فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں) - ردِ رافضیت | دفاع…

فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 10

سوال نمبر 736: علامہ وحید الزمان اہلِ حدیث نے کنوز الدقائق صفحہ 13 پر لکھا ہے کہ مردار اور خنزیر کی ہڈی پاک ہے۔ جب سور اور مردار کو قرآن نے حرام قرار دیا ہے تو علامہ صاحب نے ایسے کیوں تحریر کیا؟

جواب: آخر عمر میں شیعہ ہو گئے تھے اس لیے ایسا لکھا ورنہ مسلمانوں کے ہاں سب سور اجزاء سمیت نجس ہے ہاں شیعہ کے ہاں خنزیر کے بالوں کی رسی پاک ہے اس سے کنویں سے پانی نکالنا وضو کرنا درست ہے۔ (فروعِ کافی: جلد، 1 صفحہ، 45 اور جلد، 2 صفحہ، 103 ط لکھنؤ)

نیز بال اور پشم سب پاک ہیں۔ ایضاً الفقیہہ صفحہ 50 پر ہے کہ جس کپڑے پر شراب اور خنزیر کی چربی لگی ہو اسے دھوئے بغیر نماز پڑھنا جائز ہے۔ 

نیز خنزیر کی ہڈی کا پاک ہونا علامہ کا اپنا اجتہاد ہے کیونکہ وہ پہلے غیر مقلد تھے باقی سب اہلِ مذاہب اور مقلدین سور کی ہڈی بال چمڑا ہر چیز کو نجس کہتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے رجس گندگی کہا ہے۔

سوال نمبر 737: ہر زندہ حیوان طاہر جسم ہے۔ (فقہ مالکی) 

جواب: مطلب یہ ہے کہ لعاب پسینہ اور پانی سے بدن گیلا نہ ہو خشک ہو تو ایسا کتا وغیرہ کپڑوں سے چھو جائے یا اس پر ہاتھ لگ جائے تو کپڑا اور ہاتھ پلید نہ ہوں گے۔ عمومِ بلوٰی میں سہولت کے لیے امام مالک رحمۃ اللہ کا یہ فتویٰ ہے دیگر ائمہ کا نہیں۔

سوال نمبر 738: کتے کے جھوٹے پانی سے وضو کیوں جائز ہے تیمم کیوں نہیں؟ (حاشیہ بخاری: صفحہ، 29)

جواب: 75 فیصد احناف کے ہاں یہ پانی نجس ہے دیگر مذاہب میں بھی مطلقاً جائز نہیں۔ پھر آپ نے خیانت کی کہ ساتھ ہی تیمم کرنے کی بات نہیں لکھی ورنہ بخاری میں ہے یہ زہریؒ کا قول ہے۔ سفیان ثوریؒ قرآن سے استدلال کرتے ہیں کہ جب تم پانی نہ پاؤ تو تیمم کرو۔ یہ پانی تو ہے مگر دل میں کھٹک ہے۔ لہٰذا وضو اور تیمم دونوں کیے جائیں۔ مولانا احمد علیؒ استدلال کی وجہ یہ بتاتے ہیں چونکہ ماء نکرہ تحت النفی ہے۔ نفی کے سیاق میں ہے تو عام ہو گی۔ (یعنی کوئی بھی پانی نہ پاؤ) تو تخصیص دلیل سے ہو گی۔ لہٰذا احتیاطاً تیمم کا بھی اضافہ کرے۔ کیونکہ ماء مشکوک ہے۔ عبادت میں احتیاط چاہیے اور شیعہ کے ہاں تو کتے کے لکے ہوئے پانی سے وضو جائز ہے۔ الاستبصار جلد، 1 صفحہ، 19 پر روایت ہے کہ امام صادقؒ سے پوچھا گیا کہ جس پانی کو کتے نے، بلی نے لکا ہو یا اس سے اونٹ وغیرہ جانور نے پانی پیا ہو کیا اس سے وضو یا غسل کیا جائے گا؟ فرمایا ہاں مگر اس کے علاوہ اور پانی ملے تو اس سے پرہیز کر۔

سوال نمبر 739، 740: کوئی سنی سور کا گوشت کھا لے کیا حد شرعی لگتی ہے اگر حد نہیں لگاتے تو سنیوں کو لحم الخنزیر کھانے میں کیا عذر ہے؟

جواب: گوشت کھانا حرام ہے مگر حرام خوری پر شریعت حد نہیں لگاتی۔ سود و رشوت اور مردار خوری پر آپ کیا حد لگاتے ہیں؟ ہاں تعزیری سزا 39 کوڑے تک دی جا سکتی ہے۔ اہلِ سنت نصِّ قطعی کی بناء پر لحم خنزیر نہیں کھا سکتے یہ شیعہ نہیں کہ حرام کھا کر مونچھوں پر ہاتھ پھیریں یا علی مدد کہہ کر منہ پاک ہو جائے۔

سوال نمبر 741، 742: کیا وطی فی الدبر جائز ہے؟ تو خلافِ فطرت کام کیسے جائز ہوا؟

جواب: ناجائز و حرام ہے۔

سوال نمبر 743: اگر ناجائز ہے تو سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے جواز کا فتویٰ کیوں دیا؟

جواب: بہتانِ محض ہے ہم پہلے تردید کر چکے ہیں۔ در منشور کا ترجمہ غلط کیا ہے۔ بلکہ وطی فی الدبر خود شیعہ کا محبوب مشغلہ ہے۔ فروعِ کافی جلد 2 صفحہ 234 پر ہے:

میں نے امام رضا سے پوچھا آپ کے غلام نے مجھے آپ سے مسئلہ پوچھنے کا حکم دیا ہے کیونکہ وہ ڈرتا اور آپ سے شرماتا ہے ہم نے کہا کون سا مسئلہ؟ 

قلت الرجل ياتى امرته فی دبرها قال ذلك له قلت تفعل قال انا لا نفعل ذلك۔ (فروعِ کافی: جلد، 2 صفحہ، 234)

ترجمہ: میں نے کہا ایک شخص اپنی بیوی کو مقعد میں لواطت کرے۔ امام نے کہا یہ اسے جائز ہے۔ میں نے کہا آپ ایسا کرتے ہیں۔ کہا ہم یہ کام نہیں کرتے۔

فقہ شیعہ کی معتبر کتاب المختصر النافع مصنفہ علامہ ابن الحسن الحلی المتوفیٰ 676 ہجری کتاب النکاح صفحہ 194 پر ہے:

الثانيه وطی الزوجه فی الدبر فيه روايتان اشھرھما الجواز على الكراھية

ترجمہ: دوسرا مسئلہ کیا بیوی سے لواطت کرنا درست ہے اس میں دو روایتیں ہیں مشہور تر جواز ہے ناپسندیدگی کے ساتھ۔

سوال نمبر 744 تا 748: بابت روایات واہیہ در منشور 

جواب: در منشور طبقہ رابعہ کی ایسی کتاب ہے جس میں رطب و یابس غلط اور صحیح سب کچھ ہے کیونکہ مصنف رحمۃ اللہ نے پہلے کسی بھی موضوع پر مثبت و منفی بکھری ہوئی روایات کو جمع کیا تھا پھر دوبارہ نظر ثانی تصحیح یا تہذیب و تنقیح کی موت نے مہلت نہ دی اور وہ اسی طرح چھپ کر اہلِ بدعت کا گھاٹ بن گئی۔ پھر ترتیب مذاہب سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بالعموم پہلے صحیح ترین ماثور روایات تفسیر نقل کرتے ہیں پھر دوم و سوم نمبر پر ضعیف و غلط سب کچھ لکھتے ہیں۔ جو کچھ انہیں ملے پھر سند لکھ کر پڑتالِ صحت کی ذمہ داری قاری پر ڈالتے ہیں۔

آیت نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّكُمۡ فَاۡتُوۡا حَرۡثَكُمۡ اَنّٰى شِئۡتُمۡ‌  

(تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں اپنی کھیتی میں جیسے چاہو آؤ۔) کے تحت امام سیوطیؒ نے سب سے پہلی صحیح تفسیر روایات یہ نقل کی ہیں:

1: نسائی طبرانی ابنِ مردودیہ نے ابوالنظر سے روایت کی ہے کہ اس نے نافع مولیٰ سیدنا ابنِ عمرؓ سے کہا آپ پر کافی لے دے ہو رہی ہے کہ آپ نے حضرت ابنِ عمرؓ سے اتیان نساء فی الدبر کا فتویٰ نقل کیا ہے فرمایا كذبوا علی لوگوں نے مجھ پر جھوٹ باندھا ہے میں حقیقت حال بتاتا ہوں سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما قرآن پڑھ رہے تھے میں پاس تھا جب نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّكُمۡ تک پہنچے تو کہنے لگے اے نافع کیا تو اس آیت کا شانِ نزول جانتا ہےمیں نے کہا نہیں تو کہنے لگے ہم قریشی جب مدینہ آ گئے اور انصار کی عورتوں سے شادی کی ہم نے حسبِ منشاء جماع کرنا چاہا تو انہوں نے ناپسند کیا اور بڑا قبیح جانا کیونکہ انصاری عورتوں سے یہودی عورتوں کی طرح صرف پہلو کی سمت سے (سمت پشت سے نہیں) جماع کیا جاتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّكُمۡ (کہ کھیتی میں چاروں سمت سے آ سکتے ہو)

صفحہ 1 از 10