سقیفۂ بنی ساعدہ (قبیلہ بنی ساعدہ کا چھپر) - دفاعِ اہلِ سنت…

سقیفۂ بنی ساعدہ (قبیلہ بنی ساعدہ کا چھپر)

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 6

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تک جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر پہنچی تو اسی دن بروز سوموار 12 ربیع الاول 11ھ کو سقیفۂ بنی ساعدہ میں انصار جمع ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ کے انتخاب سے متعلق اپنے مابین مشورہ کیا۔

(التاریخ الاسلامی:جلد 9 صفحہ 21)

انصار قبیلۂ خزرج کے سردار سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے گرد اکٹھے تھے، ادھر مہاجرین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ خلیفہ کے انتخاب کے لیے اکٹھے تھے۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ للعمری: صفحہ 40)

ایسے میں جب انھیں سقیفۂ بنی ساعدہ میں انصار کے اکٹھے ہونے کی خبر ملی تو بعض مہاجرین نے بعض سے کہا: چلو اپنے انصار بھائیوں کے پاس چلیں، انھیں بھی اس کا حق حاصل ہے۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ للعمری: صفحہ 40)

چنانچہ ہم چلے، سقیفہ بنی ساعدہ میں ان کے پاس پہنچے، ان کے مابین ایک شخص چادر اوڑھے ہوئے تھا، تو میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ ان لوگوں نے کہا: یہ سعد بن عبادہ (رضی اللہ عنہ) ہیں، میں نے کہا: انھیں کیا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا کہ وہ بخار کی تکلیف میں مبتلا ہیں، ہم تھوڑی دیر بیٹھے، ان کے خطیب نے حمد و ثنا کے بعد کہا:  

’’اما بعد! ہم اللہ کے انصار اور اسلام کی بڑی فوج ہیں، تم مہاجرین کی جماعت ایک چھوٹی قوم ہو، تم میں سے تھوڑے سے لوگ تیزی سے چل پڑے ہیں جو ہمیں ہماری اصل سے کاٹ دینا اور معاملے (خلافت) سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

اس کی خاموشی کے بعد میں نے گفتگو کرنی چاہی، میں نے اپنی من پسند تقریر تیار کر رکھی جسے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کرنا چاہتا تھا، اور اس خطیب سے کچھ سختی سے نمٹنا چاہتا تھا، جب میں نے تقریر کرنی چاہی تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھہرو! میں نے سیدنا ابوبکرؓ کی ناراضی کو پسند نہیں کیا، چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تقریر کی، سیدنا ابوبکرؓ مجھ سے زیادہ بردبار اور سنجیدہ تھے، میں جو بھی کہنا چاہتا تھا سیدنا ابوبکرؓ نے ویسی ہی یا اس سے بہتر باتیں کہیں اور چپ ہوگئے۔

تو ان کے خطیب نے کہا: آپ لوگوں نے اپنی جن بھلائیوں کا ذکر کیا ہے، آپ لوگ اس کے اہل ہیں، خلافت کا معاملہ قبیلۂ قریش ہی میں رہے گا، ان کا نسب اور قبیلہ عربوں میں سب سے اچھا ہے، میں نے تمہارے لیے ان دونوں میں سے کسی ایک کو پسند کیا ہے، ان میں سے جس کے لیے چاہو بیعت کرلو، اس نے میرا اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراحؓ کا ہاتھ پکڑا۔ ان کی یہ بات مجھے بری لگی، اللہ کی قسم میری گردن مار دی جائے اور اس میں میں کسی گناہ کا مرتکب نہ بنوں، یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایسی قوم کا امیر بن جاؤں جس میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ موجود ہوں۔

تو انصار کے شخص نے کہا:

أنا جذیلہا المحکک وعذیقہا المرحب۔

(اس مثل کا لفظی ترجمہ یہ ہے: میں اس کا وہ تنا ہوں جس سے اونٹ کمر کھجلاتے ہیں اور وہ کھجور ہوں جس کے نیچے ٹیک لگی ہوتی ہے)

’’میں انصار میں صائب الرائے اور مدد کرنے کا اہل ہوں")

اے قریش کے لوگو! ہمارا ایک امیر ہو اور تمھارا ایک امیر ہو، چنانچہ شور و غوغا زیادہ ہوگیا، آوازیں بلند ہونے لگیں، مجھے اختلاف کا خدشہ لاحق ہوا تو میں نے کہا:اے ابوبکر صدیق آپ ہاتھ پھیلائیں، انھوں نے ہاتھ پھیلایا، چنانچہ میں نے اور مہاجرین نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی، پھر انصار نے بھی بیعت کرلی۔‘‘ 

(صحیح البخاری: کتاب الحدود: رقم: 6830)

امام احمدؓ کی ایک روایت میں ہے: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تقریر کی، انصار سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی باتوں کا تذکرہ کیا تھا ان تمام باتوں کا انھوں نے اپنی تقریر میں تذکرہ کیا، فرمایا: مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر لوگ ایک طرف جا رہے ہوں اور انصار دوسری طرف، تو میں انصار کے ساتھ جاؤں گا، اور اے سعد بن عبادہ تمھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ تم بیٹھے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اہل قریش اس خلافت کے والی ہیں، اچھے لوگ اچھے لوگوں کے تابع ہوں گے اور برے لوگ برے لوگوں کے، جواب میں سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ سچ کہتے ہیں، ہم لوگ وزیر ہیں اور آپ لوگ خلیفہ اور امیر ہیں۔ 

(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 5 یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے۔)

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امارت و خلافت کی خواہش نہیں تھی، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی یہ بے رغبتی آپ کی اس تقریر سے واضح ہوتی ہے جس میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ  نے خلافت کی معذرت کرتے ہوئے فرمایا تھا:

’’کسی وقت بھی مجھے امارت و خلافت کا لالچ نہیں تھا نہ رغبت، اور نہ سراً یا جہراً میں نے اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کی تھی، لیکن فتنے کے خوف سے قبول کرلیا، خلافت میں مجھے آرام نہیں ہے، اللہ کے سہارے ہی میں نے اتنے عظیم کام کی ذمہ داری قبول کرلی ہے، میری خواہش تھی کہ جس میں خلافت کی سب سے زیادہ طاقت ہوتی وہ میری جگہ ہوتا۔‘‘ 

(المستدرک: جلد 3 صفحہ 66 امام حاکمؒ نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے اور ذہبیؒ نے اس کی تصدیق کی ہے۔

سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنی خلافت سے متعلق لوگوں کی ہر طرح مخالفت کی برأت طلب کرتے اور ان سے اس پر قسم کھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا تھا:

’’اے لوگو! میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ جو شخص میری بیعت سے نادم ہو تو وہ کھڑا ہو جائے۔‘‘

تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ میں تلوار تھی، قریب ہو کر ایک پیر منبر پر رکھا دوسرا کنکریوں پر اور فرمایا: اللہ کی قسم نہ ہم آپ کی ہٹائیں گے اور نہ ہٹ جانے کا مطالبہ کریں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو آگے بڑھایا ہے تو آپ کو کون پیچھے کر سکتا ہے۔‘‘

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 108: الریاض النضرۃ: جلد 1 صفحہ 216)

صفحہ 1 از 6