فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں) - ردِ رافضیت | دفاع…

فقہی مسائل (صرف بالغ مرد مطالعہ کریں)

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 9 از 10

جواب: قتلِ مؤمن بالاتفاق کبیرہ گناہ ہے بشرطیکہ بغض ایمان کی وجہ سے اسے حلال نہ جانے ورنہ کفر ہے۔ خلفاء راشدینؓ اگرچہ تمام مؤمنین سے افضل اور ان کے سردار ہیں۔ تاہم انبیاء کرام علیہم السلام نہیں کہ قاتل بالتاویل یقیناً کافر ہو۔ شیعہ کی بدگمانی ایک کفریہ عقیدہ ہے جس کی وجہ سے وہ ان کو کافر (معاذ اللہ) جان کر لعنت اور تبروں سے اپنا ایمان تباہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے کفر و ارتداد پر ائمہ اہلِ سنت کے حوالہ جات ہم عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین باب ہفتم میں پیش کر چکے ہیں۔ حافظ ابنِ تیمیہؒ الصارم المسلول صفحہ 592 پر کیا خوب لکھتے ہیں: 

جس نے سبِّ وشتم سے بڑھ کر یہ اعتقاد رکھا کہ (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے) چند نفوس کے سوا جو دس سے بھی نہیں بڑھتے سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معاذ اللہ مرتد ہو گئے یا ان کی اکثریت فاسق اور نافرمان ہو گئی تو ایسے شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ بلکہ ایسے شخص کے کفر میں جو شک کرے اس کا کفر بھی متعین ہے۔ 

تعجب ہے کہ شیعہ کو ہم پر تو اعتراض ہے مگر خود قافلہ اہلِ بیتؓ کو بلا کر شہید کرنے والے کوفی شیعوں اور قاتلوں کو مؤمنین توابین کہتے ہیں۔ (مجالس المومنین)

سوال نمبر 796: قاضی ابو یوسفؒ ک نزدیک سؤر کا چمڑا رنگنے سے پاک ہو جاتا ہے اس پر نماز درست ہے۔ ہدایہ: جلد 1 صفحہ 22 کیا سؤر کا چمڑا سجدہ گاہ بنانا بہتر ہے یا خاکِ کربلا جس میں سیدنا حسینِؓ رسول کا خون شامل ہے؟

جواب: آپ نے یہ بالکل جھوٹ لکھا ہے ہدایہ کی عبارت یہ ہے: 

وکل اھاب دبغ فقد طہر جازت الصلوٰۃ فیه والوضوء منه آلا جلد الخنزیر والادمی لقولہ علیہ السلام ایما اھاب دبغ فقد طہر (ہدایہ: جلد، 1 صفحہ، 40)

ترجمہ: جو چمڑا شرعی طور پر رنگ دیا جائے تو پاک ہو جاتا ہے اس پر نماز اور اس کے مشکیزے سے وضو درست ہے بجز خنزیر اور آدمی کی کھال کے کیونکہ حضورﷺ کا فرمان ہے جو چمڑا بھی رنگ دیا جائے وہ پاک ہو جاتا ہے۔ 

پھر خنزیر کی ناپاکی پر دلیل دی ہے کہ وہ نجس العین ہے فانه الرجس میں ھا خنزیر کی طرح راجع ہے حاشیہ پر عینی کے حوالہ سے تو یہ لکھا ہے: اسی لیے خنزیر سے نفع اٹھانا، اسے بیچنا اور اس کی تمام چیزوں کو استعمال کرنا جائز نہیں مسلمان اسے ضائع کرے تو اس پر تاوان نہیں یہی روایت امام ابو یوسفؒ سے ہے جو محیط میں مذکور ہے۔

آپ بت پرستوں کی مشابہت میں فرضی خاک کربلا کی ٹکیوں پر سجدے کریں، تعزیہ پوجیں، عَلم کے آگے ہاتھ جوڑیں، پھیلائیں آپ کو یہ مذہب نصیب ہو۔

سوال نمبر 797: بکری کا بچہ سورنی کے دودھ سے پالا جائے حلال ہے۔ (در المختار) پھر سورنی کا دودھ پینا ہی حرام کیوں ہے؟

جواب: سؤر باجزائہٖ حرام قطعی ہے تو دودھ کیسے حلال ہو؟ صورت بالا جلالہ (نجاست خور) مرغی کی طرح ہے۔ کچھ دن باندھ کر حلال خوراک کھلا کر اسے ذبح کیا جائے پالا جائے۔ غُزِی کا ترجمہ نہیں ہے یہ عمداً جھوٹ اور خیانت ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ کبھی اسے غذا حرام دودھ کی دی جائے تو بکرا حرام نہ ہو جائے گا۔ دراصل ایسی غذا کا جب حلال جانور میں استحالہ اور انتقال ہو جائے تو اس وجہ سے جانور کو حرام نہ کہا جائے۔ شیعہ کی توضیح المسائل صفحہ 26 میں ہے:

مسئلہ 210: اگر انسان کا خون یا ایسے حیوان کا جسے ذبح کرنے میں خون اس کی شہ رگ سے اچھل کر نکلتا ہے کسی ایسے حیوان کے جسم میں (پینے پلانے سے) جس کی شہ رگ سے خون اچھل کر نہیں نکلتا اور اب وہ اسی حیوان کا خون شمار ہونے لگے اور اسی کو انتقال کہتے ہیں وہ خون پاک ہے۔ اسی طرح تمام نجاسات کا حکم ہے۔ 

یہی وجہ درِ مختار میں لکھی ہے کہ گوشت میں تو تغیر نہ ہوا دودھ کی غذا ہلاک و فنا ہو گئی جس کا اثر باقی نہ رہا۔ (جلد، 4 صفحہ، 528)

شیعہ کی مختصر النافع صفحہ 254 از محلی میں ہے اگر حلال جانور خنزیرنی کا دودھ پی لے تو حرام نہ ہو گا۔ بلکہ اسے غسل دیا جائے گا اور پیٹ کی چیز نہ کھائی جائے گی۔

سوال نمبر 798: غایۃ الاوطار میں ہے کہ عورت کی پیشاب گاہ کی رطوبت پاک ہے۔ کیا یہ قیاس امام ابو حنیفہؒ ہے یا قرآن و حدیث سے دلیل بھی ہے؟ 

جواب: ہمارے نزدیک تو مسئلہ قطعی یہ ہے۔ جو چیز دو راستوں سے نکلے وہ پلید ہے وضو توڑ دیتی ہے۔ جس نے استنجاء صحیح کیا ہے اور رطوبت اندر سے نہ آئے تو مقامی رطوبت پسینہ ہے اس کی ناپاکی پر کوئی دلیل نہیں۔ جیسے قے آنے سے منہ پلید ہوتا ہے ورنہ نہیں۔ سوال نمبر 756 میں ہم شیعہ حوالہ بتا چکے ہیں وہ فرج کو چومنا جائز کہتے ہیں یہ تبھی ممکن ہے کہ رطوبت ان کے ہاں پاک ہو جیسے الفقیہہ جلد، 1 صفحہ، 14 پر مذی ودی (رطوبت فرج) کو تھوک گھنگار کی طرح پاک لکھا ہے۔

سوال نمبر 799: کنز الدقائق صفحہ 214 پر ہے کہ شراب اور سور کو عورت کا مہر مقرر کرے تو مہرِ مثل دے کیا آپ ایسا مہر مقرر کر لیتے ہیں؟

جواب: مہر میں مال کا ہونا ضروری ہے۔ یہ دونوں چیزیں مال نہیں۔ پھر عقد تذکرۂ مہر کے بغیر بھی ہو جاتا ہے تو یہ فرضی صورت ہے کہ اگر کوئی بے دین مہر میں یہ چیزیں مقرر کرے تو ان کے بجائے مہر مثل دینا ضروری ہے۔

سوال نمبر 800: براہین قاطعہ صفحہ 269 وغیرہ پر ہے کہ ہاشمیہ غیر ہاشمی کی کفو نہیں۔ تو نکاح کس طرح ہو سکتا ہے؟

جواب: مسئلہ کفو کا لحاظ مستحب ہے۔ واجب نہیں ہے کہ نکاح ہی درست نہ ہو۔ ورنہ حضورﷺ نے اپنے چچا حضرت زبیرؓ بن عبدالمطلب کی بیٹی ضباعہ کا حضرت مقداد بن اسود کندی غیر ہاشمی سے کیوں کر دیا اور فرمایا لوگ میری اقتداء کریں اور جان لیں کہ اللہ کے ہاں معزز متقی شخص ہے۔ (فروع کافی: جلد، 5 صفحہ، 342) اور سیدنا عثمانؓ و سیدنا ابو العاصؓ کو اپنی صاحبزادیاں کیوں دیں؟

سوال نمبر 801: محکمہ جاسوسی کے لیے تقیہ ضروری ہے عقلاً تقیہ کی ضرورت اور اس کے جواز کا انکار کس طرح درست ہو گا؟

صفحہ 9 از 10