Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مؤمنوں کے مابین اختلاف رونما ہونا اور کتاب و سنت سے اس کو حل کرنا

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے اس قصے سے یہ سبق بھی سیکھا کہ سچے مومنوں کے درمیان اختلاف ہو سکتا ہے، چنانچہ ان مشکل حالات میں لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی کے متعلق رائیں مختلف ہوگئیں، ان کی امارت سے متعلق لوگوں کے اقوال مختلف ہوگئے، لیکن جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس اختلاف کو لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی سے متعلق ثابت شدہ حکم نبوی کی روشنی میں حل کردیا اوریہ واضح کردیا کہ وہ حکم نبوی میں کسی طرح کوتاہی نہیں کریں گے۔ کسی نے اپنی رائے پر (اس کے فاسد اور باطل ہوجانے کا پتہ چل جانے کے بعد) اصرار نہیں کیا۔

اسی طرح سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے یہ درس بھی سیکھا کہ اکثریت کی رائے اگر نص شرعی کے مخالف ہو تو اس کا کوئی اعتبار نہ ہوگا، عام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رائے تھی کہ لشکر اسامہ کو روک دیا جائے، چنانچہ انھوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا:

’’بہت سے عرب آپ کے خلاف ہوگئے ہیں، لوگوں کو تقسیم کردینے پر آپ کچھ نہ کرسکیں گے۔‘‘ 

(تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 227)

وہ لوگ معمولی لوگ نہیں بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے جو روئے زمین پر انبیاء و رسل کے بعد سب سے افضل ہیں، لیکن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کی رائے کو نہ مانا، اور یہ واضح کردیا کہ فرمان نبوی ان تمام لوگو ں کی رائے سے زیادہ ضروری، قابل احترام اور افضل ہے۔

(قصۃ بعث أبی بکر جیش أسامۃ: صفحہ 44)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر اکثریت کی رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کبھی کبھی اقلیت کی رائے درست ہوتی ہے اور اکثریت کی رائے غلط ہوتی ہے، اس لیے اکثریت کی بناء پر ترجیح لازم نہیں ہے۔‘‘ 

(فتح الباری: جلد 8 صفحہ 146)

خلاصۂ کلام یہ کہ لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی کے قصے سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ جس رائے کو اکثریت کی تائید حاصل ہو یہ اس کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہے۔

(قصۃ بعث أبی بکر جیش أسامۃ: صفحہ 46)

اس قصے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ حق جب واضح ہو جاتا ہے تو مومن اس کو مان لیتے ہیں چنانچہ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انھیں یاد دلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کے بھیجنے کا حکم دیا تھا، اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہی نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا تھا تو ان لوگوں نے فرمان نبوی کے سامنے سر تسلیم خم کردیا۔

(قصۃ بعث أبی بکر جیش أسامۃ: صفحہ 52)