وفات نبویﷺ کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا برتاؤ
علی محمد الصلابیاسلم عدوی سے مروی ہے کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت کی گئی، تو سیدنا علی و زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاکر مشورہ کرتے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس کا پتہ چلا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، اور کہا: اے صاحبزادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے والد سے زیادہ دنیا میں کوئی بھی میرے نزدیک محبوب نہیں، اور ان سے مزید کچھ گفتگو کی، اور سیدہ فاطمہؓ کے والد کے بعد آپ سے زیادہ دنیا میں کوئی بھی میرے نزدیک محبوب نہیں، اس کے بعد سیدنا علی و زبیر رضی اللہ عنہما فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انھوں نے کہا: آپ دونوں لوٹ جائیں، پھر وہ دونوں ان کے پاس لوٹ کر نہیں گئے، یہاں تک کہ دونوں نے بیعت کرلی۔
(المصنف لابن أبی شیبۃ: جلد 14 صفحہ 567 اس کی سند صحیح ہے۔)
صحیح اور ثابت شدہ بات یہی ہے اور یہ بات اپنی سند کی صحت کے ساتھ ساتھ اس نسل کے مزاج اور اس کے لیے اللہ کے تزکیہ سے میل کھاتی ہے۔ شیعی راویوں نے جھوٹ اور بہتان گھڑ کر اس روایت میں شامل کردیا ہے، اور کہا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تمھارے پاس یہ لوگ آئے تو ان کے اس گھر میں ہوتے ہوئے اس گھر کو آگ لگا دوں گا، اس لیے کہ بیعت نہ کرکے ان لوگو ں نے مسلمانوں میں اختلاف پیدا کردیا ہے، پھر ان کے پاس سے چلے گئے، جب وہ دونوں ان کے پاس دوبارہ آئے تو ان سے کہا: تمھیں معلوم ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے تھے، اور اس بات پر اللہ کی قسم کھائی ہے کہ اگر تم لوگ اس گھر میں دوبارہ آئے تو تمھارے اس میں ہوتے ہوئے وہ اس گھر کو ضرور جلادیں گے، اور اللہ کی قسم وہ اپنی قسم کو سچ کر دکھائیں گے، اس لیے میرے پاس سے چلے جاؤ پھر لوٹ کے مت آنا، چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا، اور بیعت کے بعد ہی ان کے پاس دوبارہ آئے۔
(عقائد الثلاثۃ و السبعین فرقۃ لابی محمد الیمنی: جلد 1 صفحہ 140)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ باطل قصہ ثابت نہیں ہے، اس بات کا دعویٰ کہ انھوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کو جلا دینے کا ارادہ کیا تھا سراسر جھوٹ ہے۔ طبرسی نے اپنی کتاب ’’دلائل الإمامۃ‘‘
(دلائل الإمامۃ: صفحہ 26 نقلاً عن عقائد الثلاثۃ و السبعین: جلد 1 صفحہ 140)
میں طبری کی اس اور اسی طرح کی دوسری جھوٹی باتوں کو جابر جعفی سے نقل کیا ہے، جب کہ ذہبی کی ’’المیزان‘‘ (المیزان: جلد 1 صفحہ 279) اور ابن حجر کی تہذیب التہذیب‘‘ (تہذیب التہذیب: جلد 2 صفحہ 47) کے مطابق وہ تمام محدثین کے نزدیک کذاب (بہت جھوٹا) ہے۔
بعض لوگو ں کا یہ بھی زعم باطل ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس قدر مارا کہ ’’مُحَسَّنْ‘‘ کی شکل میں جو حمل آپ کے بطن میں تھا ساقط ہوگیا، یہ ایسا جھوٹ ہے جس کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انھیں یہ بھی نہ معلوم ہوسکا کہ وہ لوگ حقیقت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس طرح مطعون کر رہے ہیں کہ ان پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے متعلق خاموش رہنے اور بزدلی کا ثبوت دینے کی تہمت لگا رہے ہیں، جب کہ وہ بہادر ترین صحابہ کرامؓ میں سے تھے۔
(حقبۃ من التاریخ: صفحہ 224)
بعض عقل مند شیعہ نے اس ہذیان سرائی اور جھوٹ کی صحت کا انکار کیا ہے۔
(مختصر التحفۃ الاثني عشریۃ: صفحہ 252)
اسی کے ساتھ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ مسند امام احمدؒ کی گزری ہوئی صحیح روایت کے مطابق ’’محسن‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں پیدا ہوئے تھے۔