فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں)
مولانا مہرمحمد میانوالیسوال نمبر 736: علامہ وحید الزمان اہلِ حدیث نے کنوز الدقائق صفحہ 13 پر لکھا ہے کہ مردار اور خنزیر کی ہڈی پاک ہے۔ جب سور اور مردار کو قرآن نے حرام قرار دیا ہے تو علامہ صاحب نے ایسے کیوں تحریر کیا؟
جواب: آخر عمر میں شیعہ ہو گئے تھے اس لیے ایسا لکھا ورنہ مسلمانوں کے ہاں سب سور اجزاء سمیت نجس ہے ہاں شیعہ کے ہاں خنزیر کے بالوں کی رسی پاک ہے اس سے کنویں سے پانی نکالنا وضو کرنا درست ہے۔ (فروعِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 45 اور جلد، 2 صفحہ، 103 ط لکھنؤ)
نیز بال اور پشم سب پاک ہیں۔ ایضاً الفقیہہ صفحہ 50 پر ہے کہ جس کپڑے پر شراب اور خنزیر کی چربی لگی ہو اسے دھوئے بغیر نماز پڑھنا جائز ہے۔
نیز خنزیر کی ہڈی کا پاک ہونا علامہ کا اپنا اجتہاد ہے کیونکہ وہ پہلے غیر مقلد تھے باقی سب اہلِ مذاہب اور مقلدین سور کی ہڈی بال چمڑا ہر چیز کو نجس کہتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے رجس گندگی کہا ہے۔
سوال نمبر 737: ہر زندہ حیوان طاہر جسم ہے۔ (فقہ مالکی)
جواب: مطلب یہ ہے کہ لعاب پسینہ اور پانی سے بدن گیلا نہ ہو خشک ہو تو ایسا کتا وغیرہ کپڑوں سے چھو جائے یا اس پر ہاتھ لگ جائے تو کپڑا اور ہاتھ پلید نہ ہوں گے۔ عمومِ بلوٰی میں سہولت کے لیے امام مالک رحمۃ اللہ کا یہ فتویٰ ہے دیگر ائمہ کا نہیں۔
سوال نمبر 738: کتے کے جھوٹے پانی سے وضو کیوں جائز ہے تیمم کیوں نہیں؟ (حاشیہ بخاری: صفحہ، 29)
جواب: 75 فیصد احناف کے ہاں یہ پانی نجس ہے دیگر مذاہب میں بھی مطلقاً جائز نہیں۔ پھر آپ نے خیانت کی کہ ساتھ ہی تیمم کرنے کی بات نہیں لکھی ورنہ بخاری میں ہے یہ زہریؒ کا قول ہے۔ سفیان ثوریؒ قرآن سے استدلال کرتے ہیں کہ جب تم پانی نہ پاؤ تو تیمم کرو۔ یہ پانی تو ہے مگر دل میں کھٹک ہے۔ لہٰذا وضو اور تیمم دونوں کیے جائیں۔ مولانا احمد علیؒ استدلال کی وجہ یہ بتاتے ہیں چونکہ ماء نکرہ تحت النفی ہے۔ نفی کے سیاق میں ہے تو عام ہو گی۔ (یعنی کوئی بھی پانی نہ پاؤ) تو تخصیص دلیل سے ہو گی۔ لہٰذا احتیاطاً تیمم کا بھی اضافہ کرے۔ کیونکہ ماء مشکوک ہے۔ عبادت میں احتیاط چاہیے اور شیعہ کے ہاں تو کتے کے لکے ہوئے پانی سے وضو جائز ہے۔ الاستبصار جلد، 1 صفحہ، 19 پر روایت ہے کہ امام صادقؒ سے پوچھا گیا کہ جس پانی کو کتے نے، بلی نے لکا ہو یا اس سے اونٹ وغیرہ جانور نے پانی پیا ہو کیا اس سے وضو یا غسل کیا جائے گا؟ فرمایا ہاں مگر اس کے علاوہ اور پانی ملے تو اس سے پرہیز کر۔
سوال نمبر 739، 740: کوئی سنی سور کا گوشت کھا لے کیا حد شرعی لگتی ہے اگر حد نہیں لگاتے تو سنیوں کو لحم الخنزیر کھانے میں کیا عذر ہے؟
جواب: گوشت کھانا حرام ہے مگر حرام خوری پر شریعت حد نہیں لگاتی۔ سود و رشوت اور مردار خوری پر آپ کیا حد لگاتے ہیں؟ ہاں تعزیری سزا 39 کوڑے تک دی جا سکتی ہے۔ اہلِ سنت نصِّ قطعی کی بناء پر لحم خنزیر نہیں کھا سکتے یہ شیعہ نہیں کہ حرام کھا کر مونچھوں پر ہاتھ پھیریں یا علی مدد کہہ کر منہ پاک ہو جائے۔
سوال نمبر 741، 742: کیا وطی فی الدبر جائز ہے؟ تو خلافِ فطرت کام کیسے جائز ہوا؟
جواب: ناجائز و حرام ہے۔
سوال نمبر 743: اگر ناجائز ہے تو سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے جواز کا فتویٰ کیوں دیا؟
جواب: بہتانِ محض ہے ہم پہلے تردید کر چکے ہیں۔ در منشور کا ترجمہ غلط کیا ہے۔ بلکہ وطی فی الدبر خود شیعہ کا محبوب مشغلہ ہے۔ فروعِ کافی جلد 2 صفحہ 234 پر ہے:
میں نے امام رضا سے پوچھا آپ کے غلام نے مجھے آپ سے مسئلہ پوچھنے کا حکم دیا ہے کیونکہ وہ ڈرتا اور آپ سے شرماتا ہے ہم نے کہا کون سا مسئلہ؟
قلت الرجل ياتى امرته فی دبرها قال ذلك له قلت تفعل قال انا لا نفعل ذلك۔ (فروعِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 234)
ترجمہ: میں نے کہا ایک شخص اپنی بیوی کو مقعد میں لواطت کرے۔ امام نے کہا یہ اسے جائز ہے۔ میں نے کہا آپ ایسا کرتے ہیں۔ کہا ہم یہ کام نہیں کرتے۔
فقہ شیعہ کی معتبر کتاب المختصر النافع مصنفہ علامہ ابن الحسن الحلی المتوفیٰ 676 ہجری کتاب النکاح صفحہ 194 پر ہے:
الثانيه وطی الزوجه فی الدبر فيه روايتان اشھرھما الجواز على الكراھية
ترجمہ: دوسرا مسئلہ کیا بیوی سے لواطت کرنا درست ہے اس میں دو روایتیں ہیں مشہور تر جواز ہے ناپسندیدگی کے ساتھ۔
سوال نمبر 744 تا 748: بابت روایات واہیہ در منشور
جواب: در منشور طبقہ رابعہ کی ایسی کتاب ہے جس میں رطب و یابس غلط اور صحیح سب کچھ ہے کیونکہ مصنف رحمۃ اللہ نے پہلے کسی بھی موضوع پر مثبت و منفی بکھری ہوئی روایات کو جمع کیا تھا پھر دوبارہ نظر ثانی تصحیح یا تہذیب و تنقیح کی موت نے مہلت نہ دی اور وہ اسی طرح چھپ کر اہلِ بدعت کا گھاٹ بن گئی۔ پھر ترتیب مذاہب سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بالعموم پہلے صحیح ترین ماثور روایات تفسیر نقل کرتے ہیں پھر دوم و سوم نمبر پر ضعیف و غلط سب کچھ لکھتے ہیں۔ جو کچھ انہیں ملے پھر سند لکھ کر پڑتالِ صحت کی ذمہ داری قاری پر ڈالتے ہیں۔
آیت نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّكُمۡ فَاۡتُوۡا حَرۡثَكُمۡ اَنّٰى شِئۡتُمۡ
(تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں اپنی کھیتی میں جیسے چاہو آؤ۔) کے تحت امام سیوطیؒ نے سب سے پہلی صحیح تفسیر روایات یہ نقل کی ہیں:
1: نسائی طبرانی ابنِ مردودیہ نے ابوالنظر سے روایت کی ہے کہ اس نے نافع مولیٰ سیدنا ابنِ عمرؓ سے کہا آپ پر کافی لے دے ہو رہی ہے کہ آپ نے حضرت ابنِ عمرؓ سے اتیان نساء فی الدبر کا فتویٰ نقل کیا ہے فرمایا كذبوا علی لوگوں نے مجھ پر جھوٹ باندھا ہے میں حقیقت حال بتاتا ہوں سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما قرآن پڑھ رہے تھے میں پاس تھا جب نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّكُمۡ تک پہنچے تو کہنے لگے اے نافع کیا تو اس آیت کا شانِ نزول جانتا ہےمیں نے کہا نہیں تو کہنے لگے ہم قریشی جب مدینہ آ گئے اور انصار کی عورتوں سے شادی کی ہم نے حسبِ منشاء جماع کرنا چاہا تو انہوں نے ناپسند کیا اور بڑا قبیح جانا کیونکہ انصاری عورتوں سے یہودی عورتوں کی طرح صرف پہلو کی سمت سے (سمت پشت سے نہیں) جماع کیا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّكُمۡ (کہ کھیتی میں چاروں سمت سے آ سکتے ہو)
دارمی نے سیدنا سعید بن یسار سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا تحمیض کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں؟
قال وما التحميض فذكر الدبر قال وهل يفعل ذلك احد من المسلمين (در منشور: جلد، 1 صفحہ، 265 )
ترجمہ: حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تحمیض کیا چیز ہے؟ سائل نے و بزرنی کا ذکر کیا تو سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کیا کوئی مسلمان ایسا بھی کر سکتا ہے؟
ان دو تفصیلی روایتوں سے پتہ چل گیا کہ سیدنا ابنِ عمرؓ پر یہ بہتانِ محض ہے جس نے بھی لگایا یا لکھا ہے وہ بری ہیں۔ جانب پشت سے مقام توالد میں جماع کے قائل تھے جس کی اجازت قرآن نے دی۔ مگر غلط فہم راویوں اور شیعوں نے اسے بگاڑ کر طعن بنا دیا۔ اسی طرح امام مالک رحمۃ اللہ اور اس امام شافع رحمۃ اللہ پر بھی بہتانِ محض ہے ان کی کتب برملا تردید کرتی ہیں۔
سوال نمبر 749: بیوی سے مداعبت کی ایک صورت؟
جواب: فتاویٰ برہنہ میں تو یہ صورت مکروہ لکھی ہے۔ ہاں یہ مذہب شیعہ کی تعلیم ہے اور وہ فخر سے بلیو پرنٹ نظارے کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی شرم گاہ کو بوہے دیتے ہیں۔ شیعہ کی معتبر ترین کتاب فروع کافی جلد 5 صفحہ 497 باب النوادر (مطبوعہ ایران جدید) میں ہے کہ سیدنا علی بن جعفرؒ نے امام ابو الحسن (رضا) سے مسئلہ پوچھا:
عن الرجل یقبل قبل المرءة قال لا بأس
ترجمہ: کہ ایک شخص عورت کی شرم گاہ چومتا ہے؟
امام نے فرمایا کچھ حرج نہیں۔
اثناء عشری عورت کی شہوت تو حد سے زائد ہوتی ہے تبھی تو ان کے لیے متعہ جائز ہوا۔ وہ جواباً اپنے منہ میں کیسے نہ۔ ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہی ویسی سنی
دوسری روایت میں ہے کہ امام صادق رحمۃاللہ سے پوچھا گیا:
اينظر الرجل الى فرج امرءته وهو يجامعها قال لا بأس وهل اللذه الا ذلك
ترجمہ: کیا آدمی جماع کے وقت بیوی کی شرم گاہ دیکھتا رہے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ لذت تو صرف اسی شکل میں ہے۔ (ایضاً)
سوال نمبر 750: اس فتاویٰ میں ہے مالک اگر باغلام خود یا منکوحہ خود لواطت کند حد نسیت
جواب: یہ بات بھی شیعہ مذہب کی تعلیم ہے فروع کافی سے ہم عبارت لکھ چکے ہیں کہ لواطت زن پر کوئی گناہ نہیں ہے تو حد کیسے؟
اسلام اور مذہب اہلِ سنت میں حرام ہے اور فائل کو دیوار وغیرہ سے گرا کر قتل کی سزا ہو گی۔ امام ابنِ حزم لکھتے ہیں کہ اس کی وجوبی سزا میں علماء نے اختلاف کیا ہے کچھ دونوں کو آگ میں جلاتے ہیں کچھ دونوں کو بلند پہاڑ وغیرہ سے گرا دینے اور پتھر برسانے کے قائل ہیں۔ کچھ مفعول پر رجم کہتے ہیں خواہ محصن ہو یا نہ ہو اور فاعل کو اگر محصن ہو تو رجم ورنہ زنا کی سزا کوڑے لگواتے ہیں اور کچھ تعزیر کے قائل ہیں۔ (محلی ابنِ حزم: جلد، 8 صفحہ، 460)
سوال نمبر 751: اجنبی عورت سے دبر زنی؟
جواب: گناہ ہے، تعزیری سزا ہو گی۔ حد خاص، یعنی سنگساری وغیرہ، اس لیے نہیں ہے کہ یہ فعل عین زنا نہیں ہے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کی سزا میں اختلاف کیا ہے۔ آگ میں جلانا، دیوار گرا دینا، اونچی جگہ سے گرا کر لگاتار پتھر مارنا اور زنا کی حقیقت بھی نہیں پائی جاتی کیونکہ اس سے نہ حرامی بچہ پیدا ہوتا ہے، نہ نسب مشتبہ ہوتا ہے۔ (ہدایہ: جلد 2 صفحہ، 516)
معلوم ہوا کہ اس فعل خبیث پر حد تو نہیں مگر خط کشیدہ الفاظ کی تعزیر حد سے بھی سخت ہے۔ صاحبینؒ کے فتویٰ میں اجنبیہ سے دبر زنی اور کسی سے لواطت پر حد ہے۔ محصن ہو تو رجم ہے ورنہ 100 کوڑے ہیں۔ امام شافعی رحمۃ اللہ کے ہاں لوطی کو قتل کیا جائے گا۔ (الجوہرۃ النیرہ: جلد، 2 صفحہ، 220)
سوال نمبر 752: مردہ عورت سے زنا، لڑکے سے اغلام اور حیوان سے بدفعلی پر حد شرعی نہیں ہے۔
جواب: تینوں فرضی قلیل الوجود صورتیں ہیں۔ فعل زنا کی تعریف صادق نہیں آتی، شریعت میں حتیٰ الامکان حد کو ٹالنے کا حکم ہے لہٰذا سنگساری کی حد نہیں ہے ہاں گناہ ہے۔ تعزیری مذکورہ بالا سزا لازمی ہے جسے خائن شیعہ نقل نہیں کرتے کیونکہ یہی تو ان ذاکروں، ملنگوں کا دھندا ہے خود زد میں آ جائیں گے۔
ہدایہ: جلد، 2 صفحہ، 517 پر ہے جانور سے بدفعلی حقیقتہً زنا نہیں ہے کیونکہ سلیم الطبع اس سے متنفر ہوتا ہے یہ تو بے وقوفی اور حد سے زائد شہوت بھڑکنے کا نتیجہ ہے۔ اس لیے جانور کا ستر ڈھانپا نہیں جاتا ہاں تعزیری سزا دی جائے گی کیونکہ جس جرم پر حد نہ لگ سکے تو تعزیر لگتی ہے۔ فتاویٰ قاضی خاں: جلد، 4 صفحہ، 414 کتاب الحدود فصل فی التعزیر میں ہے۔ لوطی کو امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ کے ہاں تعزیری سزا ہو گی اور صاحبینؒ کے ہاں لوطی کو حد زنا لگے گی اور اگر مفعول بہ بالغ ہو تو بھی تعزیر یا حد زنا جاری ہو گی۔
تعزیری کوڑے 39، 75، 79 ہیں اور تعزیر کی ضرب زانی کی ضرب سے سخت ہے۔ (ایضاً) شیعہ کے ہاں حد نہیں کوڑوں کی سزا ہے۔ (الفقیہ)
سوال نمبر 753، 754: حیوان سے بدفعلی پر روزہ دار پر کفارہ نہیں۔ (قاضی خاں)
جواب: فعل کی حرمت اور سزا کا وجوب تو واضح ہے مگر کفارہ شریعت نے اس شخص پر لاگو کیا ہے جو روزہ عمداً کھانے، پینے اور جماع سے توڑے۔ بالا صورت ان میں نہیں آتی تو کیا شیعوں کی طرح ناجائز قیاس کر کے مسئلے بدل دیئے جائیں؟
شیعہ کی الفقیہ: جلد، 4 صفحہ 36 پر ہے کہ امام باقرؒ سے جانور سے بدفعلی کرنے والے کے متعلق مسئلہ پوچھا گیا تو فرمایا یجلد دون الحد و یفرم قیمۃ البھیمۃ لصاحبھا۔ کہ اسے کوڑے لگائے جائیں، حد نہیں اور مالک کو جانور کی قیمت تاوان ادا کرے۔ الخ۔ معلوم ہوا کہ بعینہٖ زنا نہیں تو کفارہ بھی صائم پر عائد نہ ہو گا۔ آثم ہو کر قضا کرے گا۔
مذہب شیعہ کی بے حیائی، عیاشی اور ہوس رانی کا کیا کہنا کہ متعہ دوریہ کے نام سے دس بیس شیعہ ایک عورت سے چمٹے رہتے ہیں۔
قاضی نور اللہ شوشتری نے مصائب النواصب میں لکھا ہے:
نواں مسئلہ: ہم شیعوں کی طرف یہ منسوب ہے کہ بہت سے آدمی ایک رات میں ایک عورت سے متعہ کریں۔ خواہ عورت کو حیض آتا ہو یا بند ہو چکا ہو اس میں خیانت کر کے ایک قید چھوڑ دی ہے:
وذٰلک ان اصحابنا قد خصوا ذٰلک بامرءۃ قد ایست لا بغیرھا من ذات الاقراء۔
ترجمہ: وہ یہ کہ ہمارے شیعہ علماء نے متعہ دوریہ اس عورت سے کرنا خاص کیا ہے جس کا حیض بند ہو جائے۔ دیگر حیض والی عورتوں سے متعہ دوریہ جائز نہیں۔
یہ آئسہ عورت عموماً معمر ہو گی۔ شیعہ متعہ پہلوان تو اس کی ہڈیاں بھی توڑ دیں گے۔
شیعہ پاک مذہب کے یہ کتنے پیارے کام
سوال نمبر 755: لونڈی کی بہن سے نکاح؟ (ہدایہ)
جواب: خائن پیشہ شیعہ۔ صورت مسئلہ کیسے مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔ ہدایہ کی پوری عبارت کا ترجمہ یہ ہے۔ اپنی باندی جس سے وطی کر چکا ہے۔ کی بہن سے اگر نکاح کیا تو نکاح صحیح ہے کیونکہ اہلیت والے نے کیا اور محل کی طرف مضاف ہے۔ نکاح تو جائز ہے مگر پہلی باندی سے وطی نہ کرے۔ اور منکوحہ سے بھی وطی نہیں کر سکتا اس لیے کہ منکوحہ حکماً موطؤہ بن گئی ہے۔ اب اس منکوحہ سے وطی اس لیے ناجائز ہے کہ دونوں بہنیں اکٹھی رکھنا جائز نہیں ہاں اس وقت وطی کرے گا۔ جب وہ پہلی موطؤہ باندی کو اپنے اوپر کسی سبب سے حرام کر لے (مثلاً بیچ دے، ہبہ کر دے۔ کہیں بیاہ دے) تب منکوحہ سے وطی کرے۔ کیونکہ اب وطی میں جمع اختین نہ ہوا۔ اور اگر پہلے مملوکہ سے وطی نہ کی تھی تو منکوحہ سے وطی کر سکتا ہے کہ اب وطی جمع اختین کی نہیں ہے کیونکہ باندی مملوکہ حکماّ موطؤہ نہیں ہے (ہدایہ عربی: جلد، 2 صفحہ، 308)
عبارت کا مفہوم کتنا واضح ہے اور حکمِ قرآنی کے مطابق ہے مگر شیعہ خائن یہ پابندی نقل ہی نہیں کرتا: کہ جب پہلی باندی کو اپنی ملکیت سے نکال دے۔ اس منکوحہ سے وطی کرنا جائز ہی نہیں۔ صرف نکاح اس لیے درست ہے کہ ایک ایسی عورت سے نکاح کیا ہے جس کی بہن نکاح میں نہیں ہے۔ (تو جمع اختین در نکاح نہ ہوا) مگر چونکہ اس سے وطی کا تعلق ہو چکا ہے تو اس سے وطی نہ کرے گا۔ تاکہ حکمِ قرآنی جمع بین الاختین فی الوطی کے خلاف نہ ہو۔ محرم ہونے کے لحاظ سے بیوی کی بہن، بھانجی، بھتیجی یکساں ہیں پھر شیعہ ان سے نکاح کیوں جائز کہتے ہیں کیا یہ جمع بین المحارم نہیں۔ (توضیح المسائل: صفحہ، 284)
سوال نمبر 756: فتاویٰ برہنہ میں ہے کہ اگر مرد یا عورت ایک دوسرے کی شرم گاہ کو ملیں (ہاتھ لگائیں) تو کوئی حرج نہیں ثواب کی امید ہے۔ کیا کُتی کُتے کا نقشہ مکمل نہ ہو گیا؟
جواب: مساس اور ہاتھ لگانے کا یہ عمل فعل جماع کا مقدمہ اور ذریعہ ہے۔ جب وطی شرعاً مطلوب ہے کہ طلبِ اولاد کے علاوہ زوجین کے حقوق کی ادائیگی ہے جو اطاعتِ شریعت اور موجب قربت ہی ہے تو ذریعہ جائز ہوا۔ یہ کام سب شیعہ بھی کرتے ہیں ورنہ بغیر شہوت و تحریک و مساس ان کا نطفہ کیسے علوق کرے تو کیا سب شیعہ کُتیاں کُتے ہیں؟ اب اپنی طرف سے بریکٹ بڑھا کر یہ لکھنا (خواہ ہاتھ کے ساتھ، خواہ منہ کے ساتھ، خواہ زبان کے ساتھ اس کی کوئی قید نہیں ہے) اپنی شیعہ عادتیں بتانا ہے کیونکہ لُغت میں تو مساس اور چھونا ہاتھ لگانے سے لکھا ہے۔ رہا شیعہ کا شرم گاہ کو چومنا (اور چاٹنا) تو اس پر سوال 749 میں فروع کافی کے حوالہ سے شیعہ امام کا فتویٰ ہم نقل کر چکے ہیں۔
رہا رطوبت کا پاک ہونا تو یہ مذی ودی کی طرح ہے اور مذہب شیعہ میں یہ سب چیزیں پاک ہیں۔ شیعہ کی اصولِ اربعہ میں سے معتبر کتاب من لا یحضرہ الفقیہ صفحہ 14 پر ہے:
کہ امیر المؤمنین مذی نکلنے سے وضو ٹوٹنا نہ مانتے تھے اور جہاں مذی لگی ہوتی اسے دھونا بھی لازم نہ کہتے تھے۔ مروی ہے مذی اور ودی (مرد و عورت کی رطوبت) تھوک اور کھنگار کی طرح ہے اس سے نہ کپڑا دھویا جائے نہ عضو تناسل۔ انتہیٰ بلفظہٖ۔
اب جس مذہب میں یہ رطوبت ذکر و شرم گاہ تھوک کی طرح پاک ہے اور وہ ایک دوسرے کی شرم گاہ کو چومنے کو جائز کہتے ہیں تو یہ رطوبت چاٹنا ان کو شہد کی طرح کیسے لذت نہ دیے گا۔ شرم، شرم۔
یہ سنی المسلک حنفی مسلمان تو مذی، ودی، رطوبت خون کو ناپاک کہتے اور بدن و لباس سے دھونے کے قائل ہیں۔ (ہدایہ، عالمگیری، صحیحین کتاب الطہارت)
سوال نمبر 757: جو شخص لڑکے یا پوتے کی لونڈی سے جماع کرے اس پر کوئی حد نہیں ہے اگرچہ حرام جانتا ہو۔
2: اگر شوہر دار عورت سے نکاح کرے، پھر جماع کرے۔ اگرچہ حلال ہونے کا دعویٰ نہ کرے تب بھی اس پر حد نہیں۔ (فتاویٰ قاضی خاں)
جواب: پہلی صورت میں اس کے لیے اس حدیث کے لیے شبہ کا ثبوت ملتا ہے کہ تو اور تیرا مال (لونڈی) تیرے باپ کا ہے۔ اس سے شبہ ملکیت ہوا تو گو فعل حرام اور قابلِ تعزیر ہے مگر سنگساری کی حد نہیں ہے۔
2: دوسری صورت میں اسے پہلے نکاح کا علم ہی نہیں تو نکاح فاسد ہو گیا۔ اس سے بھی حد ٹل جاتی ہے اسے بے خبری کا دعویٰ کرنے کی کیا ضرورت ہے جب کہ فریق مخالف اس کا منکر نہیں ہے۔ فقہ شیعہ میں اس کی مثال اس باندی کی سی ہے کہ کوئی شخص دو باندیاں، جو دو بہنیں ہوں، خریدے ایک سے وطی کرے پھر دوسری سے بے خبری میں وطی کر لے تو پہلی حرام نہ ہو گی۔ (من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 3 صفحہ، 284) تو لا علمی کا فائدہ اسے ہو گا۔
شیعہ کے ہاں بھی ایسے شخص پر حد نہیں ہے۔ ہے کوئی مجتہد جو حد ثابت کر دکھائے؟
پہلے مسئلے میں تو شیعہ کی بے حیائی بالکل واضح ہے کہ وہ اس باندی کو بیٹے، پوتے پر حرام نہیں کہتے جیسے بیٹے کی مزنیہ عورت یا لونڈی کو باپ پر حرام نہیں کہتے۔
سوال نمبر 758، 759: اگر راقم اس مذہب سے جُدا ہو گیا جس میں خدا ظالم و محتاج، رسول خاطی و گناہ گار تعلیمات اخلاق سوز اور خلافِ عقل و فطرت ہیں تو کوئی قصور نہیں کیا آپ ایسے مذہب کی اتباع کیوں کرتے ہیں؟
جواب: جس مذہب کا خدا رب العالمین وحدہ لاشریک اور وعدے کا پکا ہو۔ جس مذہب کا رسول ہادی عالمینﷺ، خاتم المعصومینﷺ تمام دنیا کو فتح کرنے اور اسلام پھیلانے آیا ہو جس مذہب کی تعلیمات قرآن، حدیث اور عقلِ سلیم کے عین مطابق ہوں۔ آپ صرف زر و زن کی لالچ میں اس دینِ اسلام کو چھوڑ کر اس شیعہ مذہب میں آ گئے جس کا خدا معاذ اللہ اپنی خدائی سے معطل و معزول، کہ بارہ امام ہی دنیا کے خالق، رازق، مالک، مشکل کشا اور معبود بن گئے۔ معاذ اللہ بدعہد ہو کہ سیدنا علیؓ اور اس کی اولاد کو وعدہ کرنے کے باوجود خلافت نہ دے۔ ان کے دشمنوں کو اقتدار و خلافت دے دے۔ معاذ اللہ رسول، مفاد پرست اور دنیا دار ہو کہ نبوت کے زور سے ملنے والی جائیداد فدک صرف بیٹی کو الاٹ کر دے۔ اور مقصدِ نبوت میں ناکام ہو کہ ایک شخص بھی اس کے ہاتھ پر ہدایت یافتہ سچا مسلمان نہ بنے۔ اور جس کی تعلیمات تمام کفریات کا مجموعہ ہو، کہ معاذ اللہ ماں سے زنا کے بعد بھی وہ باپ پر حرام نہ ہو۔ تو آپ اپنی قسمت پر ماتم کریں یا پھر مجوسیت و وثینت سے ہم آغوش ہونے پر فخر کریں۔
فروغ کافی: جلد 2، صفحہ 176 پر ہے امام باقرؒ نے فرمایا اگر کوئی شخص باپ کی بیوی (سوتیلی یا سگی ماں) سے زنا کرے یا باپ کی لونڈی سے زنا کرے تو یہ اپنے خاوند پر حرام نہ ہو گی اور باندی اپنے مالک پر حرام نہ ہو گی۔ انصاف سے بتائیے جب یہ دھاندلی شریعتِ جعفریہ میں جائز ہے تو شیعہ اور مجوسی مذہب میں کیا فرق رہا؟
سوال نمبر 760: اپنے اماموں کی ایسی تعلیمات کو آیاتِ قرآنیہ سے ثابت کریں۔
جواب: ہماری تو ایسی تعلیمات ہیں ہی نہیں امامیہ آپ کہلاتے ہیں۔ ہم ہر مسئلے پر آپ کے اماموں کا حوالہ دے چکے۔ یہ تو قرآن کو دنیا سے مٹانے اور غار میں چھپا دینے کے لیے آئے تھے۔ قرآن کیسے پڑھتے پڑھاتے۔ اگر وَلَا تَنۡكِحُوۡا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمۡ (کہ اپنے باپوں کی منکوحات سے نکاح وغیرہ کا تعلق قائم نہ کرو۔)
کا ارشاد قرآن انہوں نے پڑھا ہوتا تو ماں سے نفس نکاح کو جائز نہ کہتے۔ (فروغ کافی کتاب النکاح) اور شیعہ بیٹے کی مزنیہ (معاذ اللہ) ماں باپ پر حلال نہ کہتے۔ (ایضاً: جلد، 2 صفحہ، 176)
سوال نمبر 761: ان باتوں کا ثبوت احادیثِ رسولﷺ سے پیش فرمائیں۔
جواب: ہمارے رسولﷺ شیعہ اماموں کی ان گندی تعلیمات سے پاک تھے۔
سوال نمبر 762: اتنا بتا دیں کہ ان زریں احکام پر خلفاء ثلاثہؓ نے کہاں اور کب عمل کیا؟
جواب: خلفا ثلاثہ رضی اللہ عنہم منکرِ قرآن و سنت نہ تھے جو ایسے حیا سوز مسئلے بنا کر قوم کو عیاش بناتے۔ آپ کو اپنے امام اپنی تعلیم اور اپنے متعائی وغیرہ پیشے مبارک ہوں۔
سوال نمبر 763: صحیح بخاری میں ہے کہ حضور اکرمﷺ نمازوں میں دعائے قنوت پڑھتے یدعو المومنین ویلعن الکفار آپ لعنت کرنا سنت کیوں نہیں سمجھتے۔
جواب: آپ لوگوں کی خیانت و بے ایمانی کی انتہا یہ ہے کہ فعل کو لیتے ہیں اور مفعول بدل دیتے ہیں یعنی حضور اکرمﷺ نے مہینہ بھر کفار کے گروہ پر لعنت کی تھی جنہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو لےجا کر شہید کر دیا تھا اور ان مؤمنین کے لیے دعا کی تھی پھر ایک ماہ بعد یہ آیت نازل ہوئی لَيۡسَ لَكَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَىۡءٌ اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ اَوۡ يُعَذِّبَهُمۡ الآیۃ آپ کو ان کے معاملے میں اختیار نہیں چاہے خدا ان کو توبہ کی توفیق دے یا ان کو عذاب دے کیونکہ وہ ظالم تو ہیں ہی۔ (سورۃ آل عمران: آیت 128)
مگر آپ لوگ اس وقتی قرآن سے منسوخ عمل کو دائمی سنت بنا کر مسلمانوں پر ہی لعنت کرتے ہیں ان کفار پر کبھی بھی نہیں کرتے جن پر رسولِ خداﷺ نے کی تھی
اب فقہی طور پر اس کی شکل یہ ہے کہ زندہ معین کافروں کو لعنت جائز نہیں۔ دلیل یہی آیت ہے اور کفر پر مرنے والوں پر جائز ہے جن کا نصِ قطعی سے ثبوت ہو جیسے ابو لہب وغیرہ شوافع کے ہاں قنوت ہر صبح مسنون ہے حنیفہ کے ہاں نہیں دلیل یہ ہے کہ حضرت ابنِ مسعودؓ کی روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے کبھی قنوت فجر میں نہیں پڑھی بجز ایک ماہ کے (جس کا ذکر اوپر روایت میں ہے۔)
اس وقتی سنت پر عمل اب بھی ہم مسلمان کرتے ہیں جب مسلمانوں پر خاص آفت آ جائے تو صبح کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھتے ہیں مگر دائمی عمل اور قنوت نہیں پڑھتے کیونکہ ترمذی، نسائی، ابنِ ماجہ نے طارق اشجعی سے روایت کی ہے کہ میں نے حضورﷺ کے پیچھے نمازیں پڑھیں آپﷺ نے قنوت نہیں پڑھی پھر سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے پڑھی پھر سیدنا عمرؓ کے پیچھے پھر سیدنا عثمانؓ کے پیچھے پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھیں کسی نے قنوت نہیں پڑھی اے بیٹے یہ بدعت ہے اسی طرح ابنِ ابی شیبہ میں بھی ہے۔ (حاشیہ بخاری: جلد، 1 صفحہ، 110)
سوال نمبر 764: بخاری میں سیدنا ابن عمرؓ سے ہے کہ حضور اکرمﷺ نماز میں دعا پڑھتے تھے اللھم العن فلانا و فلانا کیا شخصی لعنت کا جواز ثابت نہ ہوا؟
جواب: یہ بھی خاص بالا واقعہ سے متعلق ہے۔ پھر آیت سے منسوخ ہو گیا اور وہ کفار تھے مگر غضب یہ ہے کہ شیعہ ان الفاظ کی آڑ میں کفار کا روپ دھار کر مسلمانوں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر لعنت بھیجتے اور لعنتی بن جاتے ہیں۔ (معاذ اللہ) اور شخصی لعنت کے حرمت اصول کافی جلد 2 باب السباب واللعان وغیرہ سے ثابت ہے جو ہم ذکر کر چکے ہیں کہ لعنت کو بہرحال ایک محل چاہیے۔ اگر لعنت کیا گیا شخص اس کا اہل نہ ہو تو لعنت کرنے والے پر لوٹتی ہے اور وہ ملعون بن جاتا ہے۔ کیا ضرورت ہے کہ ایک وہمی شوق پورا کرنے کے لیے آدمی خود لعنتی بن جائے۔
سوال نمبر 765: خصائص سیوطی میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا ان فی اصحابی اثنا عشر منافقاً۔ ان کے نام تحریر کریں، پھر سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہدایت یافتہ کیسے ہو گئے؟
جواب: اس لفظ پر آپ خوب خوش ہوئے شاید اسی بناء پر اثناء عشری لقب سے ملقب ہیں کیونکہ ان کے ہی کرتوت اور اعمال آپ نے اپنائے ہیں ذرا ایمان سے بتائیں ان بارہ دشمنانِ اصحابِ رسولﷺ کے نام ہم بتا دیں تو کیا باقی سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آپ مومن و محترم مان لیں گے اگر مانتے ہیں تو اب بسم اللہ اقرار کریں اور تحریر کر دیں ورنہ 12 کے نام پوچھنے کو ایک دھوکہ اور فراڈ قرار دیں عزوۂ خندق کے موقع پر ارشاد فرمایا گیا ان کے نام یہ ہیں:
1: عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین 2: مالک بن ابی قوقل 3: سوید 4: داعس یہ ابن ابی کا گروہ تھے۔ 5: سعد بن حنیف 6: زید بن اللصیت جس نے حضرت عمرؓ سے بنو قینقاع کے بازار میں لڑائی کی تھی۔ 7: نعمان بن ابی اوفیٰ 8: رافع بن حریملہ 9: رفاعہ بن زید بن تابوت 10: سلسلۃ بن برہام 11: کنانہ بن صوریا یہ یہودیوں کے مولویوں میں سے تھے۔ منافقانہ مسلمان ہوئے اور مسلمانوں سے ٹھٹھے کرتے تھے۔ ایک دن مسجد سے نکالے گئے۔ 12: معتب بن قشیر (سیرت ابنِ ہشام: جلد، 2 صفحہ، 173، 174)
جب کہ لفظ اصحاب لغوی معنوں میں ہے کہ میرے پاس اٹھنے بیٹھنے والے 12 افراد منافق ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مؤمنین مراد نہیں۔
سوال نمبر 766: قاضی خاں میں ہے نمازی کا گریبان سے ستر کو دیکھنا نماز نہیں توڑتا۔
جواب: بات کا بتنگڑ بنایا ہے۔ ستر کے متعلق مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ ستر ایسے ڈھکا ہو کہ چاروں اطراف سے کسی کی نگاہ نہ پڑ سکے۔ پھر یہ فرضی احترازی مثال ہے کہ بالفرض گریبان سے نمازی کی اپنی نظر پڑ جائے جب کہ وہ لمبے تا قدم کُرتے میں نماز پڑھ رہا ہو تو نماز باطل نہ ہو گی کیونکہ اس کا ستر خوب ڈھکا ہوا ہے جیسے کوئی دھوتی باندھے نماز چھت پر پڑھ رہا ہو سلاخوں اور تاروں کی روشندان کے نیچے عین اوپر کو کسی کی نگاہ اس کے ستر پر پڑ جائے تو نماز باطل نہ ہو گی کہ دھوتی نے چاروں طرف ستر کو ڈھانپ رکھا ہے۔
یہ گریبان میں منہ ڈال کر شرم گاہ کو تاکتا رہے یا ماپتا رہے۔ خود آپ کے خبیث الفاظ اور کاروائیاں ہیں کیونکہ شیعہ تو یہاں تک کہتے ہیں:
اگر نمازی عین نماز میں اپنے خصیتین اور ذکر کو ہلائے جلائے کہ انتشار ہو جائے اور مذی بہنے لگے تو نماز میں کچھ خلل نہیں۔ بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نمازی عین نماز میں کسی عورت کو بغل میں دبوچے اس حالت میں انتشار ہو اور سر ذکر اس کی فرج کے مقابل رکھے جس سے بہت سی مذی بہے تو نماز اس کی جائز ہے۔ اسے ابو جعفر طوسی اور دیگر مجتہدین نے ذکر کیا ہے۔ (بحوالہ تحفہ اثناء عشریہ: جلد، 1 صفحہ، 519)
اب بتائیے کہ شیعہ مسجد میں نماز پڑھنے آیا ہے یا کسی چکلہ میں متعہ بازی کر رہا ہے؟
سوال نمبر 767: آل عمران میں ہے کہ جو تم میں سے مرتد ہو جائے وہ خدا کو ضرر پہنچائے گا؟
جواب: آیتِ ہٰذا کی پوری تشریح اور جواب عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین باب دوم میں دیکھیں۔
سوال نمبر 768: اگر زمانہ رسولﷺ میں منافقت کا سدباب ہو گیا تھا تو صحیح بخاری میں حذیفہ کا قول کیوں موجود ہے کہ منافقوں کی یہ حالت عہدِ نبوت سے بدتر ہے کہ اس وقت سازشیں کرتے تھے اب کھلم کھلا اظہار کر رہے ہیں؟
جواب: یہ حالتِ ارتداد کی حکایت ہے کہ عہدِ صدیقی میں کھلے مرتد ہو کر قتل ہوئے جن کا شیعہ آج بھی شکوہ کرتے اور غم مناتے ہیں۔
سوال نمبر 769: اے سیدنا علیؓ اگر تم نہ ہوتے تو میرے بعد اہلِ ایمان کی پہچان نہ ہو سکتی بتائیے بقولِ پیغمبرﷺ ایمان و حضرت علیؓ کا کیا رشتہ ہوا؟
جواب: اس کی مثل یہ حدیث ہے ایمان کی نشانی انصارؓ کی محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصارؓ سے بغض ہے۔ (بخاری، مسلم) نیز آپﷺ نے فرمایا ہے صرف منافق انصار رضی اللہ عنہم سے بغض رکھتے ہیں اور صرف مؤمن انصار رضی اللہ عنہم سے محبت رکھتے ہیں جو ان سے محبت کرے گا ان سے خدا محبت کرے گا اس سے خدا محبت کرے گا جو ان سے دشمنی رکھے گا خدا ان سے دشمنی رکھے گا۔ متفق علیہ (مشکوٰۃ: صفحہ 576) پتہ چلا کہ منافقین انصارؓ سے بغض کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے اور مہاجرین انصار سے مرتبہ میں بالاتفاق افضل ہیں تو ان کا دشمن و مبغض بدرجہ اولیٰ پہچانا جائے گا۔ یہ شبہ سے بالا بات ہے کہ شیعہ انصار و مہاجرینؓ سے زبردست دشمنی رکھتے ہیں اور حضرت علیؓ کو خدا اور رسول کی صفات خاصہ میں شریک کرتے اور اتباع سے گریز کرتے ہیں آج تک شیعہ کا کوئی فرقہ اپنے مؤمن ہونے کی سند حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زبان سے نہ دکھا سکا ہاں خود دسیوں فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کو کافر بتاتے ہیں۔
تو فرمانِ رسولﷺ سچا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام لیوا اگر وہ خود سیدنا علی المرتضیٰؓ کا تمام مہاجرینؓ و انصارؓ کا دشمن و نافرمان ہے اس کا نفاق پہچانا گیا اور باقی حضرت علی المرتضیٰؓ اور انصار و مہاجرین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تابعدار سنی مسلمانوں کا ایمان پہچانا گیا۔
سوال نمبر 770: اے سیدنا علیؓ! تو مجھ سے ہے میں تجھ سے ہوں (بخاری) فرمایا حضرت علیؓ کو چھوڑ دینا رسولﷺ و ایمان کو چھوڑ دینا ہو گا یا نہیں؟
جواب: ان الفاظ سے رشتہ داری اور اتباع مراد لی جاتی ہے۔ ذات کی وحدت مراد نہیں ہوتی تاکہ حضرت علی المرتضیٰؓ سے اختلاف کرنا گویا رسولﷺ کو چھوڑنا سمجھا جائے۔
قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں:
فَمَنۡ تَبِعَنِىۡ فَاِنَّهٗ مِنِّىۡ وَمَنۡ عَصَانِىۡ فَاِنَّكَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ۞ (سورۃ ابراهيم: آیت 36)
ترجمہ: جس نے میری بات مانی وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔
اور ایسی احادیث بکثرت ہیں جن میں حضور اکرمﷺ نے فرمانبردار کو اپنا اور نافرمان کو بیگانہ فرمایا ہے۔ مثلاً:
من غشنا فلیس منا
ترجمہ: جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔
سوال نمبر 771: کیا وہ مذہب سچا ہو گا جس میں عصمت فروشی پر حد جاری نہ ہو سکے حالانکہ یہ صریحاً زنا ہے؟
جواب: نہیں تبھی تو شیعہ مذہب کو باطل کہتے ہیں کیونکہ ان کے گھر گھر عصمت فروشی ہوتی ہے چند احادیثِ ائمہ ملاحظہ ہوں:
1: امام ابو الحسن سے زن متعہ کے بارے میں پوچھا گیا کیا یہ چار منکوحات میں سے ہے؟ فرمایا نہیں اور فرمایا ستروں میں سے بھی نہیں۔ (قرآن میں تو صرف منکوحہ بیوی اور باندی کو مستثنیٰ کیا ہے باقیوں سے تعلق حد شکنی یعنی زنا کہا ہے) (فروع کافی: جلد، 5 ابواب المتعہ)
2: امام باقرؒ نے فرمایا: یہ چار میں سے نہیں ہے کیونکہ نہ طلاق پاتی ہے نہ وراثت پاتی ہے اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ کرایہ دار (کنجری) ہے۔ (ایضاً: صفحہ، 552)
3: امام صادقؒ سے زنِ متعہ کے متعلق پوچھا گیا کہ یہ چار میں سے ہے؟ فرمایا تم ہزار سے معاملہ طے کر لو کیونکہ یہ کرایہ دار رنڈیاں ہیں۔
3۔ ایک روایت میں امام صادقؒ نے فرمایا ہے کہ جتنی عورتوں سے چاہو متعہ کر لو بغیر ولی اور گواہوں کے جب مقررہ ٹائم (گھنٹہ، دو گھنٹے یا ایک دن، ہفتہ) ختم ہو جائے تو بغیر طلاق کے جدا ہو جائے گی اسے معمولی خرچی دے دے، (فروغ کافی: جلد، 5 صفحہ، 451)
سوال نمبر 772: اگر حق نہیں اعتقاد کریں گے تو ایسا مذہب کیوں اختیار کیا؟
جواب: ہم اسی لیے زانی پیشہ رنڈی نواز مذہب جعفری کے قریب نہ گئے اور عصمت کے ضامن مذہب حنفی اور اسلام کو اپنایا جس عبارت سے آپ نے دھوکہ دیا ہے اس کا مکمل جواب ہم ہم سنی کیوں ہیں؟ کے آخر میں دے چکے۔
سوال نمبر 773: کیا عصمت فروشی کے اڈے اسی حکم سے تو نہیں چل رہے ہیں؟
جواب: واقعی لکھنؤ، محمود آباد، ریاست اودھ، دکن وغیرہ شیعہ ریاستوں میں عصمت فروشی کے اڈے (متعہ خانے) فقہ جعفری کی تعلیم اور شیعوں کے عملِ خیر کے رہینِ منت ہیں۔ اب پاکستان میں تو علانیہ ممنوع ہے۔ مگر پڑتال کر کے کسی طوائف اور اس کے پرستار عزادار سے پوچھو تو یا علی مدد، پنج تن پاک تیرا آسرا کے نعروں سے شیعہ مذہب کی ہی تبلیغ کریں گی۔ الا ماشاءاللہ
سوال نمبر 774: کتاب مستطرف میں ہے جو شخص کسی عورت پر عاشق ہو کر زنا نہ کرے تو مرتبہ شہادت پاتا ہے شہادت کے لیے عشق عورت کا انتخاب کیوں کیا؟ جہاد کس لیے نظر انداز کیا گیا؟
جواب: پاک دامن کی تعریف میں یہ حدیثِ نبویﷺ ہے کہ دل پر تو کسی کا بس نہیں ہے پھر بھی یہ شخص خوفِ خدا سے بچتا ہے تو گویا درجہ شہادت (ثواب کثیر) پایا۔ بطورِ ثواب مرتبہ شہادت کی یہ صورت ہے ورنہ عین شہادت میدانِ جنگ میں ہوتی ہے اور اہلِ سنت 1300 برس تک یہ جہاد کرتے اور ثواب شہادت پاتے رہے اور اب تک انگریزوں، ہندوؤں وغیرہ سے جہاد کر کے پا رہے ہیں جبکہ شیعہ امام غار میں جا بیٹھا۔ جہاد متروک و منسوخ ہو گیا اور شیعہ متعہ بازی ماتم و نوحہ خوانی اور مسلمانوں پر لعنت و بدگوئی میں مصروف ہو گئے۔
سوال نمبر 775: لعن اللہ المحلل والمحلل له کے باوجود اہلِ سنت حلالہ کر اور کروا رہے ہیں کیا آصحابِ ثلاثہؓ نے بھی یہ کام کیا۔
جواب: یہ بطور شرط فرمانِ نبویﷺ ہے۔ شرط پر حلالہ کرنا ہم بھی مکروہِ تحریمی کہتے اور وعید کا مستحق سمجھتے ہیں۔ (ہدایہ: جلد، 2 صفحہ، 400) اور تین طلاق شدہ عورت کے لیے حلالہ شیعہ بھی واجب کہتے ہیں۔ (توضیح المسائل: صفحہ، 282)
اصل مسئلہ حلالہ قرآن شریف میں ہے:
فَاِنۡ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰى تَنۡكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهٗ (سورۃ البقرة: آیت 230)
ترجمہ: پس اگر خاوند نے بیوی کو (تیسری) طلاق دے دی تو یہ اس کے لیے حلال نہ رہی۔ حتیٰ کہ وہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے۔
شیعہ قرآن کے تو منکر ہو گئے اور مغلظہ و مطلقہ ثلاثہ معاً سے پھر نکاح کرتے اور ساری عمر فعل حرام کراتے ہیں۔
حضرات خلفاء راشدینؓ کا فتویٰ یہی ہے۔
سوال نمبر 776: کیا مشت زنی جائز ہے؟ جبکہ ناکح الید ملعونِ حدیث ہے۔
جواب: کسی بھی ناجائز طریقے سے اخراجِ منی حرام ہے۔ مگر زنا، لواطت مشت زنی وغیرہ میں فرق ضرور ہے۔
جب علامہ قاضی خان تصریح فرما رہے ہیں کہ حصولِ شہوت کی خاطر یہ حرکت حرام ہے اگر شہوت کو کم کرنا مقصود ہو تاکہ زنا میں نہ پھنس جائے تو دو مصیبتوں میں گرفتار شخص کو ہلکی اختیار کر کے بڑی سے بچنا چاہیے، کے اصول پر عمل کرے۔ اخراجِ منی کر لے تو گنہگار نہ ہو گا۔ نہ یہ عمل حدیث کی مخالفت ہے کیونکہ حدیث میں عام حالت کا حکم بیان ہوا ہے اور فقہ کی اس جزی میں گناہِ کبیر سے بچنے کی ہلکی صورت بتائی ہے۔ جیسے جان بچانے کے لیے مضطر کو حرام کھانا جائز ہے اور شیعہ مذہب میں تو روزہ کی حالت میں بھی استمناء کو ناجائز نہیں کہا، روزہ ٹوٹنا لکھا ہے۔ مسئلہ: 1611 اگر روزہ دار استمناء کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
(توضیح المسائل: صفحہ، 172 از ابو القاسم موسوی مطبوعہ اسلام آباد)
سوال نمبر 777: مسئلہ لف حریر۔
جواب: آپ کے اقرار کے مطابق شیعہ کتاب الزام الناصب دروغ بر گردن راوی و طوق لعنت در گردن کذاب رافضی کا مصداق ہے۔ ہماری کتب میں ایسا کوئی حوالہ نہیں ہے۔ کتاب الطہارت وغیرہ میں یہ فرضی صورت لکھی ہے کہ کوئی (ایلاج بخرقہ مانعتہ) کپڑا لپیٹ کر جماع کرے جس سے لذت گرمی حاصل نہ ہو تو کیا غسل فرض ہو گا یا نہیں؟ قانوناً غسل نہیں ہے کیونکہ جماع نہیں ہوا احتیاطاً کر لینا چاہیے۔
شہوت پرست و متعہ پیشہ محروم از دیانت شیعوں نے اسے یہاں سے کاٹ کر وطی با محارم سے جوڑ دیا کیونکہ اپنے اس مجوسی فعل کی ان کے ہاں اب بھی فی الجملہ گنجائش ہے اور وطی محارم بالنکاح کو بحیثیت شادی حلال کہتے ہیں۔ فروع کافی: جلد، 5 صفحہ، 571 کا یہ حوالہ ہم سنی کیوں ہیں میں لکھا جا چکا ہے۔ جو شخص محارم سے شادی رچاتا ہے جن کی حرمت قرآن میں مذکور ہے جیسے مائیں بیٹیاں (الآیۃ) یہ سب بطور شادی حلال ہے خدا کے منع کرنے سے حرام ہے۔ اس لحاظ سے اولاد بھی حلالی ہو گی جو ایسے بچے کو حرامی کی تہمت لگائے گا اسے حدِ قدف لگے گی۔ کیونکہ وہ حلالی بچہ ہے۔ (معاذ اللہ)
سوال نمبر 778: روزہ دار کا دُبر میں انگلی ٹھونسنا؟ (قاضی خاں)
جواب: مسئلہ تو یہ بیان ہو رہا ہے کہ روزہ دار استنجا میں مبالغہ کرے اور مقام کو انگلی سے دہائے تو روزہ نہ ٹوٹے گا کیونکہ کوئی چیز اندر نہیں گئی ہے۔ اب بے حیا سائل اس طبعی اور ضروری بات کو بلاوجہ انگلی ٹھونسنے سے تعبیر کرے تو کون اسے روکے بے حیا باش و ہرچہ خواہی گو۔
ذرا اپنے گھر میں جھانکیے کہ کیا مذہبِ شیعہ میں روزہ کی یہی قدر ہے۔
مسئلہ 1608: اگر سپاری سے کم اندر داخل ہوا اور منی بھی نہ نکلے تو اس سے روزہ باطل نہیں ہو گا۔ (توضیح المسائل: صفحہ، 173) خود تو ناقص جماع کر گزریں۔ اور روزہ نہ ٹوٹے ہم کو استنجا بھی نہ کرنے دیں؟
سوال نمبر 779: میت کے منہ میں روئی کیوں دیتے ہو؟
جواب: اس لیے کہ کوئی آلائش وغیرہ نہ نکلے۔ قبر میں نکیریں کے سوال پر اس کی رکاوٹ نہ ہو گی۔ منہ سے نکال کر بلوا ہی لیں گے۔
سوال نمبر 780: امام ابو حنیفہؒ نے 45 برس ایک وضو سے پنجگانہ نمازیں پڑھیں۔ کیا اس عرصہ میں رفع حاجت کی ضرورت نہ ہوئی اور نیند نہ آئی؟
جواب: عمداً آپ نے کوڑھ مغزی کا ثبوت دیا۔ ورنہ بات یہ ہے کہ 40، 45 سال تک یہ معمول رہا کہ صبح وضو کر کے تا عشاء پنجگانہ نمازیں اسی ایک وضو سے ادا فرماتے تھے۔ پیشاب و ریح سے توڑنے کی حاجت نہ پڑتی تھی۔ اسے کمالِ صحت کے ساتھ دینی ذوق اور کرامت سے تعبیر کیا جائے گا۔
سوال نمبر 781، 782: فرمانِ خداوندی ہے: جو شخص ایسا کلمہ کفر کہنے پر مجبور کیا جائے جبکہ اس کا دل حقیقتِ ایمان سے مطمئن ہو تو اسے کوئی حرج نہیں۔ (نحل) کیا شیعوں کا تقیہ قرآن سے ثابت ہوا یا نہیں؟ نیز آیت کا شانِ نزول بھی بتائیں۔
جواب: یہ حضرت عمار بن یاسرؓ کے واقعہ میں اتری۔ جب کفار نے ان کے والدین کو شہید کر کے ان سے بھی کلمہ کفر کہلایا تھا۔ انہوں نے جان کے ڈر سے کہہ دیا اور پریشان ہو کر حضورﷺ کو حال سنایا تو یہ آیت اتری۔
یہ اکراہ اور مجبوری ہے شیعوں کا تقیہ مجبوری کے علاوہ اپنے مفاد کے لیے بھی ہوتا ہے۔ اکراہِ شرعی اور شیعہ تقیہ میں سات قسم کا فرق اور استدلالِ شیعہ کی بیخ کنی ہم نے ہم سنی کیوں ہیں صفحہ، 184 تا 194 میں کر دی ہے۔
سوال نمبر 783: نووی میں ہے کہ جب کوئی ظالم، غاصب کسی کی امانت چھیننا چاہے تو امین پر جھوٹ بولنا جائز ہے بلکہ واجب ہے تو پھر شیعوں کا تقیہ کیوں ناجائز ہے؟
جواب: کتبِ شیعہ میں بھی بالکل اسی طرح ہے مثلاً توضیح المسائل دیکھیں۔ (متفرق مسائل) لیکن غیر کے مال و جان کو بچانا ضروری ہے تو جھوٹ مجبوراً بولنا پڑا جب کہ شیعہ کا تقیہ بلاخوف ذاتی مفاد کے لیے ہوتا ہے۔ وہ جھوٹ کی طرح حرام ہے۔
سوال نمبر 784: لا دین لمن لا تقیۃ له آپ کی بھی حدیث ہے۔ (کنز العمال)
جواب: شیعہ کی حدیث تو یقیناً ہے کہ ان کا 9/10 دین تقیہ میں ہی مستور ہے۔ اور واقعی جو شیعہ مذہب نہ چھپائے، ظاہر کرتا پھرے وہ بے دین و بے ایمان ہے۔ (اصول کافی باب تقیہ)
مگر اہلِ سنت کے ہاں یہ حدیث ثابت نہیں نہ اس کی سند معلوم ہے۔ کنز العمال جلد 2 صفحہ 22 سامنے کھلا ہے۔ اس میں کہیں یہ روایت نہیں۔ جھوٹی شیعوں کی بناوٹی کتب سے اصل دیکھے، بغیر، جھوٹ کی تبلیغ نہ کیا کریں۔
سوال نمبر 785: ابنِ ابی سرح کاتبِ وحی ہو کر مرتد ہو گیا تو کیا فضیلت رہی؟
جواب: ایمان، قبولِ اسلام، زیارتِ نبوی کتابتِ وحی وغیرہ تمام اعمال فی نفسہا باعثِ فضیلت ہیں۔ اب اگر کوئی شخص حاصل شدہ دولت ضائع کر دے یعنی مرتد ہو جائے تو اس فعل کی فضیلت پر تو حرف نہیں آیا۔ علماء کی تحقیق یہ ہے کہ ارتداد کے بعد پھر اسلام لانے سے یہ فضیلت مل جاتی ہے کیونکہ الا من تاب وعمل صالحا۔ الایه اسے بھی شامل ہے۔ ابنِ ابی سرح فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہو گیا تھا تو کتابت وحی کی فضیلت پھر حاصل ہو گئی۔
سوال نمبر 786: سیدنا امیرِ معاویہؓ کرھاً اسلام میں داخل ہوا، طوعاً نکل گیا۔ فرمانِ سیدنا علیؓ ہے: کیا کل ایمان کی شہادت سنیوں کے لیے کافی نہیں ہے؟
جواب: بے حوالہ جھوٹا قول ہے۔ نہج البلاغہ کا گشتی مراسلہ اس کی تکذیب کرتا ہے۔
سوال نمبر 787: کیا نبیﷺ کا سسر یا سالا ہونا ناجی ہونے کے لیے کافی ہے؟
جواب: نہیں ایمان و عمل صالحہ ضروری ہے اگر وہ حاصل ہو تو سونے پر سہاگہ۔ یہ حضور اکرمﷺ کے رشتہ داری نجات میں ضرور مفید ہو گی۔
اَلۡاَخِلَّاۤءُ يَوۡمَئِذٍۢ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ۞ (سورۃ الزخرف: آیت 67)
ترجمہ: پرہیز گاروں کے سوا سب دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔
سوال نمبر 788: اگر کافی ہے تو کیا اُم المؤمنین سیدہ صفیہؓ کے بھائی اور والد بھی ناجی ہیں؟
جواب: نہیں وہ مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے۔ یہ ملعون عارضہ ایسا ہے جیسے حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کی مثال حضرت حسنینؓ پر کوئی فٹ کر دے۔ (وشتان ما بینہما)
سوال نمبر 789: اجتہاد نص کی غیر موجودگی میں ہوتا ہے۔ حدیثِ رسول یا علی حربک حربی و سلمک سلمی آئی ہے۔ تو حضرت امیرِ معاویہؓ کی جنگ اجتہاد کیسے ہوئی؟
جواب: اول تو یہ حدیث صحیح نہیں ہے اس کی سند پر مفصل جرح سوال 52 میں گزر چکی ہے اور عقلی جواب بھی ہو چکا ہے۔
دوم: جب خود حضرت علیؓ نے اپنے محاربین کو ایمان و اسلام میں اپنے برابر اور بھائی کہا ہے اور ان کی بدگوئی اور برائی سے منع فرمایا ہے۔ (نہج البلاغہ اردو: صفحہ، 612 خطبہ 205) معلوم ہوا کہ حدیث سیدنا علیؓ کے ہاں بھی درست نہیں۔
سوم: جب حضرت علی المرتضیٰؓ نے آخر میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی اور نصف سے زائد مملکت کا حاکم اور خراج و محاصل وصول کنندہ تسلیم کر لیا۔ (طبری) اور سیدنا حسنؓ نے تو باقاعدہ بیعت کر کے خلافت حقہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو دے دی تو اجتہادی غلطی سے آپؓ پر طعن نہ کیا جائے گا۔
چہارم: نص کا نص سے تعارض ہو تو اجتہاد کی گنجائش نکل آتی ہے۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ بنو عثمانؓ کی وکالت سے ولی الدم تھے۔ قرآن نے ولی الدم کو سلطان کا منصب بخشا ہے۔ (پارہ، 15 رکوع 4)
سیدنا علی المرتضیٰؓ قصاص لینے میں معذور تھے تو حضرت امیرِ معاویہؓ نے از خود طاقت تیار کی کہ قصاص لیا جائے پھر قاتلینِ حضرت عثمانؓ سے جنگ ہوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مقصوداً نہیں ہوئی۔
سوال نمبر 790: آپ یا سیدنا انسؓ بن مالک اور حضرت ابو ہریرہؓ سے اجتہاد کی نفی کرتے ہیں یا پھر قاتلِ حضرت حمزہؓ وحشی کو مجتہد قرار دیتے ہیں کیا حضرت امیرِ معاویہؓ کا اجتہاد اسی ٹکسال کی درآمد ہے۔
جواب: بالا کثیر الراویہ حضرات سے اجتہاد کی نفی اضافی ہے یعنی ایسے بڑے مجتہد نہیں جیسے سیدنا ابنِ مسعودؓ، حضرت معاذؓ بن جبل جیسے قلیل الراویہ اور کثیر الاستنباط والاجتہاد بزرگ تھے اور حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کی دینی بصیرت اپنے سے کم تر لوگوں کی بہ نسبت ہے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو تو حضور اکرمﷺ نے ہادی اور واھد بہٖ فرما کر اجتہاد کا منصب بخشا۔ (ترمذی) پھر آپؓ کے مجتہد ہونے پر تمام علماء کا اجماع ہے۔
سوال نمبر 791: امام اعظم کے ہاں نیک و بد کا ایمان برابر ہے کیا یہ صحیح ہے؟
جواب: ایمان کے دو مفہوم ہیں۔ 1: ان سب عقائد اور ایمانیات کی مقدار اور گنتی جن پر ایمان لانا قرآن و حدیث کے تحت ضروری ہے یعنی بد کو بھی اتنی چیزیں ماننا ضروری ہیں جتنی نیک کو۔ اس لحاظ کو کمیّت کہتے ہیں۔ یعنی نیک و بد ایمانیات کی مقدار میں اور قابلِ ایمان امور میں برابر ہیں۔ یہی مطلب امام صاحب کے قول کا ہے اور اس کو کچھ شرپسندوں نے ابلیس کے برابر لکھا ہے وہ بھی خدا کو اپنا رب مانتا تھا اور صالحین و مسلمان بھی مانتے ہیں۔
دوسرا مفہوم: کیفیت، قوت و ضعف اور حسن وغیرہ کا ہے۔ اس لحاظ سے ایمان کم و بیش ہوتا ہے اور نیک و بد میں ہرگز مساوات نہیں اس چیز کا محدثین وغیرہ ایمان میں کمی بیشی کہتے ہیں۔ دونوں باتیں اپنی جگہ درست ہیں تعارض نہیں ہے کہ شیعہ اعتراض کریں۔
سوال نمبر 792: امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک مدینہ مانند مکہ کے حرم نہیں۔ (ترجمہ مشکوٰۃ شیخ عبد الحق دہلوی) پھر آپ مدینہ و مکہ کو حرمین شریفین کیوں کہتے ہیں؟
جواب: عزت حرمت اور تعظیم کے لحاظ سے دونوں حرم شریف ہیں اسی طرح الحاد پھیلانا، فساد کرنا، کوئی گناہ کرنا جیسے یزیدی فوج نے حرہ میں یا حضرت موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ کے پوتوں محمد بن حسین اور علی بن جعفر بن موسیٰ کاظمؒ نے 271ھ میں مدینہ کے کثیر باشندوں کو قتل کر ڈالا اور حضرت زین العابدینؒ کے پوتوں علی و محمد بن حسین الافطس احد المفسدین نے مکہ میں قتلِ عام کیا اور اب خمینی کے ایجنٹ اس کی تصاویر لے کر حرمین میں نعرہ بازی کرتے اور فساد پھیلاتے ہیں اور فرمانِ نبویﷺ ہے کہ ایسے لوگوں پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو ان کا فرض و نفل منظور نہیں۔ (بخاری و مسلم) رہا شکار کے لحاظ سے حکم تو مدینہ شریف کا مکہ سے حکم مختلف ہے گھاس کے لیے درخت کاٹا جا سکتا ہے۔ (مسلم) اور پرندوں کا شکار بھی اکثر علماء کے نزدیک جائز ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کی نفی کا مطلب یہی ہے۔
سوال نمبر 793: امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک جھوٹی گواہی گذار کر بیگانی عورت سے صحبت کرنے پر گناہ نہیں۔ ہدایہ: جلد، 1 صفحہ، 313 وغیرہ
جواب: ملعونانہ خیانت آپ پر ختم ہے، ہدایہ کی عبارت یہ ہے:
جس شخص پر عورت نے دعویٰ کیا کہ وہ اس کا خاوند ہے اور گواہ بھی عورت نے پیش کر دئیے۔ قاضی نے فیصلہ میں عورت کو اس کی بیوی بنا دیا حالانکہ دراصل اس نے اس سے شادی نہ کی تھی اس عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کے ساتھ بسے اور اسے جماع کرنے دے یہ امام ابو حنیفہؒ اور ابو یوسفؒ کا قول ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ گواہ قاضی کے ہاں سچے ہیں اور نکاح پر یہی دلیل ہوتے ہیں کیونکہ صدق کی حقیقت پر اطلاع نا ممکن ہے۔ جب قاضی نے فیصلہ دلیل پر کیا تو باطناً نکاح بھی نافذ ہو جائے گا تاکہ جھگڑا ختم ہو جائے (کیونکہ قاضی کا یہ فیصلہ نیا نکاح باندھنے کی مانند ہے تو یہ اس کی حقیقتہً بیوی سمجھی جائے گی اور اب جماع درست ہو گا۔)
اب یہ مذہب سینہ زوری اور سینہ زنی نہیں دلیل پر مبنی ہے۔
سوال نمبر 794: طاقت حاصل کرنے کی نیت سے شراب پی جائے تو امام اعظمؒ کے ہاں درست ہے (ہدایہ) اور کوئی ٹانک نہ سوجھا؟
جواب: نقل مذہب میں خیانت کی ہے مشروبات کئی قسم کے ہیں:
1: جو انگور کے شیرے سے بنایا جائے کئی دن پڑا رہے بدبو دار ہو کر جھاگ چھوڑے رنگ بدلے تو اسے عربی میں خمر کہتے ہیں۔ نصِ قطعی سے حرام ہے۔ کوئی مسلمان اختلاف کی جرأت نہیں کر سکتا ۔ورنہ وہ کافر ہو جائے گا۔
2: شہد، انجیر، گندم، جو، جوار، کھجوریں وغیرہ پانی میں بھگو دیں۔ صبح رنگین پانی کو پکائے بغیر ہی استعمال کریں۔ یہ جائز ہے۔ اس نبیذ (شربت) کہتے ہیں۔
3: انگور کا نچوڑ جب پکایا جائے دو تہائی خشک ہو جائے صرف ایک تہائی باقی رہ جائے اگرچہ وہ گاڑا ہو، یہ اختلافی مسئلہ ہے امام ابو یوسفؒ، امام ابو حنیفہؒ کے ہاں حلال ہے جب نیت عبادت پر طاقت حاصل کرنا ہو۔ امام شافعیؒ، امام مالکؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک یہ بھی حرام ہے اور لذت و مزہ لینا ہو تو سب کے نزدیک حرام ہے۔ دلیل صاحبِ ہدایہ نے یہ دی ہے کہ فرمانِ نبویﷺ ہے: خمر کا شراب بعینہٖ حرام ہے خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔ باقی مشروبات سے نشہ آور مقدار حرام ہے۔ حضورﷺ نے غیر خمر میں حرمت کو نشہ آوری کے ساتھ خاص کیا ہے کیونکہ واؤ عطفہ جدا جدا حکم چاہتی ہے نیز عقل کو بگاڑنے والا نشہ آور مقدار میں پینا ہے اور وہ ہمارے ہاں بھی حرام ہے اور اصل شراب خمر کی قلیل مقدار بھی حرام ہے کیونکہ وہ اپنے پتلے پن اور لطافت میں زیادہ مقدار پینے پر ابھارتا ہے تو قلیل کو بھی کثیر کا حکم دیا گیا رہا ایک تہائی بچہ ہوا تو یہ گاڑھا شیرا ہے پیا نہیں جاتا کثیر پینے پر نہیں ابھارتا اور یہ فی نفسہٖ غذا ہے تو اپنی اباحت پر باقی رہے گا۔ (ہدایہ: جلد، 4 صفحہ، 498)
ذرا اپنے گھر کی خبر لیجیے: من لا یحضرہ الفقیہ: جلد، 4 صفحہ، 41 پر ہے جس مکان میں شراب کسی برتن میں بند رکھا ہو تو نماز جائز نہیں اور اگر شراب کپڑے پر لگی ہو تو جائز ہے کیونکہ پینا خدا نے حرام قرار دیا ہے کپڑے پر لگا ہو تو نماز حرام نہیں کی۔ (حالانہ کہ خدا نے شراب کو رجس (گندگی) کہا ہے اور کپڑوں کو پاک کرنے کا حکم دیا ہے۔)
سوال نمبر 795: مذہب اہلِ سنت میں خلفاء راشدین کا قاتل بھی مسلمانی سے نہیں نکلتا۔ (شرح فقہ اکبر: صفحہ، 86) پھر شیعوں کی بدگمانی پر اعتراض کیوں؟
جواب: قتلِ مؤمن بالاتفاق کبیرہ گناہ ہے بشرطیکہ بغض ایمان کی وجہ سے اسے حلال نہ جانے ورنہ کفر ہے۔ خلفاء راشدینؓ اگرچہ تمام مؤمنین سے افضل اور ان کے سردار ہیں۔ تاہم انبیاء کرام علیہم السلام نہیں کہ قاتل بالتاویل یقیناً کافر ہو۔ شیعہ کی بدگمانی ایک کفریہ عقیدہ ہے جس کی وجہ سے وہ ان کو کافر (معاذ اللہ) جان کر لعنت اور تبروں سے اپنا ایمان تباہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے کفر و ارتداد پر ائمہ اہلِ سنت کے حوالہ جات ہم عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین باب ہفتم میں پیش کر چکے ہیں۔ حافظ ابنِ تیمیہؒ الصارم المسلول صفحہ 592 پر کیا خوب لکھتے ہیں:
جس نے سبِّ وشتم سے بڑھ کر یہ اعتقاد رکھا کہ (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے) چند نفوس کے سوا جو دس سے بھی نہیں بڑھتے سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معاذ اللہ مرتد ہو گئے یا ان کی اکثریت فاسق اور نافرمان ہو گئی تو ایسے شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ بلکہ ایسے شخص کے کفر میں جو شک کرے اس کا کفر بھی متعین ہے۔
تعجب ہے کہ شیعہ کو ہم پر تو اعتراض ہے مگر خود قافلہ اہلِ بیتؓ کو بلا کر شہید کرنے والے کوفی شیعوں اور قاتلوں کو مؤمنین توابین کہتے ہیں۔ (مجالس المومنین)
سوال نمبر 796: قاضی ابو یوسفؒ ک نزدیک سؤر کا چمڑا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے اس پر نماز درست ہے۔ ہدایہ: جلد 1 صفحہ 22 کیا سؤر کا چمڑا سجدہ گاہ بنانا بہتر ہے یا خاکِ کربلا جس میں سیدنا حسینِؓ رسول کا خون شامل ہے؟
جواب: آپ نے یہ بالکل جھوٹ لکھا ہے ہدایہ کی عبارت یہ ہے:
وکل اھاب دبغ فقد طہر جازت الصلوٰۃ فیه والوضوء منه آلا جلد الخنزیر والادمی لقولہ علیہ السلام ایما اھاب دبغ فقد طہر (ہدایہ: جلد، 1 صفحہ، 40)
ترجمہ: جو چمڑا شرعی طور پر رنگ دیا جائے تو پاک ہو جاتا ہے اس پر نماز اور اس کے مشکیزے سے وضو درست ہے بجز خنزیر اور آدمی کی کھال کے کیونکہ حضورﷺ کا فرمان ہے جو چمڑا بھی رنگ دیا جائے وہ پاک ہو جاتا ہے۔
پھر خنزیر کی ناپاکی پر دلیل دی ہے کہ وہ نجس العین ہے فانه الرجس میں ھا خنزیر کی طرح راجع ہے حاشیہ پر عینی کے حوالہ سے تو یہ لکھا ہے: اسی لیے خنزیر سے نفع اٹھانا، اسے بیچنا اور اس کی تمام چیزوں کو استعمال کرنا جائز نہیں مسلمان اسے ضائع کرے تو اس پر تاوان نہیں یہی روایت امام ابو یوسفؒ سے ہے جو محیط میں مذکور ہے۔
آپ بت پرستوں کی مشابہت میں فرضی خاک کربلا کی ٹکیوں پر سجدے کریں، تعزیہ پوجیں، عَلم کے آگے ہاتھ جوڑیں، پھیلائیں آپ کو یہ مذہب نصیب ہو۔
سوال نمبر 797: بکری کا بچہ سورنی کے دودھ سے پالا جائے حلال ہے۔ (در المختار) پھر سورنی کا دودھ پینا ہی حرام کیوں ہے؟
جواب: سؤر باجزائہٖ حرام قطعی ہے تو دودھ کیسے حلال ہو؟ صورت بالا جلالہ (نجاست خور) مرغی کی طرح ہے۔ کچھ دن باندھ کر حلال خوراک کھلا کر اسے ذبح کیا جائے پالا جائے۔ غُزِی کا ترجمہ نہیں ہے یہ عمداً جھوٹ اور خیانت ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ کبھی اسے غذا حرام دودھ کی دی جائے تو بکرا حرام نہ ہو جائے گا۔ دراصل ایسی غذا کا جب حلال جانور میں استحالہ اور انتقال ہو جائے تو اس وجہ سے جانور کو حرام نہ کہا جائے۔ شیعہ کی توضیح المسائل صفحہ 26 میں ہے:
مسئلہ 210: اگر انسان کا خون یا ایسے حیوان کا جسے ذبح کرنے میں خون اس کی شہ رگ سے اچھل کر نکلتا ہے کسی ایسے حیوان کے جسم میں (پینے پلانے سے) جس کی شہ رگ سے خون اچھل کر نہیں نکلتا اور اب وہ اسی حیوان کا خون شمار ہونے لگے اور اسی کو انتقال کہتے ہیں وہ خون پاک ہے۔ اسی طرح تمام نجاسات کا حکم ہے۔
یہی وجہ درِ مختار میں لکھی ہے کہ گوشت میں تو تغیر نہ ہوا دودھ کی غذا ہلاک و فنا ہو گئی جس کا اثر باقی نہ رہا۔ (جلد، 4 صفحہ، 528)
شیعہ کی مختصر النافع صفحہ 254 از محلی میں ہے اگر حلال جانور خنزیرنی کا دودھ پی لے تو حرام نہ ہو گا۔ بلکہ اسے غسل دیا جائے گا اور پیٹ کی چیز نہ کھائی جائے گی۔
سوال نمبر 798: غایۃ الاوطار میں ہے کہ عورت کی پیشاب گاہ کی رطوبت پاک ہے۔ کیا یہ قیاس امام ابو حنیفہؒ ہے یا قرآن و حدیث سے دلیل بھی ہے؟
جواب: ہمارے نزدیک تو مسئلہ قطعی یہ ہے۔ جو چیز دو راستوں سے نکلے وہ پلید ہے وضو توڑ دیتی ہے۔ جس نے استنجاء صحیح کیا ہے اور رطوبت اندر سے نہ آئے تو مقامی رطوبت پسینہ ہے اس کی ناپاکی پر کوئی دلیل نہیں۔ جیسے قے آنے سے منہ پلید ہوتا ہے ورنہ نہیں۔ سوال نمبر 756 میں ہم شیعہ حوالہ بتا چکے ہیں وہ فرج کو چومنا جائز کہتے ہیں یہ تبھی ممکن ہے کہ رطوبت ان کے ہاں پاک ہو جیسے الفقیہہ جلد، 1 صفحہ، 14 پر مذی ودی (رطوبت فرج) کو تھوک گھنگار کی طرح پاک لکھا ہے۔
سوال نمبر 799: کنز الدقائق صفحہ 214 پر ہے کہ شراب اور سور کو عورت کا مہر مقرر کرے تو مہرِ مثل دے کیا آپ ایسا مہر مقرر کر لیتے ہیں؟
جواب: مہر میں مال کا ہونا ضروری ہے۔ یہ دونوں چیزیں مال نہیں۔ پھر عقد تذکرۂ مہر کے بغیر بھی ہو جاتا ہے تو یہ فرضی صورت ہے کہ اگر کوئی بے دین مہر میں یہ چیزیں مقرر کرے تو ان کے بجائے مہر مثل دینا ضروری ہے۔
سوال نمبر 800: براہین قاطعہ صفحہ 269 وغیرہ پر ہے کہ ہاشمیہ غیر ہاشمی کی کفو نہیں۔ تو نکاح کس طرح ہو سکتا ہے؟
جواب: مسئلہ کفو کا لحاظ مستحب ہے۔ واجب نہیں ہے کہ نکاح ہی درست نہ ہو۔ ورنہ حضورﷺ نے اپنے چچا حضرت زبیرؓ بن عبدالمطلب کی بیٹی ضباعہ کا حضرت مقداد بن اسود کندی غیر ہاشمی سے کیوں کر دیا اور فرمایا لوگ میری اقتداء کریں اور جان لیں کہ اللہ کے ہاں معزز متقی شخص ہے۔ (فروع کافی: جلد، 5 صفحہ، 342) اور سیدنا عثمانؓ و سیدنا ابو العاصؓ کو اپنی صاحبزادیاں کیوں دیں؟
سوال نمبر 801: محکمہ جاسوسی کے لیے تقیہ ضروری ہے عقلاً تقیہ کی ضرورت اور اس کے جواز کا انکار کس طرح درست ہو گا؟
جواب: ہر مسلمان نہ جاسوس ہوتا ہے اور نہ اسے دین اسلام چھپانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ صرف جنگ کے خاص حالات میں کبھی مقصد اور قومیت کو چھپانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اسے عام قانون اور مذہب کا 9/10 حصے دین چھپانے کا شعار نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ پھر نہ دین محفوظ رہتا ہے نہ شخصیات بچتی ہیں۔ شرح صافی میں کیا خوب لکھا ہے: کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت، شیعوں کے تقیہ کر لینے اور ان کی مصلحتوں کی وجہ سے ہوئی۔ بہرحال اتنا بڑا ظلم تقیہ کا ہی رہین منت ہے تو اسے یوں عام نہیں کیا جائے گا۔ تقیہ ہر بات میں ہوتا ہے اور تقیہ کرنے والا اس کے مواقع جانتا ہے۔ (کافی)
سوال نمبر 802: جب ظلم ظالم کے دفع کے لیے جھوٹ تک روا ہے اور تعریض بھی مکروہ نہیں ہے تو تقیہ کیوں ناجائز ہو گا؟
جواب: تقیہ اور جھوٹ شکل اور مفہوم کے لحاظ سے تو ایک ہیں مگر مقاصد میں مختلف ہیں ایک شیعہ اس وقت تقیہ کرتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے جب اسے اپنا ذاتی اور مذہبی مفاد حاصل کرنا ہوتا ہے تو دوسروں کو تقیہ کے ذریعے دھوکہ دے کر نام نہاد مومن بن جاتا ہے۔
سوال نمبر 803: اگر آپ متعہ کو ناجائز سمجھتے ہیں تو شرعی حد بتائیے۔
جواب: صاحبین امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے نزدیک حدِ زنا جاری ہو گی۔
چونکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ ادرء والحدود ماستطعتم (حتیٰ الامکان حدود ٹالنے کی کوشش کرو۔) حدیثِ نبویﷺ کے تحت حتیٰ الامکان شبہات سے حد کو ٹالتے ہیں اور تعزیری سزا واجب کہتے ہیں تو ایسی صورتیں کئی ہیں کہ ان میں حد واجب نہیں کہتے جن میں متعہ بھی ہے تعجب ہے باقی ایک دو صورتوں پر شیعہ خوب طعن کرتے ہیں اور متعہ کو بہت بڑا کار ثواب جانتے ہیں۔ یہاں باہمی معاہدہ ہی شبہ کا سبب ہے لیکن امام صاحبؒ کا یہ فتویٰ متروک ہے۔ فتویٰ صاحبینؒ کے قول پر ہے۔ کہ حنفی فقہ میں متعہ باز کو حد لگے گی۔
شیعہ بھی حد کو ٹال دیتے ہیں۔ من لا یحضرہ الفقیہہ باب التعزیر میں ہے کہ مرد و عورت ایک لحاف میں زنا کرتے پکڑے گئے۔ زنا کا امام کو یقین ہو گیا مگر انہوں نے نہ اقرار کیا نہ چار گواہ گزرے تو تعزیر ہو گی (حد نہ ہو گی)۔
جبکہ ایک سنی مسلمان جھوٹ ہر وقت حرام جانتا ہے ہاں جب کسی معصوم الدم کی جان جاتی ہو یا مال لوٹا جاتا ہو تو خلاف واقعہ بصورت تعریض بات کہہ کر اسے بچانا ضروری جانتا ہے جو شریعت کا تقاضا ہے۔ یہاں شیعہ کے ہاں تو جھوٹی قسم تک جائز ہے۔ توضیح المسائل صفحہ 320 مسئلہ 2718 پر لکھا ہے جھوٹی قسم گناہ ہیں لیکن اپنے آپ کو یا کسی اور مسلمان کو کسی ظالم سے نجات دلانے کے لیے جھوٹی قسم کھا لیں تو کوئی حرج نہیں بلکہ کبھی تو واجب ہو جاتا ہے۔