Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شعائر مرتبی کا تحفظ


شعائر مرتبی کا تحفظ

جس طرح شاعر مکانی (جیسے کعبہ اور مسجدیں)۔ شعائر زمانی (جیسے رمضان اور جمعہ) شعائر عملی (جیسے نماز کے لئے اذان دینا) کی تعظیم و توقیر مسلمانوں پر واجب ہے، اسی طرح مسلمانوں کے شعائر مرتبی کا تحفظ و اکرام بھی مسلمانوں پر واجب ہے۔ 

مسلمانوں کے نام جو ان کے دین کا پتہ دیں اور ان کے اعتقادی اور انتظامی مدارج و مراتب (جیسے صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین اور ام المومنینؓ اور اہل بیتؓ جیسے القاب، اورامیر المؤمنینؓ جیسے مراتب) جو ان کی تاریخ اور اقتدار کے امتیازی نشان ہوں، ان سب کا اکرام و احترام مسلمانوں کے ذمہ ہے، اور مسلم سربراہ کے ذمہ ہے کہ وہ ان شعائر مرتبی کو غیر مسلم اقوام میں بےآبرو نہ ہونے دے۔ سیدنا فاروق اعظمؓ نے ماتحت غیر مسلم لوگوں سے جو عہد لیا اس میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں۔ ولا يتکنوا بکناهم: مسلمانوں کی کنیتیں اختیار نہ کریں گے۔ 

کنیت: کا لفظ کنایہ سے ہے، اس سے نسبتوں کا اظہار ہوتا ہے، اس اصولی شرط کو اگر کچھ وسعتِ نظری سے دیکھیں تو اس سے مسلمانوں کے تمام شعائر مرتبی کا تحفظ لازم آتا ہے اور اسلامی سربراہ کے ذمہ ہے کہ ان کے تحفظ کے لئے آرڈینینس جاری کرے۔ اسی طرح جو نام مختص بالمسلمین ہیں غیر مسلموں کو وہ نام رکھنے کی اجازت نہیں۔ 

اسی طرح امیر مؤمنین یا امام المسلمین ایسے انتظامی مراتب ہیں کہ سوائے مسلمانوں کے انہیں کوئی نہیں پا سکتا، کسی غیر مسلم سربراہ پر ان مراتب کا اطلاق قرانی آیت وَلَنۡ يَّجۡعَلَ اللّٰهُ لِلۡكٰفِرِيۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ سَبِيۡلًا: کے خلاف ہے۔ 

فقہائے کرامؒ نے ان ناموں کی بھی نشاندہی کر دی ہے۔ جو مسلمانوں کے شعائر ہیں۔ علامہ طحاویؒ در مختار کی شرح میں لکھتے ہیں کہ: اہلِ ذمہ مسلمانوں کے سے نام رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟ اس کی تفصیل وہی ہے جو ابن قیمؒ نے ذکر کی ہے۔ کچھ وہ نام ہے جو مسلمانوں کے ساتھ ہی خاص ہیں جیسے……محمد، احمد، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ اور زبیر۔ یہ نام رکھنے کی انہیں (غیر مسلموں) کو اجازت نہ دی جا سکے گی۔