سقیفۂ بنی ساعدہ (قبیلہ بنی ساعدہ کا چھپر) - دفاعِ اہلِ سنت…

سقیفۂ بنی ساعدہ (قبیلہ بنی ساعدہ کا چھپر)

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 6

لم تظہر الفاحشۃ فی قوم قط حتی یعلنوا بہا، إلا فشا فیہم الطاعون و الأوجاع التی لم تکن مضت فی أسلافہم الذین مضوا۔

(صحیح ابن ماجہ للالبانی: رقم: 4019)

’’جس قوم میں زناکاری علانیہ ہونے لگتی ہے وہ طاعون اور ایسی دوسری بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے جن کا وجود گزشتہ لوگو ں میں نہیں تھا۔‘‘

یہ وہ بعض مقاصد تھے جنھیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیعت عامہ کے بعد لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے بیان فرمایا تھا۔ اس خطاب میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ملکی سیاست کا خاکہ پیش کیا، حاکم کی ذمہ داریوں کو متعین کیا، حاکم و محکوم کے مابین تعلقات کو واضح کیا، اس طرح قوموں کی تربیت اور قیامِ حکومت کے اہم ترین اصول و مبادی کی وضاحت کی۔

4۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے والد کی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت:

صحیح سند سے مروی روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا علی و زبیر رضی اللہ عنہما نے شروع ہی میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت کرلی تھی، میں نے اس کی تفصیلات اپنی کتاب ’’اسمی المطالب في سیرۃ أمیر المومنین علی بن أبی طالب‘‘

(اسمی المطالب فی سیرۃ امیر المومنین علی بن ابی طالب۔) میں ذکر کی ہیں۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی رائے میں ان کے والد کے کارنامے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے تعاون پر مبنی تھے، چنانچہ امیر المؤمنین علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کسی بھی وقت سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے جدا نہیں رہے، اجتماعی مواقع میں سے کسی موقع پر آپ سے الگ نہیں رہے، مسلمانوں کے مسائل نمٹانے اور مشورہ دینے میں آپ کے ساتھ رہے، سیدنا علیؓ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے خیرخواہی کا مجموعہ تھے، اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو آپ کے نزدیک ہر چیز پر ترجیح حاصل تھی۔

مسلمانوں کے اتحاد، خلافت کی بقا کے لیے حرص، اسلام اور مسلمانوں کی خیرخواہی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے تئیں مخلص ہونے کی واضح دلیل آپ کا وہ رویہ ہے جسے سیدنا علیؓ نے اس وقت اپنایا جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بذات خود ذوالقصہ کی جانب نکل کھڑے ہوئے اور مرتدین سے جہاد، اور ان کے خلاف فوجی نقل و حرکت کی قیادت کا پختہ ارادہ کیا، جب کہ اس میں خود کو اور اسلامی وجود کو خطرہ تھا۔

(المرتضی للندوی: صفحہ 97) 

فَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللّٰه عنہما قَالَ لَمَّا بَرَزَ أَبُوْبَکْرٍ إِلَی ذِی القِصَّۃِ وَاسْتَوَی عَلَی رَاحِلَتِہِ أَخَذَ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ رضی اللّٰه عنہ یَقُوْلُ: اَقُوْلُ لَکَ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم یَوْمَ أَحَدٍ لَمَّ سَیْفَکَ وَلَا تُفَجِّعْنَا بِنَفْسِکَ، وَارْجِعْ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَوَ اللّٰہُ لَئِنْ فُجِئْنَا بِکَ لَا یَکُوْنُ لِلْاِسْلَامِ نِظَامٌ فَرَجَعَ۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 314، 315)

’’ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ذو القصہ کی جانب نکل رہے تھے اور اپنی سواری پر سوار ہو چکے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں آپ سے وہی بات کہتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن کہی تھی، اپنی تلوار نیام میں کرلیجیے اور اپنی ذات سے ہمیں مصیبت میں نہ ڈالیں، آپ مدینہ واپس چلیں، اللہ کی قسم اگر آپ شہید ہوگئے تو کبھی اسلامی نظام قائم نہ ہوگا چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ واپس ہوگئے۔‘‘

اگر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نعوذ باللہ شرح صدر حاصل نہیں تھا اور انھوں نے نہ چاہتے ہوئے بیعت کی تھی تو اس سنہرے موقع سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ فائدہ اٹھاتے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنے حال پر چھوڑ دیتے، شاید وہ فوت ہو جائیں نتیجتاً ان سے چھٹکارا پا جائیں اور فضا ان کے لیے سازگار ہو جائے۔

اگر معاملہ اس سے بڑھ کر تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ناپسند کرتے تھے اور ان سے چھٹکارا پانے کے حریص تھے تو کسی کے ذریعے سے ان کا قتل کرا دیتے جیسا کہ موقع پرست سیاسی لوگ اپنے حریفوں اور دشمنوں کے ساتھ کرتے ہیں۔

(المرتضی للندوی: صفحہ 97)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ مرتدین سے جہاد کیا جائے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پوچھنے پر سیدنا علیؓ نے فرمایا تھا کہ جو کچھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے لیتے تھے اس میں سے اگر کچھ بھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے چھوڑ دیا تو آپ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو میں ان سے ایک رسی کو روکنے پر بھی ضرور جہاد کروں گا۔

(المختصر من کتاب الموافقۃ بین اہل البیت و الصحابۃ: للزمخشری: صفحہ 48) 

بلاشبہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی تعریف میں اپنے والد کے درج ذیل اقوال سن رکھے تھے:

’’جو بھی مجھ کو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے افضل قرار دے گا میں اس پر بہتان تراشی کی سزا جاری کروں گا۔‘‘

(فضائل الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 83 اس کی سند میں ضعف ہے)

’’میں تمھیں بتلا رہا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے سب سے بہتر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔‘‘

(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 106، 110، 127 تحقیق احمد شاکر)

سیدنا علیؓ کا یہ قول بہ تواتر مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس امت کے سب سے بہتر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ سیدنا علیؓ کا یہ قول اسّی (80) سے زیادہ طرق سے مروی ہے۔

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 162)

صلہ بن زفر عبسی سے مروی ہے کہتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہوتا تو کہتے: تم لوگ سبقت کا تذکرہ کرتے ہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب بھی کسی بھلے کام میں ہم ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس میں ہم سب پر سبقت لے جاتے۔ 

(الطبرانی فی الأوسط: جلد 7 صفحہ 207، 208 اس کی سند ضعیف ہے)

صفحہ 4 از 6