فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 17 از 20

جواب: عقلاً استدلال بھی ان نصوص سے ہو گا جو قرآن و حدیث اور تاریخ و سیرت میں منقول ہیں۔ یہ مستقل طویل موضوع ہے۔ ہم بحمد اللہ وعونہ اس پر سیر حاصل بحث تحفہ امامیہ سوال 4 اور سوال 20 کے تحت 50 صفحات سے زائد پر کر چکے ہیں۔ مراجعت کیجیے۔ یہاں اتنا کافی ہے کہ اگر وہ سب سے بڑے عالم نہ ہوتے تو حضورﷺ افضل کو چھوڑ کر مفضول سیدنا ابوبکرؓ کو امامِ نماز کیوں بناتے جب کہ باتفاقِ سنّی، شیعہ امامِ نماز اعلم و افضل کو ہی بنایا جاتا ہے۔ (الفقیہہ) اگر اعلم نہ ہوتے تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان پر اتفاق کیوں کرتے؟ اگر وہ اعلم نہ ہوتے تو اپنے فیصلے اور فتوے کیسے نافذ کرتے؟ اور وہ لوگ بلا ریب و اختلاف کیسے تسلیم کرتے؟ اگر وہ اعلم بالشریعہ نہ ہوتے تو اتنا بڑا اسلامی نظام کیسے نافذ کر سکتے تھے؟ اگر وہ اعلم بالامور الامتہ نہ ہوتے تو اتنی بڑی جہادی سکیمیں کیسے کامیابی سے ہم کنار ہوتیں؟ اگر وہ اعلم الاحادیث والآیات نہ ہوتے تو سقیفہ میں انصار کی مدح میں تمام آیات و احادیث کیسے برجستہ پڑھ ڈالتے اور وہ اپنا پروگرام کینسل کر کے حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کے تابعدار کیسے بن سکتے تھے؟ اگر وہ اعلم بالقرآن و قرأۃ الکتاب نہ ہوتے تو تمام دنیا میں قرآن کی تعلیم و تدریس کا بندوبست کیسے کر سکتے تھے؟ اگر وہ بہادر نہ ہوتے تو حضورﷺ جنگوں میں ان کو شانہ بشانہ کیوں رکھتے اور ان کے مشوروں پر عمل پیرا کیوں ہوتے تھے؟ اگر وہ بہادر نہ ہوتے تو مکی زندگی میں حضورﷺ کا دفاع کیسے کرتے اور ظلم و ستم سہتے رہتے تھے۔ اگر وہ بہادر نہ ہوتے تو کفار ان کے نام سے لرزہ براندام اور مرعوب کیوں ہوتے؟ حتیٰ کہ ابو سفیان نے اُحد میں حضورﷺ کے ساتھ ان کی شہادت کی بھی غلط خبر سن کر اسلام کے ختم ہو جانے کا اعلان کیا تھا۔ اگر وہ بہادر نہ ہوتے تو سیدنا صدیقؓ حضور اکرمﷺ‏ کے رفیقِ ہجرت نہ بنائے جاتے اور بدر کے عریش پر باقرار حضرت علیؓ حضورﷺ کی پاسبانی کا خطرناک فریضہ تنہا سرانجام نہ دیتے اور حضرت فاروقِ اعظمؓ اعلانیہ ہجرت نہ کرتے اور بدر میں ماموں کو قتل نہ کرتے۔ اگر وہ بہادر نہ ہوتے تو فتنہ ارتداد کا کمال جرأت و استقلال سے کیسے خاتمہ کرتے؟ اگر وہ جری و شجاع نہ ہوتے تو کافروں و منافقوں کے فتنے ان کے عہد میں کیسے دبے رہتے؟ حضرت عثمانؓ اگر شجاع نہ ہوتے تو اپنی جان پر کھیل کر کیوں سفیر حدیبیہ بنتے؟ مار کھا کر بھی تنہا طواف نہ کیا۔ جان دے کر بھی خلافت کا تقدس برقرار رکھا۔ جب کہ حضرت علی المرتضیٰؓ کی کئی آراء، تجاویز اور اسکیمیں جو علم کا شعبہ ہیں تجربے میں درست ثابت نہیں ہوئیں اور آخر میں مخالفوں سے صلح کر لی نصف سے زائد حصے کا ان کو خود مختار حکمران بنا دیا۔ (طبری وغیرہ)

سوال نمبر 982: حضرت عمرؓ نے مرفوع روایت کی ہے کہ کسی شخص نے حضرت علیؓ کی مثل فضل کا اکتساب نہیں کیا وہ اپنے دوست کو ہدایت کرتا اور برائی سے پھیرتا ہے۔

جواب: سند و صحت کا تو کچھ حال معلوم نہیں۔ مفہوم پر ایمان ہے کہ سیدنا علیؓ خوب نیکیاں کماتے اور ہدایت کرتے تھے۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ باقی سب فضل اور نیکی سے محروم تھے اور ہادی نہ تھے۔ یہ مفہوم مخالف ہرگز مراد نہیں ہے یہ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں ایک حدیث ہے جیسے دوسرے کو حق میں بھی ایسی احادیث ہے جیسے ابنِ ماجہ اور حاکم نے حضرت ابی بن کعبؓ روایت کی ہے کہ: رسول اللہﷺ نے فرمایا: حق تعالیٰ سب سے پہلے سیدنا عمرؓ سے مصافحہ کریں گے، سب سے پہلے ان کو سلام کہیں گے، سب سے پہلے ان کا ہاتھ پکڑیں گے اور داخلِ جنت کریں گے۔ (تاریخ الخلفاء: صفحہ، 93)

جبکہ صحیحین کی یہ بھی مشہور حدیث ہے کہ خواب میں حضرت ابوبکرؓ کے بعد سیدنا عمرؓ آئے کنویں سے پانی نکالنے لگے تو ڈول بہت بڑا مشکیزہ بن گیا۔ میں نے کسی طاقت ور پہلوان کو نہیں دیکھا کہ اتنی طاقت سے پانی نکالتا ہو حتیٰ کہ سب لوگ سیراب ہو گئے اور انہوں نے گھاٹ پر ڈیرے ڈال دیئے۔ علماء کرام کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت مراد ہے اور زمانہ سیدنا عمرؓ میں فتوحات کی کثرت اور غلبۂ اسلام کی پیشن گوئی ہے جیسے اس حدیث سے حضرت ابوبکر صدیقؓ پر سیدنا عمر فاروقؓ کو فضیلت کُلّی نہیں اسی طرح بالا روایت سے حضرت علیؓ کو بھی کُلّی فضیلت نہ دی جائے گی ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حضرت علیؓ سے محبت ثابت ہوتی ہے۔

سوال نمبر 983: بجز سیدنا علیؓ کے خلفاء ثلاثہؓ میں سے کس نے کہا سلونی (مجھ سے پوچھو جو چاہو)۔

جواب: یہ ارشاد حضرت علیؓ نے خلفاء ثلاثؓہ کے دور میں اکابرین کے مجمعے میں نہیں فرمایا تاکہ استدلال تام ہو۔ یہ کوفہ میں اپنی آخر عمر میں اپنے اصحاب و شاگردوں سے کہا مجھے گم کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھ لو۔ ہر کامل استاد شاگردوں کو تنبیہہ کرتا اور مسائل و اسباق پوچھنے کا حکم دیتا ہے تو اس سے خلفاء ثلاثہؓ کی کمی علم پر استدلال درست نہ ہو گا۔ کیونکہ ان کو علم دوست اصحاب میسر ہی تھے ایسا کہنے کی ضرورت نہ تھی ہاں وہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کی علمی افضیلت کا برملا اعلان کیا کرتے تھے۔ حوالہ جات ہم کئی دفعہ ذکر کر چکے ہیں۔ (تاریخ الخلفاء وغیرہ) حضرت عثمانؓ میراث اور حج کے مسائل سب سے زیادہ جانتے تھے۔ (تاریخِ ندوی) سیدنا عمرؓ نے اپنے افسروں کو لکھا ویرفعوا الی ما عمی علیہم جن مسائل سے لوگ اندھے ہوں وہ میری طرف لکھ بھیجیں۔ (تاکہ جواب لکھ بھیجوں) (مسند احمد: جلد، 1 صفحہ، 15)

سوال نمبر 984: کنز العمال میں مرفوع حدیث ہے۔ سیدنا علیؓ میرے علم کا خزانہ ہے۔

جواب: سند کا تو کچھ پتہ نہیں۔ اہلِ سنت کی اعتقاد میں حضرت علیؓ خزانۂ علمِ نبوی تھے۔ جبکہ دوسروں کو بھی ایسے خزانے ملے پھر شیعہ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو علمِ کتاب اللہ سمیت عالمِ لدنی مانتے ہیں۔ وہ کیسے حضورﷺ کے علم کا خزانہ بن سکتے ہیں؟ اور شیعہ تاریخ کا ایک ایک دن گواہ ہے کہ انہوں نے اس خزانے سے فیض نہیں پایا۔ ضائع ہی کیا۔ ورنہ دس، بیس شیعہ ہی ایسے ثقہ عالم بتائیں کہ ان سے سیدنا علی المرتضیٰؓ کا علمی خزانہ منقول ہوا ہو؟

صفحہ 17 از 20