فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

فضائل سیدنا علیؓ اور جعلی روایات

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 6 از 20

جواب: اس میں کوئی صراحت حضرت علیؓ کی یا آپؓ کے کمالات کی نہیں ہے بریکٹ میں ایسے الفاظ کا اضافہ اپنے شیعی ذہن کا عکس ہے۔ قائل کی مراد نہیں ہے معمولی فرق سے یہ سب خدا کی صفتیں ہیں۔ بدھ صاحب خدا کو ہی پکار رہے ہیں۔ ورنہ سوال یہ ہے کہ سیدنا علیؓ نے بدھ سے کب اور کہاں وعدہ کیا تھا کہ میں تیری مصیبت پر امداد کروں گا۔ خلافت کے غصب پر اپنی امداد نہ کر سکے۔ فدک چھن جانے پر خاتونِ جنتؓ کی امداد نہ کر سکے۔ حضرت حسینؓ کی مصیبتِ عظمیٰ پر اپنی اولادِ مظلوم کی کچھ امداد نہ کی۔ اب جنگ کے شکار اور مصیبت میں گرفتار ایران بلائے ایمان کی امداد نہیں کی۔ مگر بدھ صاحب کی مشکل کشائی ہو گئی۔ ان دیو مالائی داستانوں کا کوئی تک بھی ہے جبکہ خدا بار بار فرماتا اور وعدہ کرتا ہے: 

اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ۔ (پارہ: 24 رکوع، 11)

ترجمہ: اگر تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا منظور کر لوں گا۔

اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۔ (پارہ: 2 رکوع 7)

ترجمہ: میں ہی دعا گو کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ 

اب قرآن جھٹلا کر ہم گوتم بدھ کی پیروی کریں۔ خدا کا در چھوڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے استمداد کریں تو کیا ہم مسلمان رہ جائیں گے؟ الغرض نہ تو استمدادِ علویہ قدیم کتب سے ثابت ہے۔ نہ نادِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ورد معتبر سنّی کتب میں ہے۔ تو حضرت علی المرتضیٰؓ کو ہم مافوق الاسباب، مشکل کشا اور شریکِ خدا نہیں مان سکتے۔

سوال نمبر 912: بھی اسی طرح خیالی استدلال ہے وہ خدا ہی کو کہہ رہے ہیں۔

میرے پیارے تو سب کچھ ہے اور میں تیرے بغیر کچھ نہیں تو سب کچھ دیکھ رہا ہے سب حال تیرے سامنے ہے۔ میری تکلیفوں کا تجھے علم ہے تو ہی ان کو دور کر سکتا ہے کیونکہ خدا و رسول کی تعلیم سے ہی ایک سچا مسلمان۔

1: لا حول ولا قوة الا باللہ اللہ کی طاقت و امداد کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں۔

2: اِلَّا كُنَّا عَلَيۡكُمۡ شُهُوۡدًا اِذۡ تُفِيۡضُوۡنَ فِيۡهِ‌ تم کسی بھی کام میں ہو ہم تمہارا حال دیکھتے ہیں۔

3: هُوَ السَّمِيۡعُ الۡبَصِيۡرُ وہی ہر ایک کی سننے والا سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

4: اللّٰهُ يُنَجِّيۡكُمۡ مِّنۡهَا وَمِنۡ كُلِّ كَرۡبٍ ثُمَّ اَنۡـتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَ‏ اللہ ہی تم کو مصیبت سے اور ہر دکھ سے چھڑاتا ہے پھر تم شرک کرنے لگتے ہو۔ پڑھتا ہے۔

وَلَـقَدۡ كَتَبۡنَا فِى الزَّبُوۡرِ مِنۡ بَعۡدِ الذِّكۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصّٰلِحُوۡنَ (سورۃ الأنبياء: آیت 105)

ترجمہ: بلا شبہ ہم نے تورات کے بعد زبور میں بھی یہ لکھ دیا ہے کہ زمین خاص کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ 

موجودہ زبور صفحہ 37، بائیبل عہد نامہ قدیم مطبوعہ لدھیانہ صفحہ 991 پر ہے:

لیکن دے جو خدا کے منتظر ہیں زمین کو میراث میں لیں گے لیکن وہ جو علیم ہیں زمین کے وارث ہوں گے جن پر اس کی برکت ہے زمین کے وارث ہوں گے تاریخ شاہد ہے کہ حضرت عمرؓ کے دور میں شام و بیت المقدس کی زمین فتح ہوئی اور اہلِ کتاب نے خلیفہ کو خود بلا کر انہی صفات میں دیکھا جو ان کی کتب میں لکھی تھی اور بلا جنگ چابیاں آپؓ کے حوالے کر دیں۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کا ملک رہے گا۔ یہودی قبضہ و فتنہ عارضی ہے۔ خود کتبِ شیعہ میں یہ پیشن گوئی موجود ہے۔ حضرت رسولِﷺ‏ خدا نے قریشیوں کو کہا تم کو حکم دیتا ہوں بت پرستی چھوڑ دو اور میری بات مانو۔ جس کی طرف تمہیں بلاتا ہوں تاکہ تم عرب کے بادشاہ بن جاؤ اور عجم کے لوگ تمہارے محکوم ہو جائیں اور بہشت میں بھی تم کو بادشاہی ملے گی۔ (حیات القلوب جلد 2 صفحہ 265)

یہ یقینی اور متفقہ بات ہے کہ عربوں نے بت پرستی چھوڑ دی توحید قبول کی فرمانِ رسولﷺ‏ سچا نکلا وہ عرب و عجم کے وارث و بادشاہ بنے اور جنتی بھی ضرور ہوئے۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت امیرِ معاویہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حقانیت و خلافت پر یہ واضح دلیل ہے۔

سوال نمبر 913: کا جھوٹا ہونا سابق تفصیل سے اظہر من الشمس ہو گیا۔

اب موصوف انگریز مؤرخین سے خلافتِ علوی پر استمداد طلب کرتے ہیں۔

سوال نمبر 914: لائف آف محمد اینڈ ہز سیکسرز میں ہے کہ خلافت کے سب سے زیادہ امید وار سیدنا علیؓ تھے جن کا سب سے زیادہ فطری حق تھا۔ 

جواب: غیر مسلم کی یہ بات تو الٹا طعن پیدا کرتی ہے کیونکہ کسی عہدہ کی امید و لالچ آج بھی اچھی نہیں سمجھی جاتی اور فرمانِ نبویﷺ‏ ہے: کہ ہم ان کو امیر بناتے ہی نہیں جو امید وار ہوں۔ فطری حق دار ترین کہنا ایک دنیاداری ہے۔ ورنہ خود حضورﷺ نے اس حق سے آپؓ کو کیوں محروم رکھا کہ نہ مصلیٰ پر کھڑا کیا نہ آپؓ کی پیروی کا مسلمانوں کو حکم دیا۔

سوال نمبر 915: مسٹر جان ڈیوٹ پورٹ کے خطبہ غدیر سے استدلال۔

جواب: خطبہ غدیر کے الفاظ و مضمون ثقہ، مسلمانوں کی روایت سے اگر ملیں تو مستند و قابلِ اعتبار ہوں گے۔ ورنہ ایک کافر کی نقل اور پھر تحریف مسلمانوں پر کیا حجت ہو سکتی ہے؟ اس خطبہ کا حاصل حضرت علیؓ سے طعن رفع کرنا، اپنا محبوب اور مسلمانوں کا محبوب کہنا اور پھر مسلمانوں کا مبارک بادی دینا ہے جو عہدِ نبوت، عہدِ خلافت، اور تا ہنوز و تاقیامت سیدنا علیؓ کا عہدہ رہا اور رہے گا۔ اسے خلافت سے ذرا تعلق نہیں جو صرف 11ھ سے 40ھ تک شیعوں کو مطلوب ہے اور حضرت علی المرتضیٰؓ نے اپنی خلافت پر کسی تاریخ اور حدیث صحیح کی روشنی میں اس خطبہ سے استدلال نہیں کیا۔ نہ لوگوں کی اطاعتِ پیغمبر اور وفاداری پر شک کیا۔ اب غیر مسلموں کی امداد سے یہ پروپیگنڈہ مدعی سست گواہ چست کا کردار ادا کرنا ہے۔

سوال نمبر 916: سپرٹ آف اسلام میں خطبہ غدیر سے حضرت علیؓ کی ولی عہدی پر استدلال ظنی ہے۔ اس کے جواب میں سابق تقریر کافی ہے۔

سوال نمبر 917: سپرٹ آف اسلام کے مصنف سٹیڈ لاٹ کی رائے یہ ہے اگر تحت نشینی کا اصول جناب سیدنا علیؓ کے موافق ابتداء سے تسلیم کر لیا جاتا تو وہ برباد کن جھگڑے نہ ہوتے جنہوں نے اسلام کو مسلمانوں کے خون میں غوطہ دیا۔ جوابی تبصرے کریں۔

صفحہ 6 از 20