سقیفۂ بنی ساعدہ (قبیلہ بنی ساعدہ کا چھپر) - دفاعِ اہلِ سنت…

سقیفۂ بنی ساعدہ (قبیلہ بنی ساعدہ کا چھپر)

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 6

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما خلافتِ راشدہ کی بنیادوں کو اچھی طرح سمجھ چکے تھے اور یہ کہ اس کا قیام شوریٰ اور بیعت پر ہے، خلافت کے وجوب پر مسلمانوں کا اجماع ہے، اور اس بات پر بھی کہ مسلمانوں پر ایسے خلیفہ کی تعیین فرض ہے جو امت کے حالات کی دیکھ ریکھ کرے، مقررہ سزاؤں کو نافذ کرے، اسلامی دعوت کی نشر و اشاعت بذریعہ جہاد دین و امت کی حفاظت، شریعت کی تنفیذ، لوگوں کے حقوق کی حفاظت، مظالم کی رکاوٹ، اور ہر شخص کی لازمی ضرورتوں کو مہیا کرنے کے لیے کام کرے۔(الخلافۃ و الخلفاء الراشدون: صفحہ 66، 67)

سقیفۂ بنی ساعدہ میں جو کچھ ہوا اس سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے بہت ساری بنیادی باتوں کو سیکھا، ان میں سے چند یہ ہیں:

1۔ امت کے قائد کا انتخاب کیا جائے گا۔

2۔ بیعت قیادت کے دستوری ہونے اور انتخابی عمل کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔

3۔ منصبِ خلافت پر وہی فائز ہوگا جس میں دین کی زیادہ پختگی اور امور خلافت کو انجام دینے کی زیادہ صلاحیت ہو، اس طرح خلیفہ کا انتخاب اسلامی شخصی اور اخلاقی بنیادوں پر ہوگا۔

4۔ سقیفۂ بنی ساعدہ میں جو گفتگو ہوئی وہ مسلمانوں کے مابین بڑے ہی پُر امن ماحول میں ہوئی، کسی طرح کی افراتفری نہیں تھی نہ ایک دوسرے کو جھٹلانے کی بات تھی نہ سازشیں تھیں اور نہ اتفاق کو توڑنے کی کوئی بات، بلکہ فیصلہ کن نصوص کو تسلیم کیا گیا اس لیے کہ مناقشہ میں شرعی نصوص ہی کی جانب رجوع کیا جاتا ہے۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: للشجاع: صفحہ 256)

3۔ دور صدیقی میں حکومت کے بعض خد و خال:

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے طریقۂ کار کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا، اسی لیے جب سیدنا حسنؓ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں حکومت سے دستبردار ہوئے تو خلفائے راشدینؓ کے طریقِ کار اور کتاب و سنت کے التزام کی شرط لگائی، یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دورِ صدیقی سے اچھی طرح واقف تھے، قیادت سنبھالنے پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تقریر کا شمار باوجود مختصر ہونے کے اہم ترین اسلامی تقریروں میں ہوتا ہے، آپ نے اس میں حاکم و محکوم کے مابین تعامل سے متعلق عدل و رحم دلی کے اصولوں کا تذکرہ کیا ہے، اس بات پر زور دیا ہے کہ حاکم کی اطاعت اسی وقت کی جائے گی جب وہ اللہ و رسول کی اطاعت کرتا ہو، جہاد فی سبیل اللہ کا صراحت سے ذکر کیا ہے، اس لیے کہ امت کو معزز بنانے میں اس کی بڑی اہمیت ہے، برائیوں سے اجتناب پر زور دیا ہے، اس لیے کہ اسی کے ذریعے سے معاشرے کے فساد و بگاڑ کو روکا جاسکتا ہے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 28)

مذکورہ تقریر اور وفات نبویﷺ کے بعد رونما ہونے والے حالات سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے خلافت راشدہ کے ابتدائی دور میں نظامِ حکومت کے خد وخال کو پہچان لیا تھا، اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

ا: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں کتاب و سنت کو اعلیٰ دستوری حیثیت حاصل تھی،انھوں نے اپنی تقریر میں فرمایا تھا:

أَطِیْعُوْنِیْ مَا أَطَعْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَإِنْ عَصَیْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَـلَا طَاعَۃَ لِيْ عَلَیْکُمْ۔ 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 306) 

’’جب تک میں اللہ و رسول کی اطاعت کرتا رہوں تم میری اطاعت کرو، اگر میں اللہ و رسول کا نافرمان ہوجاؤں تو میری اطاعت تم پر ضروری نہیں۔‘‘

ب: امت کو حاکم کے مراقبہ اور محاسبہ کا حق حاصل ہے، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی تقریر میں ہے:

فَإِنْ أَحْسَنْتُ فَأَعِیْنُوْنِیْ وَإِنْ أَسَاْتُ فَقَوِّمُوْنِيْ۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 305)

’’جب تک میں اچھے کام کرتا رہوں میری مدد کرو، اور اگر غلط کرنے لگوں تو مجھے ٹھیک کرو۔‘‘

ج: لوگوں کے مابین عدل و مساوات کے اصول کو اپنانا، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی تقریر میں ہے:

اَلضَّعِیْفُ فِیْکُمْ قَوِیٌّ عِنْدِيْ حَتّٰی أَرْجِعَ عَلَیْہِ حَقَّہُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ وَالْقَوِيُّ فِیْکُمُ ضَعِیْفٌ حَتّٰی آخُذُ الْحَقَّ مِنْہُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 305) 

’’تم میں ضعیف میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک کہ مشیت الہٰی سے میں اسے اس کا حق واپس دلا سکوں، اور تم میں قوی میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ مشیت الہٰی سے میں اس سے حق کو واپس لے سکوں۔‘‘

د: حاکم و محکوم کے مابین تعامل کی بنیاد سچائی ہے، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی تقریر میں ہے:

اَلصِّدْقُ أَمَانَۃٌ ، وَالْکَذِبُ خِیَانَۃٌ۔

’’سچائی امانت ہے، اور جھوٹ خیانت ہے۔‘‘

خلفائے راشدینؓ کے عہد میں سچائی ہی حاکم و محکوم کے مابین تعامل کی بنیاد تھی۔

ھ: جہاد کے التزام کا اعلان اور امت کو اس کے لیے تیار کرنا:

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

وَمَا تَرَکَ قَوْمٌ الْجِہَادَ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ إِلَّا خَذَلَہُمُ اللّٰہُ بِالذُّلِّ۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 305)

’’جس قوم نے بھی جہاد فی سبیل اللہ کو ترک کیا اللہ تعالیٰ نے اسے رسوا کر دیا۔‘‘

یہ وہی چیز تھی جسے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے سمجھا تھا:

إِذَا تَبَایَعْتُمْ بِالْعِیْنَۃِ ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِیْتُمْ بِالزَّرْعِ ، وَتَرَکْتُمُ الْجِہَادَ، سَلَّطَ) اللّٰہُ عَلَیْکُمْ ذُلًّا لَا یَنْزِعَہُ حَتّٰٰ تَرْجِعُوْا إِلٰی دِیْنِکُمْ۔

(سنن ابی داود: رقم: 3462) البانی رحم اللہ نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔)

’’جب تم بیع عینہ کرنے لگو گے، گایوں بیلوں کی دُمیں تھام لو گے۔ کھیتی باڑی میں مست و مگن رہنے لگو گے، اور جہاد کو چھوڑ دو گے، تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کردے گا جس سے تم اس وقت تک نجات و چھٹکارا نہ پاسکو گے جب تک اپنے دین کی طرف لوٹ نہ آؤ گے۔‘‘

و: معاشرے کو زنا کاری سے پاک کرنا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’جس قوم میں زنا کاری عام ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ ان پر عمومی مصیبت نازل کرتا ہے۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 305)

سیدنا ابوبکر صدیقؓ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی یاد دہانی کراتے ہیں:

صفحہ 3 از 6