سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ان پر تنقید حرام ہے
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 656: تنقید کے معنی اہلِ سنت کے نزدیک کیا ہیں؟
جواب: لغوی معنیٰ، پرکھنے اور کلام کے عیوب و محاسن ظاہر کرنے کے ہیں نقد، نقدًا، تنقادًا، ناقده، مناقدة۔ کسی معاملہ میں جھگڑنا۔ انتقد الکلام۔ کلام کی تنقید کرنا عیوب و محاسن ظاہر کرنا۔ (مصباح اللغات: صفحہ، 900)
اصطلاح اور محاورہ اردو میں، کسی چیز کے عیوب کو ظاہر کرنا ہے۔ اگر خوبیاں ظاہر کی جائیں تو تقریظ و تبصرہ کہلاتا ہے۔
سوال نمبر 657: کوئی آیت قرآن بتائیں کہ کسی صحابی پر تنقید نہ کی جائے؟
جواب: تنقید مروجہ اور کسی کے عیوب ظاہر کرنا، غیبت و عیب جوئی کہلاتا ہے۔ قرآن میں ہے:
1: وَّلَا تَجَسَّسُوۡا وَلَا يَغۡتَبْ بَّعۡضُكُمۡ بَعۡضًا (سورۃ الحجرات: آیت، 12 پارہ 26)
ترجمہ: تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے اور نہ عیوب تلاش کرے۔
2: وَيۡلٌ لِّـكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ (سورۃ الهمزة:
آیت، 1 پارہ، 30)
ترجمہ: ہلاکت ہے ہر عیب جو اور طعنہ دینے والے کے لیے۔
جب قرآن مدحِ صحابہؓ سے پُر ہے تو ان کی عیب جوئی و مذمت، غیبت، جھوٹ اور طعنہ بازی ہو گی جو قطعی حرام ہے۔ یہ حقوق جب تمام مسلمانوں کو حاصل ہیں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کا مصداق اوّلین ہیں۔ جب وہ معیارِ ایمان ہیں تو معیار پر تنقید نہیں کی جاتی ہے۔
(یہی وجہ ہے کہ منافقوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بیوقوف کہا تو خدا نے ان کو بڑا بے وقوف اور بے علم کہا۔ (پارہ، 1 رکوع، 2)
سوال نمبر 658: حُرمتِ تنقید پر حدیث مرفوع صحیح توثیق شدہ پیش کریں۔
جواب: ترمذی شریف میں ارشاد نبویﷺ ہے: لوگو! میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ ان کو میرے بعد طعن و تشنیع (تنقید) کا نشانہ نہ بنانا کیونکہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے دراصل میرے ساتھ اپنے بغض کی وجہ سے بغض رکھا جس نے انہیں طعن و تشنیع سے تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ کو ناراض کیا۔ عنقریب اللہ اسے برا عذاب دے گا۔ (ترمذی: جلد، 2 صفحہ، 249 و موارد الظمآن ملخص صحیح ابنِ حبان: صفحہ، 569)
اس کے پانچ راویوں کی توثیق تقریب التہذیب سے یہ ہے:
1: محمد بن یحییٰ بن عبداللہ شیخ ترمذی۔ اس کی توثیق سوال نمبر 655 میں آ گئی۔
2: یعقوب بن ابراہیم بن سعد ابو یوسف مدنی نزیل بغداد ثقہ اور نویں طبقہ کے صغار سے ہیں۔ 208ھ میں وفات پائی۔
3: عبیدہ بن ابی رائطہ المجاشعی کوفی صدوق طبقہ ثامنہ کے ہیں۔
4: عبدالرحمٰن بن زیاد، اسے ابی زیاد بھی کہتے ہیں۔ یہ ابوبکر نخعی کوفی ہیں ثقہ اور کبار ثالثہ میں سے ہیں 83ھ میں وفات ہوئی۔
5: عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیعتِ رضوان والے صحابی ہیں 75ھ میں بصرہ جا آباد ہوئے۔
سوال نمبر 659: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کی ممانعت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کلام سے ثابت کریں۔
جواب: جب اصل ممانعت قرآن و سنت سے ثابت ہے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کامل متبع قرآن و سنت تھے تو حکماً ان کا فتویٰ بھی یہی سمجھا جائے گا۔ چونکہ مختصراً دو سالہ دورِ خلافت میں صحابی پر تنقید کا واقعہ پیش نہیں آیا لہٰذا صراحت منقول نہیں ہے۔
سوال نمبر 660: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول سے حرمت ثابت کریں۔
جواب: شفاء قاضی عیاضؒ میں ہے کہ صاحبزادے عبیداللہ نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی زبان کاٹنی چاہی۔ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سفارش کی تو آپؓ نے فرمایا مجھے چھوڑو میں اس کی زبان کاٹ دوں تاکہ پھر کوئی شخص رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا نہ کہے۔ (شفاء مع شرح خفا جی: جلد، 4 صفحہ، 613)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک بدوی آپؓ کے پاس لایا گیا جس نے انصار رضی اللہ عنہم کی ہجو کی تھی۔ (مگر اس نے ایک مرتبہ حضور اکرمﷺ کو دیکھا ہوا تھا) تو حضرت عمرؓ نے فرمایا اگر رسول اللہﷺ کی (تھوڑی دیر کی) زیارت و صحبت کا لحاظ نہ ہوتا تو میں اس بدوی کو سزا دینے میں تم سب کی طرف سے کافی تھا۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول آخری فصل)
ابو داؤد جلد 2 صفحہ 284 پر طویل حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے احادیثِ رسولﷺ ایسے ذکر کیں کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بے ادبی ہوتی تھی تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ڈانٹ کر کہا کہ اس روش سے باز آ جاؤ ورنہ میں سیدنا عمرؓ کو لکھتا ہوں۔ (وہ تمہیں سزا دیں گے)
یہاں سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بدگوئی کا جرم ہونا ثابت ہوا تو صحابیت کے مرتبہ کا لحاظ بھی معلوم ہوا۔
سوال نمبر 661: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کلام سے ممانعت ثابت کریں۔
جواب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی متبع قرآن و سنت تھے۔ الگ ایسی صراحت نظر سے نہیں گزری۔
سوال نمبر 662: حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمان سے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے حُرمتِ تنقید ثابت کریں۔
جواب: 1: سب سے بڑا اور صریح وہ فرمان ہے جو اہلِ شام اور محاربین کے متعلق ہے کہ ان کے حق میں بجز خیر کے کچھ نہ کہو، ہمارا ان کا اختلاف دمِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق غلط فہمی پر ہوا، انہوں نے ہم پر الزام لگایا اور ہم سے لڑے حالانکہ ہم اس سے پاک ہیں۔ اسی طرح ہم نے ان کو غلطی پر سمجھ کر ان سے جنگ کی (حالانکہ وہ اپنے خیال میں اس سے پاک ہیں) (نہج البلاغہ) حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ وغیرہ شامی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شیعہ سب سے برا جانتے ہیں۔ جب حضرت علی المرتضیٰؓ نے ان پر تنقید سے منع کیا تو بقیہ کی تنقید بدرجہ اولیٰ حرام ہے۔
2: اللّٰه اللّٰه فی اصحابِ نبيّكم صلى اللّٰه عليه وسلم فانه اوصىٰ بهم (رواه الطبرانی)
ترجمہ: لوگو! اپنے نبی کریمﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق اللہ سے ڈرو۔ اللہ سے ڈرو (ان کی تنقید و برائی نہ کرو) کیونکہ حضور اکرمﷺ نے ان کے متعلق ذکرِ خیر کی وصیت فرمائی ہے۔
3: نیز دارِ قطنی نے سیدنا علی المرتضیٰؓ سے روایت کی ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا میرے بعد ایک قوم آئے گی جن کا برا لقب رافضی ہو گا تو اگر انہیں پائے تو ان کو قتل کرنا۔ کیونکہ وہ مشرک ہوں گے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہﷺ! ان کی نشانی کیا ہو گی؟ فرمایا تیری تعریف ان اوصاف سے کریں گے جو تجھ میں نہ ہوں گے اور گزشتہ نیک لوگوں (صحابہ رسول و تابعین) کی بدگوئی کریں گے۔ (صواعق محرقہ: صفحہ، 5)
4: نیز حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر کو گالی دی اسے قتل کرو اور جس نے میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو گالی دی اسے کوڑے لگاؤ۔ (اخرجہ التمام فی فوائده ریاض النضره: جلد، 1 صفحہ 22)
5: اور یہی روایت شیعہ کی جامع الاخبار لابن بابویہ صفحہ 138 مطبوعہ اسلام آباد میں بھی ہے۔
سوال نمبر 663: تبرّا کے معنیٰ بیان کر دیجئے۔
جواب: لغوی معنیٰ بتکلف کسی سے بیزار ہونا اور نفرت کرنا ہے۔ اصطلاحی یہ ہے کہ ایک شیعہ مذہب والا خدا کی توحید سے، حضور اکرمﷺ کی ہادیت، سنت اور خاتم المعصومیت سے۔ از الحمد تا والناس قرآن شریف سے، چار اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کے سوا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم سے، بناتِ نبویﷺ اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے بیزاری اور نفرت ظاہر کرے، ان کی بدگوئی اور انکار میں اور لعنت و مذمت کرنے میں خوشی محسوس کرے۔
سوال نمبر 664: سبِّ وشتم کا مطلب واضح فرمائیے۔
جواب: سبّ کا لغوی معنیٰ گالی دینا ہے اور شتم کا معنیٰ عار اور عیب کی کسی کی طرف نسبت کرنا اور بے عزتی کرنا ہیں۔ (مصباح اللغات) علامہ ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں جب اصل لغت میں کسی اسم کی خاص تعریف نہ ہو اور نہ شریعیت میں مخصوص معنیٰ اور تعریف ہو تو اس کی تعریف و تعیین میں عرفِ عام کا اعتبار ہو گا۔
پس اہلِ عرف اور عوام الناس جس لفظ کو گالی تنقیصِ شان، عیب گیری اور اعتراض میں شمار کرتے ہیں تو ایسا لفظ سبّ میں داخل ہو گا۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول)
سوال نمبر 665: کیا اسلامی شریعت میں عام آدمی پر سبّ وشتم جائز ہے؟
جواب: نہیں مشرکین کے بتوں، معبودوں تک کو گالی دینے سے منع کیا گیا ہے۔
اہلِ سنت کی حدیثِ نبوی ہے: سباب المومن فسوق و قتاله کفر
ترجمہ: مومن کو گالی دینا بڑا گناہ ہے اور اس سے (بلا ضرورتِ شرعی) جنگ کرنا (گویا) کفر ہے۔
شیعہ کی اصولِ کافی جلد 2 صفحہ 359، 360 باب السباب میں امام باقرؒ کی احادیث ملاحظہ ہوں:
1: کوئی شخص کسی دوسرے پر کفر کی شہادت نہیں دیتا۔ مگر ایک کافر بن ہی جاتا ہے۔ اگر کافر پر شہادت دی تھی تو سچ ہوئی اور اگر مومن مسلمان پر دی تھی تو کہنے والا کافر ہو گا پس تم مسلمانوں پر طعن کرنے سے ضرور بچو۔
2: لعنت جب کسی کے منہ سے نکلتی ہے تو پھرتی ہے اگر لعنت کیا ہوا اہل ہو تو ٹھیک ورنہ لعنت کرنے والے پر آ پڑتی ہے۔
3: کوئی آدمی کسی مسلمان پر طعن نہیں کرتا مگر وہ بری موت مرتا ہے وہ اس لائق ہے کہ بھلائی کی طرف نہ لوٹے۔ (یعنی توبہ کی توفیق اسے نصیب نہیں ہوتی۔)
سوال نمبر 666: اگر تبّرا اور سبّ وشتم ایک ہی چیز ہے تو پھر اہلِ سنت اپنے چھٹے کلمہ ردِّ کفر میں یہ ارتکاب کیوں کرتے ہیں؟
جواب: ہمارے ہاں لغوی معنوں میں استعمال ہوتا ہے: یعنی ایک مسلمان شخص کہتا ہے: اے اللہ! میں کفر سے شرک سے، جھوٹ سے، غیبت سے، چغلی سے، بہتان سے اور تمام گناہوں سے بیزاری اور نفرت رکھتا ہوں اور فرماں بردار ہو کر کہتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی خدائی حقوق کے لائق اور اس کی صفتوں والا نہیں۔ حضرت محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور شیعہ کا تبّرا اصطلاحی ہے کہ وہ مذکورہ باتوں سے تبّرا ہرگز نہیں کرتا۔ یہ تو اس کے شیعہ ہونے کی اصل نشانی ہیں۔ اس کا تبّرا سوال نمبر 663 میں ذکر کردہ اشیاء سے ہے۔ حوالہ کی حاجت اس لیے نہیں کہ ہر شیعہ زبان سے ان کا برملا اقرار کرتا ہے۔ جس کا جی چاہے کسی اثناء عشری سے قسم دلا کر پوچھ لے۔
سوال نمبر 667: آپ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ پر سبّ وشتم نہ کیا۔ مگر سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان پر کیا اور شیعہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے تابعدار ہیں۔ سبّ وشتم کرتے ہیں۔ اہلِ سنت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی پیروی کرتے ہیں۔ کتبِ اربعہ شیعہ سے ثابت کریں کہ مذہبِ شیعہ میں گالی بکنا جائز ہے؟
جواب: یہ ہمارا الزامی جواب ہے جو شیعہ کے عقیدہ کے مطابق ہوتا ہے۔ ورنہ اہلِ سنّت کے ہاں فریقین کا ایک دوسرے کو گالی دینا ثابت ہی نہیں۔ طبری جلد 5 صفحہ 71 پر فریقین کا ایک دوسرے پر قنوت پڑھنا لکھا ہے۔ وہ ابو مخنف رافضی اور ابو جناب کلبی رافضی سے مروی ہے۔ دونوں مشہور کذاب دشمنانِ صحابہ ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر ناپاک اتہامات لگاتے رہتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ شیعہ اپنے اںٔمہ کی تعلیمات کے برخلاف اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، سوتے جاگتے ہر لمحہ خدا کے ذکر کے بجائے حضور اکرمﷺ کے پاک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے اور ناشرینِ قرآن، خلفاءِ راشدینؓ پر تبّرے اور لعنتوں کے وظیفے پڑھتے ہیں۔ ہمیں ایسے ملعون اور تبّرا و لعنت پر مشتمل خطوط ملتے رہتے ہیں اور مشتاق رافضی نے اس رسالہ میں 100، 100 اعتراضات و مطاعن، قرآن کریم، سیدنا صدیقِ اکبرؓ، سیدنا فاروقِ اعظمؓ، سیدنا عثمانِ غنیؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ پر لکھ کر اپنے تبّرا باز اور ساب و شاتم ہونے کا ننگا ثبوت دیا ہے۔ یہاں اصولِ اربعہ کے حوالہ کی کیا ضرورت ہے گو سنی مذہب سچا ہے صفحہ 36، 37 کے مناظرہ میں ایسی روایتیں ہم روضہ کافی، فروعِ کافی وغیرہ سے لکھ چکے ہیں مگر ہم یہاں یہ کہتے ہیں کہ شیعوں نے اسلام دشمنی اور بغضِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جذبہ سے یہ روایتیں گھڑ کر اپنے اماموں کو بدنام کیا ہے ورنہ ان کی اصل تعلیم، تبّرے اور لعنتوں، گالیوں کی نہیں ہے۔ بطورِ نمونہ صرف ایک روایت اصولِ کافی باب الطاعة والتقوىٰ صفحہ 73، 74 سے ملاحظہ فرمائیں: امام باقرؒ فرماتے ہیں: اے جابر! کیا شیعہ ہونے کے دعویدار کو یہ کافی ہے کہ وہ کہے میں اہلِ بیتؓ کا حب دار دار ہوں۔ اللہ کی قسم! ہمارا شیعہ (تابعدار) تو وہ ہے جو اللہ سے ڈرے اور خدا کی فرماں برداری کرے۔ اے جابر! شیعوں کی پہچان تو عاجزی، خدا سے ڈر، امانت، خدا کے ذکر کی کثرت، روزہ، نماز، والدین سے نیکی کی کثرت، پڑوسیوں کی خبر گیری، فقیروں، مسکینوں، مقروضوں، یتیموں کی دیکھ بھال، سچ بولنے، قرآن پاک کی تلاوت اور بھلائی کے سوا لوگوں سے زبان بند رکھنے سے ہوتی تھی اور وہ ہر بات میں اپنے قبیلوں کے امین ہوتے تھے۔ جابر نے کہا: اے رسول اللہﷺ کے بیٹے! میں آج (آپ کے شیعوں سے) کسی کو ان صفات والا نہیں پاتا تو امام نے فرمایا اے جابر! تجھے مذہب دھوکہ نہ دے کہ آدمی اپنے خیال سے یوں کہتا پھرے میں تو سیدنا علی المرتضیٰؓ سے محبت کرتا اور دوستی رکھتا ہوں پھر اس کے بعد عمل کرنے والا نہ ہو۔ اگر کہے کہ میں رسول اللہﷺ سے محبت رکھتا ہوں حالانکہ رسول اللہﷺ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے بہت افضل ہیں۔ پھر وہ نہ آپﷺ کی سیرت پر چلے نہ سنت پر عمل کرے۔ (کہ اہلِ سنّت ہونا گناہ جانے) تو اسے رسول اللہﷺ کی محبت بھی کچھ نفع نہ دے گی۔ پس اللہ سے ڈرو اور خدا کی تعلیمات کے مطابق عمل کرو۔ خدا کے ساتھ کسی کی رشتہ داری نہیں ہے، خدائے تعالیٰ کو سب بندوں سے وہ پیارا اور معزز ہے جو سب سے بڑا پرہیزگار اور عامل و فرماں بردار ہو۔ اے جابرؒ! اللہ کا قرب صرف فرماں برداری سے ہوتا ہے۔ ہمارے پاس دوزخ سے برأت کا ٹکٹ نہیں ہے اور نہ اللہ کے سامنے کسی کی حجت (ہمارے شیعہ کہلانے سے) چلے گی۔ جو اللہ کا فرماں بردار ہو وہی ہمارا دوست ہے اور جو اللہ کا نافرمان ہو وہی ہمارا دشمن ہے۔ ہماری دوستی صرف عمل اور تابعداری سے ہوتی ہے۔
عرض مؤلف روایت کو غور سے بار بار پڑھیے کیا اس میں مذہب شیعہ کی ایک بات بھی امام نے بتائی۔ کیا تبّرا اور سّب وشتم کو بھی ایمان، عمل اور تقویٰ کا جزو بتایا؟ کیا آج کسی شیعہ میں یہ عادات پائی جاتی ہیں۔ روایت میں جب صراحت ہے کہ امام باقر رحمۃ اللہ کے زمانہ میں بھی ایسا شیعہ ایک نہ تھا تو آج کیسے ہو سکتا ہے؟ یہیں سے ہم کہتے ہیں کہ شیعہ کا موجودہ مذہب ہرگز ائمہ اہلِ بیتؓ کا تعلیم کردہ نہیں ہے یہ صرف فاسق و متعہ بار ذاکروں اور دنیا پرست مجتہدوں کا اپنا بنایا ہوا ہے۔ وہ آلِ رسول کے دوست و دشمن بتلانے کے گھمنڈ میں، تفریق بین المسلمین کا ناپاک شغل اپنائے ہوئے ہیں حالانکہ امام کے فتویٰ میں وہ خود دشمنِ اہلِ بیتؓ ہیں۔ کیونکہ باقرارِ خود خدا و امام کی تعلیم پر عمل سے عاری اور محروم ہیں اور ان کو ہی امام نے اپنا دشمن کیا ہے۔
سوال نمبر 668: جب مذہب میں یہ فعل مذموم ہے تو لغو اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟
جواب: اپنے مذہب کے خلاف آپ کے کرتوتوں پر سچا اعتراض کیا جاتا ہے۔
سوال نمبر 669: کیا لعنت گالی ہوتی ہے؟ کسی سُنّی مفتی کا فتویٰ درکار ہے۔
جواب: اہلِ سنت کے مفتیوں کے مفتی امام باقرؒ کا فتویٰ یہی ہے۔ اصولِ کافی کے باب السباب میں لعنت کرنے والی احادیث اس کا ثبوت ہیں۔ سوال نمبر 665 کا جواب پھر دیکھ لیں۔
سوال نمبر 670: آپ فاسق و فاجر پر لعنت کرنا جائز نہیں کہتے۔ قرآن میں کاذبین پر لعنت کیوں ہوئی؟
جواب: قرآن مجید میں جن چند مقامات پر کاذبین، ظالمین اور کافرین و مشرکین پر ہوئی وہ سب مجموعہ کافروں پر ہی ہے۔ نہ لعنت شخصی ہے اور نہ مسلمان گنہگاروں پر ہے۔ جن پر اہلِ سنّت لعنت نہیں کرتے اور دلیل وہی حدیثیں ہیں جو سُنّی و شیعہ میں مشہور ہیں کہ لعنت کو اپنا مقام نہ ملے تو لعنت کرنے والے پر لوٹ آتی ہے یعنی وہ ملعون یا کافر بن جاتا ہے۔
سوال نمبر 671: اگر لعنت گالی ہے تو یہ گالیاں اللہ تعالیٰ نے کیوں دیں؟
جواب: لعنت کا درجہ گالی سے بڑا ہے اور یہ لعنت کفار پر ہے۔ جسے ہم درست کہتے ہیں اور مسلمان گنہگاروں کو تو گالی دینا بھی جائز نہیں۔
سوال نمبر 672: کیا سیدنا امیرِ معاویہؓ کو سُنّی شیخینؓ سے زیادہ قوی و امین مانتے ہیں؟
جواب: مطلقاً نہیں، کسی جزںٔی میں تفاوت جدا بات ہے۔
سوال نمبر 673: پھر سیدنا امیرِ معاویہؓ اور تاریخی حقائق میں یہ روایت کیوں ہے کہ شیخینؓ ایک مسئلہ میں مشورہ نہ دے سکے تو آپﷺ نے فرمایا: حضرت امیرِ معاویہؓ کو بلاؤ معاملہ سامنے رکھو وہ قوی ہیں اور امین ہیں۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟
جواب: اس کا حوالہ ہم پہلے دے چکے ہیں۔ ایک راوی کمزور ہے مگر شیعہ کا مفہوم مخالف سے استدلال بتنگڑ ہے۔ نہ شیخین رضی اللہ عنہم کمزور اور غلط مشورہ دینے والے ثابت ہوتے ہیں۔ نہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا فہم حضور اکرمﷺ سے اعلیٰ ثابت ہوتا ہے۔ نہ حدیث کو موضوع کہنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کبھی ہو جاتا ہے کہ کسی پیچیدہ مسئلہ کا حل اور بہتر سوچ بڑے فضلاء اور دانش وروں کے ذہن میں نہیں آتی۔ چھوٹوں کے ذہن میں آ جاتی ہے اور بڑوں کو چھوٹوں سے مشورہ کرنے میں یہی حکمت ہے: وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ (سورۃ آل عمران: آیت 159) حکمِ قرآن حکمت سے خالی نہیں ہے۔
اس تشریح سے سوال نمبر 674 اور 675 کا جواب بھی ہو گیا۔
سوال نمبر 676: اگر حضرت امیرِ معاویہؓ سیدنا علی المرتضیٰؓ سے جنگ کر کے ان کو گالیاں دے کر اور دلوا کر سیدنا حسنؓ کو زہر دے کر، سنّت کی خلاف ورزی کر کے، قرآن کی مخالفت کے باوجود جنت میں جائے گا تو پھر شیعہ صرف رسول اللہﷺ اور آلِ رسولﷺ کے دشمنوں سے بیزاری کرنے سے کیوں جہنمی ہیں؟
جواب: سیدنا امیرِ معاویہؓ دشمنی کا نشہ اور خمار بھی خوب ہے جو اترتا نہیں۔ جنگ کا عذر ہم مفصل بتا چکے ہیں۔ باقی 4 الزامات صریح جھوٹ ہیں۔ تردید ہو چکی ہے۔ شیعہ کبھی رسول اللہﷺ کے دشمنوں سے بیزاری نہیں کرتے۔ کیا شیعہ کی کسی بھی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ چلتے پھرتے یا نمازوں کے بعد یا کبھی بھی ان کفار و مشرکین سے تبّرا کرو اور لعنتوں کے ورد کرو جو رسولِ خداﷺ سے جنگیں لڑتے رہے!
جب ہرگز اس کا ثبوت نہیں ہے بلکہ ان کا تبّرا اور لعنت بازی صرف ان مسلمانوں اور مؤمنوں پر ہے جو رسولِ خداﷺ کے ساتھ ہو کر مشرکین و کفار سے جنگیں کرتے رہے تو شیعوں کے مسلم دشمن اور کافر دوست ہونے میں کیا شبہ رہا جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ توحید، شرک اور مخالفتِ رسول کے باب میں آج شیعوں کا 95 فیصد مذہب وہی ہے جو مشرکین کا تھا اور رسولِ خداﷺ اسے مٹانے آئے تھے تو شیعوں کے حضرت رسولﷺ سے اور تابعدارانِ رسولﷺ سے بیزار ہونے اور جہنمی ہونے میں کیا شک رہ جاتا ہے۔
سوال نمبر 677: شیعوں کو کیا ان افراد سے ذاتی دشمنی ہے وہ بھی اپنے اجتہاد سے ان کو قرآن و سنت کا مخالف اور مؤذی خانوادۂ رسول جان کر دشمنی رکھتے ہیں؟
جواب: بالکل ذاتی دشمنی ہے جیسے ایک دنیوی سیاست باز اپنے حریف سے شکست کھا کر ان کی کردار کشی کرتا ہے اور پارٹی کے لوگوں کو دشمنی کی تعلیم دیتا ہے۔ ہمارے اعتقاد میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایسا کچھ بھی نہ کیا۔ مگر نادان شیعوں نے بالکل اسی طرح خلفاءِ ثلاثہ رضی اللہ عنہم اور حضرت امیرِ معاویہؓ اور ان کے پیروکار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعینؒ سے دشمنی اور ان کی کردار کشی کا وطیرہ اپنایا ہوا ہے ورنہ کسی جمہوری ملک میں ایسی شریفانہ مثال نہ ملے گی کہ جیسے انتخاب کے وقت دس بیس حامی بھی نہ ملیں یا وہ عظیم جنگ لڑ کر اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو اس کے پیروکار سب قوم کی لعنت بازی، گالی گلوچ اور کردار کشی پر ایسے اتر آئیں کہ ان کو اپنے دین سے ہی خارج کر دیں۔
شیعہ نہ اہلِ اجتہاد ہیں نہ اپنی تاریخ سیاہ کے آئینہ میں سیدنا علی المرتضیٰؓ اور خانوادۂ رسولﷺ کی دفاعی نمائندگی کا حق رکھتے ہیں تفصیل کسی مقام پر آ جائے گی۔
سوال نمبر 678: مطاعنِ شیعہ کا جواب آپ یہ دیتے ہیں: 1: اصحابؓ کے معاملے میں نیک گمان رکھنا چاہیے۔ 2: اپنی کتب سے استدلال پیش کرتے ہیں۔ کیا یہ طریقہ معقول ہے؟
جواب: دونوں طریقے معقول ہیں۔ نیک گمان رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے:
اجۡتَنِبُوۡا كَثِيۡرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوۡا (سورۃ الحجرات: آیت 12)
ترجمہ: اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچو بلاشبہ کئی بدگمانیاں گناہ ہیں اور کسی کے خفیہ عیب تلاش نہ کرو۔
جب شیعہ مذہب کا سارا لٹریچر، نوشت و خواند کا ایک ایک صفحہ، جملہ تاریخِ شیعہ کا دفتر سیاہ اور پوری قوم کا متواتر عمل اس حکمِ قرآنی کی مخالفت، بدظنی، الزام تراشی اور عیب گیری کا سٹاک ہے۔ آخر مطاعنِ شیعہ کی حقیقت اس کے سوا کیا ہے؟
ناجائز اتہام و الزام سے صفائی دنیا کا ہر معقول انسان، اپنے گھر، اپنے عمل اور اپنی کتب سے پیش کیا کرتا ہے۔ ہاں دوسرے پر الزام اپنے عقیدہ اور کتب کی بناء پر لگانا غیر معقول ہے جو شیعہ دستور ہے۔
سوال نمبر 679: اہلِ بیتؓ کے فضائل کی احادیث آپ کے بقول شیعوں کی ہوتی ہیں لیکن مخالفین اہلِ بیتؓ کے مناقب جب شیعہ یہ کہہ کر تسلیم نہیں کرتے کہ یہ سُنّیوں کے ہیں تو آپ اودھم کیوں مچاتے ہیں؟
جواب: یہ نرا مغالطہ ہے۔ اہلِ سنت فضائل اہلِ بیتؓ کی جن روایات کو صحیح مستند اور ثقہ لوگوں سے مروی مانتے ہیں ان کو شیعہ کی کہہ کر کبھی رد نہیں کرتے بلکہ عقیدت سے پھیلاتے ہیں۔ لیکن شیعہ کتب اور لٹریچر میں اہلِ بیتؓ کے لیے بھی ابواب المناقب اور کتاب الفضائل ہے ہی نہیں کہ وہ باقاعدہ سند و روایات سے ثقات کی معرفت رسول اللہﷺ سے نقل کریں۔ لا محالہ وہ اہلِ سنت کی چوری کر کے گھر کے اخراجات چلاتے ہیں۔ اب اہلِ سنّت اس فطری اور معقول طریقہ سے ان کو پابند کرتے ہیں کہ جب سُنّی کتب کی ان سندوں سے فضائلِ اہلِ بیتؓ کی احادیثِ نبوی مسلّم ہیں تو پھر انہی کتب اور سندوں سے فضائلِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ارشاداتِ نبویﷺ کیوں تسلیم نہیں؟ آخر بغضِ اصحابؓ کے سوا اور کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ پھر اہلِ سنّت شیعہ کتب سے احادیث اہلِ بیتؓ سے در مناقبِ اصحاب کرام رضی اللہ عنہم پیش کرتے ہیں اور مسلمانوں سے متحد ہو جانے کی درخواست کرتے ہیں مگر وہ بالکل نہیں مانتے تو شتر مُرغ کی اس مثال پر ہم اودھم نہ مچائیں تو کیا کریں؟
سوال نمبر 680: جب غیر مسلم کہتے ہیں کہ اسلام تلوار سے پھیلا تو آپ اس کی تردید کرتے ہیں لیکن سلاطین اسلام کی توسیع پسندی کو سنہری فتوحات کہہ کر نشر کرتے ہیں۔ یہ دو رُخی کیوں؟
جواب: عہدِ نبویﷺ کے غزوات اور خلافتِ راشدہ کی فتوحات ایک ہی سلسلہ، ترقی اسلام کے دو کنارے ہیں۔ غیر مسلم دونوں پر اعتراض کرتے ہیں۔ ہم دونوں کا جواب دیتے ہیں کہ جہاد تبلیغ کی اجازت نہ ملنے پر ہوتا تھا۔ ورنہ جبراً تلوار سے نہ حضور اکرمﷺ نے کسی کو کلمہ پڑھایا، نہ خلفاءِ اسلام نے، باوجودیکہ آپ صحابہ و اسلام دشمنی میں غیر مسلموں کے آلہ کار ہیں مگر تعجب ہے عہدِ نبویﷺ میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی سپاہیانہ خدمات اور قتلِ کفار پر بڑا فخر کرتے ہیں یہ دو رُخی کیوں؟ پھر آپ خلافتِ راشدہ کی فتوحات پر ناخوش ہیں۔ مگر آپ کے خیال میں کسی بزرگ کی خدمت نظر آ جائے تو فخریہ ذکر کرتے ہیں۔ اپنے رسالہ چار یار صفحہ نمبر 166، 167 کے اقتباس ملاحظہ کریں:
1: لیکن جنگِ خندق کے علاوہ اور کسی جنگ میں ان کے کارناموں کی تفصیل نہیں ملتی اسی طرح بعد وفاتِ رسولﷺ کی جنگوں میں ان کو سپہ سالار کی حیثیت سے منتخب کیا گیا مثلاً جنگِ قادسیہ، جلولاء اور حملات فارس میں ان کی کارکردگیاں، ان کو ایک ماہر جنگجو افسر ثابت کرتی ہیں؟
2: شہر مدائن ایک زمانے میں کسروی سلطنت کا دارالحکومت تھا اسے سیدنا سعد بن وقاصؓ (ابی وقاص) نے فتح کیا۔ سیدنا سلمانؓ بھی ایک فوجی دستے کے قائد کی حیثیت سے اس لشکر میں شامل تھے جب مسلمانوں نے مدائن کو فتح کیا تو حضرت سعدؓ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ شہر میں داخل ہونے کے لیے دریائے دجلہ کو عبور کریں اور کہا کہ اگر مسلمان اپنی صفات پر باقی ہیں، تو خدا ضرور عبور کرنے میں مدد کرے گا۔ حضرت سلمانؓ کو جوش آ گیا اور فرمایا اسلام ابھی تازہ ہے اور دریا بھی مسلمانوں کی اسی طرح اطاعت کرے گا جس طرح اہلِ زمین نے کی ہے ۔ یہ سمجھ لو کہ آج کے دن ہماری فوج کا کوئی آدمی ہلاک نہیں ہو گا۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی اطلاع کے مطابق پوری فوج سواریوں پر دجلہ عبور کر گئی اور کوئی بھی غرق نہیں ہوا۔
سوال نمبر 681: کا جواب بھی ان اقتباسات سے ہو گیا کہ اگر یہ جارحانہ کارروائی اور وسعت حدود کی ناجائز کوشش ہوتی تو سیدنا سلمانؓ کیوں شریک ہوتے۔ آپ کیوں فخر کرتے اور خدا دریا کو ان کے تابع کیوں کر دیتا معلوم ہوا کہ خلافتِ راشدہ میں مسلمانوں کی یہ فتوحات اسلام کی صداقت اور خلفاء کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
سوال نمبر 682: روضتہ المناظر حاشیہ تاریخ کامل میں ہے کہ باتفاق مفسرین شجره ملعونہ فی القرآن سے مراد بنو امیہ ہیں کیا آپ کو اتفاق ہے؟
جواب: تعجب ہے کہ دعویٰ تفسیر کا ہے اور حوالہ تاریخ کے حاشیہ کا دیا جا رہا ہے۔ پھر یہ صریح جھوٹ ہے۔ ایک معتبر تفسیری قول بھی نہیں ہے چہ جائیکہ مفسرین کا اتفاق بتایا جائے۔ ہمارے سامنے تفسیری اقوال کی ڈکشنری تفسیر طبری جلد 7 صفحہ 78، 79 کھلی ہے۔ اس میں 15 اقوال و آثار ہیں کہ شجرہ ملعونہ سے مراد درخت زقوم ہے۔ جس کے متعلق سورۃ صافات میں ہے کہ یہ درخت دوزخ کی جڑ میں ہو گا جیسے شیطانوں کے سر ہوتے ہیں۔ اسے مشرکین پیٹ بھر کر کھائیں گے۔ الآیۃ۔ ابوجہل نے شیطانی عقل سے خدائی فرمان کا مقابلہ کر کے کہا کہ دوزخ میں آگ ہو گی وہاں درخت کیسے اگے گا؟ تو یہ آیت اتری کہ لوگوں کی آزمائش ہم نے اس درخت کو بنایا ہے۔ ہم ڈرا بھی رہے ہیں پھر یہ بڑی سرکشی میں بڑھے جاتے ہیں۔ (القرآن) اور یہ تفسیر ابنِ عباسؓ، عکرمہ مسروق، ابو مالک، ابنِ مبارک، سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی، مجاہد، قتادہ، ضحاک وغیرہم سے مروی ہے۔ ایک قول میں درخت پر لپٹ جانے والی بل دار بوٹی مراد ہے۔ بنوامیہ مراد ہونے پر ایک تفسیری قول بھی نہیں ہے۔ شیعہ تفسیر مجمع البیان جلد 3 صفحہ 424 میں بھی، ابنِ عباس، حسن بصریؒ سے درخت زقوم مراد ہے۔ ایک تفسیر میں یہودی مراد ہیں۔ ایک شیعہ تفسیر کا قول بنوامیہ کے متعلق ہے جو تفسیر قمی میں بھی ہے۔ دراصل سیاق اور مفہوم قرآن سے بالکل الگ ایک قسم کا یہ تحریفی قول بعض شیعہ کا ہے مگر اسے اہلِ سنت کی متفقہ تفسیر باور کرایا جا رہا ہے۔ یا للعجب۔
سوال نمبر 683: تطہیر الجنان میں ہے کہ تمام قبیلوں میں جنابِ رسول خدا کے نزدیک بنوامیہ اور معاویہ سب سے زیادہ قابلِ نفرت، شریر اور مضر لوگوں سے تھے۔ کیا سیدنا معاویہؓ کو ایسا سمجھنا سنّتِ رسولﷺ نہیں؟
جواب: بددیانتی کی انتہا ہے کہ ناقص سوال تو لے لیا اور جواب کو دیکھا نہیں، حدیث کے الفاظ یہ ہیں: کہ سب قبائل سے یا سب لوگوں سے حضور اکرمﷺ کو زیادہ ناپسند بنوامیہ تھے۔
ومعاوية من بنی امية فهو من الاشرار کا جملہ شیعہ معترض کا اپنا استدلال ہے حدیثِ رسولﷺ نہیں ہے۔ مگر مشتاقِ خیانت نے اسے حدیثِ نبویﷺ بنا کر ترجمہ غلط کر دیا۔ اس ناجائز استدلال کا جواب علامہ ابنِ حجر ہیتمیؒ نے یہ دیا ہے کہ معترض کا یہ فھو من الاشرار سے استدلال جہالت ہے۔ اسے تو علم کی ابجد بھی نہیں آتی۔ چہ جائیکہ گہرائی میں قدم رکھے کیونکہ اگر یہی نتیجہ مانا جائے تو لازم آتا ہے کہ حضرت عثمانِ غنیؓ اور حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ کو بھی اہلیتِ خلافت حاصل نہ ہو اور وہ اشرار میں سے ہوں۔ یہ مسلمانوں کے اجماع کا انکار ہے اور دین میں الحاد ہے۔ حدیث کی مراد یہ ہے کہ اکثر بنوامیہ شر اور بغض سے موصوف ہیں۔ یہ اس کے خلاف نہیں کہ قلیل بنوامیہ شریر نہ ہوں اور مبغوض نہ ہوں بلکہ وہ امت کے بہترین افراد اور بڑے اماموں سے ہیں۔ کیونکہ سیدنا عثمانؓ اور سیدنا عمر بن عبد العزیزؒ کی خلافتِ صحیحہ پر اتفاق ہے اور حضرت حسنؓ کی دستبرداری کے بعد حضرت امیرِ معاویہؓ کی خلافت پر بھی اجماع ہے اور ایسی صحیح احادیث آئی ہیں جو اجماع کی طرح عموم شریت سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو نکال دیتی ہیں۔ (تطہیر الجنان: صفحہ، 30)
کتب تاریخ میں شہادتِ سیدنا علی المرتضیٰؓ کا واقعہ پڑھیے کہ ابنِ ملجم کے معاون اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر سب سے پہلے حملہ آور شبیب بن عجرہ کو بنوامیہ کے ہی ایک شخص نے پکڑ کر قتل کیا۔ (صواعقِ محرقہ: صفحہ، 134 مطبوعہ ملتان) یہ سعادت امویوں کو حاصل ہوئی۔ رافضی متعہ باز کی قسمت کہاں؟ اگر بنوامیہ اتنے ہی برے تھے تو حضرت علی المرتضیٰؓ نے اپنے پاس ان کو کیوں رکھا تھا؟ اگر وہ دشمنِ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تھے تو پھر حملہ آور کو کیوں قتل کیا؟ نیز بتائیے زیاد کو آپؓ نے فارس کا گورنر کیوں بنا رکھا تھا؟
سوال نمبر 684: ترمزی میں ہے کہ حضورﷺ تین قبیلوں سے ناخوش گئے۔ بنی ثقیف، بنی خیفہ، بنو امیہ۔ اگر شیعہ خوش نہ ہوں تو سنت ہے یا بدعت؟
جواب نمبر 1: یہ موضوع ہے، منکر ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں، ربیع کچھ نہیں۔ نسائی اسے متروک الحدیث کہتے ہیں۔ ابو حاتم رازی کہتے ہیں: ابنِ ابی یعقوب مجہول ہے۔ (العلل المتناہیہ فی الاحاديث الواہيہ: صفحہ، 293)
جواب نمبر 2: بالفرض مانی جائے تو بھی ان کے کچھ افراد مراد ہیں، تمام نہیں۔ ورنہ حضرت ابو العاص بن ربیع حضرت عثمان، حضرت امِّ حبیبہ، حضرت ابوسفیان، یزید بن ابوسفیان، حضرت امیرِ معاویہ، حضرت سعید بن العاص، حضرت خالد بن العاص رضی اللہ عنہم سے بھی ناخوش ہونا چاہیے۔ حالانکہ ان سے یقیناً خوش تھے معلوم ہوا کہ شیعوں کا ہر کام بدعت اور مخالفِ سنت ہے جن سے حضور اقدسﷺ خوش تھے ان سے یہ دشمنی رکھتے ہیں اور جن کفار بنوامیہ سے آپﷺ ناراض تھے ان سے دشمنی کا شیعہ نے کبھی ذکر ہی نہیں کیا۔
سوال نمبر 685، 686: آفت سے بیزاری اختیار کرنا بہتر ہے یا نہیں؟ فرمانِ رسولﷺ ہے کہ ہر دین کے لیے ایک آفت ہے۔ دینِ اسلام کے لیے بنوامیہ آفت ہیں۔
جواب: موضوع حدیث ہے۔ پھر یہ حدیث مرفوع نہیں، حضرت ابنِ مسعودؓ کی طرف منسوب قول ہے۔ نعیم بن حماد نے فتن میں اسے روایت کیا ہے۔ اگرچہ بعض نے اسے صدوق کہا ہے لیکن ساتھ ہی وہمی کثیر الخطاء کہتے ہیں۔ زبانی حدیثیں بیان کرتے تھے۔ بہت سی منکر اس کے پاس تھیں جن کا تابع نہیں ہے۔ یحییٰ ابنِ معین نے کہا یہ حدیث میں کچھ نہیں۔ ابو داؤد نے کہا اس کے پاس بیس حدیثیں بے اصل ہیں۔ نسائی نے کہا ضعیف اور غیر ثقہ ہے۔ ابنِ حبان نے ثقات میں ذکر کر کے کہا کہ بہت دفعہ غلطیاں کرتا اور وہمی ہے۔ نسائی نے ضعیف کہا اور دوسرے واضع الحدیث کہتے ہیں۔ ابنِ عدی اسے متہم کہتے ہیں۔ (تہذيب التہذيب: جلد، 10 صفحہ، 461)
سوال نمبر 687: یزید نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی زندگی اور ولی عہدی میں بی بی (سیدہ) عائشہ صدیقہؓ سے نکاح کی خواستگاری کیوں کی؟ مدارج النبوة۔ جب کہ اُمُ المومنینؓ امت پر حرام ہے۔
جواب: حوالہ ناقص ہے اور روایت جھوٹی ہے۔ مدارج النبوۃ کا تمام باب عائشہ صدیقہؓ دیکھا۔ کہیں یہ ملعون بات نہیں ہے۔ ہاں یہ بات مل گئی کہ طبعی موت سے وفات پائی، کنویں میں گر کر وفات پانے کا قصہ روافض (لعنہم اللہ) کا من گھڑت ہے۔ (مدارج: جلد، 2 صفحہ، 599)
جب آپ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اُمّ المؤمنین کہتے ہیں تو آپ کے خلاف تبّرا و بکواس کا حرام کام بند کیجئے۔ ماں کی کردارکشی و عیب جوئی سے بیٹا حلالی نہیں رہ سکتا۔
سوال نمبر 688: حادثہ حرہ میں یزید نے اہلِ مدینہ کو ڈرایا۔ کیا وہ حدیثِ مسلم کے مطابق لعنتِ خدا و انس و ملک کا مستحق نہ ہوا؟
جواب: اس پر تبصرہ ہم سُنّی کیوں ہیں؟ کے آخری سوال میں ہم کر چکے ہیں۔
سوال نمبر 689: صواعقِ محرقہ میں ہے کہ یزید پلید نے ماں بیٹا، بہن بھائی کا نکاح جائز کر دیا تھا، کیا ایسا خلیفہ برحق ہو سکتا ہے جب کہ آج کل اسے خلیفہ راشد کہا جا رہا ہے۔
جواب: صواعقِ محرقہ اصل دیکھی۔ روایت واقدی سے ہے جو مثالب کی روایتیں خوب گھڑتا ہے پھر سند بھی مذکور نہیں ہے۔ یہ حقیقت نہیں سیاسی رقابت کا اظہار ہے۔ ورنہ اہلِ سنت متفقہ اس کی تکفیر کرتے۔
سوال نمبر 690: کثیر اہلِ سنّت یزید کو لعنتی کہتے ہیں بلکہ اکثریت نے اس کا کافر ہونا تسلیم کیا ہے۔ فرمائیے آج کل جو ہمدردانِ یزید اسے رحمۃ اللہ کہتے ہیں وہ سنّی ہیں؟
جواب: پہلی دو باتیں آپ کی بے دلیل ہیں ہمیں اتفاق نہیں جو رحمۃ اللہ کہہ رہے ہیں وہ بھی سنّی مذہب پر عمل نہیں کر رہے۔ آپ کی صحابہ دشمنی اور لعنتی پیشہ نے ان کو بطورِ ضد و مخالفت دوسری گمراہی میں ڈال دیا ہے۔
سوال نمبر 691: اگر یزید نیک تھا تو اس کے فرزند معاویہ بن یزید رحمۃ اللہ علیہ نے اسے فاسق، فاجر قرار دے کر تخت حکومت کو کیوں ٹھوکر ماری؟
جواب: ماشاء اللہ بنو امیہ کے ایک فرد کو تو آپ رحمۃ اللہ علیہ کہہ رہے ہیں ذرا اپنے سوال 683 کو مڑ کر دیکھیے، کہیں دشمنِ رسولﷺ تو نہیں بن گئے؟ ورنہ اپنا ناجائز استدلال تو واپس لیجیے۔ اس صالح و دین دار صاحبزادہ پر بھی آپ نے تہمت لگائی کہ اس نے والد کو فاسق و فاجر کہا۔ شیعہ نواز تاریخ طبری کا بیان ملاحظہ ہو: مجھ میں حکومت کا بار اٹھانے کی طاقت نہیں ہے۔ میں نے چاہا تھا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی طرح کسی کو اپنا جانشین بنا دوں یا سیدنا عمر فاروقؓ کی طرح چھ آدمیوں کو نامزد کر کے ان میں سے کسی ایک کا انتخاب شوریٰ پر چھوڑ دوں۔ لیکن نہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا کوئی نظر آیا، نہ ویسے چھ آدمی ملے اس لیے میں اس منصب سے دست بردار ہوتا ہوں۔ تم لوگ جسے چاہو خلیفہ بنا لو۔ حضرت حسنؓ کے بعد دست برداری کی یہ دوسری مثال تھی۔ (تاریخِ اسلام ندوی: صفحہ، 377)
سوال نمبر 692: حضرت معاویہ بن یزید نے دادا کو کیوں خاطی ٹھہرایا؟
جواب: شیعہ تو آپ جدید ہیں لیکن ان کے جھوٹ بولنے کی قدیم وراثت آپ کو پوری مل گئی ہے۔ ہم نے طبری دیکھ لی۔ یعقوبی کے حوالے پڑھے اور نجیب و ندوی کو بھی دیکھا۔ معاویہ بن یزید کے قصہ میں کہیں نہیں ہے کہ اس نے دادا کو قصور وار ٹھہرایا ہو۔
سوال نمبر 693: اگر یزید نیک تھا تو حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ نے اسے امیر المؤمنین کہنے والے کو بیس کوڑوں کی سزا کیوں دی؟
سوال نمبر 694: آج جو لوگ یزید کو امیر المؤمنین کہتے ہیں کیا دورِ عمرِ ثانیؒ میں ان کو یہ سزا نہ ملتی؟ پھر ابنِ تیمیہؒ، غزالیؒ اور محمود عباسی کی تحقیق کیا مقام رکھتی ہے؟
جواب: پہلا حوالہ درست ہے اس میں یہ بھی ہے کہ ایک شخص نے حضرت امیرِ معاویہؓ کو بُرا کہا تو اسے عمر ثانی نے تیس کوڑے لگائے۔ کیا اب خدا عمر ثانیؒ کی حکومت دے تو آپ کو تیس تیس کوڑے روزانہ لگنے سے عار تو نہیں ہو گی؟
ابنِ تیمیہؒ نے امیر المؤمنین نہیں کہا۔ وہ کہتے ہیں یزید کے متعلق لوگوں کے تین گروہ ہیں ایک کافر کہتا ہے۔(شیعہ)۔ ایک نبوت کا قائل ہے اور کم از کم برگزیدہ خلیفہ راشد مانتا ہے یزید نہ ایسا تھا نہ ویسا، بلکہ وہ بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا اور مسلمان تھا اس پر لعنت درست نہیں۔
حجتہ الاسلام امام غزالیؒ کی اپنی منفرد تحقیق ہے وہ لعن یزید کی نفی کر کے دعائے رحمت جائز و مستحب کہتے ہیں اور نمازوں میں مؤمنین و مسلمین کے لیے عمومی دعا میں اسے بھی شامل مانتے ہیں۔
سوال نمبر 695: قسطلانی شرح بخاری جلد 10 صفحہ 1076 میں لکھتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: میرے بعد میری امت فتنہ برپا کر کے حقوقِ اہلِ بیتؓ ضبط کرے گی۔ فرمائیں وہ کون سا پہلا حق غصب ہوا؟ غاصب کا کیا نام ہے؟
جواب: قسطلانی دستیاب نہ ہو سکی کہ سیاق و سباق سے مفہوم اخذ کیا جاتا۔ بظاہر یہ اشارہ قاتلینِ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف ہے۔ کیونکہ امت میں سب سے پہلا فتنہ انھوں نے برپا کیا۔ حضورﷺ کی دو صاحبزادیوں کے شوہر حضرت عثمان ذوالنورینؓ کو شہید کر کے خلافت غصب کی۔ قرآن و حدیث کے مطابق اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ، آلِ محمد و اہلِ بیتؓ نبوی ہیں۔ ان سے جنگ کرنے والے مصری کوفی بلوائی اس کا مصداق ہیں۔
عباسی کی تحقیق سے ہمیں اتفاق نہیں وہ مسلک اہلِ سنت سے ہٹا ہوا ہے۔
سوال نمبر 696: 500 سال پرانی تاریخ اسلام سے اصحابِ ثلاثہؓ کا نمازِ جنازہ دکھائیں؟
جواب: حضرت حسینؓ کو شیعانِ کوفہ بلا کر شہید کر دیں اور جنازہ نہ پڑھیں۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ابنِ ملجم جیسا قسمیہ حب دار علی شہید کر دے اور اہلِ بیتؓ مرتد شیعوں (خوارج) کے خوف سے حضرت علی المرتضیٰؓ کی قبر بھی چھپا دیں۔ آپ ان واقعات پر قیاس کر کے ان بزرگوں کا جنازہ نہ پڑھا جانا باور کراتے ہیں کہ زندگی اور موت دونوں میں تمام مسلمانوں کے محبوب و مطاع تھے اور سب دنیا دست بستہ خادم تھی۔ آج دل ان کی ایمانی محبت سے لبریز ہیں تو قیامت کے دن سب مسلمان حضورﷺ کے ہمراہ ان کے جھنڈوں تلے جمع ہوں گے۔
ہمارے خیال میں تاریخ کی سب سے معتبر و مفصل کتاب البدایہ والنہایہ لابنِ کثیر التوفی 772ھ ہے اور قدیم طبقات ابنِ سعد المتوفی 230 ہجری اچھی ہے۔ ان سے جنازوں کا مختصر بیان سماعت فرمائیں:
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیماری میں حضرت عمر فاروقؓ ولی عہد بنے۔ نمازیں پڑھاتے رہے۔ (البدایہ: جلد، 7 صفحہ، 18)۔ اور پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ (چار تکبیریں کہیں، قبر رسول اللہﷺ اور منبر کے درمیان جنازہ پڑھا گیا۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 55)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا جنازہ سیدنا صہیبؓ نے پڑھایا۔
چنانچہ البدایہ جلد 7 صفحہ 147 پر ہے جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور جنازہ لایا گیا تو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ و سیدنا عثمانِ غنیؓ دونوں لپکے کہ جنازہ پڑھائیں۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے کہا تم کو کچھ اختیار نہیں ہے یہ حق صرف حضرت صہیبؓ کا ہے جن کے متعلق سیدنا عمر فاروقؓ وصیت کر گئے ہیں۔ چنانچہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر جنازہ پڑھایا۔ مطلب بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دونوں پر مسجدِ نبویﷺ کے اندر منبر کے رو برو نماز پڑھی گئی۔ (طبقات ابنِ سعد: جلد، 3 صفحہ، 55)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے جنازہ کی تفصیلات گزر چکی ہیں۔ البدایہ جلد 7 صفحہ 191 پر ہے کہ سیدنا جبیر بن مطعمؓ نے یا سیدنا زبیر بن العوامؓ نے جنازہ پڑھایا اور شرکاء جنازہ میں حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت کعب بن مالکؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت علیؓ بن ابی طالب اور حضرت عثمانؓ کے ساتھیوں کی ایک جماعت تھی۔ عورتوں میں آپ کی بیوی سیدہ نائلہؓ اور حضرت ام البنینؓ نے بھی جنازہ میں شرکت کی۔
سوال نمبر 697: فرمانِ نبویﷺ ہے: علی خلیفتى عليكم من حياتی و فی مماتی فمن عصاه فقد عصانی۔ کہ حضرت علی المرتضیٰؓ میری حیات اور میری ممات میں تم پر خلیفہ ہے اس کا نافرمان میرا نافرمان ہے۔ کیا کسی اور صحابی کی شان میں کوئی ایسا حکم موجود ہے؟
جواب: روضتہ الاحباب بوگس اور غیر معتبر کتاب ہے۔ حدیث بے سند بلکہ باطل ہے۔ کیونکہ حضور اکرمﷺ کی زندگی میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے خلیفہ و حاکم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نبوت حضور اقدسﷺ سے چھین کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مل گئی؟ اس کے برعکس ایسی ہی روایت خطیب بغدادیؒ نے حضورﷺ سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنے دین اور وحی میں میرا خلیفہ بنایا ہے، تم اس کی بات سنو، نجات پاؤ گے۔ فرمانبرداری کرو ہدایت پاؤ گے۔ حضرت عباسؓ کہتے ہیں اللہ کی قسم لوگوں نے اطاعت کی تو ہدایت پائی۔ مگر یہ صحیح نہیں ہے۔ اس میں عمر بن ابراہیم کردی کمزور راوی ہے۔ (تنزيہہ الشريعتہ المرفوعہ عن الأخبار الشنيعتہ الموضوعہ على بن محمد الكنانی باب مناقب الخلفاء الاربعہ)
سوال نمبر 698: حضورﷺ مثیلِ موسیٰ ہیں (مزمل) قوم موسیٰ کے بارہ سردار مقرر ہوئے (مائدہ) کیا قوم محمدﷺ کے بھی سردار ہوں گے یا نہیں؟
جواب: تفصیل تو ہم سُنّی کیوں ہیں؟ حصہ اول میں دیکھیں۔ حاصل یہ ہے کہ مماثلت من کل الوجوہ نہیں پھر وہ بارہ سردار بارہ قبیلوں کے قبائلی سردار تھے، مذہبی نہ تھے۔ پھر بنصِ قرآن دو عہد پر قائم رہے اور دس غدار نکلے۔ کیا شیعہ اپنے بارہ اماموں کو ایسا ہی جانتے ہیں؟
سوال نمبر 699: پھر صحیح مسلم میں بارہ سرداروں والی احادیث کیوں درج ہیں؟
جواب: مسلم میں لفظ نقیب و امام نہیں کہ شیعہ کا استدلال تام ہو۔ بلکہ خلیفہ اور امیر کا لفظ آیا ہے۔ حضرت علیؓ و حضرت حسنؓ کے سوا باقی بزرگوں کو بالاتفاق منصبِ خلافت و امارت ملا ہی نہیں تو حدیث کا مصداق وہ بارہ حاکم ہیں جن کی امارت میں امتِ مسلمہ ایک رہی، دوسرا حاکم نہ ہوا، اگرچہ بعض کردار کے صاف نہ تھے تاہم خلافت و امارت کا مفہومِ حدیث ان پر صادق ہے۔ تفصیل تحفہ امامیہ سوال نمبر 20 میں دیکھیے۔
سوال نمبر 700: مسلم میں ہے کہ بارہ سردار قریش میں سے ہوں گے اور مودة القربیٰ وغیرہ میں ہے کہ یہ سردار قریش کے قبیلے بنی ہاشم میں سے ہوں گے
جواب: مودة القربیٰ غیر معتبر رافضیوں کی کتاب ہے قریش میں سے ہوئے جن میں بنو امیہ اور بنو عباس بھی شامل ہیں۔
سوال نمبر 701: کیا اہلِ سنت کے بارہ خلفاء قولِ رسولﷺ سے ثابت ہیں؟
جواب: حدیث میں صراحت نہیں۔ علماء نے ترتیبِ خلافت سے معین کیے کہ نبوی پیشین گوئی کا مصداق ہیں اور پیشین گوئی کی تعیین واقعہ کے بعد ہوتی ہے۔
سوال نمبر 702: شیعہ کے بارہ اماموں کے نام حدیث سے ثابت ہیں؟ (شواہد النبوة: صفحہ، 195)
جواب: بالکل جھوٹ ہے۔ اہلِ سنت کی کسی کتاب میں بھی حضورﷺ نے ان ناموں کی صراحت نہیں فرمائی۔ شواہد النبوة متاخر تقیہ باز شیعوں کی کتاب ہے جو ہرگز حجت نہیں۔ شیعہ کی اصولِ اربعہ میں بھی صحیح سند کے ساتھ ان ناموں کی صراحت نہیں۔ اصولِ کافی کتاب الحجۃ کی ایک روایت بھی نہیں جس میں رسول اللہﷺ نے ان بارہ اماموں کے نام بتائے ہوں یا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے بارہ نام ذکر کیے ہوں یا امام محمد باقرؒ امام جعفرؒ نے بارہ اماموں کے نام کی کوئی ایک روایت بھی بتائی ہو یا منقطع السنہ ہی انہوں نے قال رسول اللہﷺ فرما کر بارہ اماموں کے مسلسل مرتب نام بطور ائمہ و خلفاء ذکر کیے ہوں۔ میں تمام شیعوں کو ببانگِ دہل کہتا ہوں کہ اصولِ اربعہ سے ایک بھی بارہ اماموں کے صریح نام بنام والی روایتِ رسولﷺ دکھا دیں؟ فهل من مبارز-
یہ کوئی حجت و دلیل نہیں کہ نام نہاد ثقۃ الاسلام کلینی رازی المتوفی 329ھ ایک عقیدہ خود بنا لے پھر بوگس اقوال کی بھرمار سے کتاب الحجتہ قائم کرے۔ پھر اس میں باب الاشارة و النص علی فلان نام بنام لکھ کر اس مضمون کی غیر معتبر روایت کرے کہ ہر فوت ہونے والا پیشوا یہ کہے کہ فلاں میرا ولی وارث جانشین ہے۔ بھلا اس مفہوم کی بات یا وصیت ہر مرنے والا اپنی اولاد یا بڑے لڑکے کے حق میں کر کے جاتا ہے۔ اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ ایسے اوصیاء و امام واقعی بارہ تھے کم و بیش نہیں۔ پھر خدا و رسولﷺ کی طرف سے منصوص (نامزد کردہ) حجۃ اللہ معصوم مفترض الاطاعت اور مثلِ انبیاء دینی پیشوار تھے؟
الغرض عقیدہ امامت اثناء عشر ایک فرضی تھیوری اور نظریہ ہے۔ قرآن، حدیثِ نبوی، اجماعِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے ثابت کوئی مسئلہ نہیں۔ میں ہر شیعہ بھائی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے قریبی عالم و مجتہد سے بارہ اماموں کی امامت پر ناموں کے ساتھ قرآن و حدیث سے صریح دلیل طلب کرے پھر اس کی بے بسی اور ماہری کا تماشہ دیکھے۔ ان شاء اللہ حق مذہب تک رسائی ہو جائے گی۔ ورنہ کم از کم اتنا فائدہ تو ضرور ہو گا کہ بھاری بھاری فیسوں کے تاوان سے آپ بچ جائیں گے۔ اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ؟۔
سوال نمبر 703: مشکوٰة کتاب الفتن صفحہ 455 پر ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا میں اپنی امت میں گمراہ کرنے والے ائمہ سے ڈرتا ہوں، وہ کون سے امام تھے؟
جواب: لفظ امام پر آپ کیوں فخر کرتے اور امامیہ کہلاتے ہیں۔ جب کہ امام گمراہ اور گمراہ کن بھی ہوا کرتے ہیں۔ اس سے مراد بنو امیہ و بنو عباس کے بعض جائز حکام مراد ہیں۔ سنی شیعہ کا اس پر اتفاق ہے۔
سوال نمبر 704: کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے بارہ امام معاذاللہ مفصّل تھے؟
جواب: سنی اصول پر ہم نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ بزرگ صحیح العقیدہ مسلمان اور اولیاء اللہ میں سے تھے۔ مسلمانوں کو کوئی گمراہی کی تعلیم نہیں دی۔ ہماری کتبِ صحاح میں ان سے احادیث اور علمِ دین مروی ہے۔
ہاں شیعہ اصول اور ان کی ان سے روایت کردہ احادیث کی روشنی میں یقیناً کہتے ہیں کہ یہ شریعتِ محمدیہﷺ کو ختم کرنے والی گمراہانہ تعلیم ہے۔ تفصیل ہماری تحفہ امامیہ باب 8 میں پڑھیے۔ خلاصہ یہ کہ ان اماموں کی (بقولِ شیعہ) تعلیم نے نہ خدا کو وحدہ لا شریک مانا نہ رسولﷺ کو ہادی اور کامیاب تسلیم کیا، نہ حضور اکرمﷺ کی بیویاں اور بیٹیاں چھوڑیں، نہ صحابی و خلیفہ چھوڑا، نہ صرف امت کو خنزیر اور ولد الزنا کہا بلکہ شریعتِ محمدیہﷺ کے مقابل ایک نیا مذہب تصنیف کر دیا اور کتابِ خدا کو غار میں روپوش کر کے سب مسلمانوں کو گمراہ کر دیا اور ایسا گروہ تیار کر دیا جس کا کام صرف اور صرف ماتم و بین کرنا تقیہ کر کے دینِ حق چھپانا، تمام اگلی پچھلی امت کو تبّرے اور لعنتیں کرنا، متعہ کی عیاشی کرنا اور مسلمانوں کے خلاف منافرت پھیلانا اور سازشیں کرنا ہے۔ ایران کا اسلام سوز اور مسلم کش مذہبی انقلاب اس کی منہ بولتی تصویر ہے۔
سوال نمبر 705: اگر آپ ائمہ اہلِ بیتؓ کو برحق مانتے ہیں تو تمسک کیوں نہیں کرتے؟
جواب: اپنی کتب و تعلیم کے واسطہ سے اتباع کرتے ہیں۔ شیعہ زٹلیات کی نہیں کرتے۔
سوال نمبر 706: اگر تمسک کرتے ہیں تو ایک جدول تیار فرمائیں کہ کتنی احادیث ائمہ آلِ محمد سے آپ کی کتب میں مروی ہیں؟
جواب: الحمد اللہ شیعوں سے زیادہ مروی ہیں۔ ان کا ایک مختصر جدول اور مجموعہ، مسند اہلِ بیتؓ نور مبین من روايات الطيبين مؤلفه محمد بن محمد الباقری ہے جس میں 1607 احادیثِ نبوی و آثارِ اہلِ بیتؓ مروی ہیں۔ اور دیگر مطول کتابوں میں بہت سے آثار بکھرے ہوئے ہیں فرق یہ ہے کہ ہماری احادیث میں اہلِ بیتؓ خادمِ دین محمد ہیں۔ وہ قال رسول اللہﷺ سے کلامِ نبوت سناتے ہیں جبکہ کتب شیعہ میں ائمہ کی زبان سے کذاب و ملعون راوی عن ابی عبد اللہ، عن ابی جعفر کہہ کر اپنی یا ان کی بات سناتے ہیں۔ قال رسول اللہﷺ کہہ کر حدیثِ رسول کوئی نہیں سناتا الا ماشاء اللہ۔
سوال نمبر 707: آپ کے مہاجرین سے کیا مراد ہے؟
جواب: وہی جو خدا نے مہاجرین کی تعریف کر کے مراد لی ہے:
1: لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُهٰجِرِيۡنَ الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاَمۡوَالِهِمۡ يَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا وَّيَنۡصُرُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ۞ (سورۃ الحشر: آیت 8)
ترجمہ: (مالِ فے) ان فقیر مہاجرینؓ کا بھی حق ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے در بدر کیے گئے وہ اللہ کا ہی فضل اور اس کی خوشی چاہتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی مدد کرتے ہیں یہی لوگ تو سچے ہیں۔
2: فَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا وَاُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاُوۡذُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِىۡ وَقٰتَلُوۡا وَقُتِلُوۡا لَاُكَفِّرَنَّ عَنۡهُمۡ ۞(سورۃ آل عمران: آیت 195)
ترجمہ: پس جن لوگوں نے گھربار چھوڑا اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے۔ اور جنہوں نے (دین کی خاطر) لڑائی لڑی اور قتل ہوئے یقیناً میں ان کی غلطیاں معاف کر دوں گا اور ان کو جنّات میں داخل کروں گا۔
3: اۨلَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بِغَيۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ۞ (سورۃ الحج: آیت 40)
ترجمہ: جو لوگ اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے، صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمارا روزی رساں اللہ ہے۔
بحمد اللہ مہاجرین بھی ہمارے ہیں اور رب بھی ہمارا ہے شیعہ تو دونوں سے بیزار ہیں۔
سوال نمبر 708: کیا تمام مہاجرین نیک نیت اور صاحبانِ مراتب تھے؟
جواب: جی ہاں! بالا تین آیاتِ قرآنی اس پر گواہ ہیں۔
سوال نمبر 709: اگر سبھی مہاجرین صاحبِ فضیلت ہیں تو مشکوٰۃ شریف کی اس حدیث کا کیا مطلب ہے۔ اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے۔ الخ
جواب: یہ بطورِ اصول اور کلیہ ارشاد فرمایا کہ نیک نیتی حصولِ ثواب کے لیے شرط ہے بالفرض اگر کوئی دنیوی مقصد کے لیے ہجرت کرے گا تو ثواب و فضیلت سے محروم ہو گا۔ یہ ضروری نہیں کہ کسی دستور اور کلیہ کی موجودگی میں ضرور ہی عوام کو دو دھڑوں میں تقسیم کیا جائے ہو سکتا ہے کہ کسی دستور کے سبھی پابند نکلیں اور کوئی خلاف ورزی نہ کرے۔ مع ہٰذا قانون کی تعبیر دو شقوں سے کی جائے گی۔
یہاں حدیث کا شانِ نزول شخص خاص ہے جس کی منگیتر ہجرت کر آئی تھی تو اس نے شادی کی نیت سے مدینہ ہجرت کی۔ اس مسلمان سے آپ کو دشمنی ہے تو اسے مستثنیٰ کر لیجیے باقی ہزاروں مہاجرین کو صاحبانِ فضیلت و مراتب مانیے۔ اگر شخصِ واحد کی آڑ میں آپ ایک کلیہ تراشتے ہیں کہ سارے مہاجرین نیک نہ تھے پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سمیت دو چار افراد کے سوا سب کو ہی بدنیت اور منافق کہنے لگیں تو آپ سے بڑھ کر اسلام اور خدا و رسول کا منکر کوئی نہ ہو گا۔
سوال نمبر 710: جب حضور اکرمﷺ نے ہجرت کا معیار خلوصِ نیت قرار دیا ہے تو پھر سارے مہاجرین کو اس فضیلت کا حق دار کیوں کہتے ہیں؟
جواب: خدا نے تمام کو (صیغہ جمع اور استغراق کے ساتھ بلا استثناء) مخلص کہا ہے۔ پارہ 10 سورۃ الانفال کی آیات کا ترجمہ مع تفسیر مجمع البیان طبرسی ملاحظہ فرمائیں:
پھر اللہ تعالیٰ مہاجرین اور انصار کا ذکرِ خیر اور ان کی مدح و تعریف فرماتے ہیں جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یعنی خدا اور رسولﷺ کی تصدیق کی اور اپنے گھروں اور وطنوں کو چھوڑا یعنی مکہ سے مدینہ آ گئے۔ اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اس محنت کے ساتھ جہاد بھی کیا۔ اور جن لوگوں نے ان مہاجروں کو ٹھکانہ دیا اور مدد کی یعنی ان کو اپنا بنا لیا اور نبی کریمﷺ کی مدد کی یہی پکے اور سچے مومن ہیں۔ یعنی انہوں نے اپنے ایمان کو ہجرت اور مدد کے ساتھ ثابت کر دکھایا۔ برخلاف اس کے جو دار الشرک میں ٹھہرے رہے (ایمان ثابت نہ کر سکے)۔ (مجمع البیان: جلد،2 صفحہ، 562)
سوال نمبر 711: جب اعمال کا انحصار نیتوں پر ہو تو عمل کے ردِّ عمل اور نتیجے سے نیت کا خلوص و نفاق پہچانا جا سکتا ہے لہٰذا اگر کسی شخص کے اعمال کے نتائج برے برآمد ہوتے ہیں تو پھر اسے اجتہاد کے نقاب میں کیوں چھپایا جاتا ہے؟
جواب: صحابہ مہاجرین رضی اللہ عنہم کے عملِ ہجرت کے نتیجے میں مدینہ دارالایمان بن گیا مسلمان طاقتور ہو گئے دین و سیاست کا مرکز قائم ہو گیا جہاد شروع ہو گیا کفار بڑے بڑے لشکر لاتے ناکام اور ختم ہو کر واپس جاتے حتیٰ کہ 10 ہزار قدوسیوں نے مکہ مکرمہ فتح کر لیا کعبہ بتوں سے پاک ہو گیا دیگر اہلِ عرب فوج در فوج اسلام میں داخل ہو گئے تمام عرب پر مسلمانوں کا قبضہ اور کفر و شرک کا خاتمہ ہو گیا۔ ذرا بتائیں کہ یہ نتائج مضموم ہیں؟ اور انہی سے آپ صحابہ مہاجرینؓ کے نفاق کی شناخت کر رہے ہیں؟ یا پھر کیا آپ کے اپنے گروہ سمیت منافق ملحد زندیق اور دشمنِ خدا و رسولﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہونے میں کوئی کسر رہ گئی؟ نقابِ اجتہاد کی بھی خوب کہیں ذرا ہوش کے ناخن لیں اہلِ سنت نے اسی نقابِ اجتہاد کے قلعہ میں حضرت علی المرتضیٰؓ کی حفاظت کی ورنہ دشمنوں نے کیا کچھ نہ کیا۔ اب بھی نواصب کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عمداً قصاص نہ لیا، قاتلوں کو پناہ دی اور طالبانِ قصاص پر چڑھائی کر کے 70 ہزار مسلمان بواسطہ یا بلواسطہ شہید کر ڈالے۔ فرمائیے نقاب اجتہاد کے سوا آپ کیا بچاؤ کریں گے اور کیا جواب دیں گے۔
سوال نمبر 712: اگر خلوصِ نیت سے اہلِ بیتؓ سے محبت اور ان کے دشمنوں موذیوں سے عداوت رکھتا ہے تو کیا یہ مخلص نہیں ہے؟
جواب: آپ کے بقول نیت کا خلوص و نفاق عمل سے پہچانا جائے گا ذرا اس گروہ کا کوئی وفادرانہ اور مطیعانہ عمل تو ثابت کر دکھائیے۔ ہم اگر نہج البلاغہ اور دیگر کتبِ تاریخ سے اس گروہ کے کرتوت نقل کریں تو بات لمبی ہو جائے گی۔ (بطورِ نمونہ چند حوالے ہماری عدالتِ صحابہؓ صفحہ 90، 91 پر دیکھیں) لہٰذا ہم مذہبی اصطلاح سے شیعانِ علی کو ہرگز مخلص نہیں جانتے۔
سوال نمبر 713: کیا یہ نیک نیتی کی محبت اور عداوت باعثِ نجات ہے یا نہیں؟
جواب: ایک فرضی بات ہے نہ محبت ہے نہ نیک نیتی۔ یہ سب دعا دی، جوش و خروش کے ساتھ تاریخ میں مذکور انتشار اور مسلمانوں پر لشکرکشی حبِّ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہیں بغضِ سیدنا امیرِ معاویہؓ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اگر خلوص ہوتا تو یہ ضرب المثل مشہور نہ ہوتی۔ اگر اخلاص ہوتا حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے فاضل و شجاعت حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابل اپنے مقاصد میں ناکام نہ ہوتے۔ اگر شیعہ علی نیک نیت ہوتے تو حضرت علیؓ یہ تمنا اور بد دعا کبھی نہ کرتے۔ اے اللہ میں ان سے تنگ آ گیا یہ مجھ سے تنگ آ گئے میں ان سے دکھی ہوں یہ مجھ سے دکھی ہیں۔ اے اللہ مجھے (موت دے کر) ان سے آرام نصیب فرما اور ان کا اس شخص سے سابقہ پیدا کر کے مجھے یاد کریں۔ (جلاء العیون: صفحہ، 184)
اگر خلوص ہوتا تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ یہ ارشاد نہ فرماتے: اللہ کی قسم حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ میرے لیے بہتر ہے اس جماعت سے جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ میرے شیعہ ہیں لیکن مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا اور میرا مال لوٹ لیا۔ (منتہی الآمال: صفحہ، 232)
اور خلوص و ایمان ہوتا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلا کر شہید کرنے والے یہ بددعا اور القابات نہ لیتے۔
پس تم پر اور تمہارے ارادوں پر لعنت ہو بے وفاؤ! ظالمو! غدارو! ہمیں مجبوری کے وقت اپنی امداد کے لیے بلایا۔ (جیسے آج بھی یا حسین یا علی مدد کے نعرے لگاتے ہیں) جب ہم نے بات مان لی اور تمہاری ہدایت اور امداد کے لیے آ پہنچے تو تم نے دشمنی کی تلواریں ہم پر کھینچ لیں اپنے دشمنوں کی ہمارے خلاف مدد کی اور خدا کے دوستوں سے ہاتھ اٹھا لیا۔ بس تمہارے چہرے بدشکل اور منہ کالے ہوں اے امت کے گمراہو کتاب اللہ کو چھوڑنے والو (کہ غار میں امام مہدی کے پاس چھپا دی) گروہوں میں بٹنے والو اہلِ تشیع (شیطان) کے پیروکارو، سنت خیر الانام چھوڑنے والو، پیغمبر کی اولاد کے قاتلو، الخ (جلاء العیون: صفحہ، 391 منتہی الآمال: صفحہ، 346)
سوال نمبر 714: کیا محبوبِ خدا اور رسولﷺ کی محبت ہدایت یافتہ ہونے کا باعث ہے یا نہیں؟
جواب: یقیناً ہے تبھی تو ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ والے محبوبِ خداوندی) کے ہم محب اور ہدایت یافتہ ہیں اور ان کے دشمنوں کو خدا کا دشمن اور ہدایت سے محروم جانتے ہیں۔
سوال نمبر 715: کیا اعلانیہ دشمن محبوب رسولِ خداﷺ سے دشمنی رکھنا چاہیے یا محبت یا دو رخی پالیسی اختیار کر کے خاموش رہنا چاہیے؟
جواب: تمام محبوبِ خدا و رسولﷺ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمنوں سے دشمنی رکھنی چاہیے محبت ہرگز نہ کی جائے دو رخی پالیسی منافق اور دوزخیوں کا کام ہے کہ منافقانہ کلمہ پڑھنے کی طرح بظاہر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مسلمان بھی کہہ جاتے ہیں اور دل سے ان کو معاذ اللہ مومن نہیں مانتے اور ان سے کافرانہ دشمنی رکھتے ہیں۔
سوال نمبر 716: جب سارے صحابی عادل ہیں اور ستارے ہیں کسی ایک کی پیروی کر لینا ہی کافی ہے تو پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے پیروکاروں کی پیروی آپ کیوں کافی نہیں جانتے کیا جنابِ امیر زمرہ اصحاب و نجوم سے باہر ہیں؟
جواب: آپ واقعی بزرگ صحابی اور نجم ہدایت ہیں ہم ان کی پیروی کرتے ہیں شیعوں کی طرح نافرمان نہیں جس کا نمونہ سابق گزرا مگر یہ حصر نہیں مانتے کہ صرف ان کی پیروی کریں اور باقی سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا انکار یا نافرمانی کریں؟ بايھم اقتديتم اهتديتم کا مطلب یہ نہیں کہ کسی ایک کی پیروی ہی کافی ہے۔ باقی سب سے دشمنی رکھی جائے بلکہ مثبت مطلب اتنا ہے کہ کسی بات میں کسی صحابی کی مخلصانہ اور دیانت دارانہ پیروی کرنے والا ہدایت پر ہو گا گمراہ نہ ہو گا۔ گو دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کا عمل مختلف ہو اور امت کے لیے فروعی اجتہادی مسائل میں اس سے آسانی پیدا ہوئی اور دور دراز دیہاتوں ملکوں تک پہنچنے والے مبلغین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پیروی کی سند مل گئی۔
سوال نمبر 717: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اجتہادی، غیر اجتہادی اختلافات تو تھے ہی افتراق سے بچنے کی یہ صورت ہے کہ اس صحابی کی اتباع کی جائے جس پر اکثریت اتفاق کرے۔ آپ کا جھکاؤ جمہوری رائے کی طرف ہے؟
جواب: جب اجتہادی اختلافات کا وجود آپ اصولاً مانتے ہیں تو ایک مجتہد دوسرے مجتہد کا مقلد نہیں ہوا کرتا۔ اسے اپنے صوابدید رائے اور اجتہاد پر عمل کرنا ناگزیر ہے اور جمہوری طرزِ فکر میں بھی یہ اسے قانونی حق حاصل ہے اب صرف ایک صحابیؓ اور امام کی رائے پر عمل لازمی قرار دینا گویا اسے نبوت کا حق دینا ہے اس سے باقیوں کا حق سلب ہو گا۔ لہٰذا جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فروع میں پیروی ہو گی۔ دیگر مجتہدین کی بھی کی جائے گی۔ اس سے حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عائشہ اور حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہم کے پیروکاروں کا گمراہی سے محفوظ ہونا ثابت ہوا۔
سوال نمبر 718: کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سنی شیعہ کی مشترکہ مسلمہ ہستی نہیں؟
جواب: اب تمام مسلمانوں کی طرف نسبت سے بات کرنی ہو گی۔ بے شک اب سنی و شیعہ کے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مسلمہ امام ہیں تو دیگر خارجی ناصبی فرقے ان کو اپنا امام نہیں مانتے۔ اگر آپ ان کو اس وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں تو ٹھیک اسی دلیل سے ہم آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ فرقہ مانتے ہیں۔ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کو ماننے والے اب 95 فیصد سوادِ اعظم اہلِ سنت مسلمان ہی یہ حق رکھتے ہیں کہ حضرت علیؓ کی تابعداری تمام خلفائے راشدینؓ سمیت کریں اور وہ قانون نافذ کرائیں جو خلافتِ راشدہ میں متفقہ اور معمول بِہا رہے۔ کیونکہ صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ماننے پر خارجی، ناصبی خوش نہیں۔ صرف خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کو ماننے پر رافضی شیعہ خوش نہیں اور جمہوری 95 فیصد کی اکثریت سے بالترتیب چاروں کے ماننے سے کسی فرقہ کو شکایت نہیں رہتی کیونکہ چاروں خلافتوں کے اصول و ضوابط یکساں تھے اور ہر گروہ کو اپنی مرضی کے مطابق ہدایت ان چاروں نجوم ہدایت سے حاصل ہو جاتی ہے۔
سوال نمبر 719: اتحاد قائم کرنے اور اختلافات دور کرنے کا اس سے بہتر اور کوئی حل ممکن ہے کہ شیعہ و سنی مشترکہ خلیفہ کو مرکز ہدایت مان کر سارے جھگڑے ختم کر دیں؟
جواب: اتحاد کا معقول طریقہ تو ہم بتا چکے ہیں کہ اس میں مدعی اسلام ہر فریق کو اپنا اپنا حق مل جاتا ہے لیکن اگر آپ اپنی ضد پر اڑے ہیں تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی حکومت کا قانون نافذ کرائیے اور ایک تابعی کے نام سے فقہ جعفری نافذ کرانے کا مطالبہ واپس لیجیے۔ یہ خیال غلط کر دکھائیے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ نے اپنے دورِ حکومت میں تقیہ کیا تھا اور حق چھپا کر باطل کی حکومت چلائی اور اس کی سرپرستی کی پھر اپنے سب مذہب کو سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافتِ ظاہرہ باہرہ کی کسوٹی پر پرکھیے جو مطابق ہو نافذ کرائیے جو ناجائز اور بدعت و اضافہ ہو اسے چھوڑ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی پیروی کیجیے کیونکہ آپ کے بقول سیدنا علیؓ کے دستخط کے بغیر کوئی مسئلہ ہدایت والا نہیں بن سکتا۔ کیا عہدِ مرتضوی میں امام باڑے تھے؟ ذوالجناح اور ماتمی جلوس نکلتے تھے؟ کھلے ہاتھ نماز پڑھی جاتی تھی؟ زکوٰۃ و عشر کا نظام شیعوں کے لیے الگ تھا؟ سیدنا جعفر طیارؒ مظلوم کا تعزیہ یا حضور اکرمﷺ کی قبر مبارک کی تشبیہہ پوجی جاتی تھی۔ اس پر ماتم ہوتا تھا؟ سیاہ لباس اور مکانوں پر کالے جھنڈے لگے ہوتے تھے؟ اور علی ولی اللہ والی اذان اور کلمہ پڑھا جاتا تھا؟ مرثیہ خواں ذاکروں کا ٹولہ ہوتا تھا؟ خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم پر تبّرا ہوتا تھا؟ یا علی مدد کا نعرہ لگتا تھا؟ شہداء کے یومِ شادت منائے جاتے تھے؟ متعہ شریف چالو تھا؟ اگر ایسا کچھ بالکل نہ تھا نہ دنیا کی کسی کتاب میں ثبوت مل سکتا ہے تو ان امور سے توبہ کیجیے کہ یہ دین نہیں ہے۔ ورنہ حضرت علی المرتضیٰؓ اور آپؓ کے پیروکار اور اہلِ بیتؓ اس دین سے محروم نہ ہوتے اور یہی امور ملتِ اسلامیہ میں باعثِ افتراق ہیں۔ ان کا چھوڑنا ہی سنی و شیعہ کو ایک مسلم قوم بنا دے گا۔
اب ذرا ان امور کو خلافتِ مرتضویؓ میں تلاش کیجیے جن کا اپنانا آپ بڑی مصیبت اور انکار کرنا اپنا مذہب جانتے ہیں کہا عہدِ مرتضویؓ میں بیس تراویح نہیں پڑھی جاتی تھی؟ کیا قاضی خلفاءِ ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے طریقوں پر فیصلہ نہ کرتے تھے؟ کیا از الحمد سے والناس تک قرآن نہیں یاد کیا جاتا تھا؟ کیا خلفاءِ ثلاثہ رضی اللہ عنہم کی کھلے بندوں تعریف اور تفضیل نہ ہوتی تھی؟ کیا خطبات نہج البلاغہ اس پر گواہ نہیں؟ کیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو حضرت علیؓ نے مصالحت کر کے باعزت مدینہ روانہ نہ کیا تھا؟ کیا اہلِ شام و سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے برابر ایمانیات رکھنے والا مؤمن بھائی نہ کہا تھا؟ کیا آخر حکومت میں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی خود مختاری تسلیم کر کے وصولی محاصل کی اجازت نہ دے دی تھی؟ (طبری) کیا یہ فرما کر حضرت امیرِ معاویہؓ کی حکومت کو جائز نہ کر دیا؟
لا تكرهوا امارة معاويه فوالله لو انكم فقد تموه رءيتم الرؤس تندرٔعن کو اھلھا کانما الحنظل (البدایہ: جلد، 8 صفحہ، 131 وتاریخ الحلفاء)
ترجمہ: لوگو تم سیدنا امیرِ معاویہؓ کی حکومت کو ناپسند نہ کرو باخدا اگر تم نے ان کو گم کر دیا تو دیکھو گے کہ سر اپنے کندھوں سے حنظل کی طرح کٹ کٹ کر گریں گے۔
کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہاتھ باندھ کر نماز نہ پڑھتے تھے اور کیا کافر کو مسلمان کرتے وقت کلمہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہﷺ ہی نہ پڑھاتے تھے؟ کیا سیدنا علیؓ کو مشکل کشا، حاجت روا، رب و پروردگار کہنے والے سبائیوں کو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے زندہ نہ جلا دیا تھا؟ کیا جمل و صفین کے موقع پر قاتلانِ سیدنا عثمانؓ پر پھٹکار نہیں کی تھی؟ کیا آپؓ طرفین کے شہداء جمل اور صفین کاجنازہ نہ پڑھتے تھے اور ان کو شہید نہیں کہتے تھے؟ کیا اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی بدگوئی کرنے والے دو شخصوں کو 100، 100 درّے نہ لگائے؟ کیا یہ نہ فرمایا تھا جو مجھے حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے افضل کہے گا میں اسے جھوٹے کی سزا درّے ماروں گا؟ کیا خلفاءِ ثلاثہؓ کے پیچھے نمازیں نہ پڑھی تھیں؟ کیا ان کے مشیر ہفتی اور قاضی و جلاد نہ تھے؟ کیا ان سے تنخواہ نہ لیتے تھے؟ اگر یہ سب باتیں حقیقت ہیں اور کتبِ شیعہ، تاریخ و سیرت سے یقیناً ثابت ہیں تو سیدنا علی المرتضیٰؓ کے شیعہ اور تابعدار ہونے کا ثبوت دیجیے، خود ان باتوں کو اپنائیے حکومت سے قانونِ مرتضوی پاس کرائیے۔مسلمانوں کے ساتھ بصورت تقیہ ہی سہی گھل مل کر رہیے۔ خدا آپ کو سنی مسلمانوں کے ساتھ متحد کر دے۔ آمین
سوال نمبر 720 تا 724: حدیث سفینہ مثل اہل بیتی کسفینۃ نوح من رکبھا نجا ومن لم یرکبھا ھلک سے متعلق ہے اور یہ کمزور یا موضوع ہے لہٰذا سوالات ختم ہو گئے تفصیل یہ ہے کہ روایات مستدرک کی ہے۔ اس کا ایک راوی مفصل بن صالح ہے امام ذہبیؒ فرماتے ہیں صرف ترمذی نے اس سے روایت کی سب نے اس کو ضعیف کہا ہے۔ (مستدرک: جلد، 2 صفحہ، 343)
امام بخاری رحمۃ اللہ اور ابو حاتمؒ اسے منکر الحدیث کہتے ہیں امام ترمذیؒ کہتے ہیں اہلِ حدیث کے ہاں ثقہ نہیں ہے۔
وقال ابنِ حيان یروی المضطربات عن الثقات فوجب ترک الاحتجاج به (تہذیب التہذیب: جلد، 10 صفحہ، 272)
ترجمہ: ابنِ حیان کہتے ہیں ثقہ لوگوں سے غلط اور بے معنیٰ روایتیں کرتا ہے تو اس سے دلیل نہ پکڑنا واجب ہے۔
سوال نمبر 725: آپ کے ہاں کلمہ گو مسلمان کو کافر کہنے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے اسی بناء پر آپ یزید اور قاتلانِ سیدنا حسینؓ کو کافر کہنے سے خاموش ہیں تو پھر شیعوں کو کافر کہہ کر قتلِ عام کیوں کرایا؟
جواب: جب کوئی شخص کلمہ پڑھتا ہے اور سب ایمانیات کا اقرار کر لیتا ہے اور سابق کفریہ مذہب و عقائد سے توبہ کر لیتا ہے تو مسلم ہو جاتا ہے۔ اسلام اس کی جان و مال اور عزت کا محافظ ہے اور جو شخص چوری، زنا، قتل وغیرہ کا ارتکاب کرے تو اس فعل سے فاسق ہو جاتا ہے کافر نہیں ہوتا۔ الا یہ کہ گناہ جائز سمجھ لے۔ پھر شرعی حد قصاص وغیرہ کی سزا دنیا میں باقاعدہ پا لے تو آخرت میں پاک و بری سمجھا جائے گا۔ اب رہا وہ شخص جو ظاہراً سب ایمانیات کا اقرار کرے مگر دل سے کسی بات کو سچا نہ سمجھے وہ منافق ہوتا ہے۔ ایسا شخص اقرار میں بھی کسی چیز کا انکار کر دے یا کفریہ عقیدہ ساتھ ملا لے تو مرتد اور کافر سمجھا جائے گا۔ جیسے منکرینِ زکوٰۃ اور متنبی کذاب کو مرتد قرار دے کر جنگ کی گئی۔ شیعہ گروہ کو کہتے ہیں۔ عہدِ اول میں شیعہ سیدنا عثمانؓ، شیعہ سیدنا علیؓ، شیعہ سیدنا امیرِ معاویہؓ تین گروہ تھے۔ سب کو کافر نہیں کہا گیا بلکہ سب سے پہلے شیعانِ حضرت علیؓ کی اس سبائی غالی گروہ کو حضرت علی المرتضیٰؓ نے کافر و مرتد قرار دے کر آگ میں جلایا جو آپؓ کو رب، مشکل کشا، خدائی صفات والا کہنے لگے۔ پھر وہ جو قرآن کے منکر بنے دنیا میں موجود قرآن کو بدلا ہوا اور کفر کے ستونوں سے بھرا ہوا ماننا اور اصلی قرآن کے متعلق یہ عقیدہ گھڑ لیا کہ وہ تو اماموں نے صرف اپنے پاس چھپا رکھا تھا اور اب مہدی رحمۃ اللہ کے پاس غار میں ہے۔
جو لوگ چار پانچ افراد کے سوا تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مرتد یا منافق کہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایمانی صحابیت کا انکار کریں۔ نصوص اور اجماع برحق سے ثابت خلافتوں کا انکار کریں۔ ان کا بھی یہی حکم ہے۔ جو اپنے 12 اماموں کو رسولوں سے افضل اور حضور اکرمﷺ کے برابر درجہ میں مانیں اور ان کو معصوم مفترض الطاعة صاحبِ وحی و کلمہ کہیں اور ان سے اختلاف رکھنے والے کو کافر کہیں۔ وہ چونکہ ختمِ نبوت کی حقیقت کا انکار کرتے ہیں یا شرک فی الرسالت کرتے ہیں لہٰذا وہ بھی کفر سے بچ نہیں سکتے۔
یزید سے ان کفریات کا صدور نہیں ہوا قاتلانِ حضرت حسینؓ قاتلانِ حضرت عثمانؓ میں سے مفاد پرست لوگ تھے۔ لہٰذا ہم ان کے دین و ایمان کی گواہی نہیں دیتے۔
اب کچھ شیعوں کو ماضی میں کافر کہا گیا یا مسلمانوں پر چڑھائی کے ردِّعمل میں ان کا کہیں قتل ہوا تو اس کی وجوہ ظاہر تھیں ورنہ مطلقاً شیعوں کو نہ ہم کافر کہتے ہیں نہ قتل کرتے ہیں۔
سوال نمبر 726: کیا کوئی شیعہ اہلِ بیتؓ منکر کلمہ ثابت ہے؟
جواب: لفظوں کا تو منکر نہیں جیسے مرزائی نبوت محمدیہ کا منکر نہیں۔ کسی عہدہ میں برابر کا اضافہ اور شرک بھی کفر ہوتا ہے جیسے مرزائی مرزا کو نبی ماننے سے کافر ہو گئے اس طرح امام کا کلمہ بنا لینے سے شیعہ نے شرک فی الکلمہ کا جرم کیا اور مسلمان نہ رہے۔
سوال نمبر 727، 728: خلافت کو یا اصولِ دین سے مانیں یا ہم سے جھگڑا چھوڑیں
جواب: ان دو سوالوں کا جواب ہم سنی کیوں ہیں سوال نمبر 35 میں دیکھیے۔ خلافت کو بالکل توحید رسالت کی طرح اصولی سمجھنا ہی شرک فی النبوت اور جھگڑے کا باعث ہے۔ فروعی مانیں تو سنی شیعہ نزاع ختم ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر 729: اگر پیر جیلانی کے اعتقاد میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کے سُم کا غبار باعثِ نجات ہے تو خاکِ کربلا کے احترام پر شیعہ پر کیوں اعتراض کرتے ہو؟
جواب: اس گھوڑے پر جہاد فی سبیل اللہ ہوا اور کوئی کافر نہ چڑھا تب یہ فضیلت ہوئی۔ اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کے غبار کے متعلق آپ بھی ایسا کہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن صدیوں بعد آپ نے ایک جگہ سے مٹی کریدنی شروع کی اور اس کی ٹکیاں بنا کر (بتوں کی طرح) پوجنی شروع کر دیں۔ حالانکہ یہ کوئی یقین نہیں کہ یہیں سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا گھوڑا گزرا تھا اور دشمنوں کے گھوڑے نہ گزرے یا ان کا پلید خون اس مٹی میں جذب نہیں ہوا۔ اہلِ بیتؓ تو شہید یا اسیر تھے۔ دشمنوں میں سے کس عقیدت مند نے اس جگہ کو محفوظ و معین اور متبرک بنا لیا تھا؟ جب محض وہم ہی وہم ہے تو اسے یقینی سمجھنا اور شرک و بدعت کا کاروبار چمکانا قابلِ اعتراض ہے۔
سوال نمبر 730: جب خلیفہ راشد کے دشمن کی شان ایسی ہے تو دوسرے خلفاء کے دشمنوں پر طعنہ زنی کیوں کر درست ہو گی؟
جواب: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور تہمت سے برأت ہو چکی۔ شیعہ دشمنی خلفاء کا اقرار کرتے ہیں تو ہر مقر گرفتار ہو کر اپنی سزا پاتا ہے۔ لہٰذا ہم خلفائے راشدینؓ کے دشمنوں کو مطعون و ملعون جانتے ہیں۔
سوال نمبر 731: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلفاء ثلاثہؓ کے نام جو بیٹوں کے نام رکھے ان سے خلفاء کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی جیسے آپ کے ایک بیٹے کا نام حضرت عبدالرحمٰنؓ تھا اسی طرح حضرت حسنؓ اور سیدنا زین العابدینؒ نے عبدالرحمٰن نام رکھا کیا ان کو قاتلِ امیر المؤمنین سے محبت تھی؟
جواب: نام دو اعتبار سے رکھا جاتا ہے۔
1: فی نفسہٖ نام کا مفہوم و استعمال اچھا ہو، اور شرعاً رکھنے کا حکم بھی ہو جیسے عبداللہ، عبدالرحمٰن وغیرہ۔ یہ بالفرض کسی دشمن کے بھی نام ہوں یہ اپنے معنوی مفہوم و فضیلت کے لحاظ سے رکھے جائیں گے۔
2: نام کے الفاظ میں تو خاص مدح و ذم نہ ہو مگر اپنے کسی بزرگ و محبوب کا وہ مشہور نام ہو تو یہ نام بزرگ کی عقیدت و محبت ظاہر کرنے کے لیے رکھا جائے گا۔ اب حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ حضرت عثمان غنیؓ کے جو نام حضرت علی المرتضیٰؓ نے یا حضرت حسینؓ نے اپنی اولادوں کے رکھے وہ ان کے پہلے مسمیّٰ سے عقیدت کی وجہ سے رکھے۔ ورنہ نام میں نفسہٖ لفظی حسن نہ ہو۔ شرح نے بھی مستحب نہ بنایا ہو اور ہو بھی دشمنوں کے خاص نام تو اسے کون رکھ سکتا ہے؟ شیعوں کے ہاں عبدالرحمٰن، شمر، ابوبکر، عمر اور عثمان کا نام آج بھی نہیں رکھا جاتا کیونکہ یہ دشمنوں کے نام ہیں۔ معلوم ہوا کہ اہلِ بیتؓ کے ہاں سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم محترم تھے تبھی ان کے نام رکھے۔
سوال نمبر 732: محمد نام کائنات کا بہترین نام ہے جبکہ قاتلِ حضرت حسینؓ و اہلِ بیت محمد بن اشعث کا یہ نام تھا۔ تو کیا اس کی فضیلت کا سبب ہے؟
جواب: یہ نام فی نفسہٖ بھی محبوب ہے اور ذات کے لحاظ سے بھی۔ دوست اور دشمن ہر کوئی رکھتا ہے اور صرف نام و نسبت پر فضیلت یا نجات کے (شیعہ عقیدہ کے مطابق) ہم قائل نہیں شکر ہے کہ ایک کٹر شیعہ اور فرزند شیعہ کو آپ نے قاتلِ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ مان لیا۔ اپنی کتابیں غور سے دیکھیے۔
سوال نمبر 733: اگر آپ کا مفروضہ مان لیا جائے تو خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم نے اپنے اولادوں کے نام اہلِ بیتؓ کے اسماء پر کیوں نہ رکھے کیا ان کو اہلِ بیتؓ سے محبت نہ تھی؟
جواب: پچھلا عقیدت مند پہلے محبوب بزرگ کا نام رکھتا ہے پچھلے (حضرت حسین و حضرت علی رضی اللہ عنہما) جب پہلوں کی اولاد ہوتے وقت یا پیدا نہ ہوئے تھے یا شہرت و بزرگی کو نہ پہنچے تھے تو کوئی کیسے ان کا نام رکھتا۔
مع ہٰذا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک بیٹے کا نام محمد اور بیٹی کا نام کلثوم اسی عقیدت سے رکھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی تین بیٹیوں رقیہ، فاطمہ، زینب کے نام آنحضورﷺ کی بیٹیوں کے نام پر رکھے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے حضرت عبداللہ اصغر بن سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بنتِ رسول اللہﷺ اور عبداللہ اکبر حضور اکرمﷺ کے بیٹوں کے نام پر رکھے گئے اور مریم نام کی دو بیٹیوں اور عائشہ کے نام مسمیات سے عقیدہ کی بناء پر رکھے گئے۔ (یہ تفصیل ریاض النضرہ از محب الطبری سے لی گئی۔)
سوال نمبر 734: کیا ائمہ کا اپنی اولاد کا یہ نام رکھنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ شیعوں کو ان ناموں سے کدورت نہیں بلکہ ان کے افعال و مسمیات سے ہے آپ پھر کیوں کہتے ہیں کہ شیعہ ثلاثہ کا نام سننا گوارہ نہیں کرتے؟
جواب: خلفاء ثلاثہؓ کے نام اہلِ بیتؓ ائمہ نے رکھے جو ان کے عقیدت مند تھے شیعوں نے اپنی اولاد کے کبھی یہ نام نہ رکھے، کیونکہ وہ ان کے دشمن اور مذہبِ ائمہ کے مخالف ہیں۔ اپنی 12 صدیوں کی تاریخ میں 12 ایسے شیعہ بتائیں جنہوں نے یہ نام رکھے۔ اگر شیعہ واقعی اہلِ بیتؓ کے محب اور ان کے مذہب پر ہیں تو اولاد کے نام ابوبکر، عمر اور عثمان رکھیں۔ سنی شیعہ اتحاد کا نسخہ اکثیر ہے۔
سوال نمبر 735: روضہ کافی میں ایک واقعہ کی بنیاد پر آپ کہتے ہیں کہ سیدنا زین العابدینؒ نے یزید کی بیعت کر لی۔ کیا آپ کسی معتبر تاریخ سنی و شیعہ سے ثابت کر سکتے ہیں کہ یزید مدینہ میں آیا
جواب: بیعت کے لیے ضروری نہیں کہ یزید مدینہ آئے تب ہو۔ دمشق میں یا بواسطہ نائب مدینے میں ہو سکتی ہے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے (سابقاً مذکور) فرمان پر ایمان لائیں کہ ہم میں سے ہر ایک نے سوائے مہدی کے اپنے وقت کے خلیفہ کی بیعت کی ہے۔ (جلاء العیون) دراصل یہ بات خط و کتابت سے طے ہو گئی تھی۔ تاریخِ طبری جلد 5 صفحہ 484 پر ہے:
کہ یزید نے مسلم بن عقبہ کو مدینہ بھیجتے وقت یہ وصیت کی تھی:
سیدنا علی بن حسینؓ کا خیال رکھنا اس سے جنگ نہ کرنا اس سے بہترین سلوک کرنا اور اپنی مجلس کے قریب بٹھانا۔ اس لیے کہ اس نے بغاوت میں کچھ حصہ نہیں لیا۔ جس میں دوسرے لوگ داخل ہو گئے میرے پاس اس کا اطاعت نامہ آیا ہے۔ حضرت زین العابدینؒ کو یہ پتہ نہ تھا کہ یزید نے مسلم کو خاص وصیت کر کے بھیجا ہے۔ جب بنو امیہ شام کی طرف نکلنے لگے تو حضرت زین العابدینؒ کو مروان نے اپنا سامان حفاظت کے لیے دیا تھا اور اس کی بیوی عائشہ بنتِ سیدنا عثمان بن عفانؓ کے ساتھ آپ گاؤں چلے گئے اور اس کے بچے اپنی سواری پر اٹھا لے کر مدینہ سے اس لیے چلے گئے کہ اس بغاوت میں شرکت کو ناپسند کیا۔ (طبری: جلد، 5 صفحہ، 685)
روضہ کافی صفحہ 234 (جہاں بقول مشتاق بیعت یزید کرنا مرقوم ہے) محشی نے لکھا ہے:
یہ عجیب بات ہے کیونکہ سیرت نگاروں کے ہاں مشہور یہ ہے کہ خلافت کے بعد یہ ملعون مدینہ نہیں آیا بلکہ شام سے ہی نکلا یہاں تک کہ مر کر دوزخ میں داخل ہوا۔ شاید یہ واقعہ اس ملعون کے والی مسلم بن عقبہ کے ساتھ پیش آیا جسے یزید نے اہلِ مدینہ کے ساتھ جنگ کے لیے بھیجا تھا اور واقعہ حرہ پیش آیا اور بلاشبہ یہ بات منقول ہے کہ حضرت علی بن حسینؓ اور مسلم بن عقبہ کے مابین اسی قسم کا واقعہ پیش آیا تو بعض راویوں پر مشتبہ ہو گیا۔ (کہ مسلم کے بجائے یزید کا نام لکھ دیا) انتہیٰ۔
راقم الحروف مہر محمد عرض گزار ہے کہ یہ بات قرین قیاس ہے اور طبری جلد 5 صفحہ 493 پر واقعہ یوں لکھا ہے کہ جب حضرت علی بن حسینؓ مسلم کے پاس آئے تو اس نے اٹھ کر مرحباً و اھلاً خوش آمدید کہی پھر اپنے تخت اور قالین پر بٹھایا اور کہنے لگا۔ امیر المؤمنین نے پہلے سے مجھے آپ کے متعلق وصیت کی ہے اور کہا ہے کہ ان (باغی) خبیثوں نے مجھے الجھا کر تیری دلداری اور صلہ رحمی سے روکا ہے پھر کہنے لگا شاید تمہارے اہلِ خانہ گھبرا گئے ہوں۔ زین العابدینؒ نے کہا جی ہاں خدا کی قسم پھر سواری منگوائی اور زین ڈال کر سوار کرایا اور گھر بھیج دیا۔
اطاعتِ یزید اور بغاوت سے کنارہ کشی تو آپ پہلے سے کیے ہوئے تھے۔ مسلم نے اس ملاقات میں عزت و احترام سے سب باتوں کی تصدیق کی۔ بقولِ مسعودی قدموں پر گرا مرعوب ہو کر معذرت کی۔ مروان وغیرہ بنو امیہ کی مدد کر کے عملاً اس کا ثبوت دیا۔ بس اسی چیز کو شیعہ راویوں نے جل کر واقعہ مسخ کر کے یزید یا ولید کا حضرت زین العابدینؒ کو ڈرانا اور یزید کا خود کو غلام مجبور کہنا چاہے بیچو، چاہے رکھو کا اختیار دینا نقل کر دیا ہے تو روضہ کافی کا یہ واقعہ بیعتِ اصل کے لحاظ سے سچا ہے۔ الفاظ اور ادائیگی میں بغض و عناد سے مسخ شدہ ہے۔