فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں) - ردِ رافضیت | دفاع…

فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 10 از 10

جواب: ہر مسلمان نہ جاسوس ہوتا ہے اور نہ اسے دین اسلام چھپانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ صرف جنگ کے خاص حالات میں کبھی مقصد اور قومیت کو چھپانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اسے عام قانون اور مذہب کا 9/10 حصے دین چھپانے کا شعار نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ پھر نہ دین محفوظ رہتا ہے نہ شخصیات بچتی ہیں۔ شرح صافی میں کیا خوب لکھا ہے: کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت، شیعوں کے تقیہ کر لینے اور ان کی مصلحتوں کی وجہ سے ہوئی۔ بہرحال اتنا بڑا ظلم تقیہ کا ہی رہین منت ہے تو اسے یوں عام نہیں کیا جائے گا۔ تقیہ ہر بات میں ہوتا ہے اور تقیہ کرنے والا اس کے مواقع جانتا ہے۔ (کافی)

سوال نمبر 802: جب ظلم ظالم کے دفع کے لیے جھوٹ تک روا ہے اور تعریض بھی مکروہ نہیں ہے تو تقیہ کیوں ناجائز ہو گا؟

جواب: تقیہ اور جھوٹ شکل اور مفہوم کے لحاظ سے تو ایک ہیں مگر مقاصد میں مختلف ہیں ایک شیعہ اس وقت تقیہ کرتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے جب اسے اپنا ذاتی اور مذہبی مفاد حاصل کرنا ہوتا ہے تو دوسروں کو تقیہ کے ذریعے دھوکہ دے کر نام نہاد مومن بن جاتا ہے۔

سوال نمبر 803: اگر آپ متعہ کو ناجائز سمجھتے ہیں تو شرعی حد بتائیے۔

جواب: صاحبین امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے نزدیک حدِ زنا جاری ہو گی۔

چونکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ ادرء والحدود ماستطعتم (حتیٰ الامکان حدود ٹالنے کی کوشش کرو۔) حدیثِ نبویﷺ‏ کے تحت حتیٰ الامکان شبہات سے حد کو ٹالتے ہیں اور تعزیری سزا واجب کہتے ہیں تو ایسی صورتیں کئی ہیں کہ ان میں حد واجب نہیں کہتے جن میں متعہ بھی ہے تعجب ہے باقی ایک دو صورتوں پر شیعہ خوب طعن کرتے ہیں اور متعہ کو بہت بڑا کار ثواب جانتے ہیں۔ یہاں باہمی معاہدہ ہی شبہ کا سبب ہے لیکن امام صاحبؒ کا یہ فتویٰ متروک ہے۔ فتویٰ صاحبینؒ کے قول پر ہے۔ کہ حنفی فقہ میں متعہ باز کو حد لگے گی۔

شیعہ بھی حد کو ٹال دیتے ہیں۔ من لا یحضرہ الفقیہہ باب التعزیر میں ہے کہ مرد و عورت ایک لحاف میں زنا کرتے پکڑے گئے۔ زنا کا امام کو یقین ہو گیا مگر انہوں نے نہ اقرار کیا نہ چار گواہ گزرے تو تعزیر ہو گی (حد نہ ہو گی)۔

جبکہ ایک سنی مسلمان جھوٹ ہر وقت حرام جانتا ہے ہاں جب کسی معصوم الدم کی جان جاتی ہو یا مال لوٹا جاتا ہو تو خلاف واقعہ بصورت تعریض بات کہہ کر اسے بچانا ضروری جانتا ہے جو شریعت کا تقاضا ہے۔ یہاں شیعہ کے ہاں تو جھوٹی قسم تک جائز ہے۔ توضیح المسائل صفحہ 320 مسئلہ 2718 پر لکھا ہے جھوٹی قسم گناہ ہیں لیکن اپنے آپ کو یا کسی اور مسلمان کو کسی ظالم سے نجات دلانے کے لیے جھوٹی قسم کھا لیں تو کوئی حرج نہیں بلکہ کبھی تو واجب ہو جاتا ہے۔


صفحہ 10 از 10