان محفوظ رہ سکتی۔ حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ اور دیگر شرفاء مدینہ نے حضرت علی المرتضیٰؓ سے اجراءِ حدود اور قصاص کا مطالبہ کیا تو آپؓ نے فرمایا جو تم کہتے ہو میں اس سے غافل نہیں مگر مجھے قوت کہاں ہے کہ قصاص لوں۔ وہ ہمارے مالک بنے ہوئے ہیں۔ ہم ان کے مالک نہیں۔ ان کے غلام بھی ان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہیں جو تم کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ (نہج البلاغہ و تاریخِ طبری: جلد، 4 صفحہ، 437)

تاہم حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خدمت میں یہ مقدمہ پیش کر کے اپنی زمہ داری پوری کر دی اب اس پر عمل درآمد کرنا یا نہ کر سکنا حکومتِ وقت کی زمہ داری تھی۔

تاریخ الخلفاء سیوطی صفحہ 124 بیان ملاحظہ ہو: 

مروان اور سیدنا عثمانِ غنیؓ کی اولاد تو بھاگ گئی تھی۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی بیوی کے پاس آئے اور پوچھا حضرت عثمانِ غنیؓ کو کس نے قتل کیا۔ اس نے کہا میں یقینی نہیں جانتی۔ دو شخص اندر آئے جن کو میں نہیں جانتی تھی۔ ان کے ساتھ سیدنا محمد بن ابی بکرؓ تھا پھر اس نے تفصیلی واقعہ شہادت ذکر کیا جو حضرت محمد بن ابی بکرؓ اور قاتلوں نے کیا تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت محمدؓ کو بلا کر پوچھا۔ اس نے کہا اللہ کی قسم عورت نے جھوٹ نہیں کہا۔ میں قتل کی ارادے سے ہی اندر گیا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے میرے باپ رضی اللہ عنہ کا نام لیا میں ہٹ آیا اور اللہ کے سامنے رجوع کرتا ہوں۔ باخدا میں نے نہ قتل کیا، نہ قتل سے روکا۔ سیدہ نائلہ رضی اللہ عنہا نے کہا اس نے سچ کہا ہے لیکن اسی نے ان کو اندر داخل کیا تھا۔ اب جب حضرت نائلہؓ کی شہادت اور سیدنا محمد کے اقرار سے اس کا شریکِ قتل ہونا معلوم ہو چکا تو بلی محمد ہی کے تھیلے میں تھی۔ تمام قاتلوں کو وہ بخوبی جانتا تھا۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا معتمد اور پروردہ بھی تھا۔ اسی سے سب کچھ پوچھا جا سکتا تھا۔

سوال نمبر 580: اگر مقدمہ پیش ہوا تو حکومت نے کیا قدم اٹھایا؟

جواب: رشتہ دار تو مقدمہ اور گواہی پیش کر کے بری ہو گئے۔ اب تحقیق اور قاتلوں کی گرفتاری حکومت کا ہی کام تھا ہم اہلِ سنت تو مہر بلب ہیں۔ 

رموزِ مملکت خسرواں ہی دانند

سوال نمبر 581: کیا کوئی ضعیف سی شہادت بھی ملی کہ کس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے ہاتھ رنگے؟

جواب: سوال 578 کے تحت حادثہ قتل، مجرموں کے کاروائی ان کا اقرار ہم کتبِ تاریخ سے لکھ چکے ہیں یہاں محمد اقرار کر رہا ہے اور سیدہ نائلہ رضی اللہ عنہ کی تکذیب نہیں کرتا، تصدیق کر رہا ہے تو خون سے ہاتھ رنگوانے والا جب مل گیا تو رنگنے والا ہاتھ بھی یہی ملائے گا بشرطیکہ اس سے حکومتِ وقت کے مشیر پوچھیں۔

سوال نمبر 582: کیا کسی تاریخ سے ثابت ہو سکتا ہے کہ سیدنا محمد بن ابی بکرؓ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا؟

صفحہ 5 از 7