Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کس طرح ہوئی؟

  مولانا اقبال رنگونی صاحب

سیدنا امیر معاویہؓ سے کس طرح صلح ہوئی

امام حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ کی فوج مقابلہ کے لیے ایک دوسرے کے سامنے آگئی تھی، اس وقت سیدنا حسنؓ کے پاس بھی ایک بڑی فوج موجود تھی جب حضرت عمرو بن العاصؓ نے یہ منظر دیکھا تو کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ اب یہ ایک دوسرے کو ختم کیے بغیر یہاں سے نہ ہٹیں گے۔ سیدنا امیر معاویہؓ نے جب یہ بات سنی تو کہا کہ اگر ایک گروہ دوسرے گروہ کو قتل کر ڈالے اور دوسرا پہلے گروہ کی جان لے لے، تو بتاؤ پھر مسلمانوں کے معاملات کون چلائے گا، ان کے بچوں اور ان کی عورتوں کی کون دیکھ بھال کرے گا؟ یعنی اگر سارے مرد ختم ہو گئے تو ان کا پرسان حال پھر کون ہوگا؟

چنانچہ سیدنا معاویہؓ نے بنی عبد شمس کے دو فرد عبدالرحمٰن بن سمرہ اور عبداللہ بن عامر کو سیدنا حسنؓ کے پاس بھیجا اور کہا کہ ان سے بات کریں تاکہ صلح کا راستہ نکل آئے اور ان سے کہیں کہ آپ کی جو ضروریات ہیں اور مطالبات ہیں وہ پورے کیے جائیں گے اور اس کا فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں چنانچہ وہ دونوں حضرات تشریف لائے اور سیدنا حسنؓ سے بات کی تو آپ نے فرمایا کہ:

انا بنو عبد المطلب،قد اصبنا من ھذاالمال، وان ھذہ الامة قد عاثت فی دمائھا، قالا فانہ یعرض علیک کذا وکذا ویطلب الیک ویسالک۔

ہم عبدالمطلب کی اولاد ہیں اور ہم کو اس مال سے حصہ ملا ہے اور ہمارے ساتھ جو گروہ (لشکر) ہے یہ خون خرابہ کرنے میں بڑے ماہر ہیں ان دونوں نے کہا کہ سیدنا معاویہؓ نے آپ کو اتنے اتنے مال کی پیشکش کی ہے اور وہ صلح چاہتے ہیں اور انہوں نے یہ فیصلہ آپ پر چھوڑا ہے۔

سیدنا حسنؓ نے فرمایا کہ ان باتوں کا ذمہ دار کون بنے گا؟ انہوں نے کہا ہم اس عہد کے ذمہ دار ہیں چنانچہ سیدنا حسنؓ نے پھر سیدنا امیر معاویہؓ سے مصالحت اختیار کر لی۔(صحیح بخاری: جلد 1 صفحہ 373)

شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ (728ھ) فرماتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ اگر چاہتے تو مقابلہ کا میدان لگا سکتے تھے لیکن آپ افتراق اور خونریزی کی بجائے اتفاق اور صلح کے ذریعے اس مسئلہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا پسند کرتے تھے اور پھر اللہ کی مدد ان کے شامل حال ہوئی اور امت میں اتحاد قائم ہو گیا، آپ لکھتے ہیں:

بہت سے وہ لوگ جنہوں نے فوجیوں کی کمی کے باوجود جنگیں لڑی ہیں سیدنا حسنؓ بھی ان میں سے تھے۔ آپ اپنے ساتھیوں کی کمی کے باوجود سیدنا معاویہؓ سے جنگ کر سکتے تھے لیکن وہ امت میں اختلاف و انتشار کو سخت ناپسند کرتے تھے اور امن و مصالحت کو زیادہ پسند کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے امت کا اختلاف ختم کر کے انہیں دوبارہ متحد کر دیا۔ (منہاج السنتہ: جلد 4 صفحہ 536) 

آپ کو یاد رہنا چاہیے کہ جس وقت حضرت علیؓ اہل بصرہ کے ساتھ مقابلہ کی تیاری کر رہے تھے اور جب جانے لگے تو سیدنا حسنؓ اس وقت بھی آپ کو اس سے روکتے رہے اور فرماتے رہے کہ ابا جان، اگر خدا نخواستہ بات بڑھ گئی تو اس سے مسلمانوں کا بہت خون بہے گا اور اتحاد و اتفاق ختم ہو جائے گا، آپ مدینہ منورہ چھوڑ کر کہیں نہ جائیں، یہ دارالہجرت ہے اور آپ سے قبل تینوں خلفائے کرامؓ کبھی اس شہر کو اس طرح چھوڑ کر نہ گئے تھے مگر آپ نے ان کا یہ مشورہ قبول نہ کیا تھا۔

علامہ جلال الدین محمد بن اسعد دوانیؒ (928ھ) لکھتے ہیں: 

فاستشار بالحسن للخروج ورایھا فاشار الیہ ان لا یخرج قال لہ ان المدینة دار الھجرة والخلفاء قبلک لم یفار قوھا فاستقام امرھم فلم یقبل شورہ (الجج الباہرة    124)

جب سیدنا علیؓ نے جانے کا پختہ عزم کر لیا تو سیدنا حسنؓ بھی آپ کے ساتھ ہو گئے اور پھر ایک بڑا معرکہ پیش آیا جسے تاریخ نے جنگ جمل کے نام سے یاد کیا ہے۔ جب جنگ جمل میں شدت پیدا کر دی گئی اور یہ منظر حضرت علیؓ کے سامنے آیا تو آپ نے انا للہ پڑھا اور اپنے بیٹے سیدنا حسنؓ کو گلے لگا لیا اور فرمایا کہ بیٹا اس کے بعد اب کس خیر کی امید کی جا سکتی ہے؟  

ای خیریر جی بعد ھذا

 (البدایہ: جلد 7 صفحہ 241)

حضرت علیؓ نے اپنے بیٹے سے یہ بھی کہا کہ

یا حسن لیت اباک مات منذ عشرین سنۃ 

(البدایہ: جلد 7صفحہ 241، المصنف لابن ابی شیبہ: جلد 7 صفحہ 544)

اے حسنؓ کاش تیرا باپ آج سے 20 سال قبل فوت ہو چکا ہوتا۔

سیدنا حسنؓ نے اس کے جواب میں فرمایا:

یا ابہ قد کنت انھاک عن ھذا قال: یا بنی انی لم اران الامر یبلغ ھذا (البدایہ: جلد 7 صفحہ 241)

ابا جان میں آپ کو اس سے روکا کرتا تھا آپ نے کہا بیٹا، مجھے معلوم نہ تھا کہ بات اتنی دور تک پہنچ جائے گی۔ حضرت علیؓ کو پھر اس پر بہت ہی افسوس ہوا تھا اور آپ نے فریق مخالف کے مقتولین کے لیے بھی دعائے رحمت و مغفرت فرمائی تھی۔

اسی طرح جنگ صفین کے موقع پر بھی سیدنا حسنؓ نے اپنے والد گرامی قدر کو جنگ سے روکنے کی کوشش کی تھی اور درخواست کی تھی آپ رک جائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک پھر مرتبہ مسلمانوں کے خون سے زمین رنگین ہو جائے اور مسلمانوں میں اختلاف و انتشار پیدا ہو جائے۔ آپ نے عرض کیا:

یا ابتی دع ھذا فان فیہ سفک دماء المسلمین ووقوع الاختلاف بینھم، فلم یقبل منہ ذلک۔ (البدایہ: جلد 7 صفحہ 229)

ابا جان! آپ اس ارادہ کو ترک کر دیجیے، کیونکہ اس میں مسلمانوں کے درمیان خونریزی ہو گی اور ان کے درمیان بڑا اختلاف ہوگا، حضرت علیؓ نے یہ بات قبول نہ کی۔

 شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ (728ھ) لکھتے ہیں:

وکذلک الحسن کان دائما یشیر علی ابیہ واخیہ بترک القتال، ولما صار الامر الیہ ترک القتال، واصلح اللہ بہ بین الطائفتین المقتلین۔ وعلی رضی اللہ عنہ فی آخر الامر تبین لہ ان المصلحة فی ترک القتال اعظم منھا فی فعلہ(منہاج السنہ: جلد 4 صفحہ 535)

اور اسی طرح سیدنا حسنؓ ہمیشہ اپنے والد اور بھائی کو لڑائی چھوڑ دینے کا مشورہ دیتے رہے اور جب خلافت آپ کے ہاتھ میں آئی تو آپ نے جنگ بند کر دی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے لڑائی کرنے والی مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کرا دی اور خود حضرت علیؓ کو آخر کار معلوم ہو گیا تھا کہ جنگ کرنے کے بجائے جنگ بند کر دینا ہی بہتر ہے۔

تاریخ کے ان دو نازک موڑ پر سیدنا حسنؓ کا مؤقف آپ کے سامنے ہے اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو بہت نرم خو اور صلح پسند بنایا تھا اور آپؓ حضور اکرمﷺ کی رحمت و الفت کی شان کے مظہر تھے۔ پھر حضورﷺ نے اپنے اس ارشاد میں بھی اس کی طرف اشارہ کر دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرا دے گا اور آپ کی یہ پیشن گوئی پوری ہو کر رہی۔

امام ابو حسن احمد بن عبداللہ العجلیؒ (261ھ) فرماتے ہیں کہ جس طرح حضورﷺ نے فرمایا تھا اسی طرح وہ کر رہا۔

قال العجلی: وکان کما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (الثقات: صفحہ 116)

قاضی ابوبکر بن العربیؒ (543ھ) فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کی بھی یہی آرزو اور تمنا تھی کہ ایسا ہو جائے اور پھر ایسا ہی ہوا:

وذلک لتحقیق رجاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔(العواصم من القواصم: صفحہ 200)

شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (852ھ) محدث ابن بطال (449ھ) کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ جب سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ سے صلح کر لی اور خلافت کا معاملہ آپ کے حوالہ کر دیا تو آپ نے سیدنا امیر معاویہؓ سے جن شرائط پر بیعت کی ان میں سے یہ بھی تھا کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کو قائم رکھا جائے گا (وبایعہ علی اقامہ کتاب اللہ وسنۃ نبیہ)

سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ کو تین لاکھ درہم دیے اور ایک ہزار پوشاک کے کپڑے، تیس غلام اور ایک سو اونٹ دیے پھر سیدنا حسنؓ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔(فتح الباری بشرح البخاری: جلد 13صفحہ 79طبع بیروت) 

سیدنا حسنؓ کے مدینہ منورہ چلے جانے کے بعد بھی سیدنا معاویہؓ سے ان کے محبانہ تعلقات قائم رہے تھے سیدنا معاویہؓ ان کے لیے مدینہ منورہ سے تحائف اور رقوم بھیجا کرتے تھے اور کبھی سیدنا حسنؓ خود بھی سیدنا معاویہؓ کے پاس آ جاتے تھے، جناب بریدہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب سیدنا معاویہؓ کے پاس آئے تو سیدنا معاویہؓ نے کہا کہ: 

دخل الحسن بن علی معاویہ، فقال: لاجیزنک بجائزة لم یجزھا احد کان قبلی فاعطاہ اربع مائة الف۔(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 154تاریخ دمشق: جلد 16 صفحہ 370، لابن عساکر)

میں آج آپ کو ایسا عطیہ دوں گا کہ اس جیسا اس سے پہلے کسی کو نہیں دیا اور نہ کسی کو اس طرح بعد میں دوں گا، چنانچہ آپ نے انہیں چار لاکھ درہم دیے جسے سیدنا حسنؓ نے قبول فرما لیا۔

امام بیہقیؒ (485ھ) نے امام شعبیؒ (104ھ) سے نقل کیا ہے کہ جب ان دونوں بزرگوں کے درمیان صلح ہو گئی تو سیدنا معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ سے کہا کہ آپ مسلمانوں کے اس اجتماع میں معاہدہ کے بارے میں خود ہی ارشاد فرما دیں۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور حمد و ثناء کے بعد اپنے خطبے میں فرمایا کہ:

اللہ تعالیٰ نے ہمارے اولین آدمی کے ذریعہ تمہیں ہدایت دی اور ہمارے آخری آدمی کے ذریعے تمہارے جان و مال کی حفاظت کی، حقیقت میں تو بہترین پونجی تقویٰ ہے اور بدترین لاچاری بداعمالی ہے۔(سیرت حلبیہ: جلد 3 صفحہ353)

جہاں تک خلافت کے معاملے میں میرے اور معاویہ کے مابین اختلاف ہوا تھا اس بارے میں وہ زیادہ حقدار ہیں یا میں اس کا حقدار ہوں۔ اگر تو وہ حقدار ہیں تو میں خلافت سے دستکش ہو چکا ہوں اور سیدنا معاویہؓ کو اپنا حق مل چکا ہے اور اگر میں اس کا حقدار تھا تو سن لو، کہ میں اہلِ اسلام کی بھلائی کے لیے اور ان کی خون ریزی کی حفاظت کے لیے اپنا حق ترک کرتا ہوں اور پھر استغفار فرما کر ممبر سے اترے۔

الا وان ھذا الامر الذی اختلفت فیہ انا ومعاویة حق لامری کان احق بہ منی او حق لی ترکته لمعاویة ارادہ اصلاح المسلمین وحقن دمائھم، الخ (سنن کبریٰ: جلد 8 صفحہ 173، حلیۃ الاولیاء: جلد 2صفحہ 46)

قاضی ابوبکر بن العربیؒ (543ھ) اس حدیث پر فرماتے ہیں کہ

ھذا الحدیث فی ذکر الحسن بالبشار لہ والثناء علیہ، لجریان الصلح بین یدیہ وتسیلم الامر لمعاویۃ عقد منہ لہ۔ (العواصم من القواصم: صفحہ 201)

اس حدیث میں سیدنا حسنؓ کے لیے نبوی بشارت اور ان کے لیے نہایت عمدہ تعریف ہے اس لیے کہ آپ کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان صلح ہو گئی اور خلافت سیدنا امیر معاویہؓ کے سپرد کر دی گئی انہوں نے آپ کے ہاتھ بیعت کر لی (اس طرح مسلمانوں کے مابین ہونے والی جنگ کا خاتمہ ہو گیا) 

حضرت الاستاذ حجۃ الاسلام حضرت علامہ خالد محمود صاحبؒ ایک بحث میں لکھتے ہیں:

سیدنا حسنؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت کرنا ہرگز غلطی نہ تھا بلکہ اسی مصالحت نے انہیں سید ہونے کی شان سے ممتاز فرمایا خود حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ:

میرا یہ بیٹا سید ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں اصلاح فرمائیں گے۔ (الحدیث)

یہاں لسان نبوت سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کی جماعت کے لیے بھی مسلمان ہونے کے الفاظ وارد ہیں، بس یہ اختلافات کوئی کفر و اسلام کے اختلافات نہ تھے، محض انتظام و معاملات کے تھے غور کیجیے کہ سیدنا حسنؓ کا یہ عمل اگر کسی طرح غلط ہوتا تو حضورﷺ اس پر انہیں سید ہونے کی بشارت نہ دیتے۔

عن ابی جعفر قال: واللہ الذی صنعہ الحسن ابن علی علیھما السلام کان خیر الھذہ الامة مما طلعت الشمس،(بحار الانوار: جلد 44 صفحہ 25، الروضۃ من الکافی: جلد 2 صفحہ 252)

سیدنا حسنؓ نے جو کچھ کیا وہ اس امت کے لیے ہر اس چیز سے بہتر تھا جس پر کبھی سورج طلوع ہوا (عبقات: جلد 1 صفحہ 55)

حضرت علامہ حسنؒ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: 

سیدنا حسنؓ کو جو سیاسی حالات اپنے والد سے وراثت میں ملے اور بطور خلیفہ پنجم آپ نے اپنی راہ میں جو مشکلات دیکھیں ان میں پہلے نمبر پر اہل کوفہ کی انتہا درجے کی ایذا رسانیاں ہیں۔

حضرت علیؓ اپنی شہادت سے ایک سال پہلے سیدنا معاویہؓ سے عبوری صلح کر چکے تھے، سیدنا حسنؓ نے یہی سیاسی سطح وراثت میں پائی تھی، آپ کا انتخاب شوریٰ سے عمل میں آیا۔ سیدنا علیؓ نے انہیں نامزد نہ کیا تھا لیکن حضرت علیؓ کے جانشین ہونے کی حیثیت سے آپ پر اس معاہدے کی پابندی لازم تھی جو عام الہدنہ میں وقت کے ان دو بڑوں میں ہوا تھا۔ 

سیدنا حسنؓ نے نہ صرف اس کی پوری پاسداری کی بلکہ اس عبوری صلح کو ایک مستقل صلح میں بدل دیا، ادھر آنحضرتﷺ کی بھی ایک پیشن گوئی آپ کے حق میں چلی آ رہی تھی۔ حضرت حسن بصریؒ حضرت ابوبکرہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا:

ابنی ھذا سید، ولعل اللہ ان یصلح بہ بین فئتین من المسلمین (صحیح بخاری: جلد 1 صفحہ 530)

ان ابنی ھذا سید ولعل اللہ ان یصلح بہ بین فئتین عظیمتین من المسلمین (صحیح بخاری: جلد 3 صفحہ 186)

ان ابنی ھذا سید ولعل اللہ ان یصلح بہ بین فئتین من المسلمین عظیمتین (بحار الانوار: جلد 43 صفحہ 298)

میرا یہ بیٹا سید ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑے گروہوں میں صلح کرائیں گے۔

حضورﷺ نے اس حدیث میں سیدنا معاویہؓ اور ان کی پوری جماعت کو مسلمانوں میں ذکر کیا ہے یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ حضرت علیؓ کی امامت کوئی آسمانی منصب نہ ہو، مامور من اللہ کا انکار کفر ہے اور اس کے محارب کبھی مسلمان نہیں سمجھے جاتے۔ پھر حضورﷺ نے مسلمین کے ایک لفظ میں دونوں گروہوں کو یکساں ذکر فرمایا ہے اگر ان میں کوئی گروہ ”فئتہ باغیہ“ ہوتا تو حضورﷺ جو افصح العرب والعجم تھے ضرور ان دو میں فرق کرتے، موقع بیان میں عدم بیان، بیان عدم کا فائدہ دیتا ہے۔

اس میں یہ بھی پتہ چلا کہ حضورﷺ اس صلح سے سے خوش تھے اگر یہ صلح بالکل ایک نمائشی صلح ہوتی اور اگر کوئی گروہ اندر سے اس میں مخلص نہ ہوتا تو یہ نہ ہو سکتا تھا کہ حضورﷺ اس برائے نام اور محض ایک نمائشی صلح پر اس طرح خوشی کا اظہار فرمائیں۔

اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جو شخص سیدنا حسنؓ اور سیدنا معاویہؓ کی اس صلح کا خوشی سے ذکر نہیں کرتا، وہ سید کہلانے کا مستحق نہیں (اس کا خاندان نبوت سے محبت کا دعویٰ جھوٹا ہے) کیونکہ حضورﷺ نے اس کار خیر پر سیدنا حسنؓ کو سید ہونے کا شرف عطا فرمایا ہے۔

(خلفائے راشدین: جلد 2، صفحہ 457) 

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ (1420ھ) لکھتے ہیں:

میں اپنے تاریخ کے مطالعہ کی روشنی میں صاف کہتا ہوں کہ سیدنا حسنؓ کا اقدام بالکل صحیح تھا جو انہوں نے سیدنا معاویہؓ کے معاملہ میں کیا تھا اور پھر خود آنحضرتﷺ نے سیدنا حسنؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا تھا کہ ”میرا یہ بیٹا سردار ہے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرا دے گا“ یہ بات سیدنا حسنؓ کے لیے ایک خبر نہیں تھی بلکہ آپ کے لیے ایک وصیت تھی، منشاء رسول تھا، اللہ کے رسولﷺ کا منشاء بھی اور پیارے نانا جان کا منشاء بھی۔ چنانچہ سیدنا حسنؓ نے اس کو خالص حکمِ نبویﷺ سمجھا اور اس کے مطابق جو اقدام کیا وہ بالکل صحیح تھا کہ معاملہ حضرت معاویہؓ کے ساتھ تھا وہ صحابی تھے، کاتب وحی تھے، قریبی رشتہ دار تھے اور کوئی بات مؤجب خروج اور تلوار اٹھانے کی نہ تھی ان کی مخالفانہ فوجی اقدام کا نتیجہ خون ریزی کے سوا کچھ نہ ہوتا ان کو جب بعض جوشیلے لوگوں نے طعنہ دیا کہ یہ ننگ و عار کی بات ہے تو فرمایا کہ تم جو چاہو کہو مگر یہ عام جہنم کی آگ سے تو بہتر ہے: العار خیر من النار۔ (خطبات علی میاں: جلد 5 صفحہ 314) 

معروف ایرانی شیعہ اسکالر اور محقق ڈاکٹر موسیٰ الموسوی (جن کے سابق ایرانی سربراہ خمینی اور ان کے صاحبزادے مصطفیٰ خمینی کے ساتھ قریبی روابط تھے) نے سیدنا حسنؓ کی صلح کو انقلابی اقدام کہا ہے موصوف لکھتے ہیں:

جہاں تک امام حسنؓ کا تعلق ہے جو شیعہ کے دوسرے امام تھے تو وہ بھی تقیہ اور لوگوں کو فریب دینے میں سب سے زیادہ پرہیز کرنے والے تھے معاویہؓ کے ساتھ ان کی صلح اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ امام حسنؓ کا صلح کر لینا انقلابی اقدام تھا اس زمانے کی رائے عامہ جو امام کو گھیرے ہوئی تھی کے خلاف تھا، چنانچہ امام حسنؓ کو بہت سے ساتھیوں کی جانب سے جو صلح نہیں چاہتے تھے کھلی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ سلیمان بن صرد نے جو کہ حضرت علیؓ کے بڑے حامیوں میں سے تھے امام حسنؓ کے کو یہ کہ کر مخاطب کیا السلام علیک یا مذل المئومنین اے مومنوں کو ذلیل کرنے والے، اس صلح کے مخالفین متشدد اور طاقتور تھے امام کو ان کی جانب سے بہت کچھ برداشت کرنا پڑا لیکن اس سب کچھ نے امام کو کمزوری دکھانے پر مائل نہیں کیا بلکہ انہوں نے اس مخالفت کا بہادروں کی طرح مقابلہ کیا اب تم خود سوچ لو کہ اگر سیدنا حسنؓ کے دل میں تقیہ کا کوئی مقام ہوتا تو کیا وہ سیدنا معاویہؓ سے صلح کرتے؟

(اصلاح شیعہ اردو ترجمہ الشیعہ والتصحیح: صفحہ 99 طبع 1990ء)

سیدنا حسنؓ نے صلح کیوں کی

نفیر حضرمی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسنؓ سے کہا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ خلافت کے خواہاں ہیں آپ نے فرمایا:

کانت جماجم العرب بیدی یسالمون من سالمت ویحاربون من حاربت فترکتھا ابتغاء وجہ اللہ وحقن دماء المسلمین۔ (الذریة الطائرة النبويۃ: صفحہ 71 للدولابی، البدایہ: جلد 8 صفحہ 42)

عربوں کی کھوپڑیاں میرے ہاتھ میں تھیں، جس سے میں صلح کرتا وہ صلح کرتے اور جسے میں جنگ کرتا وہ جنگ کرتے، لیکن میں نے اللہ کی خوشنودی اور مسلمانوں کے خون ریزی سے بچانے کی خاطر خلافت سے دستبرداری کر لی۔

شیعہ محقق ملا علی بن عیسیٰ الاربلی سے بھی سنیے:

وعن جبیر بن نفیر عن ابیہ قال قدمت المدینۃ فقال الحسن بن علی کانت جماجم العرب بیدی یسالمون من سالمت ویحاربون من حاربت فترکتھا ابتغاء وجہ اللہ وحقن دماء المسلمین (کشف الغمہ: جلد 2 صفحہ 44)

شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ مرحوم کہتے ہیں

آں یکے شمع شبستان حرم

حافظ جمیعت خیر الامم

اور ہاں وہ شبستان حرم کی ایک یگانہ روزگار شمع جو کہ خیر الامم (امت محمدیہ) کی جمعیت و وحدت کے محافظ سے (یعنی سیدنا حسنؓ) جو امت کی خاطر سیدنا امیر معاویہؓ کے حق میں دستبردار ہو گئے اور صلح کر لی تاکہ امت کا رشتہ وحدت قائم رہے۔

تا نشید آتش پیکار وکیں

پشت پا زد برسر تاج و نگیں

تاکہ اس صلح کی برکت سے امت میں جنگ و جدل کی آگ کے شعلے بجھ جائیں سو آپ نے تاج و تخت کے سر پر پاؤں کی ٹھوکر لگائی۔

بعض لوگ اس صلح پر بڑے برافروختہ ہیں۔ گویا یہ سیدنا حسنؓ و حسینؓ سے فہم و فراست اور دینداری میں آگے ہیں کہ سیدنا حسنؓ نے مملکت اسلامیہ کی باگ دوڑ ایک نا اہل بلکہ باطل کے سپرد کر دی تھی 

آپ کا سیدنا امیر معاویہؓ سے صلح کرنے کا کارنامہ اور ایثار، امت کے لیے تا قیامت سرمایہ افتخار ہے اور مسلمانوں کی دو جماعتوں پر احسان عظیم ہے جو لوگ اس صلح پر چیں بجیں ہیں کیا وہ سیدنا حسنؓ سے زیادہ اسلام اور مسلمانوں کے ہمدرد اور خیر خواہ ہیں؟ اور کیا یہ لوگ آپ سے زیادہ عقلمند ہیں؟ کیا آپ کا یہ اقدام اسلام کے خلاف تھا ؟کیا سیدنا حسنؓ مرکزی اسلامی حکومت کسی دشمن اسلام کے سپرد کر سکتے تھے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔

بلکہ یہ آپ کا اسلام اور مسلمانوں پر احسان عظیم تھا۔ (اقبال اور حب اصحاب و آل: صفحہ 372)

حضرت الاستاذ علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحبؒ لکھتے ہیں:

سیدنا حسنؓ نے جب امت کو دو حصوں میں بٹ گئی تھی پھر سے ایک کرنا چاہا تو آپ نے امیر شام سیدنا معاویہؓ سے صلح کر لی اور اس صلح میں آپ کے بھائی حسینؓ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ جب سلطنت کا اختلاف جاتا رہا تو اب دونوں بھائی پھر سے مدینہ منورہ آباد ہو گئے اور سیدنا حسنؓ کی شہادت کے بعد بھی سیدنا حسینؓ مدینہ منورہ میں ہی رہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ اگر سیدنا معاویہؓ سے کچھ بھی بدگمان ہوگئے ہوتے تو آپ واپس عراق آ جاتے لیکن جتنا عرصہ سیدنا امیر معاویہؓ زندہ رہے آپ کا مسکن مدینہ منورہ ہی رہا اور سیدنا حسنؓ آپ سے اپنے وظائف بھی قبول کرتے رہے اور وہ حالات سے بے خبر نہ تھے (تجلیات آفتاب: جلد 2 صفحہ 179)

شرائط صلح

سیدنا حسنؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ کے درمیان کس بات پر صلح ہوئی اور آپؓ نے خلافت کی ذمہ داری سیدنا امیر معاویہؓ کو کس طرح سپرد کی تھی اس سے ہم بخاری کے حوالہ سے پہلے بتلا آئے ہیں کہ جب سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے وفد سے گفتگو کی تو اس میں مال کا ذکر کیا سیدنا امیر معاویہؓ نے ان کی تمام ضروریات کو پورا کرنے اور مال دینے کا بھی وعدہ فرمایا تو آپ بھی صلح کے لیے راضی ہو گئے اور آپؓ کو سیدنا امیر معاویہؓ کی جانب سے عطیات اور وظائف برابر ملتے رہے اور آپؓ نے جس بات کا وعدہ کیا تھا آپؓ نے اس سے بڑھ کر اس وعدہ کو نبھایا تھا جسے ہم آگے بیان کریں گے۔ اس کے علاوہ صلح کی جو شرطیں تاریخ کی مختلف کتابوں میں ملتی ہیں آئیے ہم ان پر سرسری نظر ڈالتے چلیں۔ شیعہ مؤرخ احمد بن داؤد دینوری (282ھ) میں لکھتا ہے:

ولما راى الحسن من اصحابہ الفشل ارسل الى عبداللہ بن عامر بشرائط اشترطها على معاويہ على ان يسلم لہ الخلافه وكانت الشرائط الايأخذ أحدا من أهل العراق يا حنۃ وان يؤمن الأسود والأحمر ويحتمل ما يكون من هفواتهم ويجعل لہ خراج الاهواز مسلما فی كل عام، ويحمل الى أخيہ الحسين بن على فی كل عام الفى الف ويفضل بنى هاشم فی العطاء الصلات على بنى عبد شمس۔ (اخبار الطوال: صفحہ 218)

ترجمہ: جب سیدنا حسنؓ نے اپنے ساتھیوں میں بزدلی دیکھی تو عبداللہ بن عامر کی جانب صلح کے لیے کچھ شرائط ارسال کیں کہ وہ اس پر سیدنا امیر معاویہؓ کو خلافت سپرد کر دیں گے:

1: اہلِ عراق پر دشمنی کی وجہ سے پکڑ نہیں ہوگی۔ 

2: ہر گورے کالے کو عام امان دی جائے گی۔

3: اور ان لوگوں نے اگر کوئی بدگوئی کی تو اسے برداشت کیا جائے گا۔ 

4: اہواز کے علاقے کا خراج سیدنا حسنؓ کے سپرد ہو گا۔

5: سیدنا حسینؓ کو سالانہ 20 لاکھ درہم دیا جائے گا۔

6: عطایا اور صلہ جات میں بنو ہاشم کو بنو عبدشمس پر ترجیح دی جائے گی اور ان کا حق اوپر رکھا جائے گا۔

شیعہ علماء یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ نے اس بات کی بھی شرط لگائی تھی کہ سیدنا امیر معاویہؓ کتاب و سنت کے ساتھ ساتھ خلفائے راشدینؓ کے طریقے پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے شیعہ عالم علی بن عیسیٰ اربلی (687ھ) لکھتا ہے:

ھذا ما صالح علیہ الحسن بن علی بن أبی طالب معاويہ بن أبی سفيان: صالحہ على أن يسلم إليه ولايۃ أمر المسلمين على أن يعمل فيهم بكتاب اللہ وسنۃ رسولہﷺ وسيرة الخلفاء وسيرة الخلفاءِ الراشدين (الصالحين) (كشف الغمہ: جلد 2، صفحہ 145 بحار الانوار: جلد 44، صفحہ 65) 

اس سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا حسنؓ کے نزدیک حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ سب کے سب خلیفہ راشد تھے اور ان سب کی سیرتیں صالح تھیں اور اس لائق تھیں کہ امت ان کے طریقے پر چلے اور ان کی پیروی میں آگے بڑھے۔ آپ نے کھلے بندوں اور ان کے طریقوں کو درست اور نیک کہا ہے اور بتایا کہ آپ کے نزدیک کتاب و سنت کے ساتھ ساتھ خلفائے راشدینؓ کی سنت بھی حجت شریعہ ہے اور جو لوگ خلفائے راشدینؓ کے طریقے سے ہٹے ہوئے ہیں ان کا صراط مستقیم پر چلنے کا دعویٰ درست نہیں۔

شیعہ علماء اور بعض رفض زدہ نام نہاد سنی مولویوں کا یہ دعویٰ کہ ان شرائط صلح میں سے ایک یہ بھی تھی کہ سیدنا امیر معاویہؓ کے بعد خلافت واپس سیدنا حسنؓ کو دی جائے گی درست نہیں ہے، افسوس کہ یہ بے پر کی اڑائی ہوئی وہ کہانی ہے جسے اہل سنت تو کجا خود شیعہ کے قدیم علماء اور ان کی قدیم تاریخی کتابیں بھی اس میں ہوا نہیں بھر سکیں اور یہ بات اب تک کسی سند صحیح کے ساتھ اہل سنت کی بھی کسی کتاب میں نہیں ملتی، جس سے پتہ چلتا ہے کہ بعد کے کسی شیعہ نے سیدنا امیر معاویہؓ کو بدنام کرنے کے لیے ان شرائط میں اسے بھی داخل کر دیا تھا۔ فتنہ پرور لوگ اسے سند صحیح کے ساتھ پیش کریں ہم غور کر لیں گے۔ تاہم یہ بات جہاں منقول ہے بے سند ہے اور اگر کہیں سندا منقول ہے تو وہ بھی اس لائق نہیں کہ اس پر اعتراض کی بناء رکھی جائے۔ (41ھ) کا صلح نامہ اگر وہ شخص (عبداللہ بن شوذب) بتائے جو 86ھ میں پیدا ہوا تو کیا اسے مانا جاسکتا ہے؟ اور پھر بتانے والا یہ بھی نہیں بتاتا کہ اس نے کس سے یہ بات سنی ہے؟ اور اس نے کہاں اس صلح نامہ کو دیکھ لیا جس میں یہ شرط بھی موجود تھی!؟ 

2: شیعہ عالم بن عیسیٰ اردبیلی (687ھ) اور شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی (1111ھ) نے بحارُ الانوار میں جو شرائطِ صلح نقل کی ہیں اس میں صرف یہ بات ملتی ہے کہ:

وليس لمعاويۃ بن أبی سفيان أن يعهد إلى أحد من بعده عهد ابل يكون الأمر من بعده شوریٰ بين المسلمين۔

(بحارُ الانوار: جلد 44، صفحہ 43، کشف الغمۃ: صفحہ 65 للاردبیلی 687ھ) 

سیدنا امیر معاویہؓ کو یہ اس بات کی اجازت نہیں ہو گی کہ وہ اپنے بعد کسی کو اپنا ولی عہد مقرر کریں بلکہ مسلمان آپس میں مشورہ کر کے کسی کو مقرر کریں گے۔ 

شیعہ علماء نے تسلیم کیا ہے کہ اس میں بھی کہیں اس شرط کا ذکر نہیں ملتا کہ خلافت سیدنا حسنؓ کو دی جائے گی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شرط بعد میں کسی نے داخل کی ہے۔ 

*نوٹ:* سیدنا حسنؓ کی یہ شرط کہ خلیفہ مسلمانوں کے مشورہ سے منتخب کیا جائے گا بتلاتی ہے کہ سیدنا حسنؓ کے نزدیک امامت (باصطلاح) شیعہ منصوص نہیں ہے اہلِ اسلام جسے منتخب کریں گے وہ مسلمانوں کا امیر ہوگا اگر آپؓ کے عقیدہ میں امامت منصوص ہوتی تو آپ ہی غور کریں کہ کیا سیدنا حسنؓ خود کبھی یہ شرط لکھواتے اور سیدنا حسنؓ سے پسند کرتے؟

3: سیدنا حسنؓ کا انتقال 49ھ یا 50ھ میں ہوا جب کہ سیدنا امیر معاویہؓ ان کے بعد 10 سال حیات رہے۔ آپ کا انتقال 60ھ میں ہوا تھا چاہیے تھا کہ اس شرط کی رو سے جس دن سیدنا حسنؓ کا انتقال ہوا اسی دن سیدنا حسینؓ سیدنا امیر معاویہؓ سے مطالبہ کرتے کہ سیدنا حسنؓ کے بعد اس شرط میں میرا نام شامل کر دیا جائے اگر واقعی میں ان شرائط میں یہ بھی شرط ہوتی کہ سیدنا حسنؓ کیا اس پر کبھی خاموش رہ سکتے تھے نہیں معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ کے درمیان جن شرائط پر مصالحت ہوئی تھی اس میں یہ شرط نہیں تھی سیدنا حسینؓ کا اس پر خاموش رہنا اور سیدنا امیر معاویہؓ سے عطایا اور تحائف لیتے رہنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ شرط اس صلح نامہ میں کہیں موجود نہ تھی۔

4: جب سیدنا امیر معاویہؓ نے اپنی جان نشینی کے لیے یزید کو منتخب کیا اس وقت بھی سیدنا حسینؓ نے اس شرط کا ذکر نہ چھیڑا اور نہ یہ کہا کہ ان شرائط میں سے ایک آپ کے بعد سیدنا حسنؓ کی خلافت تھی اب جب کہ وہ نہیں رہے تو آپ کو یہ اختیار نہیں رہا کہ اپنے بیٹے کو منتخب کریں چونکہ سیدنا حسنؓ میرے بڑے بھائی تھے اور میں نے بھی انہی شرائط پر آپ کی بیعت کی تھی اس لیے آپ کے بعد خلافت میرے حوالہ کی جائے سیدنا حسینؓ کا یہ مطالبہ بھی کہیں موجود نہیں ہے۔

5: اگر ان شرائط میں یہ شرط واقعی موجود ہوتی تو ان پر تمام شیعہ حضرات کو غور کرنا چاہیے جو اپنے ائمہ کو عالم الغیب سمجھتے ہیں اوریہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انہیں اپنی موت کے وقت کا علم ہوتا ہے (دیکھیے شیعہ کی مرکزی کتاب اصول کافی: جلد1، صفحہ 202 کتاب الحجہ باب الائمۃ یعلمون متیٰ يموتون ولا يموتون الاباختيارهم)

اگر سیدنا حسنؓ یہ جانتے کہ میرا انتقال سیدنا امیر معاویہؓ سے 10 سال قبل ہو جائے گا تو آپ ہی بتائیں کہ کیا آپؓ کبھی اس شرط کو لکھتے؟ شیعہ دوستوں کو اس پر غور کرنا ہوگا کہ اگر یہ شرط درست ہے تو انہیں اپنے ائمہ کے بارے میں وضاحت کردہ عقائد پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور اگر وہ ائمہ کے بارے میں ان عقائد پر مقر اور اس پر مصر ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیدنا حسنؓ اپنی موت کا علم رکھنے کے باوجود ایک ایسی شرط کیوں لگا رہے تھے کہ جو بالکل بے فائدہ تھی، فافھم وتدبر۔

6: جو لوگ کہتے ہیں کہ ان شرائط میں سے ایک یہ تھی کہ ان کے بعد خلافت سیدنا حسنؓ کو واپس دی جائے گی مگر افسوس کہ ان کی یہ بات غلط ہے اور ہم اوپر بتلا آئے ہیں کہ تاریخ کی مشہور کتابیں تاریخِ یعقوبی، تاریخ ابنِ کثیر، تاریخِ طبری، تاریخُ الکامل مروج الذہب میں اس شرط کا کہیں تذکرہ نہیں اور خود شیعہ علماء تسلیم کرتے ہیں کہ ان شرائط میں ایسی کوئی بات تھی ہی نہیں بلکہ الٹا سیدنا حسنؓ کے فوجی یہ کہتے تھے کہ سیدنا حسنؓ نے یہ شرط کیوں نہ رکھوائی شیعہ کا ممتاز محدث ملا باقر مجلسی لکھتا ہے کہ جب صلح نامہ لکھا گیا اس پر دستخط بھی ہو گئے تو جناب سلیمان بن صرد خزاعی نے سیدنا حسنؓ کو مخاطب کر کے کہا آپؓ نے پیمانِ محکم صلح نامہ میں نہ لیا اور بہرہ کامل عطاء میں نہ لکھوایا اگر بروقت مصالحہ اہلِ مشرق و مغرب کو آپ گواہ کرتے اور نوشتہ اس سے لیتے کے بعد اس کے خلافت آپ میں ہوتی اور ہمارا کام بہت آسان ہوتا (جلاءُ العیون: جلد 1، صفحہ 381 اردو ترجمہ) 

مؤرخ جناب اکبر شاہ خان نجیب آبادی تو یہ بھی لکھتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ تو اس شرط کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار تھے مگر خود سیدنا حسنؓ اس پر راضی نہ تھے موصوف لکھتے ہیں: 

لوگوں کو عام طور پر اس کا علم تھا کہ سیدنا حسنؓ سے مصالحت کرتے وقت عبداللہ بن عامر کی کوشش کے موافق سیدنا امیر معاویہؓ معاہدہ صلح میں اس اقرار کو اپنی طرف سے درج کرنے پر امادہ تھے کہ ان کے بعد سیدنا حسنؓ خلیفہ بنائے جائیں لیکن سیدنا حسنؓ نے یہ بات صلح نامہ میں درج نہیں کرائی لوگوں کا خیال تھا کہ اگرچہ سیدنا حسنؓ کی آئندہ خلافت کا کوئی تذکرہ عہد نامہ میں نہیں ہوا مگر عالمِ اسلام سیدنا حسنؓ کی خلافت پر متفق ہو جائے گا۔

(تاریخِ اسلام: جلد 2، صفحہ 38 مطبوعہ نفیس اکیڈمی کراچی) 

اس سے پتہ چلتا ہے کہ شیعہ علماء اور اس قبیل کے لوگ جس شرط کا دعویٰ کرتے ہیں اس شرط کا تو خیر سے متعصب و تبرا باز شیعہ علماء بھی نہیں کرتے سیدنا امیر معاویہؓ کے خلاف مخالفت میں حقائق مسخ کرنے والے یوں تو کچھ کم نہیں ہیں مگر لکھنؤ کا ایک نادان سلمان ندوی سیدنا امیر معاویہؓ کے خلاف جتنا بھڑکا اور بھڑکا ہے ہمیں کم از کم اس کی امید نہ تھی! 

حاصل یہ ہے کہ سیدنا حسنؓ نے صلح کی جو شرائط لکھیں عبداللہ بن عامر نے آپ کی یہ شرطیں سیدنا امیر معاویہؓ کو بھیج دیں اور انہوں نے آپ کی یہ شرطیں قبول کر لیں اور اس پر ان کے درمیان صلح ہوگئی۔

چنانچہ اس کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ کوفہ آئے اور یہاں سب لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی یہاں مسلمانوں کا بڑا اجتماع تھا لوگ جنگ ٹل جانے کی بناء پر بہت خوش تھے اس سال کو اتفاق اور جماعت کا سال کہا گیا:

فسمیت سنۃ الجماعۃ لاجتماع الناس وانقطاع الحرب۔

سیدنا حسنؓ نے صلح کیوں کی؟(ایک نکتہ)

سیدنا حسنؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ سے صلح کرنے کا ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ اگر لڑائی ہوئی تو اس سے معلوم نہیں کتنے مسلمانوں کی جان جائے گی اور کتنے گھر اجڑیں گے اور مسلمانوں کی قوت پر اس کا کیا اثر پڑے گا اور آپ کو اس بات کا بھی پتہ چل گیا کہ آپ کے گروہ میں کئی غدار موجود ہیں جو وقت آنے پر دھوکہ دے جائیں گے اور کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو چاہتے تھے مسلمان آپس میں لڑیں تاکہ ان کی قوت کمزور ہو جائے اللہ تعالیٰ نے سیدنا حسنؓ کے ذریعہ ان تمام دشمنوں کے عزائم ناکام بنا دیے جو یہ آگ لگا رہے تھے۔

مسند الہند حضرت شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلویؒ (1239ھ) نے صلح حسنؓ میں ایک اور بات اٹھائی ہے آپ لکھتے ہیں:

سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے ساتھ صلح کیوں کی جب کہ اس وقت آپؓ کی ذات عالی صفات استحقاق امامت میں مخصوص و ممتاز تھی اور فریق ثانی کی لیے استحقاقی واضح اور روشن تھی (اس کی وجہ) یہ ہے کہ حضرت امام واقف تھے اور جانتے تھے کہ خلافت کا زمانہ ختم ہوا بادشاہوں کا وقت آ پہنچا اور ظلم و ستم کا دور دورہ شروع ہوا اگر میں بھی ریاست کا مدعی بنا رہا اور تقدیر میں چونکہ ہے نہیں تو ریاست انتظام پذیر نہ ہو گی اور فتنہ و فساد غصب و عناد رونما ہوں گے اور امامت کے جو مصالح ملحوظ و منظور ہونے چاہئیں وہ یکسر فوت ہو جائیں گے لہٰذا آپ نے ریاست و سیادت سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور امور ریاست سیدنا امیرِ معاویہؓ کے سپرد کر دیے جو اس وقت ریاست کی اہلیت رکھتے تھے اور آپ نے یہ صلح و تسلیم کسی خامی، کمزوری یا ذلّت کی وجہ سے نہیں تھی اس لیے کہ امام کے ساتھ جانثاروں کی کمی نہیں تھی اور وہ مدد کے لیے تیار تھی لیکن چونکہ مدت امامت جو پوری تیس سال تھی ختم ہو رہی تھی تو آپ نے اس کو ترک کردیا۔ (تحفہ اثناءِ عشریہ: صفحہ 359)

سیدنا حسنؓ کے اخلاص اور مسلمانوں میں یک جہتی کی کوشش اور اس میں کامیابی کی یہ ادا اللہ کو ایسی پسند آئی کہ پھر اللہ تعالیٰ نے پھر سے مسلمانوں کا رعب اور دبدبہ قائم کر دیا اور سیدنا امیر معاویہؓ کے ہاتھوں دنیا کے کئی ملکوں اور علاقوں میں پرچم اسلام پھر سے بڑی بلندی پر لہرایا تھا حافظ ابن كثيرؒ (774ھ) لکھتے ہیں:

واجمعت الرعایا علی بیعتہ فی سنۃ احدی واربعین کما قدمنا فلم یزل مستقلا بالامر فی ھذہ المدۃ الی ھذہ السنۃ التی کانت فیھا وفاتہ والجھاد فی البلاد العدو قائم وکلمۃ الله عالیۃ والغنائم ترد الیہ من اطراف الارض والمسلمون معک فی راحۃ وعدل وصفح وعفو۔

(البدایہ: جلد 8، صفحہ 119)

جیسا کہ ہم پہلے بتا آئے ہیں کہ 14ھ میں تمام رعایا نے آپ کی بیعت پر اتفاق کر لیا اور آپ اپنی وفات تک باختیار امیر رہے اور آپ کا دشمن ممالک سے جہاد قائم رہا اور اللہ کے کلمہ کا بول بالا رہا اور تمام علاقوں سے غنائم آپ کے پاس آتے رہے اور تمام مسلمان راحت و عدل اور عفو و درگذر کے ساتھ آپ کے ساتھ رہے ہیں۔

علامہ ابن اثیر الجزریؒ (230ھ) لکھتے ہیں: 

سیدنا امیرِ معاویہؓ کے عہد میں مغربی قوموں سے بھی نبرد آزمائیاں ہوئیں اور شہنشاہ روم کی بہت سے ایشیائی اور یورپی مقبوضات پر اسلامی علم نصب ہوا سیدنا امیر معاویہؓ کی مستقل خلافت کے بعد سب سے پہلے 43ھ میں رومیوں سے مقابلہ ہوا رومیوں نے شکست فاش کھائی اور ان کے بطریقوں کی بڑی تعداد کام آئی۔ (الکامل: جلد 3، صفحہ 352) 

حضرت مولانا پیر غلام دستگیر نامیؒ (1380ھ) لکھتے ہیں:

سیدنا امیر معاویہؓ نے حکومت کا یہ بوجھ جس قابلیت سے اٹھایا تاریخ اس کی گواہ ہے سیدنا امیر معاویہؓ کے 20 سال ولایت اور 20 سالہ عہد خلافت میں ان کی سلطنت میں کوئی فتنہ نہیں اٹھا اور تمام مخالف مغلوب رہے بلکہ اسلامی سلطنت میں سجستان، سوڈان اور برقہ کا اضافہ ہوا۔ فالحمدللہ على ذلك۔(سیدنا امیر معاویہؓ: صفحہ41، مطبوعہ1961ء)

آپ آگے چل کر لکھتے ہیں: اپنے زمانہ خلافت میں سیدنا امیر معاویہؓ نے حضرت عثمان غنیؓ کی فتوحات پر بہت اضافہ کیا تھا آپؓ نے ہندوستان پر دونوں جانب سے فوج کشی کی ایک قدیم راستہ سندھ سے اور 44ھ میں خیبر کی راہ سے، کابل کی سرحدوں سے ہوتے ہوئے مہلب بن ابی صفرہ نے ہندوستان کی سرزمین میں قدم رکھا اور متخاصمین کو شکست دیتا ہوا قیقان کی طرف بڑھا ترک سواروں نے مقابلہ کیا اور مارے گئے مہلب مالِ غنیمت لے کر واپس آیا قندھار بھی اسی دور میں فتح ہوا تھا۔

(سیدنا امیر معاویہؓ: صفحہ 25)

44ھ میں مہلب بن ابی صفرہ درہ خیبر کی راہ سے ہندوستان میں داخل ہوئے اور پشاور کی وادیوں کو روندتے ہوئے بنوں کو فتح کرتے ہوئے قلات تک پہنچے یہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی خلافت کا زمانہ تھا۔

(مشاہیر علماءِ دیوبند: صفحہ 5)

آپؓ کا عہد خلافت اور اس عہد کی فتوحات تفصیلی گفتگو کی محتاج ہے جو دوست اس عہد کی فتوحات اور اس کی تفصیلات جاننے کے خواہش مند ہیں وہ محقق اہلِ سنت حضرت مولانا محمد نافع صاحب قدس سرہ العزیز (2014ء) کی سیرت امیر معاویہؓ ملاحظہ کریں جس سے یہ اندازہ ہوگا کہ آپ کا یہ دور اہلِ اسلام کے لیے کسی قدر شاندار دور کا حامل رہا تھا، حضرت مرحوم نے اس دور کا خلاصہ جن الفاظ میں تحریر فرمایا ہے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے یہاں نقل کر دیا جائے اسی سے آپ کو اس پورے عہد کا پتہ چل جائے گا آپ لکھتے ہیں: 

یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ خلافت راشدہ کے مبارک دور کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ کا عہد خلافت اسلام میں بڑا اہم دور ہے اس دور میں اسلام کو کامل فروغ حاصل ہوا دین و شریعت کے تمام شعبوں میں ترقی ہوئی اور اس عہد کے باقی مخالف ادیان یہود و نصاریٰ وغیرہم پر اسلام غالب آیا اور اسلام کی مخالفت پر کمر بستہ عظیم سلطنتوں کا زور ٹوٹ گیا۔

چنانچہ اس زریں عہد کے حالات اور واقعات لا تعداد پائے جاتے ہیں لیکن حسبِ مقدور انہیں کم و بیش بارہ فصلوں کی شکل میں ناظرین کرام کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے ان پر پھر نظر غائر کرنے سے اس دور کی قدر و منزلت اور اہمیت واضح ہو سکے گی اور سیدنا امیر معاویہؓ کی ملی خدمات کا اندازہ ہو سکے گا اور ان کی حکومت عادلہ کا بہترین نقشہ سامنے آ سکے گا لیکن شرط یہ ہے کہ عہد معاویہؓ کی ملی مندرجات پر ناظرین باتمکین ایک منصفانہ نظر فرمائیں اور دور ہذا کے مخالف دوستوں کے پروپیگنڈے پر بھی نگاہ ڈالیں پھر یہ تقاضائے انصاف خود موازنہ کریں اس طریقے سے امید ہے کہ صحیح نتیجہ پر پہنچنے میں دشواری نا ہو گی۔(سیرتِ امیر معاویہؓ: صفحہ 238)

مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ (1420ھ) لکھتے ہیں: 

اس میں شک نہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ کے عہد میں اسلام اور مسلمانوں کو فتح و غلبہ حاصل ہوا اسلام کی فتح مندیاں حاصل ہوئیں اور اس کا دائرہ بڑھا سیدنا امیر معاویہؓ نے غزوات کا سلسلہ جاری رکھا اور فتوحات کا سلسلہ بری و بحری راستوں سے وہاں تک پہنچے جہاں مسلمان فاتحین کے قدم پہلے نہیں پڑے تھے ان کی فتوحات بحر اوقیانوس (اٹلانٹک) تک گئیں ان کے مصر کے گورنر نے سوڈان کو اسلامی مملکت میں شامل کر لیا ان کے زمانے میں بحری بیڑے کثرت سے تیار ہوئے ان کو اس بات کا خاص اہتمام تھا یہاں تک کہ ان بیڑیوں کی تعداد سترہ سو تک پہنچ گئی یہ سب کشتیاں ہتھیار اور سپاہیوں سے بھرپور تھیں ان بحری بیڑوں کو وہ مختلف سمتوں میں روانہ کرتے اور وہ کامیاب ہو کر واپس آتے ان کے ذریعہ متعدد علاقے فتح ہوئے جن میں جزیرہ قبرص (سائپرس) اور یونان اور دردنیل کے بعض جزیرے اور جزیرہ رودس بھی شامل ہے خشکی کے علاقوں کو فتح کرنے کے لیے انہوں نے ایک فوج تیار کی تھی جو جہازوں میں جا کر حملہ آور ہوتی جس کو الشواتی کہتے تھے دوسرا دستہ تھا جو گرمیوں میں حملہ کرتا اس کا نام الصوائف تھا یہ غزوات مسلسل جاری تھے اور مسلمانوں کی سرحدیں دشمنوں سے محفوظ تھیں۔ (المرتضیٰ: صفحہ،317)

مولانا عبد القیوم ندویؒ کہتے ہیں: 

سیدنا امیر معاویہؓ نے بہت سے مضبوط قلعے اور کفر کی پناہ گاہوں کو اسلام کے قدموں میں لا ڈالا قیساریہ کا عظیم الشان معرکہ جس میں 80 ہزار رومی مارے گئے تھے آپ ہی کی شجاعت تدبر اور عظیم الشان جنگی و ملکی قابلیتوں کارہیں منت ہے۔ (تاریخ ملت: جلد، 3، صفحہ 26)

شیعہ مؤرخ امیر علی نے آپ کے عہدِ خلافت پر جو تبصرہ کیا ہے اسے بھی دیکھ لیجیے؟

On the whole Muaviyah's rule was prosperous and peaceful at home and successful abroad (History of saracens P: 82) 

مجموعی طور پر سیدنا امیرِ معاویہؓ کی حکومت اندروں ملک بڑی خوش حال اور پر امن تھی اور خارجی پالیسی کے لحاظ سے بڑی کامیاب تھی۔ 

(سیدنا معاویہؓ اور تاریخی حقائق: صفحہ 252) 

جناب ابو الاعلیٰ مودودی سیدنا معاویہؓ مکہ کے شدید ترین ناقدوں میں سے ہیں موصوف نے اپنی تحریرات میں ان پر نہایت بے بنیاد اور بھونڈے الزامات بھی عائد کیے ہیں تاہم انہیں بھی اس بات کا اقرار کیے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا کہ:

ان (سیدنا معاویہؓ) کی یہ خدمت بھی ناقابل انکار ہے کہ انہوں نے پھر سے دنیائے اسلام کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا اور دنیا میں اسلام کے ملبے کا دائرہ پیسے سے زیادہ وسیع کر دیا ان پر جو شخص لعن طعن کرتا ہے وہ بلاشبہ زیادتی کرتا ہے۔(خلافت و ملوکیت: صفحہ، 153)

جب معاہدہ طے پا گیا اور سیدنا معاویہؓ کی بیعت بھی ہوگئی تو پھر سیدنا حسنؓ اپنے گھر والوں اور چند خالص ساتھیوں کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور پھر آپؓ نے یہیں اپنی زندگی کے باقی ایام گزارے یہاں کے لوگ آپ کی خدمت میں تشریف لاتے اور آپ کے علم و فضل سے فیضیاب ہوتے رہے ان دنوں حضورﷺ کے اجلہ صحابہ کی بھی ایک بڑی تعداد مدینہ منورہ میں قیام پذیر تھی اور ان کا علم و عرفان بھی اپنی جگہ پوری طرح جاری و ساری تھا۔

شارح بخاری حافظ ابنِ حجر عسقانیؒ (852ھ) محدث ابنِ بطال (449ھ) کے حوالہ سے لکھتے ہیں:

جب سیدنا حسنؓ سیدنا معاویہؓ صلح کر لی اور خلافت کا معاملہ آپ کے حوالہ کر دیا تو آپ نے سیدنا امیر معاویہؓ سے جن شرائط پر بیعت کی ان میں سے یہ بھی تھا کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کو قائم رکھا جائے گا:

وبائعہ علی اقامۃ کتاب الله وسنۃ نبیہ۔

سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا حسنؓ کو تین لاکھ درہم دیے اور 1000 پوشاک کے کپڑے 30 غلام اور 100 اونٹ دیے پھر سیدنا حسنؓ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔(فتح الباری بشرح البخاری: جلد 13، صفحہ 79 میں طبع بیروت)

مگر عراق کے وہی شیعہ جنہوں نے آپ کے ساتھ طرح طرح کی زیادتیوں اور گستاخیوں کا ارتکاب کیا تھا انہوں نے یہاں بھی آپ کو چین سے بیٹھنے نہیں دیا انہیں معلوم تھا کہ اب سیدنا حسنؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ کے درمیان کوئی رنجش اور اختلاف باقی نہیں ہے مگر وہ اب بھی برابر اسی کوشش اور سازش میں لگے رہے کہ اختلاف کی یہ آگ کسی طرح ٹھنڈی نہ ہو پھر ایک مرتبہ تیزی سے بھڑکے اور مسلمان پھر سے ایک دوسرے کے مقابل آجائیں اور یہ صلح پھر سے جنگ و جدل میں بدل جائے سو انہوں نے سیدنا حسنؓ کے نام خطوط پر خطوط لکھے اور آپ کو اپنی حمایت اور تعاون کا پھر ایک مرتبہ یقین دلانے کی کوشش کی مگر آپ نے ان میں سے کسی خط کا جواب دینا تو درکنار ان خطوط کو پڑھنا تک گوارا نہ فرمایا۔

جناب یزید بن اصم کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا حسنؓ کاغذوں کا ایک بنڈل لے کر آئے اور ایک بڑا برتن منگوایا پھر آپ نے اس میں پانی ڈالا اور یہ پورا بنڈل اس میں ڈال دیا یزید بن اصم کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے کہا یہ کس کے خطوط ہیں؟ آپ نے کہا عراق والوں کے یہ وہ لوگ ہیں جو نہ حق کی طرف آتے ہیں اور نہ باطل سے پیچھے ہٹتے ہیں مجھے اپنے بارے میں ان سے کوئی خدشہ نہیں ہے لیکن میں ان کے بارے میں ضرور خدشہ محسوس کرتا ہوں یہ کہہ کر آپ نے سیدنا حسینؓ کی طرف اشارہ کیا:

اما انی لست اخشاھم علی نفسی ولکنی اخشاھم علی ذلک واشر الی الحسین۔(المعجم الکبیر: جلد 3، صفحہ 70 للطبرانی مجمع الزوائد: جلد 6، صفحہ 243)

سیدنا حسنؓ نے جس خدشے کا اظہار کیا تھا بعد کے حالات و واقعات نے بتایا کہ آپ کا یہ اندیشہ درست ثابت ہوا تھا اور انہی لوگوں نے سیدنا حسینؓ کو دھوکہ دے کر کوفہ بلایا اور دشمنوں کے حوالہ کر دیا تھا۔

سیدنا حسنؓ کا سیدنا امیر معاویہؓ کے ساتھ بڑا اچھا تعلق تھا آپ ہر سال سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس آتے رہے اور نہایت خوشگوار ماحول میں ان دونوں بزرگوں کی ملاقاتیں ہوتیں اور وہ آپ کو عطیات اور تحائف عطاء فرماتے اور سیدنا حسنؓ ان کو بخوشی قبول فرماتے تھے۔

ایک اہم سوال اور اس کا جواب

سوال: سیدنا حسنؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ کی باہمی صلح کے بارے میں جو حضور اکرمﷺ نے جو پیشگوئی فرمائی اس میں یہ الفاظ تو ملتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا لیکن کیا یہ الفاظ بھی کہیں ہیں کہ مؤمنوں کی دو جماعتوں میں صلح ہوگی؟ شیعہ کہتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ مسلمان تو تھے بظاہر کلمہ گو تھے مگر مؤمن نہ تھے مؤمن کبھی مؤمن سے نہیں لڑتا حضرت علیؓ مؤمن تھے ان سے لڑنے والا کیسے مؤمن ہو سکتا ہے؟

حضرت الاستاذ حجۃ الاسلام علامہ خالد محمودؒ اس کے جواب میں لکھتے ہیں:

حضرت عمار یاسرؓ کی (پرورش کرنے والی) والدہ کہتی ہیں ایک دفعہ سیدنا عمار بن یاسرؓ بیمار ہوئے اور بیماری شدت اختیار کر گئی میں گھبرائی تو سیدنا عمارؓ نے کہا فکر نہ کریں میں اس مرض میں مرنے والا نہیں ہوں مجھے میرے محبوب حضور اکرمﷺ نے بتلا دیا ہوا ہے کہ میری موت قتل سے ہوگی (بیماری سے نہیں) حضرت امام بخاریؒ روایت کرتے ہیں:

أم عمار قالت اشتکی عمار قال لا أموت فی مرضی حدثنی حبیبی رسول اللهﷺ لا أموت أِلا قتلاً بین فئتین مؤمنین۔ (التاریخ الاوسط: جلد 1، صفحہ 79)

ترجمہ: ام عمار رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: عمارؓ بیمار ہوئے آپ نے کہا میں اس بیماری سے فوت نہ ہوں گا مجھے میرے حبیب آنحضرتﷺ نے بتایا ہوا ہے کہ میری وفات قتل سے ہو گی اور وہ مقاتلہ مؤمنوں کی دو جماعتوں میں ہو رہا ہوگا۔

اس حدیث میں سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا علیؓ کی دونوں جماعتوں کو مؤمنوں کی دونوں جماعتوں سے تعبیر کیا ہے کہ دونوں جماعتیں مؤمنوں کی ہوں گی۔

اور قرآنِ کریم میں بھی ہے:

وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا‌ الخ۔

(سورۃ الحجرات: آیت 9)

ترجمہ: اور اگر مؤمنین کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو اگر ان میں سے ایک دوسرے کے خلاف بغاوت کرے تو تم ان سے لڑو جو بغاوت کرے یہاں تک کہ وہ حق کی طرف لوٹ پڑے۔

اس سے معلوم ہوا کہ مؤمن سے لڑنے والے مؤمن بھی ہو سکتے ہیں ضروری نہیں کہ کافر ہوں اور جو باغی ہو وہ بھی بغاوت سے ایمان سے نہیں نکلتا مؤمن رہ سکتا ہے مومن سے کسی اختلاف یا کسی دوسری وجہ سے لڑنا اور بات ہے اور مؤمن سے بوجہ اس کے ایمان کے لڑنا اور بات ہے جو کسی مؤمن کو اس وجہ سے کہ وہ مؤمن کیوں ہیں تو وہ بے شک کافر ہے اور اس کی جگہ جہنم ہے لیکن وجہ قتل کوئی خارجی سبب ہو تو اس کا حکم اور ہے کفر کا نہیں۔

وَمَنۡ يَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَـنَّمُ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 94) 

اس میں حکم مشتق پر ہے اور یہاں اس کے قتل کا موجب اس کا ایمان ہے۔ واللہ علم بالصواب۔

(عقبات: جلد 1، صفحہ 418)