فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 10 از 20

تحفہ اثناء عشریہ صفحہ 546 اردو پر اسی طعن کے جواب میں ہے کہ جب پیغمبرﷺ کی وفات سنی تھی تو مالک بن نویرہ کی عورتوں نے مہندی لگائی تھی اور دف نوازی کر کے لوازمِ فرحت و شادی ادا کیے تھے اور اہلِ اسلام پر ہنستے تھے۔ (یہ ارتداد کی نشانی تھی۔)

استیعاب ابنِ عبدالبر میں ہے کہ حضرت خالدؓ کو سیدنا ابوبکرؓ نے لشکروں پر امیر مقرر کیا سو ان کے ہاتھ پر اللہ نے یمامہ وغیرہ فتح کرائے اور اکثر مرتد ان کے ہاتھ پر قتل ہوئے جن میں مسیلمہ کذاب اور مالک بن نویرہ بھی تھے۔ الغرض حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کسی مسلمان کو قتل نہیں کیا بحکمِ قرآن صرف مرتدوں کو کیا۔ جب کہ شیعہ مرتدوں، کافروں کے طرف دار ہیں اور حضرت ابوبکر صدیق و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ویری دشمن ہیں۔ وہ معافی کے قابل نہیں۔

سوال نمبر 931: حضرت خالد بن ولیدؓ نے مالک بن نویرہ کی بیوی سے کیا سلوک کیا اور حکومت نے اس کے خلاف کیا کارروائی کی؟

جواب: مرتدہ تھی تو باندی بنا لیا پھر مسلمان ہوئی تو شادی کر لی کیونکہ وہ خاوند سے مطلقہ تھی اور اسیر تھی تو ایک طہر کی عدت گزر چکی تھی اس سے نکاح حلال تھا۔ یہ مذہب تمام فقیہانِ اہلِ سنت کا ہے تاریخوں میں شادی کے قصہ کے ساتھ یہ ختمِ عدت بھی لکھی ہے۔ (تحفہ اثناء عشریہ: صفحہ، 547)

بالفرض مالک کو مرتد نہ سمجھا جائے مگر امارات دیکھ کر سیدنا خالدؓ نے تو مرتد سمجھا اور قصاص شبہ سے جاتا رہا اور حضرت ابوبکرؓ نے دیت بیتُ المال سے ادا کر دی۔

مالک کے بھائی متمم بن نویرہ نے بھائی کے مرتد ہونے کی بار بار شہادت دی۔ اس بناء پر حضرت عمرؓ اپنے دورِ حکومت میں حضرت خالدؓ سے قصاص لینے سے باز آ گئے۔ (تحفہ اثناء عشریہ: صفحہ 549)

سوال نمبر 932: اگر شیعوں نے یہ کہا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرتد ہو گئے تو امام غزالیؒ نے سر العالمین میں یہ لکھا ہے۔

جواب: پتہ چلا کہ آپ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مرتد مانتے ہیں۔ تبھی تو امام غزالیؒ کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہیں اور پہلی صفائی محض منافقت اور مکاری تھی۔ یہ رسالہ امام غزالیؒ کا نہیں ہے کسی رافضی نے تصنیف کر کے امام غزالی رحمۃاللہ کے نام لگا دیا ہے۔ تحفہ میں کید 21 میں شاہ صاحبؒ نے اس کی صراحت کی ہے۔ (صفحہ، 76)

سوال نمبر 933: فقہ جعفریہ کو بغیر تائید حکومت کیوں برتری حاصل ہے کہ امام اعظمؒ نے کہا ہے میں نے امام جعفرؒ سے بہتر فقیہہ نہیں دیکھا۔

جواب: آپ نے اقرار کر لیا کہ شیعہ فقہ جعفریہ پر کسی حکومت نے عمل نہیں کیا۔ نہ یہ کسی شیعہ ملک میں ابھی تک نافذ ہوئی۔ یہی اس کے بے قدر اور غیر مؤید ہونے کی دلیل ہے ہم تو اسے تعلیمات جعفری مانتے ہی نہیں، نہ شیعہ اس کی جزئیات امام جعفر صادق رحمۃاللہ سے روایت کرتے ہیں بلکہ یہ تو چھٹی، آٹھویں صدی کے فقہاء شیعہ کی دماغی کاوش ہے کہ انہوں نے کچھ ان روایات سے استنباط کی ہے جو حضرت جعفرؒ کی طرف شیعوں نے منسوب کی ہیں جیسے چاروں فقہاء اہلِ سنت نے احادیثِ نبویہﷺ‏ میں غور و خوض کر کے اپنی اپنی فقہ مستنبط کی ہے گویا حضرت صادقؒ صاحبِ روایت و محدث تھے صاحبِ مذہب فقیہہ نہ تھے۔ ورنہ سب زندگی مدینہ منورہ رہے اہلِ مدینہ یا ایک گروہ مذہبِ جعفری کا قائل و پابند ہوتا۔ حضرت امام اعظمؒ نے آپ کی یہ تعریف ایک سمجھ دار عالم کہہ کر کی ہے اور معاصرین ایسی تعریفیں کرتے ہی ہیں۔ خود حضرت جعفر صادقؒ نے امام اعظم ابو حنیفہؒ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

سوال نمبر 934، 935: کیا اہلِ سنت نماز غیر عربی زبان میں پڑھنا جائز کہتے ہیں؟ اگر نہیں تو نکاح مسنون کے صیغے عربی میں ادا کرنے پر کیا ضد ہے؟

جواب: نماز عبادت ہے۔ اس کی قرآت، دعائیں وغیرہ سب ماثورہ ہیں، عربی میں ادا کرنا ضروری ہیں جب کہ نکاح ایک عقد و معاہدہ ہے جیسے خرید و فروخت کا عقد ہوتا ہے اس میں الفاظ اپنی انشاء اور ایجاد فعل کے ہوتے ہیں۔ طرفین کا ان کو جاننا سمجھنا ضروری ہے۔ ہر کوئی عربی نہیں جانتا لہٰذا اپنی اپنی زبان میں ایجاب و قبول درست ہے۔ مرغی کی تکبیر بھی ماثور ہے اس پر عقد کا قیاس نہیں ہو گا۔

سوال نمبر 936: جب دین میں جبر و اکراہ نہیں تو جبری طلاق کیوں ہو جاتی ہے؟

جواب: سب اہلِ سنت کا ہی مسئلہ نہیں صرف حنفیہ کے ہاں جبری طلاق ہو جاتی ہے۔ اگرچہ جابر گناہ گار اور قابلِ سزا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃاللہ حتیٰ الامکان مسلمان کی بات کو سچا قرار دیتے ہیں جب کسی پر دباؤ ڈالا گیا کہ یا بیوی کو طلاق دو ورنہ تمہارا مال غصب ہو گا یا بے عزتی ہو گی۔ مار دیں گے وغیرہ تو اس شخص کے لیے دو راستے ہیں وہ ایک اپنی مرضی سے اختیار کرے گا۔ اگر بیوی اختیار کرے گا تو غصب مال، بے عزتی اسے گوارا ہے، اگر اسے مال اور عزت پسند ہے اور اسے بچا کر بیوی چھوڑ دیتا ہے تو اپنی مرضی کی ہے طلاق واقع ہو گئی۔ کیونکہ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ عام ہے۔ جبری صورت کا استثناء نہیں ہے۔

سوال نمبر 937: بھی اس سے حل ہو گیا کہ شیعہ مذہب میں خواتین کی عزت کا تحفظ ہے ہی نہیں وہ بِکاؤ مال ہے۔ کرایہ دار ہو کر متعہ کرائے۔ عقد عارضی میں گرفتار ہو۔ گواہ تو شرط نہیں۔ جو شخص چاہے کسی عورت پر قبضہ کر کے بیوی بنائے اپنی موطوءہ (باندی) برائے جماع کسی کو دے دے یا اپنے پاس ہی رکھے مگر وطی کسی اور کو حلال کر دے۔ غرض یہ کہ عورت عصمت فروشی اور عیاشی و آشنائی کا بہترین ذریعہ ہے تبھی تو اوباش نوجوان اور عورتیں اس مذہب کو ترجیح دیتی ہیں۔

فقہ حنفیہ میں طلاق جبری کا فائدہ اس صورت میں نظر آتا ہے کہ بنصِ قرآنی عاقلہ بالغہ اپنے نکاح میں خود مختار ہے کہ نکاح کرنے کی نسبت اس کی طرف ہے حَتّٰى تَنۡكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهٗ بعض دفعہ عورت خاندان کی عزت کو بٹہ لگا کر فرار ہو جاتی ہے تو بغیر ولی نکاح کر لیتی ہے۔ اب اگر جبری طلاق کی شق نہ ہو تو عورت کا خاندان ہمیشہ کے لیے بدنام ہو گا اور عورت دشمنی کا ذریعہ بنی رہے گی۔ جبری طلاق سے خرابی دور ہو جائے گی۔

سوال نمبر 938: نکاح جیسا اہم معاہدہ صرف (تجھے) طلاق، طلاق، طلاق کہنے سے کیسے ٹوٹ جاتا ہے عہدِ رسالتﷺ و حضرت ابوبکر صدیقؓ میں یہ رواج ثابت کیجیے؟

صفحہ 10 از 20