فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں) - ردِ رافضیت | دفاع…

فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 10

دارمی نے سیدنا سعید بن یسار سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا تحمیض کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں؟

قال وما التحميض فذكر الدبر قال وهل يفعل ذلك احد من المسلمين (در منشور: جلد، 1 صفحہ، 265 )

ترجمہ: حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تحمیض کیا چیز ہے؟ سائل نے و بزرنی کا ذکر کیا تو سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کیا کوئی مسلمان ایسا بھی کر سکتا ہے؟

ان دو تفصیلی روایتوں سے پتہ چل گیا کہ سیدنا ابنِ عمرؓ پر یہ بہتانِ محض ہے جس نے بھی لگایا یا لکھا ہے وہ بری ہیں۔ جانب پشت سے مقام توالد میں جماع کے قائل تھے جس کی اجازت قرآن نے دی۔ مگر غلط فہم راویوں اور شیعوں نے اسے بگاڑ کر طعن بنا دیا۔ اسی طرح امام مالک رحمۃ اللہ اور اس امام شافع رحمۃ اللہ پر بھی بہتانِ محض ہے ان کی کتب برملا تردید کرتی ہیں۔

سوال نمبر 749: بیوی سے مداعبت کی ایک صورت؟

جواب: فتاویٰ برہنہ میں تو یہ صورت مکروہ لکھی ہے۔ ہاں یہ مذہب شیعہ کی تعلیم ہے اور وہ فخر سے بلیو پرنٹ نظارے کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی شرم گاہ کو بوہے دیتے ہیں۔ شیعہ کی معتبر ترین کتاب فروع کافی جلد 5 صفحہ 497 باب النوادر (مطبوعہ ایران جدید) میں ہے کہ سیدنا علی بن جعفرؒ نے امام ابو الحسن (رضا) سے مسئلہ پوچھا:

عن الرجل یقبل قبل المرءة قال لا بأس

ترجمہ: کہ ایک شخص عورت کی شرم گاہ چومتا ہے؟

امام نے فرمایا کچھ حرج نہیں۔ 

اثناء عشری عورت کی شہوت تو حد سے زائد ہوتی ہے تبھی تو ان کے لیے متعہ جائز ہوا۔ وہ جواباً اپنے منہ میں کیسے نہ۔ ہے یہ گنبد کی صدا جیسی کہی ویسی سنی

دوسری روایت میں ہے کہ امام صادق رحمۃاللہ سے پوچھا گیا: 

اينظر الرجل الى فرج امرءته وهو يجامعها قال لا بأس وهل اللذه الا ذلك

ترجمہ: کیا آدمی جماع کے وقت بیوی کی شرم گاہ دیکھتا رہے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ لذت تو صرف اسی شکل میں ہے۔ (ایضاً)

سوال نمبر 750: اس فتاویٰ میں ہے مالک اگر باغلام خود یا منکوحہ خود لواطت کند حد نسیت 

جواب: یہ بات بھی شیعہ مذہب کی تعلیم ہے فروع کافی سے ہم عبارت لکھ چکے ہیں کہ لواطت زن پر کوئی گناہ نہیں ہے تو حد کیسے؟

اسلام اور مذہب اہلِ سنت میں حرام ہے اور فائل کو دیوار وغیرہ سے گرا کر قتل کی سزا ہو گی۔ امام ابنِ حزم لکھتے ہیں کہ اس کی وجوبی سزا میں علماء نے اختلاف کیا ہے کچھ دونوں کو آگ میں جلاتے ہیں کچھ دونوں کو بلند پہاڑ وغیرہ سے گرا دینے اور پتھر برسانے کے قائل ہیں۔ کچھ مفعول پر رجم کہتے ہیں خواہ محصن ہو یا نہ ہو اور فاعل کو اگر محصن ہو تو رجم ورنہ زنا کی سزا کوڑے لگواتے ہیں اور کچھ تعزیر کے قائل ہیں۔ (محلی ابنِ حزم: جلد، 8 صفحہ، 460)

سوال نمبر 751: اجنبی عورت سے دبر زنی؟

جواب: گناہ ہے، تعزیری سزا ہو گی۔ حد خاص، یعنی سنگساری وغیرہ، اس لیے نہیں ہے کہ یہ فعل عین زنا نہیں ہے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کی سزا میں اختلاف کیا ہے۔ آگ میں جلانا، دیوار گرا دینا، اونچی جگہ سے گرا کر لگاتار پتھر مارنا اور زنا کی حقیقت بھی نہیں پائی جاتی کیونکہ اس سے نہ حرامی بچہ پیدا ہوتا ہے، نہ نسب مشتبہ ہوتا ہے۔ (ہدایہ: جلد 2 صفحہ، 516) 

معلوم ہوا کہ اس فعل خبیث پر حد تو نہیں مگر خط کشیدہ الفاظ کی تعزیر حد سے بھی سخت ہے۔ صاحبینؒ کے فتویٰ میں اجنبیہ سے دبر زنی اور کسی سے لواطت پر حد ہے۔ محصن ہو تو رجم ہے ورنہ 100 کوڑے ہیں۔ امام شافعی رحمۃ اللہ کے ہاں لوطی کو قتل کیا جائے گا۔ (الجوہرۃ النیرہ: جلد، 2 صفحہ، 220)

سوال نمبر 752: مردہ عورت سے زنا، لڑکے سے اغلام اور حیوان سے بدفعلی پر حد شرعی نہیں ہے۔ 

جواب: تینوں فرضی قلیل الوجود صورتیں ہیں۔ فعل زنا کی تعریف صادق نہیں آتی، شریعت میں حتیٰ الامکان حد کو ٹالنے کا حکم ہے لہٰذا سنگساری کی حد نہیں ہے ہاں گناہ ہے۔ تعزیری مذکورہ بالا سزا لازمی ہے جسے خائن شیعہ نقل نہیں کرتے کیونکہ یہی تو ان ذاکروں، ملنگوں کا دھندا ہے خود زد میں آ جائیں گے۔

ہدایہ: جلد، 2 صفحہ، 517 پر ہے جانور سے بدفعلی حقیقتہً زنا نہیں ہے کیونکہ سلیم الطبع اس سے متنفر ہوتا ہے یہ تو بے وقوفی اور حد سے زائد شہوت بھڑکنے کا نتیجہ ہے۔ اس لیے جانور کا ستر ڈھانپا نہیں جاتا ہاں تعزیری سزا دی جائے گی کیونکہ جس جرم پر حد نہ لگ سکے تو تعزیر لگتی ہے۔ فتاویٰ قاضی خاں: جلد، 4 صفحہ، 414 کتاب الحدود فصل فی التعزیر میں ہے۔ لوطی کو امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ کے ہاں تعزیری سزا ہو گی اور صاحبینؒ کے ہاں لوطی کو حد زنا لگے گی اور اگر مفعول بہ بالغ ہو تو بھی تعزیر یا حد زنا جاری ہو گی۔

تعزیری کوڑے 39، 75، 79 ہیں اور تعزیر کی ضرب زانی کی ضرب سے سخت ہے۔ (ایضاً) شیعہ کے ہاں حد نہیں کوڑوں کی سزا ہے۔ (الفقیہ)

سوال نمبر 753، 754: حیوان سے بدفعلی پر روزہ دار پر کفارہ نہیں۔ (قاضی خاں)

جواب: فعل کی حرمت اور سزا کا وجوب تو واضح ہے مگر کفارہ شریعت نے اس شخص پر لاگو کیا ہے جو روزہ عمداً کھانے، پینے اور جماع سے توڑے۔ بالا صورت ان میں نہیں آتی تو کیا شیعوں کی طرح ناجائز قیاس کر کے مسئلے بدل دیئے جائیں؟

شیعہ کی الفقیہ: جلد، 4 صفحہ 36 پر ہے کہ امام باقرؒ سے جانور سے بدفعلی کرنے والے کے متعلق مسئلہ پوچھا گیا تو فرمایا یجلد دون الحد و یفرم قیمۃ البھیمۃ لصاحبھا۔ کہ اسے کوڑے لگائے جائیں، حد نہیں اور مالک کو جانور کی قیمت تاوان ادا کرے۔ الخ۔ معلوم ہوا کہ بعینہٖ زنا نہیں تو کفارہ بھی صائم پر عائد نہ ہو گا۔ آثم ہو کر قضا کرے گا۔

مذہب شیعہ کی بے حیائی، عیاشی اور ہوس رانی کا کیا کہنا کہ متعہ دوریہ کے نام سے دس بیس شیعہ ایک عورت سے چمٹے رہتے ہیں۔

قاضی نور اللہ شوشتری نے مصائب النواصب میں لکھا ہے: 

نواں مسئلہ: ہم شیعوں کی طرف یہ منسوب ہے کہ بہت سے آدمی ایک رات میں ایک عورت سے متعہ کریں۔ خواہ عورت کو حیض آتا ہو یا بند ہو چکا ہو اس میں خیانت کر کے ایک قید چھوڑ دی ہے: 

وذٰلک ان اصحابنا قد خصوا ذٰلک بامرءۃ قد ایست لا بغیرھا من ذات الاقراء۔

صفحہ 2 از 10