Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اسلام کی تصویر جو رافضی پیش کرتا ہے

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں جو روافض پیش کرتے ہیں۔ ان کے مذہب میں ہادی اسلام رسولِ عربیﷺ نے اپنی عمر بھر کے وعظ و تبلیغ سے سچے مسلمان حضرت فاطمہ، حضرت علی، حضرت حسنین کریمین رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے کنبہ کے لوگوں کے علاوہ صرف چند کس حضرت ابوذر، حضرت سلیمان رضی اللہ عنھما پیدا کیے تھے جو آخر تک اسلام پر قائم رہے۔ باقی مسلمان سارے کے سارے برائے نام مسلمان ہوئے تھے جو رسولِ عربیﷺ کی وفات کے بعد سب کے سب بغیر ان چند کس کے مرتد ہو گئے

(فروع کافی: جلد 3، کتاب الروضہ: صفحہ 115 میں ہے۔ عَنْ أَبِیْ جَعْفَر عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ كَانَ النَّاسُ أَهْلِ رِدَّةٍ بَعْدَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ اِلَّا ثَلَاثَةُ قَالَ مِقْدَادُ بْنُ الاسْوَدِ وَابُوذر الْغَفَّارِیُّ وَ سَلْمَانُ الْفَارِسِیُّ رَحْمَةُ اللَّه عَلَيْهِمْ وَبَرَكَاتُهُ 

ترجمہ: سیدنا باقرؒ فرماتے ہیں کہ نبیﷺ کے بعد سب مرتد ہو گئے۔ صرف تین حسبِ ذیل مسلمان رہ گئے۔ مقداد، ابوذر، سلمان فارسی۔

اور طرفہ یہ کہ رسولﷺ کو اپنی زندگی میں یہ خوب معلوم تھا کہ یہ لوگ منافق ہیں اور میری وفات کے بعد اعلانیہ طور پر میرے بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کے دشمن بن جائیں گے، ان کے حقوق چھین لیں گے اور ان کو سخت تکالیف پہنچائیں گے۔

(جلاء العیون اردو: جلد 1، صفحہ: 58 میں ہے۔ پس فرمایا علیؓ تم کیا کرو گے۔ اگر یہ کرو میرے بعد تم پر امیر ہوں اور تم پر سبقت کریں اور ابوبکرؓ تم کو بیعت کے لیے بلائے اور جب تم انکار کرو تو تمہارا گریبان پکڑ لیں اور اندوہ ناک و مہوم بے یار و یاور تم کو ابوبکرؓ کے پاس لے جائیں اور بعد ازاں میری جگر گوشہ فاطمہؓ کو رنجیدہ کریں۔ پس جناب امیرؓ نے فرمایا یا حضرت اگر یاور نہ ملیں گے تو صبر کروں گا لیکن ان سے بیعت نہ کروں گا۔ مگر جب یاور ملیں گے ان سے قتال کروں گا)

ان میں سے اصحابِ ثلاثہؓ کا رسولﷺ پر کچھ ایسا رعب پڑ گیا تھا کہ ڈر کے مارے اُن کو جرات نہ پڑتی تھی کہ ان کو اپنے دربار سے نکال دیں، بلکہ بقول روافض خدا نے جبرئیلؑ کے ذریعہ کئی دفعہ (حیات القلوب: جلد 2، صفحہ 516 میں ہے بس برپا اے محمدﷺ علی را علی در میان مخلوق و برگیر برایشاں بیعت را و تازه گرداں عہد و پیمانے راکہ پیشتر از ایشان گرفتہ بودم بدرستی کہ من ترا قبض مے کنم سوئے خودتر بجوار رحمت خرد سے ظلم۔ پس حضرت رسولﷺ ترسید از قوم کہ مباد اهل شفاق و نفاق پراگنده شوند و بجاہلیت و کفر خود برگردند زیرا کہ حضرت مے دانست کہ عداوت ایشاں با علیؓ بن ابی طالب درچہ مرتبہ است و کنیہ او در سینہ ایشاں جا کرده است پس سوال کرد جبرئیلؑ کے از خداوند عالمیان سوال نماید کہ اورا از کید منافقاں حفظ کندو انتظار مے برد کہ جبرئیلؑ از جانب خداوند عالیاں خبر محافظت او راہ شر منافقاں بیاورد پس تبلیغ رسالت را تاخیر نمود۔ تا مسجد خیف پس در مسجد خیف جبرائیلؑ بر آنحضرتﷺ نازل شد امر کرده آنحضرتﷺ را کہ عہده ولائت با ایشان برسانداد را قائم مقام خود گرداند و وعده محافظت از اشترا عادی را برائے آں چہ حضرت طلب نموده بودنیا ورد پس باز جبرئیلؑ نازل شد و در امر ولایت تاکید نمود و آنت عصمت را بیار و پس حضرت فرمود کہ اے جبرئیلؑ من از قوم خود می ترسم کہ مرا تکذیب نمایند و قول مرادر حق علی قبول نکنند پس از آنجا باز گروپس چوں نہد بغدیرِ خم رسید کہ بقدرسہ میل بیش از جحفہ است جبریلؑ نزد آنحضرتﷺ آمد در وقتیکہ پنج ساعت از روزِ گزشتہ بود تا نہایت زجر و تہدید و مبالغہ نمود۔ با ضامن شدن عصمت از شرا عادی پس گفت یا محمد خداوند عزیز جلیل تر اسلام مے رساند و مے گوید کہ اے پیغمبر بزرگوار تبلیغ کن آنچہ سوئے تو فرستاده شده است در باب علیؓ و اگر نکنی نہ رسانیده خواہی بود، ہیچ یک از رسالت الٰہی را خدا تر نگہدار از شتر مردم و اول قافلہ نزدیک جحفہ رسیده بود پس جبرئیلؑ آنحضرتﷺ را امر کرد، الخ۔

اس عبارت سے معلوم تھا کہ رسولﷺ کو علیؓ کی ولایت کے اعلان کرنے کا صریح حکم پہنچا۔ پس آپﷺ اس کے اظہار کے لیے مارے ڈر کے لیت و لعل کرتے رہے اور جبرئیلؑ کا رسول اور خدا کے درمیان آمد و رفت کا ایک مدت تک تانتا بندھا رہا، حتیٰ کہ دربار الٰہی سے زجر و توبیخ ہوئی اور خدا نے شر دشمناں سے محافظت کا ذمہ بھی اٹھایا۔ تب بمشکل تمام غدیرِخم میں لوگوں کو جمع کر کے حضرتﷺ نے من کنت مولاہ الخ کے گول مول الفاظ فرمائے۔ ناظرین خود بھی خیال فرمائیں کہ ایسے عقیدہ سے رسول پاکﷺ کی شان تبلیغ رسالت کی کس طرح توہین ہوتی ہے۔ (استغفر الله)

پیغام بھیجا، جا کہ علیؓ کی ولائیت و خلافت کا اعلان کر دیں، مگر رسول کو ایسا کرنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔ 

(جلاء العیون: جلد 1 میں ہے پس وہ اشتیائے امت گلوئے مبارک جناب امیر میں رسیاں ڈال کر مسجد میں لے گئے اور بروایت دیگر جب دروازہ پر پہنچے اور جناب فاطمہؓ مانع ہوئیں۔ اس وقت فنقذ نے اور بروایت دیگر عمرؓ نے تازیانہ بازوئے جناب فاطمہؓ پر مارا کہ بازو جناب فاطمہؓ کا شکستہ ہوگیا اور سوج گیا۔ مگر پھر بھی جناب فاطمہؓ نے جناب امیرؓ سے ہاتھ نہ اٹھایا اور ان اشقیاء کو گھر میں آنے سے منع کیا۔ یہاں تک کہ دروازہ شکم جناب فاطمہؓ پر گرا دیا اور پسلیوں کو شکستہ کیا اور اس فرزند کو جو شکم جناب فاطمہؓ کے تھا اور حضرت نے اس کا نام محسن رکھا تھا، شہید کیا۔ (نعوذ باللہ) اصحابِ رسولﷺ کو بدنام کرنے کے لیے روافض نے بے اصل روایات گھڑ کر اسد اللہ الغالب اور جناب سیدہ کی توہین کا کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا۔ کیا عقل مان سکتی ہے کہ جناب سیدہؓ کی ایسی بے حرمتی ہو رہی ہو اور شیرِ خدا خاموش بیٹھے رہیں، پھر آپ کے گلے میں رسی ڈال کر اور گھسیٹ کر مسجد تک لے جائیں اور شیرِ خدا جنبش نہ کریں۔ این خیال است و محال است و جنوں۔ 

حتیٰ کہ خدا نے ڈانٹ پلا کر کہا يٰۤـاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ‌ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسٰلَـتَهٗ‌ 

"اے نبیﷺ ہم نے جو ولائیت علیؓ کی نسبت آپﷺ کے پاس وحی بھیجی ہے وہ ظاہر کر دیجیے۔ ایسا نہ کیا تو تم نے حقِ رسالت ادا نہیں کیا"

اس پر بھی آنحضرتﷺ کو علانیہ طور پر ولایتِ علیؓ اور اپنے بعد ان کی جانشینی کے متعلق صاف اعلان کر دینے کا حوصلہ نہ ہو سکا۔ کچھ ایسے گول مول الفاظ کہے جن سے مدعا حاصل نہ ہو سکتا تھا وہ یہ تھے۔ مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ فَعَلِىٌّ مَوْلَاهُ اللهُمَّ وَالٍ مَنْ وَالاهُ وَعَادٍ مَنْ عَادَاهُ

"جس کا میں دوست علیؓ بھی اس کا دوست ہو گا اے خدا علیؓ کے دوست کو دوست رکھ اور اس کے دشمن کو دشمن"

اس سے تو یہی ظاہر ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دوستی رکھنا چاہیے، دشمنی نہیں کرنی چاہیے۔ یہاں ولائیت یا خلافت کی طرف تو مطلقاً اشارہ بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بقول روافض بوقتِ وفات حضورﷺ نے قلم، دوات طلب فرمائی تاکہ علیؓ کی خلافت کے متعلق کچھ وصیت کریں، مگر وہ وقت بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حَسْبُنَا كِتَابُ اللهِ کہہ کر ٹال دیا۔ عمرؓ تو دشمن ہی تھے، اہلِ بیت جن میں علی المرتضیٰؓ بھی تھے، یہ حوصلہ نہ کر سکے کہ کہیں سے قلم دوات لا کر اپنے حق میں وصیت لکھوا لیتے اور یوں رسول اللہﷺ نے آیت بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک ضروری حکم وصیت خلافتِ علیؓ عمرؓ کے خوف سے چھپا دیا۔ حضورﷺ تو فوت ہو گئے، سیدنا علیؓ کے ساتھ سوائے معدودے چند حضرات مقداد، ابوذر، سلمان رضوان اللہ علیھم اجمعین وغیرہ کے کوئی تھا ہی نہیں، تمام مسلمانوں نے اتفاق کر کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تختِ خلافت پر بٹھا ہی دیا۔ علی المرتضیٰؓ گوشہ نشین ہو کر قرآن جمع کرنے میں مصروف ہو گئے۔ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے دروازہ کھٹکھٹایا، شیرِ خدا خود تو دروازہ تک نہ آئے خاتونِ جنت کو بھیجا اُنہوں نے حضرت عمر فاروقؓ کو ڈانٹ پلائی کہ ہمیں کیوں چھیڑتے ہو؟ حضرت عمرؓ نے غضب ناک ہو کر ان پر دروازہ گرا دیا۔ یا بقول روافض (نعوذ باللہ) خاتونِ جنت کے بطن مبارک پر لات مار کر حمل گرا دیا (محسن کو شہید کر دیا) علی المرتضیٰؓ پرلے درجہ کے بہادر اور جری تھے۔ آپ کی شجاعت کا کیا کہنا۔ ساتوں آسمان ایک انگلی پر رکھ کر اُٹھا لینا ان کی بہادری کا ادنیٰ کرشمہ تھا۔ آپ کی ذوالفقار بھی غضب ڈھاتی تھی۔ عمرو مرحب جیسے کوہ پیکر پہلوان کافر کو ایک اشارہ سے دو ٹکڑے کردیا۔ شیرِ خدا نے خیبر کا دروازہ ایک ہاتھ سے توڑ کر کہیں کا کہیں پھنک دیا، مگر بایں ہمہ اپنی زوجہ محترمہ کی یوں بے عزتی دیکھ کر نہ ذوالفقار نیام سے نکالی نہ اپنی خداداد شجاعت کے کچھ جوہر دکھلائے، الٹا حضرت عمر اور حضرت خالد رضی اللہ عنہما نے شیرِ خدا کی گردن میں (معاذ اللہ) رسی ڈال لی اور گھسیٹتے ہوئے حضرت ابوبکرؓ کے پاس لے گئے اور بزور بیعت کرائی۔ پھر ایامِ خلافتِ ابوبکرؓ میں شیرِ خدا تقیہ سے کام لیتے رہے، ان کے پیچھے نمازیں پڑھیں اور ہر ایک کام میں اُن کے مشیر کار بنے رہے۔ ایسا ہی ایامِ خلافتِ عمر و عثمان رضی اللہ عنہما میں، اندر سے دشمن لیکن مصلحتاً بظاہر دوست بنے رہے اور اس طرح خلقِ خدا گمراہ ہوتی رہی۔ آخر شہادتِ عثمانؓ کے بعد آپؓ کو منصبِ خلافت نصیب ہوا، لیکن ثلاثہؓ کا خوف دل پر کچھ ایسا غالب تھا کہ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کی مخالفت کا حوصلہ نہ ہو سکا۔ نہ فدک ورثاءِ فاطمہؓ کو واپس دے سکے، نہ متعہ جیسے کار ثواب کی ترویج کر سکے، نہ بدعت عمر تراویح کو موقوف فرما سکے۔ غرض منحوس تقیہ آپ کے لیے ایسی بلائے بے درمان تھی کہ جس نے مرتے دم تک پیچھا نہ چھوڑا اور طرفہ یہ کہ خدا کے کلام پاک قرآن کریم کو بھی ثلاثہؓ نے بگاڑ کر کچھ کا کچھ کر دیا۔ سورتوں کی سورتیں اور آیتوں کی آیتیں نکال ڈالیں۔ سترہ ہزار آیات کا قرآن جبرئیلؑ رسولِ پاکﷺ کے پاس لایا تھا۔ ثلاثہؓ نے صرف 6666 آیات رہنے دیں، باقی سب نکال دیں۔ اصلی قرآن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جمع کیا تھا جو ثلاثہؓ کو پیش کیا اُنہوں نے قبول نہ کیا، تو قسم اٹھائی کہ اب اس قرآن کو ظہورِ مہدی سے پہلے کوئی دیکھ نہ سکے گا۔ یہ مسئلہ بالتفصیل آگے درج ہو گا۔ 

اب جائے غور ہے کہ یہ اسلام جو اہل السنت پیش کرتے ہیں اس کے متعلق کسی مخالف کو کسی قسم کا طعن کرنے کا کوئی موقعہ مل سکتا ہے (ہرگز نہیں) لیکن اسلام کا جو نقشہ روافض کھینچ کر دکھاتے ہیں یہ مخالفین کے اعتراضات سے ہرگز بچ نہیں سکتا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہمارے رسولِ پاک نبی آخر الزمانﷺ نے اپنی پاک تعلیم سے جو شاگرد (اصحابؓ) پیدا کئے وہ ایسے کامل مکمل تھے کہ کسی قسم کی ترغیب و ترہیب ان کے راسخ عقیدہ اسلام سے ان کو متزلزل نہ کر سکتی تھی۔ اپنی جانیں، اپنے مال وہ اپنے آقا رسولِ پاکﷺ پر قربان کر چکے۔ ہر مشکل وقت میں اپنے پیارے رسولﷺ کا ساتھ دیا۔ وطن مالوف کو خیر بار کہا۔ خویش و اقارب کو چھوڑ کر نبی اکرمﷺ (فداہ ابی وامی) کے ہمراہ ہجرت اختیار کی۔ جان جوکھوں کے وقت صدیقِ اکبرؓ نے خدا کے حبیب حضرت رسولِ پاکﷺ کو اپنے کندھے پر اٹھا کر میلوں کا سفر قطع کر کے غارِثور میں پہنچایا۔ اپنی جان معرض خطر میں ڈالی۔ غار کے اندر جا کر پہلے سارے سوراخ بند کئے پھر رسولِ پاکﷺ کو اندر داخل ہونے دیا تاکہ حضورﷺ گزند مور و مار سے محفوظ رہیں۔ حضورﷺ کا سر اپنی گود میں رکھ کر سلا دیا اور خود پاسبانی کرتا رہا۔ عاشقِ نبیﷺ (صدیق اکبرؓ) کو جب کہ اس نے ایک سوراخ میں اپنے پاؤں کی ایڑی رکھی ہوئی تھی، سانپ نے ڈسا، آنکھوں سے شدتِ درد سے آنسو تو گرے لیکن منہ سے فریاد نہ نکلی تاکہ پیارے رسولﷺ کی نیند میں خلل نہ پڑے (یہ واقعات حملہ حیدری وغیره کتب معتبره شیعہ میں مذکور ہیں جن کو ہم اپنے کسی موقع پر نقل کریں گے) حضورﷺ کی زندگی ہی میں نہیں بلکہ آپﷺ کے یارانِ غار نے بعد وفاتِ رسولﷺ بھی خدمتِ اسلام میں اپنی جانیں وقف کر دیں اور انہی کی برکت سے اسلام دنیا میں پھیلا اور خدا کا پاک صحیفہ (قرآن کریم) جیسا کہ نازل ہوا تھا، ان ہی کی طفیل اب تک ہم میں موجود و محفوظ ہے۔ اس کے مقابلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شاگردوں (حواریوں) کی طرف دیکھا جائے تو پتہ ملتا ہے کہ اس مشکل وقت میں جو یہودیوں کی شرارت سے مسیح کی جان پر آ بنی تھی، کسی شاگرد نے ساتھ نہ دیا بلکہ یہودہ نے تیس روپے لے کر ان کو گرفتار کرا دیا۔ (متی باب 26، درس 15) شمعون پترس نے تین مرتبہ تعلق سے انکار کیا اور قسمیں کھائی ہیں اور لعنت بھی بھیجی (متی باب 26، درس 69، لغائت 74) ایسا ہی حضرت موسیٰؑ کو قوم نے جب ان کو جہاد کے لیے بلایا گیا تو صاف کہہ دیا کہ فَاذۡهَبۡ اَنۡتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قَاعِدُوۡنَ (یعنی تم اور تمہارا رب مل کر دشمن کا مقابلہ کرو ہم تو الگ بیٹھ کر تماشا دیکھیں گے) لیکن روافض کا اسلام وہ ہے کہ جو لوگ ہادی اسلام سے خاص الخاص تعلق رکھتے تھے، جن کی تعلیم پر آپﷺ نے سارا زور خرچ کیا اور ان کو عمر بھر اپنی صحبت سے مستفید فرمایا اور سفر و حضر میں وہ آپﷺ کے رفیق، شام و صباح اور ہمدم رہے، اپنی بیٹیاں ان کو نکاح کر دیں، اُن کی اپنی زوجیت میں لے لیں۔ ان کا اسلام ہی منافقانہ تھا، وہ زبانی مسلمان تھے اور دل میں رسولﷺ اور اس کی اولاد کے دشمن تھے۔ ہادی اسلام کے رخصت ہونے (فوت ہونے) کی دیر تھی کہ سارا نقشہ ہی بدل گیا، نہ مسلمان رہے نہ مسلمانی۔ صرف تین یا چار اشخاص اسلام پر ثابت قدم رہے باقی سب مرتد ہو گئے۔ (العیاذ باللہ) اب بتائیے کہ ایک مخالفِ اسلام کے دل میں اسلام اور ہادی اسلام کی کیا وقعت رہ جائے گی؟ اور مسلمان صداقتِ اسلام کے لیے کونسی دلیل پیش کر سکے گا۔ علاوہ ازیں شیعہ قرآن کے بھی قائل نہیں ہیں