عطیات میں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما اور بنوہاشم کو مقدم رکھنا
علی محمد الصلابیابوجعفرؒ سے مروی ہے کہ فتوحات کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کا حصہ مقرر کرنے کا ارادہ کیا، بہت سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اکٹھا ہوئے، عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا عمرؓ اپنی ذات سے ابتدا کیجیے، آپ نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم میں اس شخص سے ابتداء کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ کے قبیلے بنوہاشم سے سب سے زیادہ قریب ہوگا۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا حصہ مقرر کیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا، یہاں تک کہ پانچ قبائل کے درمیان ترتیب قائم کی، اور اخیر میں بنوعدی بن کعب تک پہنچے، ترتیب یوں رکھی گئی کہ بنوہاشم میں جو لوگ بدر میں شریک تھے ان کے لیے عطیات مقرر کیے، پھر بنواُمیہ کے لوگوں کے لیے جو بدر میں شریک ہوئے، پھر جو زیادہ قریب تھا اسے، پھر اسے جو اس سے زیادہ قریب تھا ان سب کے حصے دیے۔
(الخراج لأبی یوسف: صفحہ 24، 25، المرتضیٰ: صفحہ 118)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قربت کی وجہ سے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لیے ان کے والد کا حصہ (جو اہل بدر کا حصہ تھا)مقرر کیا گیا، چنانچہ ان دونوں میں سے ہر ایک کے لیے پانچ ہزار درہم مقرر کیے۔
(تاریخ دمشق الکبیر: جلد 6 صفحہ 14)
اس واقعہ سے عموماً اہل بیتؓ سے اور خصوصاً سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی محبت کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے، اس لیے کہ عطیات کے سلسلے میں ان کے ساتھ خصوصی برتاؤ کرتے ہوئے انھیں سادات صحابہؓ کے پہلے طبقے میں رکھا، یہ محض ان دونوں سے محبت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ان دونوں کے مقام و مرتبہ کے احترام کا نتیجہ تھا۔