فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 11 از 20

جواب: یہ معاہدہ زبانی اقرار، قَبِلْتُ وَ تَزَوِّجْتُ (میں نے قبول کر لی) سے ہی بنا تھا۔ اب زبانی طلاق سے ہی ختم ہو گا۔ تمام معاہدات اسی زبان کے چلنے سے ہی بنتے بگڑتے ہیں۔ عہدِ رسالت میں بھی تین طلاقیں پڑ جاتی تھیں۔ تفصیل سوال نمبر 410، 411 میں دیکھیں۔

سوال نمبر 939: صحیح مسلم کی حضرت ابنِ عباسؓ والی روایت کا جواب وہیں ہو چکا ہے۔

سوال نمبر 940: کا جواب بھی ہو گیا کہ عقلی تقاضا ہے کہ معاہدہ نکاح تین سیکنڈ میں قائم ہوا تھا۔ تو تین سیکنڈ میں طلاق کے ذریعے ختم ہو۔ کیونکہ تعمیر کی بہ نسبت تخریب جلدی ہوتی ہے۔ ہمارے دین نے اس کا تحفظ یوں کیا ہے کہ اسے ناپسندیدہ ترین کام کیا ہے اور بلاوجہ طلاق دینے والا مجرم ہے۔

شیعوں کا جلوس دیکھنے سے تو طلاق نہیں پڑتی ہاں جلوس و بازار کی رونق متعائی حسیناؤں کا نظارہ یہ دعوت ضرور دیتا ہے کہ چار دیواری میں پابند منکوحات کو چھوڑ کر آزاد منشوں کے پاس آ جاؤ یہ دونوں جہان کی جنت ہیں۔ عشرہ محرم 1406 ہجری کے تمام اخبارات نے ملک کی نامور اداکاروں، ایکٹرسوں اور پیشہ ور مغنیہ طوائفوں کی رنگین تصاویر شائع کی ہیں جن میں وہ تعزیہ، عَلَم، ضریح اور دُلدُل کی تعظیم اور پرستش کر رہی ہیں۔ واقعی شیعہ مذہب کی تبلیغ کا سب سے بڑا ہتھیار یہی عورتیں ہیں۔

سوال نمبر 941: امام غزالیؒ نے حقوق الانسان صفحہ 172 میں لکھا ہے کے جمہور فقہاء نے حضرت عمرؓ كے اجتہاد کی پیروی کر کے اس طلاق کی صحت کا فتویٰ دیا ہے حالانکہ سنّتِ پیغمبرﷺ اس کے خلاف تھی۔

جواب: نبی تو حضرت محمد مصطفیٰﷺ تھے سیدنا عمرؓ نہ تھے۔ مگر سنّتِ پیغمبرﷺ یہی تھی۔ بخاری باب من اجاز طلاق الثلاث کی احادیث پڑھ لیجیے۔ یہ سياق و سباق کے بغیر امام غزالیؒ کی عبارت قابلِ تاویل ہے۔

سوال نمبر 942: جو اجتہاد حضورﷺ کی سنّت کے خلاف ہو گا کیا اسے مان کر بھی آپ اہلِ سنت کہلائیں گے؟ 

جواب: اجتہاد کی خاص شرائط ہیں جو اجتہاد شرائط کے اندر ہو بظاہر الفاظ کے خلاف ہو، مگر روحِ سنّت کے خلاف نہ ہو اہلِ سنت کے ہاں وہ بھی درست ہو گا۔ مثلاً حضور اکرمﷺ‏ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ فلاں قبطی غلام کو قتل کر دو کہ اس پر حرم پاک میں خیانت کا الزام ہے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ قتل کرنے گئے وه بھاگ کر درخت پر چڑھ گیا اور ننگا ہو گیا۔ حضرت علیؓ نے اس کا مقطوع عضو دیکھ کر تلوار نیام میں کر لی کہ الزام جھوٹا ثابت ہوا۔ اب یہ اجتہاد ظاہر حکم کے خلاف تھا مگر منشاء نبوت کے مطابق تھا۔ طلاقِ ثلاثہ معاً کا رواج عام عہدِ نبوت میں نہ پڑا تھا۔ اگر ہوتا تو آپ نصِ قرآنی کے مطابق تین ہی نافذ کرتے۔ جیسے چند واقعات میں کی تھیں۔ حضرت عمرؓ نے اپنے دور میں قرآن اور منشاء نبوت کے مطابق اجتہاد سے عام قانون بنا دیا اور تین کو تین قرار دیا۔

سوال نمبر 943: کیا مختار ثقفی سے اہلِ سنت کی بدگمانی قاتلانِ سیدنا حسینؓ کو قتل کرنے کی وجہ سے ہے؟ 

جواب: قاتل تو شمرو ابنِ زیاد وغیرہ چند تھے۔ مگر اس نے 70 ہزار بے گناہوں کو بھی اپنی سیاست و حکومت کی خاطر شہید کیا۔ حضرت زین العابدینؒ نے اس کو بدنیت اور کذاب کہا، ہدایا قبول نہ کیے۔ اصولِ کافی کے باب الکتمان میں اس کی اور اس کے پیروکاروں کی خوب مذمت کی گئی ہے اور ان کو شیعیت سے خارج کیا گیا ہے پھر یہ جھوٹی نبوت کا دعوے دار تھا۔ حضرت محمد بن الحنفیہؒ کو امام کہتا تھا۔ جس کے اثناء عشریہ اعلانیہ منکر اور دشمن ہیں۔ تمام حوالہ جات ہم ہم سنی کیوں ہیں؟ کی بحث تقیہ، مختار ثقفی کا تعارف میں ہم ذکر کر چکے ہیں۔

سوال نمبر 944: حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے خونِ سیدنا حسینؓ کے بارے میں کیا عملی قدم اٹھایا؟

جواب: اہلِ مکہ و مدینہ کو یزید کے خلاف آپؓ نے ہی اٹھایا۔ پہلی تقریر میں کہا: 

لوگو! دنیا میں عراق کے آدمیوں سے برے کہیں کے آدمی نہیں اور عراقیوں میں سب سے بدتر کوفی لوگ ہیں کہ انہوں نے بار بار خطوط بھیج کر باصرار حضرت حسینؓ کو بلایا اور ان کی خلافت کے لیے بیعت کی لیکن جب ابنِ زیاد کوفہ میں آیا تو اس کے گرد ہو گئے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو جو نماز گزار، روزے دار، قرآن خواں اور ہر طرح مستحقِ خلافت تھے قتل کر دیا اور ذرا بھی خدا کا خوف نہ کیا۔ یہ کہہ کر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

(تاریخِ اسلام نجیب آبادی: جلد، 2 صفحہ، 83)

ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ابن زبیرؓ نے تمام امویوں کو نکال دیا تھا اور خود امویوں کی زبانی یزید کو حالات معلوم ہوئے۔

(تاریخِ اسلام ندوی: جلد، 1 صفحہ، 371)

سوال نمبر 945: شاہ اسماعیل شہید رحمۃاللہ نے منصبِ امامت میں اقرار کیا ہے کہ روزِ قیامت سیدنا علیؓ کی ولایت کا سوال ہو گا۔ جب ولایت ضروری نہیں تو سوال کیا؟ 

جواب: یہ مقام دیکھا۔ شاہ اسماعیل شہید بالا کوٹ ہمارے ہی پیشوا اور محبتِ مرتضوی سے سرشار ہیں۔

ولایت بمعنیٰ محبت ہے اور سب سنی مسلمان حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں اور سوال کا مطلب محبت کی نیکی کا کم و بیش ہونا ہے۔ شیعوں کی مزعومہ ولایت بلا طفصل مراد نہیں ہے۔

سوال نمبر 946: جب اہلِ سنت کی کتابیں بھی شیعوں نے لکھیں تو سنی علماء کیا کرتے رہے؟ 

جواب: اہلِ سنت کے علماء، علم قرأت، حدیث، تفسیر، فقہ و قانون خالص مذہبی علوم کی تدوین میں معروف رہے۔ تاریخ و سیرت کی طرف کم توجہ کی۔ اگرچہ اس پر بھی بہت کچھ کتابیں لکھی۔ جب کہ شیعہ تاریخ سازی اور اس کی اشاعت میں لگے رہے۔ خصوصاً مشاجرات و مطاعن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور خلافیت کو اپنی طرف سے مرچ مصالحہ لگا کر خوب اچھالا اور نقل و تاریخ کا جزو بنا دیا جسے قرآن و حدیث پر پیش کیے بغیر معتبر و قابلِ استدلال نہیں مانا جا سکتا۔

سوال نمبر 947: اپنے کم از کم 25 معتمد علماء متقدمین کے نام لکھیے؟ 

جواب: عام علمی اصطلاح کے مطابق پہلی تین صدیوں کے علماء کو متقدمین کہا جاتا ہے۔ چند علمائے محدثین فقہاء کے اسماء حاضر ہیں:

1: ثقہ و حافظ ابراہیم بن سعید الجوہری المتوفیٰ 250 ہجری۔

2: اسحاق بن ابراہیم ابنِ راہویہ حافظ المتوفیٰ 230 ہجری۔

3: احمد بن سعید الدارمی ثقہ و حافظ المتوفیٰ 253 ہجری۔

صفحہ 11 از 20