Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اسلام میں جہاد کے بہترین آداب

  علی محمد الصلابی

لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی کے قصے سے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے جہاد کے بہترین آداب کو سیکھا، یہ آداب اس وصیت میں موجود ہیں جو وصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لشکر اسامہ کو رخصت کرتے ہوئے فرمائی تھی، جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رخصت کرتے ہوئے کمانڈروں اور لشکروں کو وصیت کرتے تھے، اسی طریقے کو اپناتے ہوئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی لشکروں کو وصیتیں کرتے تھے۔ 

(قصۃ بعث أبی بکر جیش أسامۃ: صفحہ 80)

مذکورہ وصیت سے اسلامی جہاد کے اصل مقصد (اسلام کی جانب دعوت دینا) کا پتہ چلتا ہے، جب قومیں اسلامی لشکر کو دیکھیں گی کہ وہ ان وصیتوں پر سختی سے کاربند ہے تو وہ بہ رضا و رغبت دین اسلام میں داخل ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گی۔

(تاریخ الدعوۃ إلی الإسلام: صفحہ 269)