فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں) - ردِ رافضیت | دفاع…

فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 7 از 10

ذرا اپنے گھر میں جھانکیے کہ کیا مذہبِ شیعہ میں روزہ کی یہی قدر ہے۔

مسئلہ 1608: اگر سپاری سے کم اندر داخل ہوا اور منی بھی نہ نکلے تو اس سے روزہ باطل نہیں ہو گا۔ (توضیح المسائل: صفحہ، 173) خود تو ناقص جماع کر گزریں۔ اور روزہ نہ ٹوٹے ہم کو استنجا بھی نہ کرنے دیں؟

سوال نمبر 779: میت کے منہ میں روئی کیوں دیتے ہو؟ 

جواب: اس لیے کہ کوئی آلائش وغیرہ نہ نکلے۔ قبر میں نکیریں کے سوال پر اس کی رکاوٹ نہ ہو گی۔ منہ سے نکال کر بلوا ہی لیں گے۔

سوال نمبر 780: امام ابو حنیفہؒ نے 45 برس ایک وضو سے پنجگانہ نمازیں پڑھیں۔ کیا اس عرصہ میں رفع حاجت کی ضرورت نہ ہوئی اور نیند نہ آئی؟

جواب: عمداً آپ نے کوڑھ مغزی کا ثبوت دیا۔ ورنہ بات یہ ہے کہ 40، 45 سال تک یہ معمول رہا کہ صبح وضو کر کے تا عشاء پنجگانہ نمازیں اسی ایک وضو سے ادا فرماتے تھے۔ پیشاب و ریح سے توڑنے کی حاجت نہ پڑتی تھی۔ اسے کمالِ صحت کے ساتھ دینی ذوق اور کرامت سے تعبیر کیا جائے گا۔

سوال نمبر 781، 782: فرمانِ خداوندی ہے: جو شخص ایسا کلمہ کفر کہنے پر مجبور کیا جائے جبکہ اس کا دل حقیقتِ ایمان سے مطمئن ہو تو اسے کوئی حرج نہیں۔ (نحل) کیا شیعوں کا تقیہ قرآن سے ثابت ہوا یا نہیں؟ نیز آیت کا شانِ نزول بھی بتائیں۔

جواب: یہ حضرت عمار بن یاسرؓ کے واقعہ میں اتری۔ جب کفار نے ان کے والدین کو شہید کر کے ان سے بھی کلمہ کفر کہلایا تھا۔ انہوں نے جان کے ڈر سے کہہ دیا اور پریشان ہو کر حضورﷺ کو حال سنایا تو یہ آیت اتری۔

یہ اکراہ اور مجبوری ہے شیعوں کا تقیہ مجبوری کے علاوہ اپنے مفاد کے لیے بھی ہوتا ہے۔ اکراہِ شرعی اور شیعہ تقیہ میں سات قسم کا فرق اور استدلالِ شیعہ کی بیخ کنی ہم نے ہم سنی کیوں ہیں صفحہ، 184 تا 194 میں کر دی ہے۔

سوال نمبر 783: نووی میں ہے کہ جب کوئی ظالم، غاصب کسی کی امانت چھیننا چاہے تو امین پر جھوٹ بولنا جائز ہے بلکہ واجب ہے تو پھر شیعوں کا تقیہ کیوں ناجائز ہے؟

جواب: کتبِ شیعہ میں بھی بالکل اسی طرح ہے مثلاً توضیح المسائل دیکھیں۔ (متفرق مسائل) لیکن غیر کے مال و جان کو بچانا ضروری ہے تو جھوٹ مجبوراً بولنا پڑا جب کہ شیعہ کا تقیہ بلاخوف ذاتی مفاد کے لیے ہوتا ہے۔ وہ جھوٹ کی طرح حرام ہے۔

سوال نمبر 784: لا دین لمن لا تقیۃ له آپ کی بھی حدیث ہے۔ (کنز العمال) 

جواب: شیعہ کی حدیث تو یقیناً ہے کہ ان کا 9/10 دین تقیہ میں ہی مستور ہے۔ اور واقعی جو شیعہ مذہب نہ چھپائے، ظاہر کرتا پھرے وہ بے دین و بے ایمان ہے۔ (اصول کافی باب تقیہ) 

مگر اہلِ سنت کے ہاں یہ حدیث ثابت نہیں نہ اس کی سند معلوم ہے۔ کنز العمال جلد 2 صفحہ 22 سامنے کھلا ہے۔ اس میں کہیں یہ روایت نہیں۔ جھوٹی شیعوں کی بناوٹی کتب سے اصل دیکھے، بغیر، جھوٹ کی تبلیغ نہ کیا کریں۔

سوال نمبر 785: ابنِ ابی سرح کاتبِ وحی ہو کر مرتد ہو گیا تو کیا فضیلت رہی؟ 

جواب: ایمان، قبولِ اسلام، زیارتِ نبوی کتابتِ وحی وغیرہ تمام اعمال فی نفسہا باعثِ فضیلت ہیں۔ اب اگر کوئی شخص حاصل شدہ دولت ضائع کر دے یعنی مرتد ہو جائے تو اس فعل کی فضیلت پر تو حرف نہیں آیا۔ علماء کی تحقیق یہ ہے کہ ارتداد کے بعد پھر اسلام لانے سے یہ فضیلت مل جاتی ہے کیونکہ الا من تاب وعمل صالحا۔ الایه اسے بھی شامل ہے۔ ابنِ ابی سرح فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہو گیا تھا تو کتابت وحی کی فضیلت پھر حاصل ہو گئی۔

سوال نمبر 786: سیدنا امیرِ معاویہؓ کرھاً اسلام میں داخل ہوا، طوعاً نکل گیا۔ فرمانِ سیدنا علیؓ ہے: کیا کل ایمان کی شہادت سنیوں کے لیے کافی نہیں ہے؟

جواب: بے حوالہ جھوٹا قول ہے۔ نہج البلاغہ کا گشتی مراسلہ اس کی تکذیب کرتا ہے۔

سوال نمبر 787: کیا نبیﷺ کا سسر یا سالا ہونا ناجی ہونے کے لیے کافی ہے؟

جواب: نہیں ایمان و عمل صالحہ ضروری ہے اگر وہ حاصل ہو تو سونے پر سہاگہ۔ یہ حضور اکرمﷺ‏ کے رشتہ داری نجات میں ضرور مفید ہو گی۔ 

اَلۡاَخِلَّاۤءُ يَوۡمَئِذٍۢ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ۞ (سورۃ الزخرف: آیت 67)

ترجمہ: پرہیز گاروں کے سوا سب دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔

سوال نمبر 788: اگر کافی ہے تو کیا اُم المؤمنین سیدہ صفیہؓ کے بھائی اور والد بھی ناجی ہیں؟

جواب: نہیں وہ مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے۔ یہ ملعون عارضہ ایسا ہے جیسے حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کی مثال حضرت حسنینؓ پر کوئی فٹ کر دے۔ (وشتان ما بینہما)

سوال نمبر 789: اجتہاد نص کی غیر موجودگی میں ہوتا ہے۔ حدیثِ رسول یا علی حربک حربی و سلمک سلمی آئی ہے۔ تو حضرت امیرِ معاویہؓ کی جنگ اجتہاد کیسے ہوئی؟

جواب: اول تو یہ حدیث صحیح نہیں ہے اس کی سند پر مفصل جرح سوال 52 میں گزر چکی ہے اور عقلی جواب بھی ہو چکا ہے۔ 

دوم: جب خود حضرت علیؓ نے اپنے محاربین کو ایمان و اسلام میں اپنے برابر اور بھائی کہا ہے اور ان کی بدگوئی اور برائی سے منع فرمایا ہے۔ (نہج البلاغہ اردو: صفحہ، 612 خطبہ 205) معلوم ہوا کہ حدیث سیدنا علیؓ کے ہاں بھی درست نہیں۔

سوم: جب حضرت علی المرتضیٰؓ نے آخر میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی اور نصف سے زائد مملکت کا حاکم اور خراج و محاصل وصول کنندہ تسلیم کر لیا۔ (طبری) اور سیدنا حسنؓ نے تو باقاعدہ بیعت کر کے خلافت حقہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو دے دی تو اجتہادی غلطی سے آپؓ پر طعن نہ کیا جائے گا۔

چہارم: نص کا نص سے تعارض ہو تو اجتہاد کی گنجائش نکل آتی ہے۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ بنو عثمانؓ کی وکالت سے ولی الدم تھے۔ قرآن نے ولی الدم کو سلطان کا منصب بخشا ہے۔ (پارہ، 15 رکوع 4) 

سیدنا علی المرتضیٰؓ قصاص لینے میں معذور تھے تو حضرت امیرِ معاویہؓ نے از خود طاقت تیار کی کہ قصاص لیا جائے پھر قاتلینِ حضرت عثمانؓ سے جنگ ہوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مقصوداً نہیں ہوئی۔

سوال نمبر 790: آپ یا سیدنا انسؓ بن مالک اور حضرت ابو ہریرہؓ سے اجتہاد کی نفی کرتے ہیں یا پھر قاتلِ حضرت حمزہؓ وحشی کو مجتہد قرار دیتے ہیں کیا حضرت امیرِ معاویہؓ کا اجتہاد اسی ٹکسال کی درآمد ہے۔

صفحہ 7 از 10