فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 15 از 20

جواب: یقیناً ہو گا تبھی تو سیدنا علیؓ کو مشکل کشا، حاجت روا، متصرف ور کائناتِ خدائی صفتوں والا (رب و الہٰ)جن شیعوں نے مانا ان کو خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے زندہ جلایا اور جو شیعہ بچھڑے کا بدل گھوڑا اور تعزیہ بنا کر پوجتے ہیں۔ حالانکہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ منع کر چکے ہیں کہ جس نے پھر نئی قبر بنائی یا قبر کی شبیہ و مثال تعزیہ بنائی اسلام سے خارج ہو گیا۔ (من لايحضره الفقيہہ) ان پر بھی یقیناً خدا کا غضب ہو گا۔

سوال نمبر967: سورۃ نحل میں ہے کہ مجبور و مطمئن قلب کے علاوہ اگر کوئی کشادہ سینے سے کفر کرے تو اس پر خدا کا غضب ہے جو لوگ بعد از ایمان بلا مجبوری مرتکب کفر ہوئے ان سے محبت رکھنا خدا کی حکم عدولی ہو گی یا نہیں؟

جواب:۔ان سے محبت خدا کی حکم عدولی ہو گی۔ تو جو شیعہ سیدنا ابوبکرؓ دشمنی کے جذبے سے منکرینِ زکوٰۃ، مرتد کفار اور پیروانِ مسیلمہ کذّاب منافقین اشرار کی حمایت و صفائی کر کے حضرت ابوبکر صدیقؓ پر طعن کرتے ہیں وہ یقیناً مغضوب اور نافرمانِ خدا ہیں۔

سوال نمبر 968: سورۃ طٰہٰ میں مضمون ہے کہ عہد شکنی پر اللہ کا غضب ہے۔ کیا جن لوگوں نے عہد غدیر توڑا یا بیعتِ رضوان توڑی ان سے محبت کرنا خلافِ حکمِ خدا ہو گا یا نہیں؟

جواب: طٰہٰ رکوع 4 کا اصل مضمون یہ ہے پاکیزہ رزق کھاؤ اور سرکشی نہ کرو ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہو گا جس پر غضب اترے وہ گمراہ ہوتا ہے۔ اور بے شک میں توبہ کرنے والوں، ایمان لا کر اعمالِ صالحہ کرنے والوں، ہدایت پر چلنے والوں کو یقیناً بہت بخشنے والا ہوں۔

ہم بارہا بتلا چکے ہیں عہد غدیر کسی نے نہیں توڑا۔ بدستور حضرت علیؓ کو محبوب بنائے رکھا۔ بیعتِ رضوان بھی کسی نے نہیں توڑی۔ جو ہزیمت سے پلٹ آیا۔ غفار نے یقیناً ان کو بخش دیا۔ ہاں انعامِ خداوندی حضرت عثمانؓ کے دور میں مال و دولت کی پاکیزہ نعمتیں کھا کھا کر جن بلوائیوں نے سرکشی کی بیعتِ رضوان کا تقاضا پسِ پشت ڈال کر سیدنا عثمانؓ مظلوم کو شہید کیا پھر یہی سرکش بلوائی طالبینِ قصاص سے جنگ کا باعث بنے۔ وہ یقیناً مغضوب اور آیت بالا کا مصداق ہیں ان سے محبت کرنے والے (شیعہ) یقیناً خدا کے مخالف ہیں۔

سوال نمبر 969: سورۃ الشوریٰ پارہ 25 میں ہے کہ خدا کے بارے میں جھگڑنے والوں پر غضب ہو گا۔ ایسے مغضوب قابلِ نفرت ہیں یا لائقِ محبت؟

جواب: خدا کے بارے میں جھگڑالو وہ گروہ ہے جو خدا کی صفات میں اوروں کو شریک بناتا ہے حالانکہ خدا اسی سورۃ میں پہلے فرما چکا ہے:

کیا لوگوں نے اللہ کے سوا اپنے کارساز و مشکل کشا، متصرفِ امور بنا لیے۔ حالانکہ اللہ ہی ہر کسی کا ولی و مددگار کارساز ہے۔ وہی مردے زندہ کرتا ہے وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (پارہ 25 رکوع 2) 

شیعہ گروہ یقیناً حضرت علیؓ کو اپنا ولی، مشکل کشا، کارساز مان کر خدا کا شریک بناتا ہے۔ تو ایسے لوگ مغضوب و قابلِ نفرت ہیں لائقِ محبت اور سچے ہرگز نہیں۔

سوال نمبر 970: سوالسورۃ مجادلہ پارہ 28 میں ہے کیا آپ نے ان لوگوں کی حالت پر غور نہیں کیا جو ان لوگوں سے محبت رکھتے ہیں جن پر خدا نے غضب ڈھایا تو اب وہ نہ تم میں سے ہے اور نہ ان میں (نہ مسلمان ہیں نہ کافر بلکہ تقیہ باز منافق ہیں۔) یہ لوگ جان بوجھ کر جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں۔

کیا ایسے حضرات سے اور ان کے عقیدت مندوں سے دوستی خلافِ قرآن ہے یا نہیں؟

جواب: یہ آیت عبداللہ بن اُبَی اور اس کی منافق پارٹی کے متعلق ہے۔ جو کہتے تھے: صحابہؓ رسولﷺ پر مال خرچ نہ کرو حتیٰ کہ بکھر جائیں۔ نیز کہتے تھے اگر ہم مدینہ لوٹے تو زبردست (مقامی یہود و منافقین) لوگ ان ذلیلوں (مہاجرینِ مکہ اصحابِؓ رسولﷺ) کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ (سورۃ منافقین پارہ 28 رکوع 1)

یہ پارٹی اصحابِؓ رسولﷺ کی دشمن تھی آج کے شیعہ بالکل ان کی طرح اصحابِؓ رسولﷺ سے دشمنی رکھتے ہیں۔ ابنِ اُبَی، اس کی پارٹی اور ابنِ سبا کے گروہ سے کبھی نفرت و عداوت نہیں رکھتے بلکہ دوستی رکھ کر قرآن کی مخالفت کرتے ہیں۔ لہٰذا آج کے شیعہ سے بھی دوستی خلافِ قرآن اور غضبِ خُدا ہے۔

سوال نمبر 971: خدا کی نشانیوں کا انکار بھی باعثِ غضبِ خدا ہیں۔ (بقرہ) بتائیے جو لوگ آیات اللہ سے انکار کرتے ہیں مغضوب ہیں یا نہیں؟

جواب: قرآن کی آیاتِ اللہ کے منکر یقیناً مغضوب ہیں کہ ان کے اقرار کے مطابق بھی مدح صحابہؓ کی آیات سے قرآن بھرا پڑا ہے۔ مگر وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بزرگی جھٹلا کر ایک ایک آیت کا انکار کرتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے ہاتھ پر عرب و عجم کی بے نظیر فتوحات بھی نصرتِ خداوندی کا اعلیٰ نمونہ اور یقیناً آیات اللہ ہیں۔ جو لوگ کفار، مجوس و یہود کے نمائندہ بن کر ان فتوحاتِ الہٰیہ پر ناک بھوں چڑھائے ناراض بیٹھے ہیں اور خدا کی بشارات و پیش گوئیوں کے منکر ہیں یقیناً وہ آیات اللہ کے منکر اور مغضوب ہیں۔

غور کیجیے! اگر آج ایک رسمی شیعہ عالِم مثلاً خمینی آیت اللہ بن جاتا ہے تو براہِ راست مشکوٰۃ نبوت سے قرآن و سنت کا نور سیکھنے والے کیوں آیت اللہ نہیں۔ اور ان کو لعن طعن تبرّے بکنے والا کیوں کر خدا اور رسولﷺ کا منکر اور مغضوب نہیں؟

سوال نمبر 972: جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عنایت سے افضل فرمایا ہے۔ ان کے کفر کرنے والے بھی مغضوب ہیں۔ (بقرہ) ایسے لوگوں سے محبت کس طرح جائز ہو گی؟

جواب: قرآنِ پاک پر بہتان ہے۔ اس ترجمہ والی کوئی آیت سورۃ بقرہ میں نہیں ہے۔ الٹا ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو صاحبِ فضل کہا: 

وَلَا يَاۡتَلِ اُولُوا الۡـفَضۡلِ مِنۡكُمۡ (پارہ: 18) 

شیعہ آپ کے منکر و کافر ہیں تو باقرار خود مغضوب ہوئے بقرہ میں آیتِ تفضیلِ انبیاء ہے جو یہ ہے:

ان پیغمبروں میں ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے۔ کچھ سے اللہ نے کلام کیا اور بعضوں کے درجے بڑھائے اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو ہم نے نشانیاں دیں اور روح القدس (حضرت جبرائیل علیہ السلام) سے ان کی تائید کی۔ (پارہ: 3 پہلی آیت)

صفحہ 15 از 20