ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف…

ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف شورش

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 7

جواب: چور کی داڑھی میں تنکا خود ہی اپنے خیال میں مجرم کو اقرار کرانے سامنے لا رہے ہیں۔ اگرچہ کتبِ تاریخ میں حضرت محمد بن ابی بکرؓ کا سیدنا عثمانؓ کی داڑھی پکڑنا، پھر شرمانا اور واپس ہو جانا لکھا ہے۔ تاہم جن 13 غنڈوں کو لے کر آیا تھا اور انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بے دردی سے شہید کیا ان کے نام تاریخ میں محفوظ ہیں اور چھ نام ہم لکھ چکے ہیں۔ 1: عبدالرحمٰن بن عدیس 2: کنانہ بن بشر 3: عمرو بن حمق 4: عمیر بن ضابی 5: سودان بن حمران 6: غافقی بن حرب 7: ایک کا نام ابن النباغ تھا۔ (طبری) رومان بن سرحان، جبلتہ بن الایھم، اسود تجیبی، ،یسار بن عیاض کا نام قاتلوں میں (ریاض النضرہ: جلد، 2 صفحہ، 172) پر لکھا ہے۔ حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو سب معلوم تھے۔ اگر وہ دراصل حضرت علی المرتضیٰؓ کا ذرہ بھی ہمدرد و خیر خواہ ہوتا اور اس سے تحقیق کی جاتی تو وہ ان چھ لوگوں کے نام بتا کر گرفتار کرا دیتا تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی حکومت مستحکم ہو جاتی اور تمام مصائب کے پہاڑ ٹل جاتے لیکن۔ 

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ 

تاریخِ طبری جلد 2 صفحہ 372 میں ہے وجاء محمد بن ابی بکر و ثلاثہ عشر حتی انتھی الی عثمان فاخذ بلحیته۔ کہ سیدنا محمد بن ابی بکرؓ 13 غنڈے لے کر حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ تک آ پہنچا اور داڑھی پکڑ لی اور کہنے لگا۔ تجھے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابنِ عامر اور تیرے لشکر کچھ کام نہ آئے۔ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے کہا بھتیجے میری داڑھی چھوڑ دے۔ راوی (وثاب مولیٰ سیدنا عمرؓ) کا بیان ہے میں نے دیکھا کہ اس نے حملہ آوروں سے خاص آدمی کو بلایا۔ اس نے تلوار حضرت عثمانِ غنیؓ کے سر پر ماری میں نے کہا ٹھہرو اس نے کہا اس پر جھپٹو۔ تاآنکہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کو انہوں نے شہید کر دیا۔ (پہلے گزر چکا ہے کہ اس راوی کو بھی دو رخم آئے تھے)

اشتر نخعی کی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے گستاخانہ گفتگو اور حضرت محمد بن ابی بکرؓ کا 13 افراد کو لانا اور ان کا آپؓ کو شہید کرنا۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 194 اردو پر بھی دیکھیے۔)

سوال نمبر 583: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل اجتہادی غلطی نہیں ہو سکتی؟

جواب: نہیں کیونکہ وہ تو طلبِ ثواب میں چوک جانے کا نام ہے یہاں تو ابنِ سباء یہودی کی مستقل سازش تھی کہ مسلمانوں سے ایک گروہ تیار کر کے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا جائے اور وہ آپس میں لڑتے رہیں۔ پھر اسی گروہ نے حمبل و صفین برپا کرا کر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔ اسی نے خارجی بن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ کی پھر اسی گروہ والے ابنِ ملجم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا پھر اسی نے حضرت حسنؓ کی مصالحت با سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو ناپسند کر کے آپؓ پر قاتلانہ حملہ کیا۔ پھر اسی نے یزید کی حکومت الٹنے کے لیے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو جھوٹے خطوط لکھ کر بلایا۔ پھر غداری سے شہید کر دیا۔ اگر آپ قتلِ سیدنا عثمانِ غنیؓ کو اجتہادی غلطی کہتے ہیں تو ان تمام ہستیوں کہ قتل کو بھی اجتہادی خطا مانیے۔ ہم تو ان سب بزرگوں کے قاتلوں کو ایک ہی شیعہ سبائی گروہ، اللہ کا دشمن، مسلمانوں کا دشمن اور منافق سمجھتے ہیں۔ (لعنتہ اللہ علیہم اجمعین)

سوال نمبر 584: موجود اصحابِ عشرہ مبشرہؓ میں سے ایک نام بتائیں جو سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے متفق رہا ہو اور اس کا حضرت صاحب (حضرت عثمانؓ) سے تنازعہ کسی وقت نہ ہوا ہو؟

جواب: یہ مخالفانہ افواہیں دشمنوں کی پیداوار ہیں کوئی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ مخالف ہوتے تو وہی کابینہ کو پھر بلا کر معزولی کا فیصلہ کرتے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ دشمن ہوتے تو امداد نہ کرتے اور پھر قتل سے برأت نہ کرتے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو امداد کے لیے ابھارا۔ (طبری: جلد، 4 صفحہ، 377) حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ مخالف ہوتے تو بیٹوں سے پہرا نہ دلاتے۔ 

اگر ہم آپ سے پوچھیں کہ حضرت علی المرتضیٰؓ کی بیعت کن کن لوگوں نے کی تھی اور پھر آخر تک کون کون ساتھ رہا تو اس کا جواب آپ کو مہنگا پڑے گا۔ خاموشی ہی بہتر ہے۔

سوال نمبر 585: بلوائیوں کا مطالبہ کیا تھا؟

جواب: خلافت سے دستبرداری یا شہادت۔ دوسرا مطالبہ پورا کر دیا۔

سوال نمبر 586: سوا مہینہ کے محاصرہ میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کیا امداد کی؟

جواب: اولاً لشکر بھیجنے کو کہا۔ مگر حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے منظور نہ کیا۔ ساتھ لے جانے کو کہا مگر آپؓ نے جوارِ رسولﷺ‏ کو نہ چھوڑا پھر از خود لشکر بھیجا تھا مگر اس کے پہنچنے سے قبل ہی آپؓ شہید کیے جا چکے تھے۔ طبری جلد 4 صفحہ 368 پر ہے: کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید بن اسد بن کرز اور دیگر اہلِ شام کو لکھا۔ کہ امداد کر سکتے ہو تو جلدی کرو کیونکہ قوم کو جلدی ضرورت ہے یزید بن اسد نے خط پڑھا خدا کی حمد و ثنا کے بعد حضرت عثمانِ غنیؓ کا تذکرہ کیا۔ بڑا حق جانا اور مدد پر لوگوں کو ابھارا اور چلنے کا حکم دیا تو بہت سے لوگ تابعدار ہو کر چل پڑے۔ جب وادی القریٰ تک پہنچے تھے تو ان کو سیدنا عثمانؓ کی شہادت کے اطلاع ملی تو واپس پلٹ آئے۔

سوال نمبر 587: بی بی (سیدہ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیوں فرمایا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کافر ہو گیا ہے؟

جواب: ایسی کوئی عبارت مسند احمد میں نہیں ہے۔ بہتانِ محض ہے۔

سوال نمبر 588: حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے مکان کے روشن دان سے امدادِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کیوں طلب کی جب کہ حضرت علیؓ موجود نہیں تھے اور سیدنا علی المرتضیٰؓ سے مدد مانگنا آپ گناہ سمجھتے ہیں؟ 

صفحہ 6 از 7