سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی تربیت میں معاشرتی حالات کی تاثیر
علی محمد الصلابیلوگوں کو تیار کرنے اور ان کی شخصیتوں کی تعمیر میں معاشرے کے ماحول اور حالات کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ایسے ماحول میں زندگی گزاری جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی تربیت یافتہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور دورہ تھا اور اس منفرد معاشرے پر فضیلت، تقویٰ اور نیکی کا غلبہ تھا، لوگ طلبِ علم اور عمل بالکتاب والسنۃ کے خواہاں تھے، ان حالات نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اپنے معاشرے سے استفادہ اور اس کی اقتداء پر آمادہ کردیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مدینہ میں رہنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک بڑی تعداد تھی، آپﷺ کی وفات کے بعد بھی ایک بڑی تعداد رہی، ایسا معاشرہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود زندگی گزاری ہو، اسی میں آپﷺ کے ہاتھوں خیرامت کی پہلی جماعت تربیت پائی ہو تو وہ ایک بے مثال و بے نظیر معاشرہ ہوگا۔ اس معاشرے نے وحی اور صاحبِ وحی کا مشاہدہ کیا، اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و مرافقت حاصل رہی، اسی مشاہدے اور بہت سارے نفسیاتی اثرات، ایمانی نتائج اور تعلق باللہ کے فوائد رہے۔
(الإمام الزہری: صفحہ 26)
چنانچہ یہ معاشرہ لوگوں کے لیے بڑا پرکشش رہا، ان کے قول و کردار پر اثر انداز ہوا، چنانچہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی تربیتی اور علمی شخصیت کی تعمیر میں اس معاشرہ کا بڑا ہی مؤثر کردار رہا۔