Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جس چیز کی دعوت دی جائے عملاً کر کے دکھایا جائے

  علی محمد الصلابی

لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی کے قصے سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے یہ بھی سیکھا کہ جس چیز کی دعوت دی جائے اسے عملاً کرکے دکھانے کی اہمیت ہوتی ہے چنانچہ انھیں معلوم ہوا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسامہ رضی اللہ عنہ کی امارت پر صرف اصرار ہی نہیں کیا بلکہ عملاً ان کو امیر ماننے کا ثبوت پیش کیا، یہ چیز درج ذیل دونوں باتوں سے ثابت ہوتی ہے:

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بہ اصرار پیدل چلنا جب کہ وہ سوار تھے اور ان کی عمر بیس سال کی تھی اور جب اسامہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے مطالبہ کیا کہ یا تو آپ بھی سوار ہوجائیں یا مجھے سواری سے اترنے کی اجازت دیں، تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ دونوں میں سے کسی پر بھی راضی نہ ہوئے۔ بلکہ اسامہ رضی اللہ عنہ کے سوار رہنے پر اصرار کیا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیدل چل کر لشکر کو یہ پیغام دے رہے تھے: مسلمانو! دیکھو میں ابوبکر خلیفۂ رسول ہونے کے باوجود اسامہ کو امیر تسلیم کرتے ہوئے پیدل چل رہا ہوں اور وہ سوار ہیں۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ضرورت کے پیش نظر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی کہ وہ آپ کے ساتھ مدینہ ہی میں رہ جائیں، لیکن آپ نے اس کا حکم نہیں دیا، بلکہ اسامہ رضی اللہ عنہ سے اجازت طلب کی کہ اگر وہ مناسب سمجھیں تو عمر رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں رہنے دیں، اس کے ذریعے سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو امیر ماننے اور ان کا احترام کرنے کی عملی تصویر پیش کی۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا یہ فعل لشکر کو اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ وہ اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر مانیں اور ان کے احکامات کو بجا لائیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قول و عمل کے امتزاج کا جو اہتمام کیا اسلام اسی کا حکم دیتا ہے، اسی لیے جو لوگ اپنے کو بھلا کر دوسروں کو بھلائی کا حکم دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمایا ہے:

(قصۃ بعث أبی بکر جیش أسامۃ: صفحہ 66) 

اَتَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبِرِّ وَتَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ وَاَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَ الۡكِتٰبَ‌ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ‏ ۞

(سورۃ البقرة آیت 44)

ترجمہ: کیا تم (دوسرے) لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہو! کیا تمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں