سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد میں
علی محمد الصلابیسیدنا عمر رضی اللہ عنہ اہل بیتؓ کی بڑی قدر کرتے تھے، انھیں اپنے اہل خانہ اور بیٹوں پر ترجیح دیتے تھے، اس سلسلے میں ان کے بہت سارے واقعات ہیں، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:
1۔ آپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ اجازت کے حق دار ہیں:
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن مجھ سے کہا: اے میرے لاڈلے کاش تم ہمارے پاس آتے رہتے، ایک دن میں آیا، سیدنا فاروق اعظمؓ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنہائی میں تھے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہ دروازے پر تھے، انھیں اجازت نہیں دی گئی، چنانچہ میں بھی لوٹ گیا بعد میں پھر ان کی مجھ سے ملاقات ہوئی، کہا: اے میرے لاڈلے میں تمھیں اپنے پاس آتا نہیں دیکھتا، میں نے کہا: میں آیا تھا، آپ معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ تنہائی میں تھے، ابن عمر رضی اللہ عنہما کو لوٹتے ہوئے دیکھا تو میں بھی لوٹ گیا، تو سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: تم عبداللہ بن عمر سے زیادہ اجازت کے حق دار ہو، ہمارے سروں میں جو بھی دینی سمجھ اور بصیرت ہے یہ اللہ کی پھر تم لوگوں کی دین ہے، اور سیدنا عمر فاروقؓ نے اپنا ہاتھ ان کے سر پر رکھ دیا۔
(المرتضی: صفحہ 11 کنز العمال: جلد 7 صفحہ 105، الإصابۃ: جلد 1 صفحہ 133)