فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 16 از 20

اس سے پتہ چلا کہ انبیاء علیہم السلام و رسلﷺ‏ باہمی فرقِ مراتب کے باوجود سب مخلوق سے افضل ہیں اب ان کو سب سے (اپنے اماموں سے بھی) افضل نہ ماننے والا گروہ (شیعہ) ان کا منکر وہ مغضوب کیسے نہ ہو گا؟

سوال نمبر 973: سورۃ اعراف آیت 71 میں ہے کہ: جن لوگوں نے چند ناموں کے بارے میں جھگڑا پیدا کیا جو ان کے آباء و اجداد نے (بلا نص) خواہ مخواہ گھڑ لیے تھے ان پر اللہ کا غضب ہوا۔ فرمائیے بغیر نص کے افراد کے لیے جھگڑنا غضبِ خدا کو دعوت دینا ہے یا نہیں؟ 

جواب: جن خلفاءؓ و صحابہؓ کا ہم دفاع کرتے ہیں قرآن و سنت سے صراحتاً یا دلالۃً ان کی بزرگی اور لیاقت پر باقاعدہ نص اور دلیل ملتی ہے۔ ملاحظہ ہو۔ تحفہ امامیہ: سوال نمبر 13 (خلافتِ راشدہ قرآن و احادیث کی روشنی میں) مگر شیعوں کی پاس اور ائمہ کے لیے تو کچھ ہے ہی نہیں۔ حضرت علیؓ و حسنینؓ کے فضائل ضرور ہیں مگر خلافت و امامت پر نص ایک آیت یا حدیث بھی نہیں۔

سوال نمبر 702 میں تفصیل گزر چکی نہ انہوں نے خود کو کبھی منصوص کہا۔ لیکن شیعوں نے صرف مفروضہ امامت اثناء عشریہ کا جھگڑا ہی نہیں ڈالا بلکہ خدا اور رسولﷺ‏ کی صفاتِ خاصہ اور حقوقِ واجبہ کو بھی چیلنج کر دیا اور مسلمانوں سے خدا کی توحید، ہادیتِ رسولﷺ اور اعجازِ قرآن پر بھی لڑ رہے ہیں۔ تو وہ خود اس آیت کا سب سے بڑا مصداق ہیں کہ بلا نص و سند چند ناموں کے متعلق جھگڑا ڈال رکھا ہے۔

سوال نمبر 974: سورۃ النساء پارہ 5 آیت 72 میں ہے کہ جو شخص کسی مؤمن کو عمداً مار ڈالے وہ ملعون و مغضوب ہے کیا قاتلانِ اہلِ بیتؓ ملعون و مغضوب ہیں یا نہیں؟

جواب: قاتلانِ اہلِ بیتؓ، قاتلانِ سیدنا طلحؓہ، و سیدنا زبیرؓ اور قاتلانِ سیدنا عثمانؓ کا ہی گروہ تھا۔ ایسے سب قاتلانِ مؤمنین ملعون و مغضوب ہیں اور وہ بھی جو ان کو توّابین کہہ کر اپنا مؤمن بھائی سمجھتے ہیں۔

سوال نمبر 975: سورۃ الفتح پارہ 26 میں منافقین و مشرکین و ظانین تینوں پر لعنت و غضبِ خدا مرقوم ہے۔ یہ تینوں ملعون و مغضوب ہوئے ہیں یا نہیں؟

جواب: یہ آیت 1500 بیعتِ رضوان والے مؤمنین اور ان کے دشمنوں کے متعلق ہے پوری یہ ہے: اللہ ہی نے تسلی مؤمنین کے دلوں پر اتاری تاکہ وہ اپنے ایمانوں کے ساتھ ایمان میں مزید بڑھ جائیں۔ تاکہ اللہ مؤمنین اور مؤمنات کو ان جنات میں داخل کر دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کی برائیاں مٹا ڈالے اور اللہ کے ہاں یہ بڑی کامیابی ہے اور اللہ منافقوں اور منافقات کو عذاب کرے اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو بھی سزا دے جو اللہ سے بدگمانی کرنے والے ہیں ان پر برا چکر پڑے۔ اللہ ان پر غضب ناک ہوا اور ان کو لعنت کی جہنم ان کے لیے تیار کی اور وہ بری بازگشت ہے۔ (سورۃ الفتح: آیت 4، 5، 6)

سنی و شیعہ کی متفقہ روایات یہ ہیں کہ یہ 1500 اصحابِ شجرہ قطعی جنتی اور مغفور لہم ہیں۔ (تفسیر کاشانی) قرآن کا فیصلہ بھی یہی ہے اب سائل کے اشارہ کردہ منافقین، مشرکین، بدگمانی کرنے والے تینوں گروہ وہی ہیں جو اس وقت ان بیعتِ رضوان والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے منکر اور دشمن تھے۔ اور اب بھی ان تینوں کا مصداق اور ملعون و مغضوب وہ لوگ ہیں جو ان کے دشمن ہیں۔ بدگوئی کرتے، تبرّے بکتے اور ان کے فضائل کا انکار کرتے ہیں۔ ع: عیاں راچہ بیاں 

نوٹ: ہم سائل کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے منافقوں کے متعلق 11 آیاتِ قرآنی پیش کر کے ہمیں مذہبِ شیعہ پر قلم برداشتہ تبصرہ کا موقع دیا۔

سوال نمبر 976: صراطِ مستقیم کن لوگوں کی راہ ہے؟

جواب: جن پر اللہ کا دینی و دنیوی انعام ہوا، نہ مغضوب بنے نہ گمراہ ہوئے۔ (سورۃ الفاتحہ)

سوال نمبر 977، 978: کیا آلِ محمدﷺ صراطِ مستقیم پر تھے یا نہیں؟ ورنہ ایسی حدیث مرفوع کیوں آئی؟

جواب: یقیناً تھے تبھی تو ان کے تابعدار ہم اہلِ سنت کو اپنی قسمت پر ناز ہے اور ان کے مخالفِ مذہب تمام شیعوں کو ہم برا سمجھتے ہیں۔

سوال نمبر 979: فضیلت کا ثبوت عقل یا نقل سے ہوتا ہے آپ خلفاء ثلاثہؓ کو کس لحاظ سے افضل مانتے ہیں؟

جواب: دونوں لحاظ سے مانتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں۔

سوال نمبر 980، 981: پھر عقلی طور پر علم و شجاعت کے معیار میں خلفاء ثلاثہؓ کو سیدنا علیؓ سے افضل ثابت کیجیے اور نقلاً بھی افضلیت منصوص ثابت کیجیے؟

صفحہ 16 از 20