سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما خلفائے راشدین رضوان اللہ…

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عہد میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

’’اللہ کا دین باقی رہنے والا ہے، اللہ کا کلمہ پورا ہوکر رہے گا، اللہ تعالیٰ اپنی مدد کرنے والے کا مددگار ہے، اپنے دین کو غالب کرنے والا ہے، اللہ کی کتاب ہمارے درمیان ہے، اس میں روشنی اور شفا ہے، اسی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کی، اس میں حلال و حرام کی تمام تفصیلات ہیں، اللہ کی قسم جو بھی ہمارے خلاف آئے ہمیں اس کی پروا نہیں، اللہ کی تلواریں ابھی بے نیام ہیں، ہم نے انھیں رکھا نہیں ہے، ہم اپنی مخالفت کرنے والوں سے ضرور جہاد کریں گے، جیسا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جہاد کیا، اس لیے جو بھی بغاوت کرے گا، وہ اپنے خلاف ہی بغاوت کرے گا۔‘‘

(دلائل النبوۃ للبیہقی: جلد 7 صفحہ 217)

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بہت بڑی مصیبت اور سخت آزمائش تھی، اسی اثناء میں اور اس کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت امت کے لیے ایک بے مثال و بے نظیر قائد کے مانند ابھری۔

(ابوبکر رجل الدولۃ: مجدی حمدی: صفحہ 25، 26)

یقین سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے دل میں گھر کر چکا تھا، نتیجتاً تمام حقیقتیں سیدنا ابوبکر صدیقؓ میں پختہ ہوگئی تھیں، آپ عبودیت، نبوت اور موت کی حقیقتوں کو اچھی طرح جان چکے تھے، ایسے مشکل موقع پر آپ کی حکمت عملی ظاہر ہوتی، لوگوں کو توحید کا درس دیتے ہوئے فرمایا:

مَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَإِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ۔

’’جو اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ رہے گا اس پر موت طاری نہیں ہوگی۔‘‘

لوگوں کے دلوں میں توحید ترو تازہ تھی، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی یاددہانی سنتے ہی حق کی جانب لوٹ گئے۔

(استخلاف ابی بکر الصدیق: صفحہ 160)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم، گویا لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا ہے، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلاوت کی تو لوگوں نے ان سے اس آیت کو سیکھا، پھر ہر کوئی اس کی تلاوت کرتے سنا گیا۔

(صحیح البخاری: رقم: 1241، 1242)

اس میں شک نہیں کہ یہ حادثہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے حافظے میں محفوظ ہوگیا اور سیدنا حسنؓ کی ثقافت و معرفت کا حصہ بن گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عمر سات یا آٹھ سال کی تھی، یہ عمر کا ایسا مرحلہ ہوتا ہے جس میں بچپنے کی یادیں پختہ ہوتی ہیں، اس میں بچے کا حافظہ محفوظ کرلینے والے کیمرے کی طرح ہوتا ہے، جو اس کے حافظے تک بہت ساری تصویروں اور مشاہدات کو منتقل کرتا ہے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ذہین و فطین بچوں میں تھے، سیدنا حسنؓ میں یہ صلاحیت تھی کہ اس عہد کے حالات و واقعات کو اچھی طرح جان لیں، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کارہائے نمایاں، بلند مقاصد، معروف کارناموں اور اخلاقی قدروں کو سمجھ لیں، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی نفسیات پر یہ عظیم کارنامے اثر انداز ہوئے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی محبت سیدنا حسنؓ کے دل میں رچ بس گئی، چنانچہ اپنے بچے کا نام انھی کے نام پر رکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جو سب سے اہم سبق سیکھا وہ یہ تھا کہ بقا شخصیتوں کے بجائے اصول و مبادی کے لیے ہے، اور صرف تعلق باللہ کو اہمیت حاصل ہے، اس لیے کہ اسی کی ذات باقی رہنے والی ہے، نفع بخش، ضرر رساں اور ہر چیز پر قادر ہے۔


صفحہ 2 از 2