ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف…

ابنِ سباء یہودی کا فتنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف شورش

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 7

جواب: حضرت علی رضی اللہ عنہ آتے جاتے تھے تو ایک دوست دوسرے کی ہمدردی میں جو کر گزرتا تھا کرتا تھا۔ ایک دفعہ پانی طلب کیا (کیونکہ 40 دن کے محاصرہ میں بلوائیوں نے پانی بند کر دیا تھا) تو سیدنا علیؓ مشکیزے بھر کر لائے تو بلوائیوں نے اگے نہ پہنچنے دیا ناکام واپس آ گئے۔ حاضر شخص سے یا غائب سے بواسطہ قاصد و خط ایسے اسباب کے تحت امداد و نصرت مانگنا گناہ نہیں بلکہ شرعاً تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡبِرِّ وَالتَّقۡوٰى‌ کے تحت درست ہے۔ ہاں غائبانہ بلا اسبابِ ظاہری ان کو مدد کے لیے پکارنا جیسے شیعہ اٹھتے بیٹھتے یا علی مشکل کشا و مدد کہتے ہیں۔ گناہ اور شرک ہے۔ اور ابنِ سباء یہودی نے ایجاد کیا تھا۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے ایسے 70 افراد کو جلا دیا تھا۔

سوال نمبر 589: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی پیاس کس نے بجھائی؟

جواب: دیگر مؤمنین کی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی پانی اندر پہنچایا۔

سوال نمبر 590: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کس کی حفاظت میں زخمی ہوئے؟

جواب: اپنے محترم خسر امیر المؤمنین سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے دفاع میں، ذرا غور فرمائیں یہی دونوں باتیں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو برحق۔ بلوائیوں کو برباطل اور شیعہ مذہب کو جھوٹا بتاتی ہیں۔

سوال نمبر 591: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی لاش کو کس نے غسل دیا؟

جواب: شہید تھے، شہید کا غسل و کفن اسلام میں نہیں ہوتا۔ شاید شیعہ مذہب میں ہو۔

سوال نمبر 592: جنازہ کس صحابی نے پڑھایا، کہاں پڑھا گیا، کتنے شرکاء تھے؟

جواب: حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ یا حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نے پڑھا۔ جنت البقیع میں عشاء کے وقت 17 افراد نے جنازہ میں شرکت کی۔ طبقات ابنِ سعد جلد 3 صفحہ 199 پر ہے کہ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر سولہ آدمیوں کہ ہمراہ نماز پڑھی جو مع سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ 17 تھے۔ دوسری روایت میں ہے وہ لوگ جنازہ لے کر بقیع پہنچے حضرت جبیر بن مطعمؓ نے نماز پڑھائی۔ ان کے پیچھے سیدنا حکیم بن حزام، سیدنا ابو جہم بن حذیفہ، سیدنا نیاز بن مکرم الاسلمی رضی اللہ عنہم (وغیرہ مرد) اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی دو بیویاں سیدہ نائلہ بنت الفرافصہ اور سیدہ ام البنین بنتِ عینہ تھیں۔ قبر میں نیاز بن مکرم ابو جہم بن حذیفہ اور جبیر بن مطعم اترے۔ حکیم بن حزامؓ، سیدہ ام البنینؓ اور حضرت نائلہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو قبر کا راستہ بتا رہی تھیں۔ انہوں نے لحد بنائی اور آپؓ کو دفنا دیا۔ زیارت کے بعد سب متفرق ہو گئے۔ (ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 199)

سوال نمبر 593: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کہاں دفن کیا گیا؟

جواب: جنت البقیع کے حصہ، حش کوکب میں۔

سوال نمبر 594: قتل کے کتنے دن بعد دفن ہوئے؟ کیا لاش صحیح و سالم تھی؟

جواب: سیدنا نیاز بن مکرم کا بیان ہے ہم نے (قتل کے دن) شب شنبہ مغرب و عشاء کے درمیان جنازہ اٹھایا تھا۔ تدفین اسی رات کو ہوئی تھی۔ بالفرض لیٹ بھی ہوتی تو لاش کو کچھ خطرہ نہ تھا۔ شہداء کے اجسام قبور میں بھی صحیح و سالم ہوتے ہیں۔

سوال نمبر 595: حش کوکب کیا مقام تھا وہ کس مقصد کے لیے مشہور تھا؟

جواب: حش کا معنیٰ باغ اور کوکب ایک انصاری کا نام تھا۔ حضرت عثمانؓ نے اس سے یہ باغ خرید کر جنت البقیع میں شامل کر دیا۔ سب سے پہلی قبر آپؓ کی ہی اس میں بنی (ریاض النضرہ: جلد، 2 صفحہ، 173)

سیدنا مالک بن ابی عامر کہتے ہیں کہ لوگ آرزو کرتے کہ ان کی میتیں حش کوکب میں دفن کی جائیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے عنقریب ایک مرد صالح وفات پائے گا۔ یہاں دفن کیا جائے گا لوگ اس کی پیروی کریں گے۔ (ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 198)


صفحہ 7 از 7