Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

سوال نمبر 871: حضور اکرمﷺ‏ نے ہم کو حکم دیا تھا کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یا امیر المؤمنین کہہ کر سلام کہیں کیا اصحابِ ثلاثہؓ کے لیے بھی ایسا حکم ہے؟ (ابنِ مردویہ از ابنِ بریدہؓ)

جواب: ابنِ مردویہ مطبوع نہیں ہے ماخذ کا حوالہ نہیں دیا سند بھی کچھ نہیں لہٰذا بے سروپا روایت قابلِ استدال نہیں۔ 

حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کے لیے جب حضورﷺ‏ خلافت کی پیشین گوئی فرما گئے اور فاقتدوا بالذین من بعدى ابی بكر و عمر کہ میرے بعد سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی پیروی کرنا۔ (ترمزی) تو لفظ امیر المؤمنین کہنے سے عملی خلافت کے قیام کی منظوری زیادہ وزنی ہے۔

سوال نمبر 872: شیخینؓ جب خود عہدِ نبوی میں آپﷺ‏ کے حکم سے السلام علیک یا امیر المؤمنين ورحمة الله وبركاته کہہ کر سنتِ اسلام ادا کرتے تھے۔ (ارجح المطالب) تو حضرت عمرؓ نے اپنی ذات کو امیر المؤمنین کیوں کہلوایا؟

جواب: یہاں سے پتہ چلا کہ شیخینؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے محب و عقیدت مند تھے اب جو ان کا دشمن ان پر علی دشمنی کا بہتان لگاتا ہے وہ خود مفتری کذاب اور بباطن دشمنِ سیدنا علیؓ ہے۔ 

نیز امیر المؤمنین آپؓ کا لقب تھا حقیقتہً عہدہ خلافت نہ تھا ورنہ عہدِ نبوت میں آپؓ خلیفہ و امیر المؤمنین نہ تھے پھر کیوں یہ بولا گیا۔ 

ارجح المطالب شیعہ کتاب ہے روایت بے سند و بے حوالہ ہے حجت نہیں علاوہ ازیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ لقب مسلمانوں نے دیا اور آپؓ کو پسند آ گیا ۔افسرانِ فوج عموماً امیر کے نام سے پکارے جاتے تھے کفارِ عرب آنحضرتﷺ‏ کو امیرِ مکہ کہا کرتے تھے۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو اعراق میں لوگ امیر المؤمنین کہنے لگے۔ (مقدمہ ابنِ خلدون) 

ایسی عادت پر ایک دفعہ سیدنا لبید بن ربیعہؓ اور سیدنا عدی بن حاتم نے مدینہ آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے یہ لفظ استعمال کیا تو مشہور ہو گیا۔ (ادب المفرد للبخاری) پھر خاص عہدہ کا نام سمجھا گیا۔

سوال نمبر 873: دیلمی نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے: سیدنا علیؓ کا نام اس وقت سے امیر المؤمنین ہوا ہے کہ ابھی حضرت آدم علیہ السلام روح اور جسد کے درمیان تھے پھر خدا نے ارواح سے خطاب کیا میں تمہارا خدا ہوں محمدﷺ‏ تمہارے نبی ہیں علیؓ تمہارا امیر ہے کیا حضورﷺ‏ نے خدا کی طرف جھوٹی نسبت کی؟

جواب: دیلمی چوتھی صدی کا حاطب اللیل ہے اور کمزور ترین روایت و کتاب والا ہے جو حجت نہیں۔ نیز ظاہر عقل بھی اسے جھوٹا بتاتی ہے کیونکہ خدا کی خدائی دائمی ہے اور کوئی خدا نہیں۔ رسالت و نبوت تا قیامت دائمی ہے اور کوئی نبی نہیں بن سکتا۔ مگر امارتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ عارضی ہیں نہ حضورﷺ کے وقت تھی نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد تھی۔ کیونکہ شیعہ عقیدہ کے مطابق یکے بعد دیگرے 11 اور امیر و امام بنتے رہے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امارت کا خطاب تمام انسانوں کے لیے ممکن نہیں۔ علاوہ ازیں درایت کے اعتبار سے بھی یہ روایت غلط ہے کیونکہ اس میں کنت نبيا و آدم بين الماء والطین۔ کا مقابلہ کر کے حضورﷺ کی ختمِ نبوت اور خصوصیت کو مٹایا گیا ہے۔(معاذاللہ)

سوال نمبر 874: اگر حضورﷺ نے یوں ہی منسوب کر دی تو پھر خدا کے اس عہد کا کیا ہو گا۔ اگر رسولﷺ کسی بات کو یوں ہی ہماری طرف منسوب کر دیتا تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ کر اس کی رگِ جان کاٹ ڈالتے۔ (پارہ 29 سورۃ حاقہ)

جواب: حضورﷺ نے تو خدا کی طرف ایسی عقل و نقل کے خلاف بات منسوب ہی نہیں کی۔ ہاں جن کذاب راویوں نے بنا کر نسبت کی ان کے نام و نشان کی رگ خدا نے کاٹ ڈالی۔ جس کتاب میں یہ روایت ہے وہ ضعاف اور موضوعات کا پلندہ بن کر محدثین میں مشہور ہے۔

سوال نمبر 875: جب خدا نے ارواح کے سامنے اپنا، اپنے رسولﷺ کا اور ہمارے امیر کا کلمہ پڑھا تو آپ لوگ کلمے کے ساتھ ذکرِ امارت، ولایت، اور امامت، کو کیوں برا سمجھ کر خدا کی مخالفت کرتے ہو؟

جواب: جھوٹے لوگوں کے دلائل بھی اسی طرح جھوٹے ہوتے ہیں جب ایک گھڑنتو کلمہ ولایت نہ قرآن سے ملا نہ حدیثِ نبویﷺ‏ سے تو عالمِ ارواح کی بات بنا کر خدا کے ذمے لگا دی۔ اگر خدا نے عالمِ ارواح میں یہ کلمہ پڑھا تھا تو اب جب عالمِ دنیا میں اپنا کلمہ لا الہ الا اللہ اپنے رسولﷺ‏ کا کلمہ محمد رسول اللہﷺ قرآن میں نازل فرما دیا تو خدا کو کیا ڈر لگ گیا یا وہ بھول گیا کہ علی ولی اللہ امیر المومنین الامام علی کا کلمہ قرآن میں نہ اتارا اور تمہارا امیر کلمے کی سرپرستی سے محروم اور یتیم ہو گیا؟ شیعوں کو کچھ تو عقل و نقل سے بات کرنی چاہیے اور خدا پر بہتان باندھ کر بقول قرآن ظالم ترین مفتری نہ بننا چاہیے۔ ہم تو خدا کے فرماں بردار ہیں۔ خدا کے مخالف اس پر بہتان باندھنے والے شیعہ ہی ہیں۔

سوال نمبر 876: سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے یہ امیر المؤمنین، سید المسلمین سفید منہ اور ہاتھ والوں کا قائد ہے قیامت کے دن یہ پل صراط پر بیٹھے گا اور اپنے دوستوں کو جنت میں اور دشمنوں کو دوزخ میں داخل کرے گا۔ (ابنِ مردویہ) کیا اس سے دوستی جنت کی ضمانت ہے یا نہیں؟ 

جواب: فرضی دوستی اور بغضِ سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے طرف داری تو کسی چیز کی ضامن نہیں ہاں خدا و رسولﷺ اور شریعتِ محمدیہ پر کامل ایمان کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی پیروی مؤجب نجات ہے اور شیعہ اس سے یقیناً محروم ہیں۔ پھر یہ روایت جعلی ہے جو یکے از تین لاکھ ہے۔ 

موضوعاتِ کبیر صفحہ 169 پر ہے کہ جو کچھ رافضیوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں روایتیں گھڑی ہیں وہ گنتی سے زائد ہیں۔ حافظ ابو یعلی رحمۃ اللہ کہتے ہیں کہ خلیلی نے کتاب الارشاد میں فرمایا ہے رافضیوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے فضائل میں تقریباً تین لاکھ حدیثیں گھڑی ہیں۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں کیونکہ اگر آپ ان کی روایتیں تلاش کریں گے تو ایسے ہی پائیں گے۔

سوال نمبر 877: ایسی ہستی سے عداوت رکھنا جہنم کا امیدوار بننا ہے یا نہیں؟ 

جواب: ایسی ہستی کو خدا کا شریک فی الصفات بنانا، قرآن کا سارق بتانا اور اس کے تمام ظاہری اعمال و عقائد میں مخالفت کرنا جو شیعہ، سبائیہ، غالیہ، اثناء عشریہ کا اصل مذہب ہے یقیناً جہنم میں پہنچنا ہے۔ شیعوں کے سوا سیدنا علیؓ کا دشمن کوئی نہیں ہو سکتا۔

سوال نمبر 878، 879: یقین اور شک میں سے کون سی چیز بہتر ہے اگر شک بہتر ہے تو قرآن و حدیث سے ثابت کریں؟ 

جواب: یقین بہتر ہے تبھی تو مسلمانوں کا کلمہ شہادتین جو قرآن اور احادیثِ صحیحہ سے یقیناً ثابت ہے پڑھنا ہی یقیناً مسلمانی ہے اور شیعہ کا گھڑنتو کلمہ ولایت مشکوک ہے جسے پڑھنے ماننے سے یقینی محمدی اسلام حاصل نہیں ہو سکتا۔

سوال نمبر 880: اگر یقین بہتر ہے تو یہ ماننا ہو گا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت یقیناً مشترک و مسلّم ہے غیروں کو یہ شرف حاصل نہیں؟ 

جواب: اہلِ سنتِ نبی و اہلِ جماعتِ نبی مسلمانوں میں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت مسلم ہے مگر شیعہ کے ہاں ہرگز مسلم نہیں۔ ورنہ وہ آپ کی تمام زندگی والا مذہب اپناتے اور خارجیوں کے ہاں بھی نہیں۔ لہٰذا عقل کا تقاضا یہ ہے کہ دین قرآن سے اور سنتِ نبیﷺ سے اور مجموعہ جماعتِ نبی سے حاصل کیا جائے جن پر سب کو یقین ہے اور کوئی سب کا منکر نہیں اور خلفائے راشدینؓ پر حضرت علیؓ سمیت سب کو اعتماد تھا۔

سوال نمبر 881: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ذکرِ علی عبادت ہے کیا حضراتِ ثلاثہؓ کے ذکر کو رسول اللہﷺ نے عبادت قرار دیا ہے؟ 

جواب: پتہ چلا کہ سیدہ عائشہ صدیقہؓ بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عقیدت مند تھیں۔ آپ سے بغض رکھنے والے کا منہ کالا ہو۔ عبادت صرف اللہ کی ہوتی ہے اور بار بار نام لینا اور ورد و کثرت کرنا بھی اللہ کا حق ہے سینکڑوں مرتبہ قرآن میں آیا اے ایمان والو اللہ کا بہت ذکر کیا کرو صبح بھی شام بھی اور اس کی پاکی بیان کرو۔ اول حدیث تو بے سند اور غیر ثابت ہے۔ بفرضِ تسلیم قابلِ تاویل ہے کہ ذکر سے مراد تذکرہ ہے اور عبادت سے مراد کارِ ثواب ہے یعنی حضرت علیؓ کا حال بیان کرنا کارِ ثواب ہے۔ تو اب یہ سیدنا علیؓ کی خصوصیت اور حصر والی بات نہ رہی۔ کہ بھنگی، چرسی، ملنگ، کلمہ نماز تک نہ جاننے والے علی علی کے ورد کرتے پھریں۔ کیونکہ خدا نے خلفاء ثلاثہؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین کا بشمول سیدنا علی رضی اللہ عنہ قرآن میں عموماً ذکر فرمایا حضور اکرمﷺ‏ نے مناقب میں ان کا بار بار ذکر فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بارہا ان کا تذکرہ خیر فرمایا اور سب کے تذکرے کارِ خیر ہیں۔

سوال نمبر 882: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے اور کرم اللہ وجہہ آپ حضرات بھی جنابِ امیر کے ساتھ تحریر کرتے ہیں حضراتِ ثلاثہؓ کے نام کے ساتھ یہ کیوں نہیں لکھا جاتا؟

جواب: پتہ چلا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور تمام سنی مسلمان سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے محب و عقیدت مند ہیں۔ خدا ان کے دشمنوں کو رسوا کرے عبادت کا مفہوم گزشتہ روایت میں بیان ہو چکا۔ کرم اللہ وجہہ کی شہرت اہلِ سنت نے یوں کی کہ بگڑے ہوئے شیعہ (خارجیوں) نے جب آپ کو سود اللہ وجہہ اللہ سیدنا علیؓ کا چہرہ سیاہ کرے (معاذ اللہ) کہنا شروع کیا تو سنی مسلمانوں نے کرم اللہ وجہہ اللہ حضرت علیؓ کے چہرے کو معزز بنائے۔ کہنا اپنا لیا اور اب تک کہتے ہیں۔ حضراتِ ثلاثہ رضی اللہ عنہم سے نہ کسی مسلمان نے دشمنی کی نہ ایسا بد دعائیہ کلمہ کہا تو ایسا جوابی لفظ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔ ہاں خدا کا دیا ہوا تمغہ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ اللہ ان سے راضی وہ اللہ سے راضی اب بھی ہم فخریہ استعمال کرتے ہیں۔ 

یہ حدیث النظر الى وجه على عبادة۔ بے اعتبار ہے کیونکہ اس میں حسن بن علی عدوی ہے جو کذاب اور دجال ہے۔ (تذکرہ الموضوعات للحافظ طاہر بن علی المقدسی المتوفی 507 ھ)

تنزیہ الشریعہ المرفوعہ عن الاخبار الشنیعہ صفحہ 383 پر ہے: کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے دو سندوں کے ساتھ مروی ہے ایک میں قاضی محمد جعفی اور اس کا شیخ محمد بن احمد بن مخزم ہے۔ ایک ان میں سے آفت (چھوٹی بلا) ہے اور دوسری سند میں ابو سعید عدوی (کذاب) ہے۔ حدیثِ حضرت عثمانؓ میں راوی مجہول ہے۔ حدیث ابنِ عباس رضی اللہ عنہما میں حمانی کی سند میں یزید بن ابی زیاد متروک ہے۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو ابو سعید علوی سے مروی ہے چھ کتب میں تخریج ہے اور ہر سند ضعیف ہے۔

سوال نمبر 883: آپ حضرات کا اتنا عقیدہ ضرور ظاہر ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا جزو ایمان ہے۔ جب عالم الغیب ذاتِ خدا ہے کچھ لوگوں کی عداوت حضرتِ امیرؓ سے مشہور ہے تو پھر ظاہر چھوڑ کر محض قیاس سے دشمنانِ سیدنا علیؓ کی محبت کا اظہار کیوں کرتے اور اجتہاد کے تنکے کے کا سہارا دیتے ہو؟ 

جواب: شکر ہے ہمارا محبتِ حضرت علیؓ کرنا بھی مان لیا۔ ہمارے ہاں عداوت میں مشہور شیعانِ علی اور خارجی ہیں۔ ہم ان سے نہ محبت کرتے ہیں نہ اجتہادی تنکا سہارا بناتے ہیں۔

سوال نمبر 884: انا مدينة العلم و على بابها۔ مسلکِ اہلِ حدیث کے چند ناصبی ذہنوں میں موضوع ہے تو پھر شیخینؓ کو علم کی دیواریں کیوں کہا جاتا ہے؟ 

جواب: تذکرہ الموضوعات مع موضوعاتِ کبیر صفحہ 40 پر ہے اسے ترمذی نے جامع میں روایت کیا ہے اور خود منکر کہا ہے اور سخاوی نے بھی ایسا کہا ہے کہ اس کی وجہ صحت کوئی نہیں ابنِ معین اسے جھوٹ اور بے اصل کہتے ہیں۔ اسی طرح ابو حاتم اور یحییٰ بن سعید نے کہا ہے۔ ابنِ جوزی نے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ ابن دقیق العید نے کہا۔ اسے محدثین نے ثابت نہیں کیا ہے ایک قول یہ ہے کہ باطل ہے۔ اور دار قطنی کہتے ہیں ثابت نہیں۔ حافظ عسقلانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا صحیح نہیں ہے جیسے حاکم نے کہا حسن ہے موضوع نہیں ہے۔ جیسے ابنِ جوزی نے کہا ہے۔

سوال نمبر 885، 886، 887: کیا شہر کی چھت ہوتی ہے عہدِ نبویﷺ‏ میں ایسے شہر کا نام بتائیں۔ پھر سیدنا عثمانؓ، سیدنا علیؓ کے شہر کی چھت ہیں۔ کا کیا مطلب ہے؟ 

جواب: ان الفاظ کی بھی سنداً وہی حیثیت ہے جو پہلے جملے کی ہے مگر شہر کی چھت ہوتی ہے سورۃ حج میں ہے: کتنے شہروں کو ہم نے تباہ کیا جو ظالم تھے وہ اپنے چھتوں پر گر پڑے ہیں۔ مکہ اور مدینہ بھی چھتے ہوئے شہر تھے چھت سے مکان کی حفاظت ہوتی ہے جب حضرت عثمانؓ کو شہید کر کے چھت گرا دی گئی تو پھر تھوڑے ہی عرصہ میں شہر مدینہ مرکزِ خلافت سے محروم اور ویران ہو گیا بلکہ لاکھ بھر مسلمان کٹ گئے۔ اور حضرت علیؓ بھی چھت گرنے سے محفوظ نہ رہے۔

سوال نمبر 888: تاریخ تذکرۃ الکرام صفحہ 239 میں ہے کہ حضرت عثمانؓ میں قوت فصیح فیصلہ تو مطلق تھی ہی نہیں۔ یہ خاصیت حاکم کی خوبی ہے یا نہیں؟ 

جواب: یہ کتاب ہم نے نہیں دیکھی۔ سیاق و سباق سے کٹے ہوئے یہ الفاظ معتبر نہیں قوتِ فیصلہ یقیناً تھی تبھی تو سب خلفاء راشدینؓ سے زائد 12 سال تک خلافت کی۔ نہ کسی مسلمان کا خون بہا نہ فتوحات میں کمی آئی اور نہ کوئی باغی تا شہادت کسی شہر پر قابض ہو سکا بعد کے واقعات سب کو معلوم ہیں۔

سوال نمبر 889: تاریخِ خلفاء کرام صفحہ 268 میں ہے کہ حضرت عثمانؓ نے بیت المال کی دولت اپنے اقرباء میں تقسیم کی۔ شریعت کے مطابق ہونے کی معقول وجہ بتائیں؟ 

جواب: آپ نے مخالفوں کا سوال لے کر طعن بنا ڈالا جواب نہیں دیکھا ورنہ ہر تاریخ میں لکھا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ دولت اپنی ذاتی کمائی سے دی تھی بیت المال سے تو خود بھی بحیثیتِ خلیفہ ایک درہم نہ لیا رشتہ داروں سے مروت و سلوک سنتِ نبویﷺ ہے یہی معقول وجہ خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بتائی ہے۔ (تاریخِ اسلام ندوی و نجیب آبادی، طبری وغیرہ)

سوال نمبر 890: دخائر العقبیٰ میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو دھمکی دے کر اقرارِ جرم کرایا اور قصاص جاری کیا۔ حدیثِ رسولﷺ‏ سے ثابت کریں کہ دھمکا کر اقرارِ جرم کرانا جائز ہے؟ 

جواب: قصاص حق العباد میں سے ہے۔ جب کامل گواہ نہ ملیں قرائن سے جرم ثابت ہو رہا ہو مجرم ڈھیٹ بن کر اقرار نہ کرے تو کیا اسے چھوڑ دیا جائے گا؟ اور عہدِ نبوت و حدیثِ نبویﷺ‏ سے بھی اس کی مثال ثابت ہے۔ جب حضرت علیؓ، حضرت زبیرؓ کو حضور اکرمﷺ‏ نے اس عورت کے تعاقب میں بھیجا تھا جو حضرت حاطبؓ بن ابی بلتعہ کا خط (فتح مکہ کی اطلاع) لے کر مینڈھیوں میں گوندھ کر قریش کے پاس لے جا رہی تھی اور تلاشی کے باوجود اقرار نہ کرتی تھی تو سیدنا علیؓ نے دھمکی دی تھی خط نکالو ورنہ کپڑے اتار دیں گے۔ تب اس نے ڈر کر مینڈھیوں سے خط نکالا۔ یہ واقعہ تمام کتبِ تاریخ و سیر میں موجود ہے اور حضورﷺ‏ نے اسے پسند فرمایا۔ حدیث تقریری ہوئی۔