کسی ایک شخص سے دعوتی مشن کا وجود نہیں ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واجب ہے
علی محمد الصلابیسیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی کے قصے سے یہ بھی سیکھا کہ دعوتی مشن کسی بھی صورت میں حتیٰ کہ مسلمانوں کے قائد، امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو جانے پر بھی نہیں رک سکتا، بیعت کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو تقریر کی تھی اس میں اس بات کی وضاحت کی تھی کہ اس دین کی خدمت کے لیے مسلسل اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔
(قصۃ بعث أبی بکر جیش أسامۃ: صفحہ 27)
ایک روایت میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا یہ قول وارد ہے:
فَاتَّقُوا اللّٰہَ اَیُّہَا النَّاسُ وَاعْتَصِمُوْا بِدِیْنِکُمْ وَ تَوَکَّلُوْا عَلَی رَبِّکُمْ فَإِنَّ دِیْنَ اللّٰہَ قَائِمٌ ، وَإِنَّ کَلِمَۃَ اللّٰہَ تَامَّۃٌ، وَ إِنَّ اللّٰہَ نَاصِرٌ مَنْ نَصَرَہُ ، وَمُعِزُّ دِیْنِہِ وَاللّٰہِ لَا نُبَالِيْ مَنْ أَجْلَبَ عَلَیْنَا مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ ، إِنَّ سُیُوْفَ اللّٰہِ لَمَسْلُوْلَۃٌ وَمَا وَضَعْنَاہَا بَعْدُ ، وَلَنُجَاہِدَنَّ مَنْ خَالَفَنَا کَمَا جَاہَدْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم لَا یُبْغِیَنَّ أَحَدٌ إِلَّا عَلَی نَفْسِہِ۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 213، 214)
’’اے لوگو! اللہ سے ڈرو، دین کا دامن مضبوطی سے تھام لو، اپنے رب پر بھروسا کرو، اللہ کا دین قائم رہنے والا ہے، اللہ کی بات پوری ہو کر رہنے والی ہے، اللہ اس کا مددگار ہے، جو اس کے دین کی مدد کرتا ہے، وہ اپنے دین کو سرفراز کرنے والا ہے، ہمارے خلاف جو بھی صف آراء ہو ہمیں اس کی پروا نہیں ہم اللہ کے بندوں کی تلواریں بے نیام ہیں، جو بھی ہماری مخالفت کرے گا ہم اس سے ضرور جہاد کریں گے، جس طرح ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کیا تھا، جو بھی بغاوت کرے گا وہ اپنے نفس کے خلاف کرے گا۔‘‘
لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی کے قصے سے حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے یہ سبق بھی سیکھا کہ تکلیف و آرام ہر حال میں حکم نبویﷺ کو بجا لانا مسلمانوں پر واجب ہے، چنانچہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے فعل سے ثابت کردیا کہ وہ فرامین نبوی پر سختی سے جمے رہنے والے ہیں، خوف کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو، خطرات کتنے سخت ہی کیوں نہ ہوں، آپ ان کو بجا لانے والے ہیں، چنانچہ اس موقع پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:
وَالَّذِیْ نَفْسُ أَبِیْ بَکْرٍ بِیَدِہِ لَوْ ظَنَنْتُ اَنَّ السِّبَاعَ تَخْطِفُنِيْ لَأَنْفَذْتُ بَعْثَ أُسَامَۃَ کَمَا أَمَرَ بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم وَلَوْ لَمْ یَبْقَ فِی الْقُرَی غَیْرِيْ لَأَنْفَذْتُہُ۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 45)
’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوبکر کی جان ہے اگر مجھے یقین ہو جائے کہ درندے مجھے اچک لیں گے تب بھی حکم نبوی کے مطابق لشکر اسامہ کو بھیجوں گا، اگر میں یہاں تنہا باقی رہ جاؤں تب بھی بھیجوں گا۔‘‘
اپنے اس کارنامے سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اس فرمان الہٰی کو عملی جامہ پہنایا:
وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٍ وَّلَا مُؤۡمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَمۡرًا اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهُمُ الۡخِيَرَةُ مِنۡ اَمۡرِهِمۡ وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيۡنًا ۞
(سورۃ الأحزاب آیت 36)
ترجمہ: اور جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا حتمی فیصلہ کردیں تو نہ کسی مومن مرد کے لیے یہ گنجائش ہے نہ کسی مومن عورت کے لیے کہ ان کو اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔ اور جس کسی نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، وہ کھلی گمراہی میں پڑگیا
مسلمانوں کو یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کی مدد اور عزت کو اتباع نبوی سے مربوط کردیا ہے، چنانچہ جو بھی نبی کی اطاعت کرے گا اسے مدد اور غلبہ حاصل ہوگا اور نافرمانی کرنے والے کے ہاتھ ذلت و رسوائی کے علاوہ کچھ نہ لگے گا، امت کی زندگی کا راز اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع میں ہے۔
(الانشراح و رفع الضیفق بسیرۃ أبی بکر الصدیق للصلابی: صفحہ 227، قصۃ جیش اسامۃ: صفحہ 227)