فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 13 از 20

2: ان کی شکل و صورت، قبر، سواری، استعمال شدہ چیز کی تصویر و نقل اور مورتی بنا لینا، اس کی اصل کی طرح تعظیم و قدر کرنا، بت پرستوں اور عملاً مردہ اپنے اسلاف کی مخالف قوموں کا شعار ہے۔ اپنے ہاتھ کی بنی ہوئی یادگار فرضی ہوتی ہیں۔ خود ان بزرگوں کی یادگار نہیں ہوتی اس میں غلو کرنا شرک و بدعت کا دروازہ کھولنا ہے جیسے عیسائی، یہودی، ہندو، سکھ اپنے بزرگوں کی تعلیمات بھلا بیٹھے۔ اعمال ضائع کر دیئے۔ اور یادگاریں بنا کر پوجنے لگے۔ شیعہ تعزیہ عَلَم وغیرہ یادگاروں کی تعظیم و پرستش میں بالکل کفار قوموں کے شانہ بشانہ چل رہے ہیں اسلام محمدیﷺ‏ یا اعمالِ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے ان کو ذرا بھی تعلق نہیں۔ سنی مسلمان اہلِ بیتؓ کو برگزیدہ پیشوا مان کر ان کی تقلید و تابعداری کرتے ہیں۔ کسی شیعہ کی یہ جرأت نہیں کہ وہ اہلِ سنت پر یہ اعتراض کرے کہ ان کا فلاں عقیدہ و عمل اہلِ بیتؓ کے خلاف ہے۔

سوال نمبر 951: اگر کالا لباس برا ہے تو غلافِ کعبہ اور حضورﷺ کی کمبلی کیوں کالی تھی؟

جواب: مطلقاً برا نہیں گناہِ ماتم کا شعار ہے تو برا ہے حضرت علیؓ نے اپنے شاگردوں کو تعلیم دی تھی: 

لَا تَلْبَسُوْا السّوَادَ فإِنَّهُ لِبَاسُ فِرْعَوْنَ (من لايحضره الفقيہہ)

کالا لباس نہ پہنو کیونکہ وہ فرعون کا لباس تھا۔

سوال نمبر 952: 1: صحابہؓ نے دنیا کے کونے کونے میں اسلام پھلایا۔ 2: شیعوں نے اسلامی لٹریچر لکھا کون سی بات صحیح ہے؟

جواب: پہلی بات سچی ہے شکر ہے۔ آپ کے منہ سے بھی نکل گئی دوسری غلط ہے شیعوں نے تو اسلامِ محمدیﷺ قرآن اور جماعتِ رسولﷺ کو دنیا سے مٹانے کے لیے قلمی کاوشیں کیں۔

سوال نمبر 953: آپ کو ناز ہے اگر ایک حضرت عمرؓ اور ہوتا تو ساری دنیا میں اسلام پھیل جاتا زمانہ سیدنا عمرؓ میں صرف نصف ایشیاء میں مسلمانوں کی کثرت ثابت کیجیے؟

جواب: ناز بجا ہے کیونکہ ساڑھے 22 لاکھ مربع میل رقبۂ کفار آپ کے عہد میں فتح ہوا مولانا دوست محمد قریشی رحمۃاللہ کے جلاء الاذہان کے جواب میں آپ نے یہ لکھا ہے۔ یہ سارے علاقے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں فتح ہوئے۔ قادسیہ، جلولاء حلوان، تکریت، خوزستان، ایران، اصفہان، طبرستان، آذربائیجان، آرمینہ، فارس، سیستان، مکران، خراسان اردن، حمص، یرموک، بیت المقدس، اسکندریہ، طرابلس۔ (ذکاءالاذہان: صفحہ، 564)

یہ غرب تا شرق (ترکستان و حالیہ روس) ایشیاء کا کثیر الآباد متمدن حصہ ہے اور اکثریت مسلمان ہوئی آج پندرہ صدیوں کے بعد بھی روسی مقبوضات کے سوا سب مسلم ممالک اور ان کی حکومتیں ہیں یہ آبادی نصف ایشیاء سے کم نہیں ہے۔

سوال نمبر 954: چلیے دورِ حاضرہ میں ایشیاء کے تمام مالک کی آبادی اور مسلمانوں کا تناسب تحریر کر کے مسلمانوں کی کثرت ثابت کریں۔

جواب: سوال کا تیور صاف بتاتا ہے کہ آپ مسلمانوں کے دشمن اور کافروں کے نمائندہ ہیں اور ان کی تعداد کم دکھانے پر مصر ہیں ہم ڈائری لیل و نہار بابت 1983ء مطبوعہ لاہور سے اعداد و شمار پیش کرتے ہیں: 

 نام ملک، مسلم آبادی، تناسب

افغانستان: ایک کروڑ تہتر لاکھ۔ 99٪

الجزائر: ایک کروڑ چوالیس لاکھ۔ 92٪ 

ایران: تین کروڑ نو لاکھ۔ 98٪

ایتھوپیا حبشہ: ایک کروڑ تہتر لاکھ۔ 65٪

بنگلہ دیش: آٹھ کروڑ۔ 87٪

پاکستان: آٹھ کروڑ سینتیس لاکھ۔ 97٪

انڈونیشیا: بارہ کروڑ اکتالیس لاکھ۔ 94٪ 

انڈیا: اٹھارہ کروڑ (یہ ذاتی معلومات کی بناء پر ہے) 30٪

کشمیر: ساٹھ لاکھ۔ 90٪

ترکی: تین کروڑ بہتر لاکھ۔ 98٪  

تیونس: باون لاکھ۔ 93٪  

سعودی عرب: اسّی لاکھ۔ 100٪

شام: اٹھاون لاکھ۔ 87٪

عراق: پچانوے لاکھ۔ 95٪ 

سوڈان: ایک کروڑ انتالیس لاکھ۔ 82٪ 

تنزانیہ: بیاسی لاکھ۔ 65٪

بحرین: دو لاکھ بائیس ہزار۔ 99٪

قطر: ایک لاکھ اسّی ہزار۔ 99٪

کویت: نو لاکھ۔ 99٪

لیبیا: اکیس لاکھ۔ 99٪ 

متحدہ عرب امارات: بارہ لاکھ ساٹھ ہزار۔ 100٪

یمن شمالی: ساٹھ لاکھ۔ 99٪

یمن جنوبی: سولہ لاکھ۔ 98٪

مراکش: ایک کروڑ اکسٹھ لاکھ۔ 95٪

صومالیہ: انتیس لاکھ۔ 98٪

لبنان: سترہ لاکھ۔ 57٪

اومان، مسقط: سات لاکھ چالیس ہزار۔ 99٪

بالائی والٹا: تیس لاکھ۔ 55٪

میزان: سڑسٹھ کروڑ اسّی لاکھ بیاسی ہزار۔ 88٪ 

غیر مسلم ایشائی ممالک مسلم آبادی کا تناسب یہ ہے:ـ

قبرص: ایک لاکھ اکانوے ہزار چار سو۔ 23٪

چین: پچھتر لاکھ چون ہزار۔ 12٪

آرمینہ، روس: دو لاکھ چالیس ہزار آٹھ سو چالیس۔ 12٪

جارجیادوس: آٹھ لاکھ چوبیس ہزار چار سو۔ 19٪

فلپائن: انتیس لاکھ انتیس ہزار آٹھ سو 10٪

(چین روس کی یہ تعداد غلط ہے اس میں ترکستان، بخارا، سمرقند کثیر مسلم علاقہ ہیں۔ مسلمان 8ـ 10 کروڑ ہوں گے۔ چین کے صوبہ کاشغر کی آبادی تقریباً تین کروڑ سبھی مسلمان ہے۔ سب سے بڑے صوبہ سنکیانگ کی 42 ریاستیں (اضلاع) ہیں۔ 14 مسلم اکثریت کی ہے۔ 3 ہزار جامع مسجد آباد ہیں مسلم آبادی 12 کروڑ سے زائد ہے۔ (بحوالہ ایک چینی طالب علم مدرسہ امداد الاسلام گواجرنوالہ)

سوال نمبر 955: اگر کتاب خدا اکیلی ہدایت کے لیے کافی ہے تو الٓمّٓ کے معنیٰ بتائیں؟

جواب: سوال سے قرآن دشمنی کی بدبو آتی ہے۔ گنتی کے حروفِ مقطعات اگر خدا کا راز ہوں اور ان کا معنیٰ خدا کسی کو نہ بتائے یا صرف اپنے پیغمبرﷺ ہی کو بتائے تو باقی سب قرآن ہادی کیسے نہ رہے گا؟ بطورِ تفہیم صحابہ کرامؓ سے یہ معنیٰ منقول ہے کہ الف سے اللہ، لام سے حضرت جبرائیل علیہ السلام اور میم سے محمد رسول اللہﷺ کی ذات مراد ہے یعنی قرآن بھیجنے والا، لانے والا، سنانے والا تینوں سچے ہیں۔ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ اس کتاب میں کوئی شک و شبہ نہیں۔

سوال نمبر 956: جب پہلا سبق ہی نہیں آتا تو آگے اسباق کا کیا حال ہو گا؟

جواب: ہم نے تو پہلے سبق کو استاد کے کہنے کے مطابق پڑھ لیا اور مان لیا مگر تعجب ہے کہ شیعہ ہی اس پہلی بات کا انکار کر کے قرآن میں شک و شبہ کے قائل ہو گئے کہ یہ تو محرّف شدہ بیاضِ عثمانیؓ ہے (معاذ اللہ) تو ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ والے قرآن سے کیا ہدایت پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کے پاس جعلی روایات کا انبار تک تو ہے مگر قرآن کا ایک پاؤ بھی یقینی مرتب اور تحریف سے پاک نہیں ہے۔

سوال نمبر 957: اگر عقلاً کتاب ہدایت کے لیے کافی ہوتی تو پھر دنیا استاد کیوں بناتی؟

صفحہ 13 از 20