سقیفۂ بنی ساعدہ (قبیلہ بنی ساعدہ کا چھپر) - دفاعِ اہلِ سنت…

سقیفۂ بنی ساعدہ (قبیلہ بنی ساعدہ کا چھپر)

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 6

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکموں کو بجا لاتے تھے چنانچہ جب کفار کی ایک جماعت مدینہ آئی، اور دیکھا کہ سرکش باغیوں اور مرتدین کی بیخ کنی کرنے اور مختلف مقامات میں جہاد کے لیے ایک بڑی تعداد کے چلے جانے کے باعث مسلمان کم اور کمزور ہیں اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان سے اسلام اور مسلمانوں کے مرکز کے لیے خطرہ محسوس کیا تو آپ نے مدینہ کی پہرہ داری کا حکم دیا، پہرے داروں کو مدینہ کے راستوں پر مقرر کردیا کہ وہ فوجیوں کو لے کر وہاں رات گزاریں، علی، زبیر، طلحہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کو ان پہرے داروں کا سردار مقرر کیا، ان سے مطمئن ہونے تک وہ لوگ اسی حالت میں رہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 64۔ الشیعۃ و اہل البیت: صفحہ 71)

ان کے مابین تعامل، محبت اور مکمل ہم آہنگی کے باعث سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب کہ آپ اہل بیت کے سردار اور دونوں نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے والد تھے، ہدایا اور تحائف کو قبول کرتے تھے، جیسا کہ باہمی محبت کرنے والوں کی عادت ہوتی ہے، چنانچہ معرکۂ ’’عین التمر‘‘ میں ہاتھ آنے والی ’’صہباء‘‘ نامی لونڈی کو آپ نے قبول کیا، جن کے بطن سے آپ کی اولاد میں سے عمر و رقیہ ہیں۔

(الطبقات: جلد 3 صفحہ 20) 

اسی طرح جنگ یمامہ میں قید ہونے والی خولہ بنت جعفر بن قیس کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا علیؓ کے حوالے کردیا، انھی کے بطن سے محمد بن حنفیہ پیدا ہوئے، جو حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے بعد سیدنا علیؓ کی اولاد میں سب سے افضل ہیں۔ خولہ مرتدین کے قیدیوں میں سے تھیں۔ محمد انھی کے ذریعے سے جانے جاتے ہیں اور انھیں کی طرف منسوب ہو کر محمد بن حنفیہ کہلاتے ہیں۔

(الطبقات: جلد 3 صفحہ 20)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بیعت کے بارے میں امام جوینی کہتے ہیں: تمام کے تمام صحابہؓ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اطاعت کو قبول کرلیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے حکم کو بجا لانے والے تھے، سیدنا علیؓ نے بھری مجلس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور غزوۂ بنوحنیفہ کے لیے چل پڑے۔

(الارشاد للجوینی: صفحہ 428 اصول مذہب الشیعۃ للغفاری سے منقول ہے۔)

بہت ساری روایات میں وارد ہے کہ سیدنا علیؓ نے اور آپ کی اولاد نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جانب سے مالی ہدایا، خمس اور اموال فے کو قبول کیا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے عہد خلافت میں خمس اور فے کے ذمہ دار اور بانٹنے والے تھے، یہ اموال انھی کے ہاتھوں میں تھے، پھر حسن، حسین، حسن بن حسن اور زید بن حسن رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں میں منتقل ہوتے رہے۔

(الشیعۃ و اہل البیت: صفحہ 72)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسجد میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے پانچوں نمازیں ادا کرتے تھے، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی امامت پر راضی تھے، لوگوں کے سامنے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ اپنی ہم آہنگی کا اظہار کرتے تھے۔ 

(الشیعۃ واہل البیت: صفحہ 72)

اپنے والد اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کے مابین اس طرح کے تعلقات کو حسن بن علی رضی اللہ عنہما جانتے تھے، ساتھ ہی ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور اہل بیتؓ کے مابین ازدواجی رشتے بھی قائم ہوئے، اہل بیتؓ نے اپنوں میں سے بعض کا نام ابوبکر رکھا، خلیفۂ راشد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اہل بیتؓ کے ساتھ ان کے شایانِ شان دوستانہ اور عزت و احترام پر مبنی تعلقات تھے، یہ تعلقات دو طرفہ تھے، اور اتنے مضبوط تھے کہ قصہ گو حضرات جتنے بھی جھوٹے قصے اور کہانیاں گھڑلیں ان میں دوری اور اختلاف کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔چنانچہ سیدہ عائشہ صدیقہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے نانا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیوی تھیں۔ مخالفین جتنا بھی چلائیں، حاسدین جتنا بھی حسد کی آگ میں جلیں، سیدہ کہعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے تھیں، یہ بالکل ثابت شدہ حقیقت ہے، ان کی پاکیزگی کی شہادت قرآن نے دی ہے بھلے مخالفین اور اہل باطل اس کا انکار کریں۔

اسی طرح سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سیدہ علی رضی اللہ عنہ کے سگے بھائی جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، جب ان کا انتقال ہوگیا تو ان سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شادی کرلی، انھی کے بطن سے محمد پیدا ہوئے تھے جن کو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے مصر کا گورنر بنایا تھا، اور جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا تو ان سے علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے شادی کرلی، ان کے بطن سے ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی جن کا نام سیدنا علیؓ نے یحییٰ رکھا۔

(خلافۃ علی بن ابی طالب و ترتیب و تہذیب کتاب ’’البدایۃ والنہایۃ:" للسلمی: صفحہ 22) 

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ اہل بیت کی محبت و مودت کا نتیجہ تھا کہ ان لوگوں نے اپنے بچوں کا نام سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نام پر رکھا، یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے اور ان کا احترام کرتے تھے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے کی پیدائش سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلیفہ اور امام بننے کے بعد نہیں ہوئی تھی بلکہ آپ کی وفات کے بعد ہوئی تھی، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کا نام ابوبکر صرف ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نیک فال لیتے ہوئے، اور وفات کے بعد بھی ان سے محبت اور وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے رکھا تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پہلے بنوہاشم میں کوئی ایسا نہیں تھا جس نے اپنے بیٹے کا یہ نام رکھا ہو۔

صفحہ 5 از 6