Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اسلامی حکومت کی ہیبت میں لشکر اسامہ رضی اللہ عنہ کا دخل

  علی محمد الصلابی

لشکر اسامہ مال غنیمت لیے فاتحانہ شان سے واپس آیا، اور رومیوں کو اس حد تک مرعوب کیا کہ ہرقل نے حمص میں پادریوں کو جمع کرنے کے بعد ان سے کہا: اسی بات سے میں نے تمھیں ڈرایا تھا، لیکن تم نے میری بات نہ مانی، عرب ایک مہینہ کی مسافت طے کرکے آئے، تم پر حملہ آور ہوئے اور بغیر کوئی زخم کھائے صحیح سالم واپس لوٹ گئے۔

اسی طرح شمال کے عرب قبائل پر اسلامی حکومت کی طاقت و قوت کا رعب و دبدبہ چھا گیا، اس لڑائی کا مسلمانوں کی زندگی اور ان کے خلاف انقلاب برپا کرنے کی سوچ رکھنے والے عربوں کی زندگی، نیز ان رومیوں کی زندگی میں بڑا اثر رہا، جن کے علاقے ان کی سرحدوں تک پھیلے ہوئے تھے۔

(الصدیق لہیکل باشا: صفحہ 107) 

اس لشکر نے اپنے کردار سے وہ کارنامہ انجام دیا جو اپنی قوت و طاقت سے انجام نہ دے سکا، چنانچہ مرتدین اقدام سے باز آگئے، جو اکٹھے ہوئے تھے منتشر ہوگئے، جو لوگ مسلمانوں کے خلاف ہوجانے والے تھے وہ اس سے باز آئے، فوجوں اور اسلحہ سے پہلے رعب و دبدبہ نے اپنا کام کیا۔

(عبقریۃ الصدیق للعقاد: صفحہ 107)

بلاشبہ اس لشکر کو بھیجنا مسلمانوں کے لیے ایک نعمت سے کم نہ تھا، اس لیے کہ اس کی وجہ سے شمال میں مرتدین کا مورچہ نہایت کمزور ہوگیا، نتیجتاً مسلمانوں کے لیے اس فاتح مورچے کو شکست دینا عراق میں دشمنوں کے مورچے کو شکست دینے سے زیادہ آسان ہو گیا۔

ان تمام باتوں سے اس بات کی تاکید اور تائید ہوتی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس مشکل کا حل تلاش کرنے والوں میں سب سے زیادہ گہری نظر اور سمجھ والے تھے۔

(حرکۃ الردۃ: دیکھیے علی العتوم: صفحہ 168) 

واقعات بتلاتے ہیں کہ مشکلات سے نمٹنے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما خلفائے راشدینؓ سے کافی حد تک متاثر تھے، چنانچہ وہ اپنی خلافت میں سب سے اچھی سمجھ، گہری نظر رکھنے والے اور مسلمانوں کے اتحاد کے سب سے زیادہ حریص تھے۔