فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں) - ردِ رافضیت | دفاع…

فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 4 از 10

جواب: جس مذہب کا خدا رب العالمین وحدہ لاشریک اور وعدے کا پکا ہو۔ جس مذہب کا رسول ہادی عالمینﷺ، خاتم المعصومینﷺ تمام دنیا کو فتح کرنے اور اسلام پھیلانے آیا ہو جس مذہب کی تعلیمات قرآن، حدیث اور عقلِ سلیم کے عین مطابق ہوں۔ آپ صرف زر و زن کی لالچ میں اس دینِ اسلام کو چھوڑ کر اس شیعہ مذہب میں آ گئے جس کا خدا معاذ اللہ اپنی خدائی سے معطل و معزول، کہ بارہ امام ہی دنیا کے خالق، رازق، مالک، مشکل کشا اور معبود بن گئے۔ معاذ اللہ بدعہد ہو کہ سیدنا علیؓ اور اس کی اولاد کو وعدہ کرنے کے باوجود خلافت نہ دے۔ ان کے دشمنوں کو اقتدار و خلافت دے دے۔ معاذ اللہ رسول، مفاد پرست اور دنیا دار ہو کہ نبوت کے زور سے ملنے والی جائیداد فدک صرف بیٹی کو الاٹ کر دے۔ اور مقصدِ نبوت میں ناکام ہو کہ ایک شخص بھی اس کے ہاتھ پر ہدایت یافتہ سچا مسلمان نہ بنے۔ اور جس کی تعلیمات تمام کفریات کا مجموعہ ہو، کہ معاذ اللہ ماں سے زنا کے بعد بھی وہ باپ پر حرام نہ ہو۔ تو آپ اپنی قسمت پر ماتم کریں یا پھر مجوسیت و وثینت سے ہم آغوش ہونے پر فخر کریں۔

فروغ کافی: جلد 2، صفحہ 176 پر ہے امام باقرؒ نے فرمایا اگر کوئی شخص باپ کی بیوی (سوتیلی یا سگی ماں) سے زنا کرے یا باپ کی لونڈی سے زنا کرے تو یہ اپنے خاوند پر حرام نہ ہو گی اور باندی اپنے مالک پر حرام نہ ہو گی۔ انصاف سے بتائیے جب یہ دھاندلی شریعتِ جعفریہ میں جائز ہے تو شیعہ اور مجوسی مذہب میں کیا فرق رہا؟

سوال نمبر 760: اپنے اماموں کی ایسی تعلیمات کو آیاتِ قرآنیہ سے ثابت کریں۔

جواب: ہماری تو ایسی تعلیمات ہیں ہی نہیں امامیہ آپ کہلاتے ہیں۔ ہم ہر مسئلے پر آپ کے اماموں کا حوالہ دے چکے۔ یہ تو قرآن کو دنیا سے مٹانے اور غار میں چھپا دینے کے لیے آئے تھے۔ قرآن کیسے پڑھتے پڑھاتے۔ اگر وَلَا تَنۡكِحُوۡا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمۡ (کہ اپنے باپوں کی منکوحات سے نکاح وغیرہ کا تعلق قائم نہ کرو۔)

کا ارشاد قرآن انہوں نے پڑھا ہوتا تو ماں سے نفس نکاح کو جائز نہ کہتے۔ (فروغ کافی کتاب النکاح) اور شیعہ بیٹے کی مزنیہ (معاذ اللہ) ماں باپ پر حلال نہ کہتے۔ (ایضاً: جلد، 2 صفحہ، 176)

سوال نمبر 761: ان باتوں کا ثبوت احادیثِ رسولﷺ سے پیش فرمائیں۔

جواب: ہمارے رسولﷺ شیعہ اماموں کی ان گندی تعلیمات سے پاک تھے۔

سوال نمبر 762: اتنا بتا دیں کہ ان زریں احکام پر خلفاء ثلاثہؓ نے کہاں اور کب عمل کیا؟

جواب: خلفا ثلاثہ رضی اللہ عنہم منکرِ قرآن و سنت نہ تھے جو ایسے حیا سوز مسئلے بنا کر قوم کو عیاش بناتے۔ آپ کو اپنے امام اپنی تعلیم اور اپنے متعائی وغیرہ پیشے مبارک ہوں۔

سوال نمبر 763: صحیح بخاری میں ہے کہ حضور اکرمﷺ‏ نمازوں میں دعائے قنوت پڑھتے یدعو المومنین ویلعن الکفار آپ لعنت کرنا سنت کیوں نہیں سمجھتے۔

جواب: آپ لوگوں کی خیانت و بے ایمانی کی انتہا یہ ہے کہ فعل کو لیتے ہیں اور مفعول بدل دیتے ہیں یعنی حضور اکرمﷺ‏ نے مہینہ بھر کفار کے گروہ پر لعنت کی تھی جنہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو لےجا کر شہید کر دیا تھا اور ان مؤمنین کے لیے دعا کی تھی پھر ایک ماہ بعد یہ آیت نازل ہوئی لَيۡسَ لَكَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَىۡءٌ اَوۡ يَتُوۡبَ عَلَيۡهِمۡ اَوۡ يُعَذِّبَهُمۡ الآیۃ آپ کو ان کے معاملے میں اختیار نہیں چاہے خدا ان کو توبہ کی توفیق دے یا ان کو عذاب دے کیونکہ وہ ظالم تو ہیں ہی۔ (سورۃ آل عمران: آیت 128)

مگر آپ لوگ اس وقتی قرآن سے منسوخ عمل کو دائمی سنت بنا کر مسلمانوں پر ہی لعنت کرتے ہیں ان کفار پر کبھی بھی نہیں کرتے جن پر رسولِ خداﷺ‏ نے کی تھی 

اب فقہی طور پر اس کی شکل یہ ہے کہ زندہ معین کافروں کو لعنت جائز نہیں۔ دلیل یہی آیت ہے اور کفر پر مرنے والوں پر جائز ہے جن کا نصِ قطعی سے ثبوت ہو جیسے ابو لہب وغیرہ شوافع کے ہاں قنوت ہر صبح مسنون ہے حنیفہ کے ہاں نہیں دلیل یہ ہے کہ حضرت ابنِ مسعودؓ کی روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ‏ نے کبھی قنوت فجر میں نہیں پڑھی بجز ایک ماہ کے (جس کا ذکر اوپر روایت میں ہے۔) 

اس وقتی سنت پر عمل اب بھی ہم مسلمان کرتے ہیں جب مسلمانوں پر خاص آفت آ جائے تو صبح کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھتے ہیں مگر دائمی عمل اور قنوت نہیں پڑھتے کیونکہ ترمذی، نسائی، ابنِ ماجہ نے طارق اشجعی سے روایت کی ہے کہ میں نے حضورﷺ کے پیچھے نمازیں پڑھیں آپﷺ‏ نے قنوت نہیں پڑھی پھر سیدنا ابوبکرؓ کے پیچھے پڑھی پھر سیدنا عمرؓ کے پیچھے پھر سیدنا عثمانؓ کے پیچھے پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھیں کسی نے قنوت نہیں پڑھی اے بیٹے یہ بدعت ہے اسی طرح ابنِ ابی شیبہ میں بھی ہے۔ (حاشیہ بخاری: جلد، 1 صفحہ، 110)

سوال نمبر 764: بخاری میں سیدنا ابن عمرؓ سے ہے کہ حضور اکرمﷺ‏ نماز میں دعا پڑھتے تھے اللھم العن فلانا و فلانا کیا شخصی لعنت کا جواز ثابت نہ ہوا؟

جواب: یہ بھی خاص بالا واقعہ سے متعلق ہے۔ پھر آیت سے منسوخ ہو گیا اور وہ کفار تھے مگر غضب یہ ہے کہ شیعہ ان الفاظ کی آڑ میں کفار کا روپ دھار کر مسلمانوں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر لعنت بھیجتے اور لعنتی بن جاتے ہیں۔ (معاذ اللہ) اور شخصی لعنت کے حرمت اصول کافی جلد 2 باب السباب واللعان وغیرہ سے ثابت ہے جو ہم ذکر کر چکے ہیں کہ لعنت کو بہرحال ایک محل چاہیے۔ اگر لعنت کیا گیا شخص اس کا اہل نہ ہو تو لعنت کرنے والے پر لوٹتی ہے اور وہ ملعون بن جاتا ہے۔ کیا ضرورت ہے کہ ایک وہمی شوق پورا کرنے کے لیے آدمی خود لعنتی بن جائے۔

سوال نمبر 765: خصائص سیوطی میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا ان فی اصحابی اثنا عشر منافقاً۔ ان کے نام تحریر کریں، پھر سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہدایت یافتہ کیسے ہو گئے؟

صفحہ 4 از 10