فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 18 از 20

سوال نمبر 985: کتابِ خدا متقین کے لیے ہدایت ہے۔ تو امام المتقین سے بڑھ کر ہادی کون تھا؟

جواب: وہی عارف اور ہادی تھے جنہوں نے بعد از رسولﷺ اس کتاب کو تحریراً جمع کیا، گلے سے لگایا۔ ساری دنیا میں پھیلایا۔ جامعینِ قرآن ہادی مشہور ہیں۔ گو حضرت علیؓ بھی بڑے ہادیوں اور عالموں میں سے تھے۔

سوال نمبر 986: حضورﷺ نے بجز سیدنا علیؓ کے خلفاء ثلاثہؓ میں سے کس کو امام المتقین فرمایا؟

جواب: ذرا بتائیں کہ یہ لقب اہلِ سنت کی کون سی معتبر کتاب میں کن سنّی ثقہ راویوں سے مروی ہے ہاں غیر مؤثق بعض روایت میں حضرت علیؓ کو فرمایا مگر یہ حصر نہیں کہ دوسرے پرہیزگاروں کے امام نہ ہوں۔ پھر شیعہ 11 امام اور کیوں مانتے ہیں کیا وہ متقین کے پیشوا نہ تھے اسی طرح خلفاء ثلاثہؓ اور عشرہ مبشرہؓ بھی یقیناً متقین کے پیشوا تھے۔ امام المتقین کہنے سے امام المتقین عملاً بنا جانا زیادہ فضیلت کی بات ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بنصِ قرآنی (اُولٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ) متعین تھے ان کا امام جب خود حضورﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو بنا دیا اور سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی پیروی کا حکم سب کو دے دیا تو یہی ان کو متقین کا امام و پیشوا بنانا تھا۔ امام المتقین بنانے کی احادیث صحیحین کی ہیں توثیق و تصحیح کی حاجت نہیں مقتداء متقین بنانے کی حدیث ترمذی کی ہے جس کی توثیق ہم سوال میں کر چکے ہیں۔ سوال نمبر 987 کا یہی جواب ہے۔

سوال نمبر 988: جس کا میں ولی ہوں اس کا سیدنا علیؓ ولی ہے جس کا میں امام ہوں اس کا حضرت علیؓ امام ہے۔ (مودۃ القربیٰ) کیا اصحابؓ حضورﷺ کو ولی و امام مانتے تھے؟

جواب: سید علی ہمدانی سُنّی نہیں ان کی کتاب مودۃ القربیٰ شیعہ عقائد و اخبار سے لبریز ہے۔ اہلِ سنت پر حجت نہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضورﷺ کو اپنا محبوب و پیغمبرﷺ مانتے تھے ولی و امام کا درجہ کم ہے۔

سوال نمبر 989: اگر مانتے تھے تو پھر حضرت علیؓ کو ولی اور امام کیوں تسلیم نہ کیا؟

جواب: ولی بمعنیٰ مولیٰ اور دوست ہے جیسے غدیر کی اسی حدیث میں ہے: اے اللہ تو اس سے دوستی رکھ جو سیدنا علیؓ سے دوستی رکھے اور اس سے دشمنی رکھ جو حضرت علی المرتضیٰؓ سے دشمنی رکھے۔ بایں معنیٰ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت علیؓ کو اپنا ولی اور دوست سمجھا۔ دشمن اور غیر محبوب نہیں سمجھا۔ خلفاء ثلاثہؓ کے دور میں سیدنا علی المرتضیٰؓ کی معزز پوزیشن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبتِ مرتضویؓ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حدیث میں ولی بمعنیٰ امام وہ حاکم مراد نہیں ورنہ حدیث جھوٹی ہو جاتی کیونکہ حیاتِ پیغمبرﷺ میں حضرت علیؓ مسلمانوں کے حاکم و امام نہ تھے۔

سوال نمبر 990: اگر انہوں نے حضرت علیؓ کو ولی و امام مانا تو پھر شیعوں کا عقیدہ پورا ہو گیا۔

جواب: شیعہ عقیدہ خود ساختہ ہے۔ اگر تلامذۂ نبوتﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ہوتا تو معاذ اللہ شیعہ ان کو کافر و مرتد کیوں کہتے؟ انہوں نے ولی بمعنیٰ حاکم و امام نہ مانا نہ حدیث میں یہ مراد تھا۔

سوال نمبر 991: سیدنا امیرِ معاویہؓ وغیرہ نے سیدنا علیؓ کی بیعت نہ کر کے ولایتِ رسولﷺ کا انکار کیا کہ نہیں؟

جواب: فرمانِ نبویﷺ میں جب یہ مراد ہی نہ تھا تو بیعت نہ کرنے سے ولایتِ (محبوبیتِ رسولﷺ) کا انکار نہیں ہوا۔ حضرت علیؓ کی بیعتِ خلافت شورائی تھی جو قاتلینِ سیدنا عثمانؓ کے جارحانہ تشدد آمیز رویہ کی وجہ سے حضرت امیرِ معاویہؓ کے ہاں ابھی ثابت نہ ہوئی تھی تو ابھی کرنے نہ کرنے میں اجتہادی گنجائش تھی۔ جیسے حضرت حسنؓ کی بیعت مصالحت اور سپردگی خلافت با حضرت امیرِ معاویہؓ کو شیعانِ سیدنا حسنؓ نے قبول نہ کیا۔ (جلاء العیون) تو شیعہ ان کو اجتہاداً معذور مانتے ہیں گمراہی اور کفر کا فتویٰ نہیں لگاتے۔ اور سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ تو بیعت کرنے کو تیار تھے۔ صرف قصاصِ حضرت عثمانؓ کی شرط لگائی۔ (طبری) مگر قاتلینِ حضرت عثمانؓ نے سازش سے موقع نہ آنے دیا۔ ملا باقر علی مجلسی حق الیقین جل، 2 صفح، 149 اردو میں لکھتا ہے: بلکہ وہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اسی پر قانع تھا کہ حضرت امیرؓ اس کی امارت برقرار رکھیں اور وہ حضرت (علیؓ) کی بیعت کر کے حضرت کی خلافت کا اقرار کرے اور حضرت کے مناقب و فضائل مکرر اس کے سامنے ذکر کرتے تھے اور وہ ان کا انکار نہ کرتا تھا۔ برا نہ مناتا تھا۔

سوال نمبر 992: حدیث قدسی ہے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے بارے میں ستّر ہزار آدمیوں کو میں نے مارا ہے۔ اور حضرت حسینؓ کے بدلے ستر ہزار افراد کو ہلاک کروں گا۔ اگر سیدنا حسینؓ نے یزید کے خلاف خروج کیا تھا تو حضورﷺ نے مظلومیت کی بشارت کیوں سنائی؟

جواب: بے دردی سے مظلوم کے قتل پر تکوینی عذاب ایسا آتا ہے کہ بد کے ساتھ نیک بھی متاثر ہوتے ہیں۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بدلے ستّر ہزار افراد قتل ہوئے۔ تو حضرت عثمان ذوالنورینؓ کے عوض اور مسئلہ قصاص میں 73 ہزار شہید ہوئے اور حادثہ کربلا کے ردّ عمل میں بھی اتنے افراد قتل ہو گئے حضرت حسینؓ کے اقدام کو ہم عمداً خروج نہیں کہتے کیونکہ وہ واپسی کی اجازت لے کر یا تین مشہور مطالبات پیش کر کے اس سے بری الذمہ ہو گئے تھے۔ شہادت تو ابنِ زیاد کی پارٹی، شیعانِ کوفہ کی ضد اور حماقت سے تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت مظلومانہ ہوئی۔

سوال نمبر 993: ترمذی اور دیلمی میں مرفوع روایت ہے کہ جو مجھے سیدنا حسنینؓ اور ان دونوں کے ماں باپ کو پیارا رکھے گا وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجے میں ہو گا۔ کیا محبتِ پنجتن کا درجہ بلند ہے یا ان کے مخالفین کی مؤدۃ کا؟

جواب: حدیث ثابت ہو تو پنجتن بھی مسلمانوں کو پیارے ہیں اور دیگر سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی کہ محبت رکھنے کی احادیثِ نبویﷺ ان کے حق میں بھی آئی ہے:

1: قیامت کا وقت پوچھنے والے سے آپﷺ نے کہا تو نے کیا تیاری کر رکھی ہے کہنے لگا اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت تو آپ نے فرمایا آدمی اپنے محبوبوں کے ساتھ ہو گا حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد وہ اس فرمانِ رسولﷺ سے بڑھ کر کسی چیز سے خوش نہ ہوئے۔

صفحہ 18 از 20