سقیفۂ بنی ساعدہ (قبیلہ بنی ساعدہ کا چھپر)
علی محمد الصلابیصحابہ کرام رضی اللہ عنہم تک جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر پہنچی تو اسی دن بروز سوموار 12 ربیع الاول 11ھ کو سقیفۂ بنی ساعدہ میں انصار جمع ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ کے انتخاب سے متعلق اپنے مابین مشورہ کیا۔
(التاریخ الاسلامی:جلد 9 صفحہ 21)
انصار قبیلۂ خزرج کے سردار سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے گرد اکٹھے تھے، ادھر مہاجرین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلیفہ کے انتخاب کے لیے اکٹھے تھے۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ للعمری: صفحہ 40)
ایسے میں جب انھیں سقیفۂ بنی ساعدہ میں انصار کے اکٹھے ہونے کی خبر ملی تو بعض مہاجرین نے بعض سے کہا: چلو اپنے انصار بھائیوں کے پاس چلیں، انھیں بھی اس کا حق حاصل ہے۔
(عصر الخلافۃ الراشدۃ للعمری: صفحہ 40)
چنانچہ ہم چلے، سقیفہ بنی ساعدہ میں ان کے پاس پہنچے، ان کے مابین ایک شخص چادر اوڑھے ہوئے تھا، تو میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ ان لوگوں نے کہا: یہ سعد بن عبادہ (رضی اللہ عنہ) ہیں، میں نے کہا: انھیں کیا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا کہ وہ بخار کی تکلیف میں مبتلا ہیں، ہم تھوڑی دیر بیٹھے، ان کے خطیب نے حمد و ثنا کے بعد کہا:
’’اما بعد! ہم اللہ کے انصار اور اسلام کی بڑی فوج ہیں، تم مہاجرین کی جماعت ایک چھوٹی قوم ہو، تم میں سے تھوڑے سے لوگ تیزی سے چل پڑے ہیں جو ہمیں ہماری اصل سے کاٹ دینا اور معاملے (خلافت) سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘
اس کی خاموشی کے بعد میں نے گفتگو کرنی چاہی، میں نے اپنی من پسند تقریر تیار کر رکھی جسے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کرنا چاہتا تھا، اور اس خطیب سے کچھ سختی سے نمٹنا چاہتا تھا، جب میں نے تقریر کرنی چاہی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھہرو! میں نے سیدنا ابوبکرؓ کی ناراضی کو پسند نہیں کیا، چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تقریر کی، سیدنا ابوبکرؓ مجھ سے زیادہ بردبار اور سنجیدہ تھے، میں جو بھی کہنا چاہتا تھا سیدنا ابوبکرؓ نے ویسی ہی یا اس سے بہتر باتیں کہیں اور چپ ہوگئے۔
تو ان کے خطیب نے کہا: آپ لوگوں نے اپنی جن بھلائیوں کا ذکر کیا ہے، آپ لوگ اس کے اہل ہیں، خلافت کا معاملہ قبیلۂ قریش ہی میں رہے گا، ان کا نسب اور قبیلہ عربوں میں سب سے اچھا ہے، میں نے تمہارے لیے ان دونوں میں سے کسی ایک کو پسند کیا ہے، ان میں سے جس کے لیے چاہو بیعت کرلو، اس نے میرا اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراحؓ کا ہاتھ پکڑا۔ ان کی یہ بات مجھے بری لگی، اللہ کی قسم میری گردن مار دی جائے اور اس میں میں کسی گناہ کا مرتکب نہ بنوں، یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایسی قوم کا امیر بن جاؤں جس میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ موجود ہوں۔
تو انصار کے شخص نے کہا:
أنا جذیلہا المحکک وعذیقہا المرحب۔
(اس مثل کا لفظی ترجمہ یہ ہے: میں اس کا وہ تنا ہوں جس سے اونٹ کمر کھجلاتے ہیں اور وہ کھجور ہوں جس کے نیچے ٹیک لگی ہوتی ہے)
’’میں انصار میں صائب الرائے اور مدد کرنے کا اہل ہوں")
اے قریش کے لوگو! ہمارا ایک امیر ہو اور تمھارا ایک امیر ہو، چنانچہ شور و غوغا زیادہ ہوگیا، آوازیں بلند ہونے لگیں، مجھے اختلاف کا خدشہ لاحق ہوا تو میں نے کہا:اے ابوبکر صدیق آپ ہاتھ پھیلائیں، انھوں نے ہاتھ پھیلایا، چنانچہ میں نے اور مہاجرین نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی، پھر انصار نے بھی بیعت کرلی۔‘‘
(صحیح البخاری: کتاب الحدود: رقم: 6830)
امام احمدؓ کی ایک روایت میں ہے: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تقریر کی، انصار سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی باتوں کا تذکرہ کیا تھا ان تمام باتوں کا انھوں نے اپنی تقریر میں تذکرہ کیا، فرمایا: مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر لوگ ایک طرف جا رہے ہوں اور انصار دوسری طرف، تو میں انصار کے ساتھ جاؤں گا، اور اے سعد بن عبادہ تمھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ تم بیٹھے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اہل قریش اس خلافت کے والی ہیں، اچھے لوگ اچھے لوگوں کے تابع ہوں گے اور برے لوگ برے لوگوں کے، جواب میں سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں، ہم لوگ وزیر ہیں اور آپ لوگ خلیفہ اور امیر ہیں۔
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 5 یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے۔)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امارت و خلافت کی خواہش نہیں تھی، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی یہ بے رغبتی آپ کی اس تقریر سے واضح ہوتی ہے جس میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے خلافت کی معذرت کرتے ہوئے فرمایا تھا:
’’کسی وقت بھی مجھے امارت و خلافت کا لالچ نہیں تھا نہ رغبت، اور نہ سراً یا جہراً میں نے اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کی تھی، لیکن فتنے کے خوف سے قبول کرلیا، خلافت میں مجھے آرام نہیں ہے، اللہ کے سہارے ہی میں نے اتنے عظیم کام کی ذمہ داری قبول کرلی ہے، میری خواہش تھی کہ جس میں خلافت کی سب سے زیادہ طاقت ہوتی وہ میری جگہ ہوتا۔‘‘
(المستدرک: جلد 3 صفحہ 66 امام حاکمؒ نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے اور ذہبیؒ نے اس کی تصدیق کی ہے۔
سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنی خلافت سے متعلق لوگوں کی ہر طرح مخالفت کی برأت طلب کرتے اور ان سے اس پر قسم کھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا تھا:
’’اے لوگو! میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ جو شخص میری بیعت سے نادم ہو تو وہ کھڑا ہو جائے۔‘‘
تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ میں تلوار تھی، قریب ہو کر ایک پیر منبر پر رکھا دوسرا کنکریوں پر اور فرمایا: اللہ کی قسم نہ ہم آپ کی ہٹائیں گے اور نہ ہٹ جانے کا مطالبہ کریں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو آگے بڑھایا ہے تو آپ کو کون پیچھے کر سکتا ہے۔‘‘
(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 108: الریاض النضرۃ: جلد 1 صفحہ 216)
یہی وہ حقائق ہیں جنھیں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سقیفۂ بنی ساعدہ کے واقعے سے سیکھا تھا نہ کہ وہ چیزیں جن کا تاریخ گھڑنے والے دعویٰ کرتے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ خلافت کی بے رغبتی صرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میں رہی ہو، بلکہ یہ اس دور کا امتیاز تھا (اس سے متعلق نصوص کی تفصیل میری کتاب ’’الانشراح و رفع الضیق بسیرۃ أبي بکر الصدیق‘‘ میں موجود ہے، اس کا مراجعہ کیا جاسکتا ہے۔)
کہا جا سکتا ہے کہ سقیفۂ بنی ساعدہ میں جو بھی گفتگو ہوئی، اسی نقطے کے اردگرد گھومتی ہے، اس بات کو بہ تاکید ثابت کرتی ہے کہ انصار اسلامی دعوت کے اچھے مستقبل کے حریص اور اس سلسلے میں قربانیو ں کے لیے ہمیشہ تیار تھے، اس سے متعلق جب انھیں اطمینان حاصل ہوگیا تو بہت جلد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے لیے تیار ہوگئے، جسے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انھی اسباب کے باعث قبول کیا تھا۔
صحابہ کرامؓ کا نقطۂ نظر ایسے بہت سارے مصنّفین کی رائے کے خلاف ہے، جنھوں نے اپنی تصانیف میں صحیح علمی منہج اور تحقیق سے کام نہیں لیا ہے، بلکہ ان کی تحقیق اس زمانے کے امتیاز، انصار و غیر انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی امیدوں اور خواہشات سے متعارض ہے۔ اگر سقیفۂ بنی ساعدہ کا اجتماع ان کے زعم کے مطابق (الاسلام و اصول الحکم: محمد عمارۃ: صفحہ 71، 74)
مہاجرین اور انصار کے مابین اختلاف کا باعث ہوتا تو انصار وہاں کے رہنے والے اور تعداد و تیاری والے ہونے کے باوجود اس نتیجے کو کیسے قبول کر لیتے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کو مان لیتے، اور خلافت کی تائید و نصرت کا ان میں جذبہ نہ ہوتا تو اس کو پائیدار بنانے کے لیے کس طرح اس کی فوج میں شریک ہو کر بغرض جہاد مشرق و مغرب میں پھیل جاتے؟
خلافت کی سیاست کے نفاذ سے متعلق انصار کی حرص اور ان کا مرتدین سے مقابلہ آرائی کے لیے ٹوٹ پڑنا دونوں باتیں سچائی کو ظاہر کرتی ہیں اور یہ کہ دوسرے مسلمانوں کو کون کہے، خود انصار کا کوئی آدمی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت سے پیچھے نہیں رہا، جن مؤرخین نے اپنے مقصد والی روایتوں میں انصار و مہاجرین کے مابین اختلاف کا تذکرہ کیا ہے ان کی باہمی اخوت ان کے اس خیال سے بالا تر ہے۔
(الانصار فی العصر الراشدی)
ان مؤرخین کا گمان ہے کہ سقیفۂ بنی ساعدہ کے واقعہ میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے مکر و فریب اور مخالفت کو دیکھا اس لیے آپ نفسیاتی طور پر اس سے متاثر رہے، جیسا کہ ’’حیاۃ الامام الحسن بن علی‘‘ کے مؤلف کا خیال ہے۔
(حیاۃ الحسن بن علی: باقر شریف القرشی: جلد 1 صفحہ 123، 139)
جس حقیقت کو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ جانتے ہیں، وہ یہ ہے کہ کسی طرح کی معمولی یا غیر معمولی مشکلات نہیں پیش آئیں، کوئی گروہ بندی وجود میں نہیں آئی کہ ہر گروہ کا ایک امیدوار ہوتا اور ہر ایک کو خلافت کا لالچ ہوتا، جیسا کہ موضوع روایات، ادب کی کتب، تاریخ کے جھوٹے واقعات پر اعتماد کرنے والے بعض مؤرخین کا زعم باطل ہے، کوئی ایسی صحیح روایت ثابت ہی نہیں ہے کہ وفات نبویﷺ کے بعد حکومت پر قبضہ جمانے کے لیے ابوبکر، عمر اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہم کے مابین محاذ آرائی ہوئی ہو۔
(استخلاف ابی بکر: جمال عبدالہادی: صفحہ 50، 51، 53)
ان میں اللہ کی خشیت اور تقویٰ اس درجہ تھا کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے تھے۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ عہد نبوی میں انھوں نے پانچوں نمازوں کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا، مسجد نبوی میں سیدنا حسنؓ کا آنا جانا رہتا تھا، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انھوں نے اس بات کا مشاہدہ کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے آگے بڑھایا، انھیں اپنے نانا جان کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت کی بیعت کا علم تھا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا عقیدہ وہی تھا جو اہل سنت و الجماعت کا تھا کہ ان کی خلافت ان کے فضل، کارناموں اور نماز کی امامت میں دیگر صحابہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے آپ کو آگے بڑھانے کی وجہ سے صحیح اور دستوری تھی۔
نماز کی امامت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو بڑھانے کا مقصد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھ لیا اس لیے خلافت کے لیے آپؓ کو بڑھانے اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی متابعت پر اتفاق کرلیا، کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا، اور اللہ تعالیٰ انھیں کسی گمراہی پر متفق کرنے والا نہیں تھا، چنانچہ بہ رضا و رغبت انھوں نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی، سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے مطیع ہوگئے، سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت پر کسی کو اعتراض نہیں تھا۔
(عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ في الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 550)
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے جب پوچھا گیا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کب انجام پائی؟ فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن ہی، لوگوں کو ایک دن بھی بغیر جماعت کے رہنا پسند نہیں تھا۔
(تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 207)
معتبر اہل علم کی ایک جماعت نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد کے اہل سنت والجماعت کا اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی خلافت کے سب سے زیادہ حقدار تھے
(عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 550)
جیسے خطیب بغدادی، (تاریخ بغداد: 10، 130، 131)
ابوالحسن اشعری، (الإبانۃ عن اصول الدیانۃ: صفحہ 66)
عبدالملک جوینی (کتاب الإرشاد: صفحہ 361)، ابوبکر باقلانی۔ (الانصاف فیما یجب اعتقاد ولا یجوز الجہل بہ: صفحہ 65)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما خلافتِ راشدہ کی بنیادوں کو اچھی طرح سمجھ چکے تھے اور یہ کہ اس کا قیام شوریٰ اور بیعت پر ہے، خلافت کے وجوب پر مسلمانوں کا اجماع ہے، اور اس بات پر بھی کہ مسلمانوں پر ایسے خلیفہ کی تعیین فرض ہے جو امت کے حالات کی دیکھ ریکھ کرے، مقررہ سزاؤں کو نافذ کرے، اسلامی دعوت کی نشر و اشاعت بذریعہ جہاد دین و امت کی حفاظت، شریعت کی تنفیذ، لوگوں کے حقوق کی حفاظت، مظالم کی رکاوٹ، اور ہر شخص کی لازمی ضرورتوں کو مہیا کرنے کے لیے کام کرے۔(الخلافۃ و الخلفاء الراشدون: صفحہ 66، 67)
سقیفۂ بنی ساعدہ میں جو کچھ ہوا اس سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے بہت ساری بنیادی باتوں کو سیکھا، ان میں سے چند یہ ہیں:
1۔ امت کے قائد کا انتخاب کیا جائے گا۔
2۔ بیعت قیادت کے دستوری ہونے اور انتخابی عمل کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔
3۔ منصبِ خلافت پر وہی فائز ہوگا جس میں دین کی زیادہ پختگی اور امور خلافت کو انجام دینے کی زیادہ صلاحیت ہو، اس طرح خلیفہ کا انتخاب اسلامی شخصی اور اخلاقی بنیادوں پر ہوگا۔
4۔ سقیفۂ بنی ساعدہ میں جو گفتگو ہوئی وہ مسلمانوں کے مابین بڑے ہی پُر امن ماحول میں ہوئی، کسی طرح کی افراتفری نہیں تھی نہ ایک دوسرے کو جھٹلانے کی بات تھی نہ سازشیں تھیں اور نہ اتفاق کو توڑنے کی کوئی بات، بلکہ فیصلہ کن نصوص کو تسلیم کیا گیا اس لیے کہ مناقشہ میں شرعی نصوص ہی کی جانب رجوع کیا جاتا ہے۔
(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: للشجاع: صفحہ 256)
3۔ دور صدیقی میں حکومت کے بعض خد و خال:
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے طریقۂ کار کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا، اسی لیے جب سیدنا حسنؓ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں حکومت سے دستبردار ہوئے تو خلفائے راشدینؓ کے طریقِ کار اور کتاب و سنت کے التزام کی شرط لگائی، یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دورِ صدیقی سے اچھی طرح واقف تھے، قیادت سنبھالنے پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تقریر کا شمار باوجود مختصر ہونے کے اہم ترین اسلامی تقریروں میں ہوتا ہے، آپ نے اس میں حاکم و محکوم کے مابین تعامل سے متعلق عدل و رحم دلی کے اصولوں کا تذکرہ کیا ہے، اس بات پر زور دیا ہے کہ حاکم کی اطاعت اسی وقت کی جائے گی جب وہ اللہ و رسول کی اطاعت کرتا ہو، جہاد فی سبیل اللہ کا صراحت سے ذکر کیا ہے، اس لیے کہ امت کو معزز بنانے میں اس کی بڑی اہمیت ہے، برائیوں سے اجتناب پر زور دیا ہے، اس لیے کہ اسی کے ذریعے سے معاشرے کے فساد و بگاڑ کو روکا جاسکتا ہے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 28)
مذکورہ تقریر اور وفات نبویﷺ کے بعد رونما ہونے والے حالات سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے خلافت راشدہ کے ابتدائی دور میں نظامِ حکومت کے خد وخال کو پہچان لیا تھا، اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
ا: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں کتاب و سنت کو اعلیٰ دستوری حیثیت حاصل تھی،انھوں نے اپنی تقریر میں فرمایا تھا:
أَطِیْعُوْنِیْ مَا أَطَعْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَإِنْ عَصَیْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَـلَا طَاعَۃَ لِيْ عَلَیْکُمْ۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 306)
’’جب تک میں اللہ و رسول کی اطاعت کرتا رہوں تم میری اطاعت کرو، اگر میں اللہ و رسول کا نافرمان ہوجاؤں تو میری اطاعت تم پر ضروری نہیں۔‘‘
ب: امت کو حاکم کے مراقبہ اور محاسبہ کا حق حاصل ہے، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی تقریر میں ہے:
فَإِنْ أَحْسَنْتُ فَأَعِیْنُوْنِیْ وَإِنْ أَسَاْتُ فَقَوِّمُوْنِيْ۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 305)
’’جب تک میں اچھے کام کرتا رہوں میری مدد کرو، اور اگر غلط کرنے لگوں تو مجھے ٹھیک کرو۔‘‘
ج: لوگوں کے مابین عدل و مساوات کے اصول کو اپنانا، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی تقریر میں ہے:
اَلضَّعِیْفُ فِیْکُمْ قَوِیٌّ عِنْدِيْ حَتّٰی أَرْجِعَ عَلَیْہِ حَقَّہُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ وَالْقَوِيُّ فِیْکُمُ ضَعِیْفٌ حَتّٰی آخُذُ الْحَقَّ مِنْہُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 305)
’’تم میں ضعیف میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک کہ مشیت الہٰی سے میں اسے اس کا حق واپس دلا سکوں، اور تم میں قوی میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ مشیت الہٰی سے میں اس سے حق کو واپس لے سکوں۔‘‘
د: حاکم و محکوم کے مابین تعامل کی بنیاد سچائی ہے، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی تقریر میں ہے:
اَلصِّدْقُ أَمَانَۃٌ ، وَالْکَذِبُ خِیَانَۃٌ۔
’’سچائی امانت ہے، اور جھوٹ خیانت ہے۔‘‘
خلفائے راشدینؓ کے عہد میں سچائی ہی حاکم و محکوم کے مابین تعامل کی بنیاد تھی۔
ھ: جہاد کے التزام کا اعلان اور امت کو اس کے لیے تیار کرنا:
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
وَمَا تَرَکَ قَوْمٌ الْجِہَادَ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ إِلَّا خَذَلَہُمُ اللّٰہُ بِالذُّلِّ۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 305)
’’جس قوم نے بھی جہاد فی سبیل اللہ کو ترک کیا اللہ تعالیٰ نے اسے رسوا کر دیا۔‘‘
یہ وہی چیز تھی جسے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے سمجھا تھا:
إِذَا تَبَایَعْتُمْ بِالْعِیْنَۃِ ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِیْتُمْ بِالزَّرْعِ ، وَتَرَکْتُمُ الْجِہَادَ، سَلَّطَ) اللّٰہُ عَلَیْکُمْ ذُلًّا لَا یَنْزِعَہُ حَتّٰٰ تَرْجِعُوْا إِلٰی دِیْنِکُمْ۔
(سنن ابی داود: رقم: 3462) البانی رحم اللہ نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔)
’’جب تم بیع عینہ کرنے لگو گے، گایوں بیلوں کی دُمیں تھام لو گے۔ کھیتی باڑی میں مست و مگن رہنے لگو گے، اور جہاد کو چھوڑ دو گے، تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کردے گا جس سے تم اس وقت تک نجات و چھٹکارا نہ پاسکو گے جب تک اپنے دین کی طرف لوٹ نہ آؤ گے۔‘‘
و: معاشرے کو زنا کاری سے پاک کرنا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’جس قوم میں زنا کاری عام ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ ان پر عمومی مصیبت نازل کرتا ہے۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 305)
سیدنا ابوبکر صدیقؓ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی یاد دہانی کراتے ہیں:
لم تظہر الفاحشۃ فی قوم قط حتی یعلنوا بہا، إلا فشا فیہم الطاعون و الأوجاع التی لم تکن مضت فی أسلافہم الذین مضوا۔
(صحیح ابن ماجہ للالبانی: رقم: 4019)
’’جس قوم میں زناکاری علانیہ ہونے لگتی ہے وہ طاعون اور ایسی دوسری بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے جن کا وجود گزشتہ لوگو ں میں نہیں تھا۔‘‘
یہ وہ بعض مقاصد تھے جنھیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیعت عامہ کے بعد لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے بیان فرمایا تھا۔ اس خطاب میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ملکی سیاست کا خاکہ پیش کیا، حاکم کی ذمہ داریوں کو متعین کیا، حاکم و محکوم کے مابین تعلقات کو واضح کیا، اس طرح قوموں کی تربیت اور قیامِ حکومت کے اہم ترین اصول و مبادی کی وضاحت کی۔
4۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے والد کی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت:
صحیح سند سے مروی روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا علی و زبیر رضی اللہ عنہما نے شروع ہی میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت کرلی تھی، میں نے اس کی تفصیلات اپنی کتاب ’’اسمی المطالب في سیرۃ أمیر المومنین علی بن أبی طالب‘‘
(اسمی المطالب فی سیرۃ امیر المومنین علی بن ابی طالب۔) میں ذکر کی ہیں۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی رائے میں ان کے والد کے کارنامے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے تعاون پر مبنی تھے، چنانچہ امیر المؤمنین علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کسی بھی وقت سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے جدا نہیں رہے، اجتماعی مواقع میں سے کسی موقع پر آپ سے الگ نہیں رہے، مسلمانوں کے مسائل نمٹانے اور مشورہ دینے میں آپ کے ساتھ رہے، سیدنا علیؓ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے خیرخواہی کا مجموعہ تھے، اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو آپ کے نزدیک ہر چیز پر ترجیح حاصل تھی۔
مسلمانوں کے اتحاد، خلافت کی بقا کے لیے حرص، اسلام اور مسلمانوں کی خیرخواہی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے تئیں مخلص ہونے کی واضح دلیل آپ کا وہ رویہ ہے جسے سیدنا علیؓ نے اس وقت اپنایا جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بذات خود ذوالقصہ کی جانب نکل کھڑے ہوئے اور مرتدین سے جہاد، اور ان کے خلاف فوجی نقل و حرکت کی قیادت کا پختہ ارادہ کیا، جب کہ اس میں خود کو اور اسلامی وجود کو خطرہ تھا۔
(المرتضی للندوی: صفحہ 97)
فَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللّٰه عنہما قَالَ لَمَّا بَرَزَ أَبُوْبَکْرٍ إِلَی ذِی القِصَّۃِ وَاسْتَوَی عَلَی رَاحِلَتِہِ أَخَذَ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ رضی اللّٰه عنہ یَقُوْلُ: اَقُوْلُ لَکَ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم یَوْمَ أَحَدٍ لَمَّ سَیْفَکَ وَلَا تُفَجِّعْنَا بِنَفْسِکَ، وَارْجِعْ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَوَ اللّٰہُ لَئِنْ فُجِئْنَا بِکَ لَا یَکُوْنُ لِلْاِسْلَامِ نِظَامٌ فَرَجَعَ۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 314، 315)
’’ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ذو القصہ کی جانب نکل رہے تھے اور اپنی سواری پر سوار ہو چکے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں آپ سے وہی بات کہتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن کہی تھی، اپنی تلوار نیام میں کرلیجیے اور اپنی ذات سے ہمیں مصیبت میں نہ ڈالیں، آپ مدینہ واپس چلیں، اللہ کی قسم اگر آپ شہید ہوگئے تو کبھی اسلامی نظام قائم نہ ہوگا چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ واپس ہوگئے۔‘‘
اگر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نعوذ باللہ شرح صدر حاصل نہیں تھا اور انھوں نے نہ چاہتے ہوئے بیعت کی تھی تو اس سنہرے موقع سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ فائدہ اٹھاتے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنے حال پر چھوڑ دیتے، شاید وہ فوت ہو جائیں نتیجتاً ان سے چھٹکارا پا جائیں اور فضا ان کے لیے سازگار ہو جائے۔
اگر معاملہ اس سے بڑھ کر تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ناپسند کرتے تھے اور ان سے چھٹکارا پانے کے حریص تھے تو کسی کے ذریعے سے ان کا قتل کرا دیتے جیسا کہ موقع پرست سیاسی لوگ اپنے حریفوں اور دشمنوں کے ساتھ کرتے ہیں۔
(المرتضی للندوی: صفحہ 97)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ مرتدین سے جہاد کیا جائے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پوچھنے پر سیدنا علیؓ نے فرمایا تھا کہ جو کچھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے لیتے تھے اس میں سے اگر کچھ بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے چھوڑ دیا تو آپ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو میں ان سے ایک رسی کو روکنے پر بھی ضرور جہاد کروں گا۔
(المختصر من کتاب الموافقۃ بین اہل البیت و الصحابۃ: للزمخشری: صفحہ 48)
بلاشبہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی تعریف میں اپنے والد کے درج ذیل اقوال سن رکھے تھے:
’’جو بھی مجھ کو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے افضل قرار دے گا میں اس پر بہتان تراشی کی سزا جاری کروں گا۔‘‘
(فضائل الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 83 اس کی سند میں ضعف ہے)
’’میں تمھیں بتلا رہا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے سب سے بہتر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔‘‘
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 106، 110، 127 تحقیق احمد شاکر)
سیدنا علیؓ کا یہ قول بہ تواتر مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے سب سے بہتر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ سیدنا علیؓ کا یہ قول اسّی (80) سے زیادہ طرق سے مروی ہے۔
(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 162)
صلہ بن زفر عبسی سے مروی ہے کہتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہوتا تو کہتے: تم لوگ سبقت کا تذکرہ کرتے ہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب بھی کسی بھلے کام میں ہم ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس میں ہم سب پر سبقت لے جاتے۔
(الطبرانی فی الأوسط: جلد 7 صفحہ 207، 208 اس کی سند ضعیف ہے)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکموں کو بجا لاتے تھے چنانچہ جب کفار کی ایک جماعت مدینہ آئی، اور دیکھا کہ سرکش باغیوں اور مرتدین کی بیخ کنی کرنے اور مختلف مقامات میں جہاد کے لیے ایک بڑی تعداد کے چلے جانے کے باعث مسلمان کم اور کمزور ہیں اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے اسلام اور مسلمانوں کے مرکز کے لیے خطرہ محسوس کیا تو آپ نے مدینہ کی پہرہ داری کا حکم دیا، پہرے داروں کو مدینہ کے راستوں پر مقرر کردیا کہ وہ فوجیوں کو لے کر وہاں رات گزاریں، علی، زبیر، طلحہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کو ان پہرے داروں کا سردار مقرر کیا، ان سے مطمئن ہونے تک وہ لوگ اسی حالت میں رہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 64۔ الشیعۃ و اہل البیت: صفحہ 71)
ان کے مابین تعامل، محبت اور مکمل ہم آہنگی کے باعث سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب کہ آپ اہل بیت کے سردار اور دونوں نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے والد تھے، ہدایا اور تحائف کو قبول کرتے تھے، جیسا کہ باہمی محبت کرنے والوں کی عادت ہوتی ہے، چنانچہ معرکۂ ’’عین التمر‘‘ میں ہاتھ آنے والی ’’صہباء‘‘ نامی لونڈی کو آپ نے قبول کیا، جن کے بطن سے آپ کی اولاد میں سے عمر و رقیہ ہیں۔
(الطبقات: جلد 3 صفحہ 20)
اسی طرح جنگ یمامہ میں قید ہونے والی خولہ بنت جعفر بن قیس کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا علیؓ کے حوالے کردیا، انھی کے بطن سے محمد بن حنفیہ پیدا ہوئے، جو حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے بعد سیدنا علیؓ کی اولاد میں سب سے افضل ہیں۔ خولہ مرتدین کے قیدیوں میں سے تھیں۔ محمد انھی کے ذریعے سے جانے جاتے ہیں اور انھیں کی طرف منسوب ہو کر محمد بن حنفیہ کہلاتے ہیں۔
(الطبقات: جلد 3 صفحہ 20)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بیعت کے بارے میں امام جوینی کہتے ہیں: تمام کے تمام صحابہؓ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اطاعت کو قبول کرلیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے حکم کو بجا لانے والے تھے، سیدنا علیؓ نے بھری مجلس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور غزوۂ بنوحنیفہ کے لیے چل پڑے۔
(الارشاد للجوینی: صفحہ 428 اصول مذہب الشیعۃ للغفاری سے منقول ہے۔)
بہت ساری روایات میں وارد ہے کہ سیدنا علیؓ نے اور آپ کی اولاد نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جانب سے مالی ہدایا، خمس اور اموال فے کو قبول کیا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے عہد خلافت میں خمس اور فے کے ذمہ دار اور بانٹنے والے تھے، یہ اموال انھی کے ہاتھوں میں تھے، پھر حسن، حسین، حسن بن حسن اور زید بن حسن رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں میں منتقل ہوتے رہے۔
(الشیعۃ و اہل البیت: صفحہ 72)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسجد میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے پانچوں نمازیں ادا کرتے تھے، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی امامت پر راضی تھے، لوگوں کے سامنے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ اپنی ہم آہنگی کا اظہار کرتے تھے۔
(الشیعۃ واہل البیت: صفحہ 72)
اپنے والد اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے مابین اس طرح کے تعلقات کو حسن بن علی رضی اللہ عنہما جانتے تھے، ساتھ ہی ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور اہل بیتؓ کے مابین ازدواجی رشتے بھی قائم ہوئے، اہل بیتؓ نے اپنوں میں سے بعض کا نام ابوبکر رکھا، خلیفۂ راشد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اہل بیتؓ کے ساتھ ان کے شایانِ شان دوستانہ اور عزت و احترام پر مبنی تعلقات تھے، یہ تعلقات دو طرفہ تھے، اور اتنے مضبوط تھے کہ قصہ گو حضرات جتنے بھی جھوٹے قصے اور کہانیاں گھڑلیں ان میں دوری اور اختلاف کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔چنانچہ سیدہ عائشہ صدیقہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے نانا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیوی تھیں۔ مخالفین جتنا بھی چلائیں، حاسدین جتنا بھی حسد کی آگ میں جلیں، سیدہ کہعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے تھیں، یہ بالکل ثابت شدہ حقیقت ہے، ان کی پاکیزگی کی شہادت قرآن نے دی ہے بھلے مخالفین اور اہل باطل اس کا انکار کریں۔
اسی طرح سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سیدہ علی رضی اللہ عنہ کے سگے بھائی جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، جب ان کا انتقال ہوگیا تو ان سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شادی کرلی، انھی کے بطن سے محمد پیدا ہوئے تھے جن کو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے مصر کا گورنر بنایا تھا، اور جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا تو ان سے علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے شادی کرلی، ان کے بطن سے ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی جن کا نام سیدنا علیؓ نے یحییٰ رکھا۔
(خلافۃ علی بن ابی طالب و ترتیب و تہذیب کتاب ’’البدایۃ والنہایۃ:" للسلمی: صفحہ 22)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل بیت کی محبت و مودت کا نتیجہ تھا کہ ان لوگوں نے اپنے بچوں کا نام سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نام پر رکھا، یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے اور ان کا احترام کرتے تھے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے کی پیدائش سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلیفہ اور امام بننے کے بعد نہیں ہوئی تھی بلکہ آپ کی وفات کے بعد ہوئی تھی، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کا نام ابوبکر صرف ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نیک فال لیتے ہوئے، اور وفات کے بعد بھی ان سے محبت اور وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے رکھا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پہلے بنوہاشم میں کوئی ایسا نہیں تھا جس نے اپنے بیٹے کا یہ نام رکھا ہو۔
معاملہ یہیں تک محدود نہیں رہا کہ صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے تیمن، تبرک، محبت اور دوستی کا اظہار کیا ہو، بلکہ سیدنا علیؓ کے بعد آپ کی اولاد بھی آپ کے نقش قدم پر چلی، چنانچہ سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنہما میں سے ہر ایک نے اپنے ایک بیٹے کا نام ابوبکر رکھا، یعقوبی اور مسعودی تک نے اس کا تذکرہ کیا ہے جب کہ وہ شیعہ مؤرخین میں سے ہیں۔
(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 228)
اس طرح اہل بیت اپنے بچوں کا نام ابوبکر رکھتے رہے، بلاشبہ سیدنا ابوبکر صدیق اور علی رضی اللہ عنہما کے مابین مضبوط و مستحکم تعلقات کا سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے دل و دماغ اور نفسیات پر گہرا اثر رہا جس کے نتیجے میں وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا احترام کرتے اور آپ کی فضیلت اور اسلام میں آپ کے مقام و مرتبہ کے معترف تھے۔