فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 5 از 20

یا اگر وہ اسے محترم پاکیزہ بیت اللہ اور مقدس کعبہ مانتی تھیں تو کیا عقل کسی بھی درجے میں گوارا کر سکتی ہے کہ کوئی خاتون مجمع سے بھرے رہنے والے اس مقدس گھر میں بچہ جننے چلی جائے۔ نفاس کی گندگی سے اسے ملوث کرے اور اسے موجود لوگوں سے شرم و حجاب بھی نہ آئے۔ آخر کعبۃ اللہ مقامِ طواف اور عبادت خانہ تھا، زچہ بچہ کا سینٹر تو نہ تھا؟

سوال نمبر 902: حضورﷺ نے روز خیبر یہ کس کے حق میں فرمایا: کل میں عَلَم ایسے مرد کو دوں گا جو کرار غیر فرار خدا اور رسولﷺ‏ کا محب و محبوب ہو گا۔ اللہ اس کے ہاتھ پر فتح کرے گا؟

جواب: سیدنا علیؓ کے حق میں شکر ہے کہ آپ کے جھوٹے دلائل کے انبار سے ایک سچا موتی بھی نکل آیا۔ محترم یہ دعائے نبوت کا نتیجہ تھا اور اعجازِ رسالت تھا۔ امامت کا کرشمہ نہ تھا۔ ورنہ اپنے عہدِ امامت میں کیوں ایک گز زمین بھی فتح نہ ہوئی۔ کاش آپ رسولﷺ‏ خدا کا بھی کوئی کارنامہ تو تسلیم کرتے۔

سوال نمبر 903: کتاب ناگر ساگر میں لفظ ایلا ہے۔ اس کا مطلب ہے بڑے اونچے درجے والا اور آہل، آہلی یا آلی بھی اسی سے نکلا ہے جسے عربی میں کہتے ہیں اعلیٰ، عالی، علی تعالیٰ جواب دیں کہ لفظ ایلا کی یہ تشریح کیا ثابت نہیں کرتی کہ کرشن مہاراج نے اپنی فریاد میں حضرت علیؓ سے مدد کی درخواست کی ہے؟

جواب: اس سے ایلا بمعنیٰ اللہ کے اعلیٰ عالی اور بزرگ ہونے کی تائید ہوئی اور یہ خدا کے نام میں خواہ مخواہ مشرکانہ ذہنیت سے اللہ کے بجائے سیدنا علیؓ مراد لینا سخن سازی ہے۔

سوال نمبر 904: جب حق غیر مسلموں کے قلم و زبان سے جاری ہوا تو مسلمان یا علی مدد پر کیوں معترض ہیں؟

جواب: کیونکہ قرآن شریف نے اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ فرما کر منع کر دیا اور فَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ (اے اللہ کافروں پر ہمیں مدد نصیب فرما) کی تعلیم دی۔ تعجب ہے کہ کرشن مہاراج پہلے خدا سے دعا مانگ رہے تھے۔ اب حضرت علیؓ سے مانگنے لگے کیا شیعہ کرشن جی کے مذہب پر مشرک اور ہندو ہیں؟

پھر حق یہی مشرکانہ نعرہ ہے جو غیر مسلم لگاتے ہیں؟ مگر لا اله الا اللہ اور محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھ کر مسلمان نہیں ہوتے۔ شیعو! تمہارا غلو اور بدعقیدہ تمہیں کافروں سے ملا چکا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

سکھ یہودی اور عیسائی  

ہندو شیعہ بھائی بھائی

سوال نمبر 905: قدیم عبرانی زبور میں حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ دعا درج ہے:

اس ذاتِ گرامی کی اطاعت کرنا واجب ہے جس کا نام ایلی ہے۔ جسے حدار کہتے ہیں جو بےکسوں کا سہارا، شیر ببر اور کعابہ میں پیدا ہونے والا ہے۔ کیا اس کا مصداق حضرت علیؓ کے سوا کوئی اور ہے؟

جواب: حوالہ ناقص ہے بصورتِ تسلیم خدا کی ذات مراد ہے۔ جس کی حمد و مناجات سے زبور بھری پڑی ہے۔ وہی بے کسوں کا سہارا ہے اور اسے شیر سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ کیونکہ سمجھانے کے لیے غیر محسوس و اعلیٰ کی محسوس و ادنیٰ سے تشبیہہ درست ہے۔ وہی حدار (طاقتور) ہے اور خانہ کعبہ سے اس کی توحید کا ظہور ہونے والا تھا۔ اگر سیدنا علیؓ مراد ہوں تو پھر سوال ہو گا کیا حضرت داؤد علیہ السلام سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خدا مانتے تھے یا اپنا رسول مانتے تھے۔ جو اس ذاتِ گرامی کی اطاعت اپنے لیے واجب جانتے تھے؟ معلوم ہوا شیعوں نے دعا میں تحریف کر دی ہے۔

سوال نمبر 906: اس ایلی کا دامن پکڑنا اور فرمانبرداری میں رہنا ہر شخص پر فرض ہے۔ (فرمان حضرت داؤد علیہ السلام)

جواب: وہی پہلی بات ہے۔ پہلا جواب کافی ہے کہ خدا کی ذات مراد ہے۔

سوال نمبر 907: میری جان اور میرے جسم کا تو وہی ایک سہارا ہے۔ (دعائے داؤد علیہ السلام)

جواب: خدا کی ذات مراد لے رہے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے: اِنَّهُ اَوَّابٌ کہ داؤد علیہ السلام خدا کی طرف بہت رجوع کرتے تھے۔ 

اور سورة انبیاء میں ہے کہ (حضرت ابراہیم، حضرت نوح، حضرت داؤد، حضرت سلیمان، حضرت ایوب، حضرت ذوالکفل، حضرت ادریس، حضرت یونس، حضرت یحییٰ علیہم السلام)

اِنَّهُمۡ كَانُوۡا يُسٰرِعُوۡنَ فِىۡ الۡخَيۡـرٰتِ وَ يَدۡعُوۡنَـنَا رَغَبًا وَّرَهَبًا وَكَانُوۡا لَنَا خٰشِعِيۡنَ (سورۃ الأنبياء: آیت 90)

ترجمہ: کہ سب انبیاء علیہم السلام دوڑ دوڑ کر نیکیاں کرتے اور شوق و دڑ کے ساتھ دعائیں ہم سے ہی مانگتے تھے اور ہمارے ہی آگے جھکتے تھے۔

اہلِ سنت نے تو قرآن پر اور حضرت داؤد علیہ السلام کے عملِ توحید پر کان دھر لیا ہے۔

سوال نمبر 908، 909: بھی نصِ قطعی سے دفع ہو گئے۔ کیونکہ حضرت داؤد علیہ السلام یہ شرک نہ کرتے تھے کہ شیعوں کی طرح حضرت علیؓ کو اولیٰ بالتصرف مانیں اور نہ سیدنا علیؓ انبیاء علیہم السلام سے افضل ہیں کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو افضل الانبیاء یا اولیٰ بالتصرف (شریک خدا) ماننے کی مشرکانہ تعلیم کسی پیغمبر نے نہیں دی۔ خدا کا ارشاد ہے:

وَلَا يَاۡمُرَكُمۡ اَنۡ تَتَّخِذُوا الۡمَلٰٓئِكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرۡبَابًا‌ اَيَاۡمُرُكُمۡ بِالۡكُفۡرِ (سورۃ آل عمران: آیت 80)

ترجمہ: کوئی پیغمبر تمہیں یہ حکم نہ دے گا کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو اپنے حاجت روا و مشکل کشا بنا لو کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے گا؟

سوال نمبر 910: بھی جھوٹا ثابت ہوا۔ کیونکہ ولایت سیدنا علیؓ کا تذکرہ (کتبِ شیعہ کے سوا) کسی بھی دین و شریعت میں نہیں ہے۔ شیعوں نے غلو سے یہ عقیدہ بنایا اور دیگر مذاہب کی کتابوں سے بھی جھوٹے حوالے بنانے لگے۔

سوال نمبر 911: مہاتما بدھ کی دعا (بدھ یوگیا) سے استدلال:

اے پیاروں کے پیارے! اے ایلیا اے سب پر غالب آنے والے آ اپنا جلوہ دکھا میری دستگیری کر، اے پر آتما کے شیر دنیا کی لومڑیاں مجھے کھانا چاہتی ہیں۔ تجھے اس کی قسم جس کا تو دست و بازو ہے تجھے اس کی قسم جس کی شکتی تیرے اندر ہے۔ میری مشکل کشائی کر کہ تیرا وعدہ ہے کہ مصیبت پر پہنچوں گا۔ اب امداد کا وقت ہے آ جلدی آ ورنہ میں برباد ہو جاؤں گا۔ تیرا نام وہ ہے جو پر آتما کا ہے۔ (بدھ گیان: صفحہ 54)

صفحہ 5 از 20