سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما خلفائے راشدین رضوان اللہ…

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عہد میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

اوّلاً : عہد صدیقی میں حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا مقام و مرتبہ

سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم کے نزدیک سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا بڑا اونچا مقام تھا، سب ان سے محبت کرتے، خاص طریقے سے ان سے پیش آتے، ایک بار بعد نماز عصر سیدنا ابوبکر و علی رضی اللہ عنہما گزر رہے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حسن رضی اللہ عنہ کو بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو انھیں اپنی گردن پر اٹھا لیا اور کہا:

بأبي شبیہ النبي لیس شبیہا بعلي

’’میرے باپ تم پر قربان ہو، تم علی (رضی اللہ عنہ) کے بجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہو۔‘‘

اور علی رضی اللہ عنہ مسکرا رہے تھے۔‘‘

(نسب قریش: جلد 1 صفحہ 23 صحیح البخاری: جلد 5 صفحہ 93) 

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت سے کافی متاثر رہے، یہاں تک کہ اپنے ایک بچے کا نام انھی کے نام پر رکھا، یہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے گہرے محبت اور آپؓ کی سیرت کی تفصیلی معرفت کا نتیجہ ہے، نیز حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی میں اور وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے عہد سے بہت ساری باتیں سیکھیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ وفات نبوی کے حادثے کی ہولناکی اور اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مؤقف:

ابن رجب کا قول ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر مسلمان چند قسموں میں منقسم ہوگئے، کچھ دہشت زدہ تھے، ان کا حافظہ کام نہیں کر رہا تھا، کچھ بیٹھ گئے تو اٹھنے کی سکت نہ تھی، کچھ لوگوں نے تو آپﷺ کی وفات کا بالکل انکار ہی کردیا۔

(لطائف المعارف: صفحہ 114)

ابن اسحاق کا قول ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے مسلمانوں پر ایک بڑی مصیبت آن پڑی، مجھ تک پہنچی روایت کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب مرتد ہونے لگے،

یہودیت و عیسائیت اپنے پر پرزے پھیلانے لگیں، نفاق کا ظہور ہونے لگا، اور مسلمان اپنے نبی کے وفات پا جانے سے دوسرے ہی دن بھیگی بکریوں کے مانند ہوگئے۔

(سیرۃ ابن ہشام: جلد 4 صفحہ 323)

ابوبکر ابن العربی کا قول ہے:

حالات بدل گئے،  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کمر توڑ مصیبت تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں بیٹھ گئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر خاموشی چھا گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر ہذیانی کیفیت طاری ہوگئی اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی ہے، آپ کو آپ کے رب نے مقررہ وعدے پر بلایا ہے جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کو بلایا تھا، آپ ضرور لوٹ کر آئیں گے اور (دین سے برگشتہ) لوگو ں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیں گے۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 38)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپﷺ کی وفات کی خبر ملی تو مقام ’’سنح‘‘ میں اپنے گھر سے ایک گھوڑے پر سوار ہوکر آئے، اترے، مسجد میں داخل ہوئے، لوگوں سے کوئی بات نہ کی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوا، آپ پر چادر ڈال دی گئی تھی، چہرۂ مبارک کو کھولا، جھک کر بوسہ دیا، رونے لگے، اور فرمایا: آپﷺ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، اللہ تعالیٰ آپﷺ پر دو موتیں طاری نہیں کرے گا، آپﷺ پر جو موت طاری ہونی تھی ہوچکی۔

(صحیح البخاری: کتاب المغازی: رقم: 4452)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے جب کہ عمر رضی اللہ عنہ بول رہے تھے، فرمایا: اے عمر! بیٹھ جاؤ، وہ ناراض ہوتے اور بولتے جا رہے تھے، چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اما بعد! جو محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوچکی ہے، اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، اس پر موت طاری نہیں ہوسکتی، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌ اَفَا۟ئِنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡــئًا‌ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 144)

ترجمہ: اور محمد ﷺ ایک رسول ہی تو ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، بھلا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا انہیں قتل کردیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں اللہ ان کو ثواب دے گا۔

’’محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) صرف رسول ہی ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے ہیں۔ کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا یہ شہید ہو جائیں تو تم اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو ہرگز اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑے گا، عنقریب اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو نیک بدلہ دے گا۔‘‘

چناں چہ لوگ ہچکیاں لیتے ہوئے رونے لگے۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ان مختصر کلمات اور قرآن سے دلیل پیش کرنے پر لوگوں کے ہوش و حواس درست ہوگئے، ان کا دماغ اچھی طرح کام کرنے لگا اور اچھی طرح سمجھنے لگے کہ اللہ تعالیٰ تنہا ہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، اس پر موت طاری نہیں ہوسکتی، وہی تنِ تنہا عبادت کا مستحق ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی اسلام باقی رہنے والا ہے۔

(استخلاف أبی بکر الصدیق، جمال عبدالہادی: صفحہ 160)

اسی طرح ایک دوسری روایت میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قول ہے:

صفحہ 1 از 2