اسلام میں نوجوانوں کا مقام و مرتبہ
علی محمد الصلابیاس قصے سے اسلام کی خدمت میں نوجوانوں کے عظیم مقام و مرتبہ کا پتہ چلتا ہے، چنانچہ اس وقت لوگوں کی رائے میں سپرپاور سلطنت روم سے لڑنے کے لیے تیاری کی گئی، لشکر کا امیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نوجوان صحابی اسامہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، اس وقت ان کی عمر بیس یا اٹھارہ سال تھی، لوگوں کی رائے مخالف ہونے کے باجود سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے منصب پر باقی رکھا، اللہ کے فضل سے یہ نوجوان قائد اپنی مہم سے مال غنیمت لیے فاتحانہ شان سے واپس ہوئے، اس میں نوجوانوں کو اسلام کی خدمت میں اپنے عظیم مقام و مرتبہ کو پہچاننے کی دعوت دی گئی ہے۔
(قصۃ بعث أبی بکر جیش أسامۃ: صفحہ 70)
داعیوں اور تربیت کے ذمہ داروں کو اس جانب پوری توجہ دینی چاہیے، اور نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا چاہیے تاکہ دین کی خدمت میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ یہ نبوی طریقہ امت میں حرکت و نشاط پیدا کرتا رہے گا، اور مسلمانو ں کے تہذیبی کردار کو ادا کرنے کے لیے انھیں مختلف توانائیاں فراہم کرنے میں اپنا رول ادا کرتا رہے گا۔