سقیفۂ بنی ساعدہ (قبیلہ بنی ساعدہ کا چھپر) - دفاعِ اہلِ سنت…

سقیفۂ بنی ساعدہ (قبیلہ بنی ساعدہ کا چھپر)

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 6

یہی وہ حقائق ہیں جنھیں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سقیفۂ بنی ساعدہ کے واقعے سے سیکھا تھا نہ کہ وہ چیزیں جن کا تاریخ گھڑنے والے دعویٰ کرتے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ خلافت کی بے رغبتی صرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میں رہی ہو، بلکہ یہ اس دور کا امتیاز تھا (اس سے متعلق نصوص کی تفصیل میری کتاب ’’الانشراح و رفع الضیق بسیرۃ أبي بکر الصدیق‘‘ میں موجود ہے، اس کا مراجعہ کیا جاسکتا ہے۔)

کہا جا سکتا ہے کہ سقیفۂ بنی ساعدہ میں جو بھی گفتگو ہوئی، اسی نقطے کے اردگرد گھومتی ہے، اس بات کو بہ تاکید ثابت کرتی ہے کہ انصار اسلامی دعوت کے اچھے مستقبل کے حریص اور اس سلسلے میں قربانیو ں کے لیے ہمیشہ تیار تھے، اس سے متعلق جب انھیں اطمینان حاصل ہوگیا تو بہت جلد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے لیے تیار ہوگئے، جسے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انھی اسباب کے باعث قبول کیا تھا۔

صحابہ کرامؓ کا نقطۂ نظر ایسے بہت سارے مصنّفین کی رائے کے خلاف ہے، جنھوں نے اپنی تصانیف میں صحیح علمی منہج اور تحقیق سے کام نہیں لیا ہے، بلکہ ان کی تحقیق اس زمانے کے امتیاز، انصار و غیر انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی امیدوں اور خواہشات سے متعارض ہے۔ اگر سقیفۂ بنی ساعدہ کا اجتماع ان کے زعم کے مطابق (الاسلام و اصول الحکم: محمد عمارۃ: صفحہ 71، 74)

مہاجرین اور انصار کے مابین اختلاف کا باعث ہوتا تو انصار وہاں کے رہنے والے اور تعداد و تیاری والے ہونے کے باوجود اس نتیجے کو کیسے قبول کر لیتے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کو مان لیتے، اور خلافت کی تائید و نصرت کا ان میں جذبہ نہ ہوتا تو اس کو پائیدار بنانے کے لیے کس طرح اس کی فوج میں شریک ہو کر بغرض جہاد مشرق و مغرب میں پھیل جاتے؟

خلافت کی سیاست کے نفاذ سے متعلق انصار کی حرص اور ان کا مرتدین سے مقابلہ آرائی کے لیے ٹوٹ پڑنا دونوں باتیں سچائی کو ظاہر کرتی ہیں اور یہ کہ دوسرے مسلمانوں کو کون کہے، خود انصار کا کوئی آدمی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت سے پیچھے نہیں رہا، جن مؤرخین نے اپنے مقصد والی روایتوں میں انصار و مہاجرین کے مابین اختلاف کا تذکرہ کیا ہے ان کی باہمی اخوت ان کے اس خیال سے بالا تر ہے۔

(الانصار فی العصر الراشدی)

ان مؤرخین کا گمان ہے کہ سقیفۂ بنی ساعدہ کے واقعہ میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے مکر و فریب اور مخالفت کو دیکھا اس لیے آپ نفسیاتی طور پر اس سے متاثر رہے، جیسا کہ ’’حیاۃ الامام الحسن بن علی‘‘ کے مؤلف کا خیال ہے۔

(حیاۃ الحسن بن علی: باقر شریف القرشی: جلد 1 صفحہ 123، 139) 

جس حقیقت کو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ جانتے ہیں، وہ یہ ہے کہ کسی طرح کی معمولی یا غیر معمولی مشکلات نہیں پیش آئیں، کوئی گروہ بندی وجود میں نہیں آئی کہ ہر گروہ کا ایک امیدوار ہوتا اور ہر ایک کو خلافت کا لالچ ہوتا، جیسا کہ موضوع روایات، ادب کی کتب، تاریخ کے جھوٹے واقعات پر اعتماد کرنے والے بعض مؤرخین کا زعم باطل ہے، کوئی ایسی صحیح روایت ثابت ہی نہیں ہے کہ وفات نبویﷺ کے بعد حکومت پر قبضہ جمانے کے لیے ابوبکر، عمر اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہم کے مابین محاذ آرائی ہوئی ہو۔

(استخلاف ابی بکر: جمال عبدالہادی: صفحہ 50، 51، 53)

ان میں اللہ کی خشیت اور تقویٰ اس درجہ تھا کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے تھے۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ عہد نبوی میں انھوں نے پانچوں نمازوں کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا، مسجد نبوی میں سیدنا حسنؓ کا آنا جانا رہتا تھا، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انھوں نے اس بات کا مشاہدہ کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے آگے بڑھایا، انھیں اپنے نانا جان کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت کی بیعت کا علم تھا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا عقیدہ وہی تھا جو اہل سنت و الجماعت کا تھا کہ ان کی خلافت ان کے فضل، کارناموں اور نماز کی امامت میں دیگر صحابہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے آپ کو آگے بڑھانے کی وجہ سے صحیح اور دستوری تھی۔

نماز کی امامت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو بڑھانے کا مقصد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھ لیا اس لیے خلافت کے لیے آپؓ کو بڑھانے اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی متابعت پر اتفاق کرلیا، کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا، اور اللہ تعالیٰ انھیں کسی گمراہی پر متفق کرنے والا نہیں تھا، چنانچہ بہ رضا و رغبت انھوں نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی، سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے مطیع ہوگئے، سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت پر کسی کو اعتراض نہیں تھا۔

(عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ في الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 550)

سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے جب پوچھا گیا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کب انجام پائی؟ فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن ہی، لوگوں کو ایک دن بھی بغیر جماعت کے رہنا پسند نہیں تھا۔

(تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 207)

معتبر اہل علم کی ایک جماعت نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد کے اہل سنت والجماعت کا اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی خلافت کے سب سے زیادہ حقدار تھے

(عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 550)

جیسے خطیب بغدادی، (تاریخ بغداد: 10، 130، 131)

ابوالحسن اشعری، (الإبانۃ عن اصول الدیانۃ: صفحہ 66)

عبدالملک جوینی (کتاب الإرشاد: صفحہ 361)، ابوبکر باقلانی۔ (الانصاف فیما یجب اعتقاد ولا یجوز الجہل بہ: صفحہ 65)

صفحہ 2 از 6